تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتصوفعلم و ادبعلمیکالمکتابوں پر تبصرےمزید

مسلم دنیا میں پابندی کا شکار کتب: رسائل اخوان الصفا — روماف کاظم

by دانش ڈیسک 03/04/2018
written by دانش ڈیسک 03/04/2018
94

اگرچہ انٹرنیٹ کے اس دور میں کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا مگر اس کے باوجود دنیا میں کئی ایسی کتب لکھی گئی ہیں جن پر حکومتوں نے خود یا عوامی دباو کی وجہ سے پابندیاں عائد کیں۔ اس فہرست میں صرف مسلم ممالک کے نام نہیں آتے بلکہ امریکی ویورپی ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں۔ سردست ہم صرف مسلم سماج میں پابندی کا شکار ہونے والی چند کتب کا مختصر تعارف پیش کریں گے۔ ان میں سے بعض کا تعلق ہماری قدیم تاریخ سے ہے جبکہ بعض وہ ہیں جو موجودہ دور میں زیرعتاب آئیں۔

ہمارے ہاں جن کتب کا شائع ہونا ممنوع رہا یا اب بھی ہے ان کا موضوع مذہب، سیاست یا جنس تھا۔ یوں تو کئی دیگر معاشروں میں بھی یہ تین موضوعات کسی حدتک حساسیت کے حامل ہیں مگر خاص طور پر ہمارے سماج میں ان پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔او ر اس کی وجہ جمہوری رویوں کا نہ پنپ سکنا اور آزادی کا معدوم ہونا ہے۔

اس سلسلے کی پہلی کتاب “رسائل اخوان الصفا” ہے۔

کتاب کی تاریخ اور مصنفین:

یہ کتاب چوتھی صدی ہجری میں منظرعام پر آئی۔اس کی چار جلدیں ہیں اور اس میں باون ابواب ہیں جو اتنے ہی رسائل پر مشتمل ہیں۔چودہ رسائل حساب اور ریاضی سے متعلق ہیں،سترہ میں طبیعیات پر کلام کیا گیا ہے،دس میں نفسیات و عقلیات پر بات کی گئی ہے، جبکہ آخری گیارہ رسائل میں الہیات اور دینی عقائد پر بحث ہے۔

اس کتاب پر اس کے منظرعام پر آنے کے بعد سے لے کر انیسویں صدی عیسوی تک پابندی عائد رہی۔ اسے ہمیشہ مذہبی حلقوں اور خلفاءکی جانب سے گمراہ کن اور دین مخالف قرار دیا گیا۔ اس کے نسخے جلائے گئے اور اسے چھاپنے اور رکھنے پر سزا دی جاتی رہی۔اس کتاب کی پہلی عام اشاعت اٹھارہ سو بارہ میں کولکتہ میں ہوئی۔ یہ اشاعت ناقص تھی اس میں کتاب کے کئی حصے موجود نہیں تھے۔ اس کے بعد اٹھارہ سو ستاسی میں ممبئی کے ایک چھاپہ خانے سے مکمل کتاب منظرعام پر آئی۔ آجکل یہ کتاب مسلم ممالک میں شائع تو ہوتی ہے مگر اسے اچھی نگاہ سے اب بھی نہیں دیکھا جاتا۔

الف لیلہ و لیلہ کی طرح اس کتاب کا مصنف بھی مجہول ہے۔ بعض محققین اس کاتعلق اہل تشیع کے فرقہ اسماعیلیہ باطنیہ سے جوڑتے ہیں کہ ان کے ایک گروہ نے یہ بصرہ میں خفیہ طور پر لکھی تھی۔ اس رائے کی بنیاد یہ ہے کہ اسماعیلی آج بھی اس کتاب کو بہت محترم سمجھتے ہیں، خصوصا یمنی اسماعیلی اسے مقدس کتاب کا درجہ دیتے ہیں۔

کچھ محققین اسے معتزلہ کے ایک گرہ سے منسوب کرتے ہیں۔جبکہ بعض معاصر مفکرین کاخیال ہے کہ کتاب کے مجہول مصنفین جنہوں نے خود کو اخوان الصفا کا نام دیا تھا نہ اسماعیلی تھے اور نہ ہی ان کا تعلق معتزلہ کے کسی گرہ سے تھا،بلکہ ان کی فکر مستقل بالذات خاص تحریک تھی جسے “مابعد المعتزلہ” کے نام سے تعبیر کرنا زیادہ درست ہے۔ انہوں نے حکومتی عتاب کے خوف سے اپنی پہچان مجہول رکھی تھی۔

بعض فکری وفلسفی آرا:

جیساکہ کتاب کی فہرست سے اندازہ ہوچکا ہے کہ اس میں وارد ہونے والے مباحث و افکار متنوع اور دقیق ہیں۔ اس میں نظری علوم سے ہٹ کر تجرباتى سائنسی علوم پر بھی کلام موجود ہے۔

اخوان الصفا کوئی مذہبی فرقہ وارانہ ٹولہ نہیں تھے۔ یہ لوگ مذہب اور فلسفیانہ حقائق کے درمیان ربط قائم کرنے کے قائل تھے۔ یونانی فلسفہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ان کا کہنا تھا شریعت اسلامی اور فلسفہ یونانی کے ہمقدم ہونے سے انسان حقیقی کمال حاصل کرسکتا ہے۔

کتاب کا محور انسان کو نقطہ عروج تک پہنچنے کا راستہ دکھانا ہے اوراس کے مطابق وہ نقطہ عروج روحانی آزادی ہے۔

اخوان کتاب میں جگہ جگہ اظہار کرتے ہیں کہ انسان اس عالم میں مقید ہے،اسے آزاد ہونا ہے اور آزادی کا راستہ معرفت ہے اور یہ معرفت جامد نہیں بلکہ کئی عناصر کا مجموعہ ہے۔

کتاب کا محور انسان کو نقطہ عروج تک پہنچنے کا راستہ دکھانا ہے اوراس کے مطابق وہ نقطہ عروج روحانی آزادی ہے۔

معرفت کے بارے میں ان کی رائے ہے کہ اس کی تین اقسام ہیں،پہلی قسم وہ ہے جو حواس خمسہ سے حاصل ہوتی ہے،دوسری عقل اور غوروخوض سے،جبکہ تیسری قسم کو وہ برہان کے نام سے تعبیر کرتے ہیں جوکسی ایسے بزرگ یا امام کے ساتھ تعلق سے حاصل ہوتی ہے جو منطق،فلکیات اورحساب سمیت باقی علوم پرمكمل دسترس رکھتاہو۔معرفت کے یہ تینوں منابع انسان کی شخصیت کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔

اخوان الصفا خود کو مصلح کہتے ہیں اس لیے ان کے ہاں دین کی اہمیت بھی موجود ہے البتہ وہ ادیان کے مابین تفریق و ترجیح کے قائل نہیں تھے کیونکہ تمام ادیان کی منزل ومقصود ایک ہی ہے۔

کتاب میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے تمام افکار کے مصادر چار ہیں جن سے انہوں نے یہ علوم ومعارف كشيد كيے :آسمانی کتب،فلاسفہ وحکماءکی کتب،کائنات اور جوہرنفس انسانی۔یہ فلاسفہ کو انبیاءکے بعد درجے پر فائز کرتے تھے۔ان کے مطابق یہ بھی اصحاب رسالت ہوتے ہیں کیونکہ ان کی تعلیمات بھی مثالی انسان کی تشکیل کا ذریعہ ہوتی ہیں۔

کتاب كامكمل تعارف یہاں ممكن نہیں، ان کی فکر کا چھوٹاسا حصہ پیش کیاگیا۔ رسائل اخوان الصفا ایک بحربے کراں ہے،یہ متعدد علوم کا نادر اور بے مثال مجموعہ تھا جس پر حرام کی مہر ثبت کرکے ہمیشہ کے لیے دفن کردیاگیا۔علم کو بطور علم دیکھنے کی بجائے اس کی شناخت متعین کرنے سے جہالت،انتہاپسندی اور پستی ہی جنم لیتے ہیں جس کی عملی مثال آج ہمارا معاشرہ پیش کر رہا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ رسائل اخوان الصفا ایسی کتاب ہے جس میں مذہب کے روایتی وسلفی بیانیے کے برعکس آراءموجود ہیں اس لیے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اوراس میں بنیادی طور پر ایک مثالی وارفع انسان کی تشکیل کا خواب دکھایا گیاہے۔

آخر میں جون ایلیا کی خوبصورت عبارت نقل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے الفاظ میں جماعت اخوان الصفا کی نمائندگی کرتے ہوئے یوں توصیف کی ہے کی ہے:

“ہم نادیدہ افقوں سے اٹھنے والے بادلوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ ہمیں سمتوں کو دھونا تھا۔آبشاروں سے ہزاروں چھتنار پیڑوں اور پودوں کو دھونا تھا جو تاریخ کی گرد افشانی سے آلودہ ہیں۔ تمہارے اور اپنے آنسووں سے بے سود گلہ مندیوں کے چہروں کو دھونا تھا۔ شاخوں کو اور صدہا سال سے ان کی جنبشوں کے آہنگ پر چہچہانے والے پرندوں اور ان کے پروں اور ان کے منقاروں کو دھونا تھا۔ ہواوں اور شعلوں کو دھونا تھا۔ بادلوں میں کوندتی ہوئی بجلیوں کو دھونا تھا۔ ہمیں اس دنیا کو دھونا تھا جس میں ہماری آج کی تاریخ کی نسلیں سانس لیتی رہی ہیں۔ ہمیں یزداں، اہرمن اور انسان کو دھونا تھا۔ مگر کچھ بھی نہ کرسکے”۔

کیونکہ ہمیں جبر کی تاریک راہوں میں مار دیا گیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  تصوف ——– محمد انور عباسی

 

Facebook Comments Box
اخوان الصفاتبصرہ کتبتصوفرسائل اخوان الصفا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بناسپتی دانشور: لالہ صحرائی کی “دانش” کی سالگرہ پہ خاص تحریر
next post
سیاست میں غیر اخلاقی عنصر کاغالب ہونا اچھی روایت نہیں: ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.