تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینصنف/ جینڈر

کھانا خود گرم کر لو —– سحرش عثمان

by دانش ڈیسک 19/03/2018
written by دانش ڈیسک 19/03/2018
98

خومخواہ بولنے خومخواہ لکھنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پیش خدمت ہے ہماری خامہ فرسائی۔
فیمنسٹ آنٹیز اسے ایسے بھی پڑھ سکتی ہیں کہ “اپنے حقوق کی پہچان کی طرف پہلا قدم اور چند گزارشات” جنہیں حکم سمجھا جائے تو اچھا ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ “ملین مارچ” کے شبھ موقع پر پلے کارڈ پر لکھا “مطالبہ” پڑھا تو ہنسی آئی۔ اور اس کی جسٹیفیکیشن پر بنی وڈیو دیکھ کر غصہ آیا۔

ایسے موقع پر پنجابی میں ہم نانی کے کھسم والی مثال دیتے ہیں۔ لیکن یہاں بیان نہیں کی جا سکتی آخر کو ایک عدد فیمنسٹ ہیں ہم بھی۔ اور نانی سمیت ہر کسی کے کھسم کرنے نہ کرنے کے حق کو اس کا بنیادی حق اور آزادی سمجھتے ہیں۔

ساتھ ہی یہ خیال بھی ہے ہمارا کہ اگر کوئی مذکورہ بالا محاورے میں موجود نانی والا کام کرنا ہی نہیں چاہتا زندگی میں کبھی تو یقینا اُس صورتحال کے مسائل کا ادراک نہیں ہوسکتا اسے۔
جب تک جوتا پہن نہ لیا جائے کیل کی پوزیشن چبھن کا اندازہ ممکن ہی نہیں۔

خیر یہ تو تھی ضمنی بات۔
اصل مدعا تو آپ نے بیان کردیا کہ نہیں کرنا کھانا گرم تو ٹھیک ہے نا آپ کی مرضی ہے اس سے کس کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ آپ نے نہیں کرنا کھانا گرم تو نہ کریں۔لیکن جو کرنا چاہتی ہیں ان پر اپنا نظریہ کو امپوز کر رہی ہیں بھئی۔ آپ کا جسم آپکی مرضی ہوسکتی ہے۔ تو دوسری خواتین کا گھر ان کی زندگی بھی ان کی مرضی ہوسکتی ہے۔
آپ اپنے جسم کا اچار ڈالیں مربہ بنائیں ممی بنائیں یا میوزیم میں رکھوائیں مجھے اعتراض نہیں۔ لیکن ساتھ ہی مجھے بھی یہ حق دیجئے۔ یہ ہی آزادی دیجئے۔

مجھے آپ کی فر والی ٹاپ اور منی سکرٹ پر اعتراض نہیں تو آپ کو میرے سٹالر سکارف پر کامنٹ کرنے کا حق اختیار کس نے دیا؟
اس غلط بلکہ خوش فہمی سے نکلیے کہ آپ سارے ملک کی ٹوٹل خواتین کی اکلوتی نمائندہ ہیں۔
آپ کے مسائل ہوں گے یقینا حقیقی مسائل ہوں گے۔ ممکن ہے مردوں کی ڈیلنگز آپ کے ساتھ فئیر نہ رہی ہوں۔ ممکن ہے آپ رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوں۔ عین ممکن ہے آپ کا مدعا بالکل ٹھیک ہو۔
لیکن یہ بھی تسلیم کریں کہ بہت سی خواتین ایسی بھی ہیں جو ردعمل کی نفسیات کا شکار نہیں ہیں۔ جن کے ساتھ باپوں خاوندوں بھائیوں کے روئیے بہت اچھے ہوں گے۔ اور کچھ ہم سی۔۔۔یعنی آنسہ سحرش عثمان جیسی بھی ہوں گی جو یہ سمجھتی اور اس کا برملا اظہار کرتی ہیں کہ زور آور کی کوئی جنس نہیں ہوتی زورآور بلا امتیاز جنس استحصال کرتا ہے۔

تو یہ ساری خواتین کیوں آپ کے نظریات کو تسلیم کرلیں اور کیسے؟
صرف اس لئے تسلیم کر لیا جائے کہ آپ ایک انتہا کے خلاف لڑتے ہوئے انتہاء پسند ہوگئی ہیں۔
آپ کی ملائیت صرف اس لئے تسلیم کرلی جائے کہ آپ مذہبی ملائیت کے خلاف لڑ رہی ہیں؟
آپ کو خواتین کے حقیقی مسائل کا ادراک ہے بھی؟ آپ کے لیے مائیکرو کا بٹن دبا کر کھانا گرم کرنا مسئلہ ہے۔
جبکہ اصل مسئلہ آپ کی میڈ کو درپیش ہے جس کے بچے کی پیدائش پہ آپ اسے پیڈ تو کیا ان پیڈ لیو بھی دینے کو تیار نہیں۔ آپ اسے نکال کر دوسری میڈ رکھ لیتی ہیں یہ کہتے ہوئے کہ اس کا تو ہرسال کا یہ کام ہے۔

خاتون کا مسئلہ سمجھنا ہے تو سارے پرائیویٹ اداروں میں کرسیوں پہ بیٹھی خواتین کو دیکھیں جو دو دو ہفتے ایک ایک مہینے کا بچہ نانی کے پاس یا ڈیئر کئیر سینٹر میں چھوڑ کر کرسیوں پر بیٹھی “اکنامک انڈیپینڈینس” کی لوری سنا سنا کر اپنی ممتا مارتی رہتی ہیں۔

مسائل کیا ہوتے ہیں کبھی کھیتوں میں کام کرتی اس خاتون سے پوچھیں جو نو مہینے ریگولر اور تین دن پہلے پری آپ چیک اپ کے لیے کسی مہنگے ہسپتال کے بستر پر پڑی نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اس لئے پریشان ہوتی ہے کہ کٹائی کے دنوں میں بچہ ہوگیا تو کتنے دنوں کا حرج ہوجائے گا۔

اس خاتون سے مسائل پوچھئے جو ایم ایس سی فزکس بیٹی کے لیے رشتہ ڈھونڈتے ہوئے انٹر فیل لڑکے کو کنسیڈر کر رہی تھی۔

وہ سارے مسائل بھی جانیے جو ہر روز لڑکیوں کو کالج یونیورسٹی جاتے ہوئے درپیش ہوتے ہیں۔
اس نفسیاتی ٹارچر کا حل ڈھونڈیے جو پانچ پانچ سال کی بچی کو یہ کہہ کر دیا جاتا ہے کہ اگلے گھر جا کر کیا کرنا ہے۔ اور یہ ٹارچر کوئی اور نہیں اردگرد موجود خواتین ہی دیتی ہیں۔
مسائل ہی حل کرنے ہیں مضبوط ہی بنانا ہے تو اس سوچ کی نفی کیجئے خاتون باہر نکل کر ہی مضبوط ہوتی ہے کام کرکے پیسے کما کر ہی مضبوط ہوتی ہے خاتون۔

گھر بیٹھی خواتین کے کام کو کام کنسیڈر کرائیے انہیں اپنے بل پہ مضبوط بنانے کی کوشش کیجئے۔ اکنامک انڈیپینڈینس ہی دلانی ہے تو نکاح نامے میں شقیں ڈلوائیے نان و نفقے والی نکاح جیسے سوشل کانٹریکٹ میں سول کورٹس کی شمولیت پر بات کیجئے۔
گارنٹر کی قانونی حثیت پر بات کیجئے۔
لڑکی کو نکاح میں اپنا وکیل خود چننے کی آگاہی دیجئے۔
کیوں۔۔
کیونکہ مجھ سمیت بہت سی لڑکیاں خواتین آپ کی طرح اس انسٹینکٹ کا انکار نہیں کرتیں۔ فطرت سے بھاگنے کا نہ کوئی شوق ہے نہ خواہش۔
ہم شادی کے معاشرتی تصور پر بات کرسکتے ہیں اس پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن سوکالڈ آزادی کے لیے فطرت سے بھاگنے کا نہ ہمیں شوق ہے نہ دلچسپی۔

دیکھئے۔ مسائل ہیں حقیقی مسائل ہیں گھمبیر بھی میری آپکی جنس سفر Suffer کر رہی ہے۔ لیکن یقین کیجئے جس طرح ایک فیصد سے بھی کم لوگ گرم کھانے پر مارتے پیٹتے ہیں بالکل اسی طرح ایک فیصد سے بھی کم خواتین صرف کھانا گرم کرنے کی بات پر اوفینڈ کرتی یا ہوسکتی ہیں۔

رہ گئی بات جینڈر رول ڈیفائن کرنے کی تو کیا بڑی بات ہے آپ نہ مانیے اس ڈیفینیشن کو۔ آخر آپ سوشیالوجی کے پرسپیکٹو میں فیمینزم کو بیان کرتی ڈیفینیشن کو بھی تو نہیں مانتی ہوں گی نا۔ آپ سی “سوڈو فیمینسٹ” اس کو زمینی حقیقت ہی سمجھے گی کانفلکٹ تھیوری تو ماننے سے رہی۔
تو کہنا یہ ہے کہ میں آپ کے فیمینزم میں نہیں گھستی آپ ہمارے ریلزم میں مت گھسیے۔
پیس فل کو ایگزسٹنس کہتے ہیں اسے۔
اور اگر مقدمہ لڑنا ہی ہے جنس کا تو آئیے رئیل گراونڈز پہ لڑتے ہیں اپنی بیٹیوں کو مضبوط بنا کہ۔
انہیں فطری اور نارمل زندگی جینے کا حوصلہ دے کر۔کیونکہ فرار کوئی حل نہیں ہوتا۔

اپنی بیٹیوں کو آزادانہ اور مشکل فیصلے لیتے دیکھ کر ان کے لیے سپورٹیو ہو کہ۔ تعصب کے دائرے کا بیل بننے سے بچا کہ۔
یہ کہنا کہ کام ہی کرانے ہیں تو میڈ سے شادی کر لیں انتہائی غلط بات ہے کیونکہ میڈ بھی ایک ورکنگ لیڈی ہوتی ہے۔ “اکنامک انڈیپینڈنس” کا شکار۔

اگر یہ سب نہیں کرنا۔۔۔ تو پھر ایک مفت مشورہ لیجئے۔۔
سن لائٹ میں ڈی ایم جی ایم کی ڈرائے بیس اور میڈونا آف لنڈن کا سن بلاک استمال کرنے کا۔
امید ہے برا نہیں مانیں گی۔
کھانا کھانا ہوا تو گرم کر لیجئے گا۔۔۔ میں تو نہیں کروں گی باس۔

Facebook Comments Box
featuredwomen rightsآزادی نسواںحقوق نسواںصنفکھانا گرم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایک پرانا سوال نیا مسئلہ (حصہ سوئم) ۔۔۔۔۔۔۔۔ شمیم احمد
next post
چوہدری نثار کا موقف، شہباز کی رائے اور نواز شریف کا بیانیہ ۔۔۔ رئیس احمد صمدانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.