تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینمذہبی

سٹیفن ہاکنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا اپنا ایمان بچائیے ! ایم جبران عباسی

by Editor2 15/03/2018
written by Editor2 15/03/2018
86

کیا ( خدا) سے انکار کرنے والے نہی دیکھتے یہ زمین اور آسمان ایک تھے پھر ہم نے ان کو جدا کیا اور ہم نے ہر جاندار کو پانی سے زندگی دی‘‘۔
القران سورہ نمبر ۲۱ آیت نمبر تیس

پھر ایک ملحد (منکرِ خدا) سائنس دان اس نتیجے پر پہنچا۔
’’یہ کائنات لامحدود اور ہمیشہ رہنے والی نہی بلکہ اس کا آغاز ایک نقطہ سے ہوا تھا اور اب جب سکڑنا شروع ہو گی تو ایک نقطہ پر ہی ختم ہو گی۔ ہمارے کائنات کے اردگرد بہت بڑے سیاہ گڑھے ہیں جن میں سے کوئی چیز واپس نہیں نکل سکتی ان سیاہ گڑھوں کو ’’بلیک ہولز‘‘ کہتے ہیں۔‘‘

کیا ان دو میں یہ نقطہ مشترک نہیں یہ کائنات ایک مجسم تھی پھر تقسیم ہوئی اور بروز قیامت پھر یکجا کی جائے گی۔
حیرانگی ہے ان قرآنی آیات کی تصدیق ایک ملحد نے کی اپنی سائنسی تحقیقی رو سے۔

اور وہ جو مذہب اسلام کو ’’تفسیرِ قرآن‘‘ ، ’’حدیثِ پاک‘‘ ، ’’سنتِ نبوی‘‘ اور ’’تقلیدِ صحابہ‘‘ کی روشنی میں تقسیم کر کے اپنی آخرت کو سنوار کر اب سکون سے اپنی اپنی تفرقہ گاہوں میں مغل دربار سجائے عقیدت مندوں کی جی حضوری سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ اب ان کا واویلا ہے کہ اس ملحد کی سائنس جس بگ بینگ پر آج پہنچی ہے قرآن پاک میں وہ چند مختصر آیتوں میں چودہ سو سال پہلے بیان کی جا چکی۔

ساتھ سرٹیفیکیٹ بھی جاری ہو چکا یہ سٹیفن ہاکنگ تمام تر فلکیاتی دریافتوں کے باوجود جہنمی ہے کیوں کہ منکرِ خدا کے ساتھ ساتھ کافر بدتر تھا۔ گویا ان کو فیصلہ سے بھی آگاہ کیا جا چکا۔

اسے چاہیے تھا قرآن پاک کی تعلیماتِ فلکیات کا اقرار کرتے ہوئے مسلمان ہو جاتا، امت مسلمہ کے اتحاد کی دعائیں کرتا اور جنت کے باغوں کی ہوس رکھے قبر میں جا سوتا۔ یہ اور بات سٹیفن ہاکنگ کا موضوع خدا نہیں تھا اسکی تخلیق کردہ کائنات تھی۔

کافی دن ہو گئے سوشل میڈیا پر ’’حق پرست‘‘ نوجوانوں کا گروپ دیکھا۔ گروپ کا نام تو یاد نہیں ہاں مگر منشور ملاحضہ ہو مغرب کی بنائی ہوئی دنیا کی سب سے بڑی سائنسی تنظیم کی ’’جھوٹی دریافتوں‘‘ سے پردہ اٹھانا ہے جو شیطانی قوتوں کے اشارے پر ہمیشہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے برعکس کائنات کی دریافت پر مصروف رہتے ہیں تاکہ دنیا کے تمام مذاہب خاص کر امت مسلمہ کے مسلمانوں کے اسلامی عقائد کو مشکوک کیا جا سکے اور دجالی قوتوں کا راستہ آسان کیا جا سکے۔

عرض کی جا چکی خلافتِ عباسیہ، خلافت عثمانیہ اور باقی مسلم ادوار میں قرآن کی محض سیاسی تشریح کروائی گئی تاکہ خلیفہ کے جواز کو آیتوں سے تقویت مل سکے۔

یاد رہے اس سائنسی تنظیم کا نام امریکہ میں موجود ’’ناسا‘‘ کا ادارہ ہے اور اس کی جھوٹی سائنسی کہانیوں میں سب سے پہلی کہانی ’’انسان کا چاند تک کا سفر‘‘ ہے اور وجہ وہ امریکی جھنڈا جو بغیر ہوا کے چاند پر لہراتے ہوئے امریکی عظمت کی جھوٹی گواہی دے رہا تھا۔

اکثریت نے تفسیر قرآن لکھی، احادیث کے ترجمے کیے انھوں نے سائنس کی رو سے نہیں بلکہ سیاست کی سیاہی استعمال کی، وجہ وہی جس جغرافیہ پر مسلمانوں کا مسکن تھا وہ ہمیشہ جنگ و جدل، نسلی و سیاسی تقسیم اور اقتدار کی سیاست کا بھوکا رہا۔ ایسی سرزمین جہاں فلسفی مفلس رہتا اور جگت باز درباروں کی زینت بنتا نتیجتاً بھوکے فلسفی نے اس جغرافیہ اور سماج سے ہمیشہ کنارہ کشی کی۔

چند حکومت نواز دانشور تھے جن کی لکھی گئیں تاریخیں شہنشاہوں کی منظور نظر تھیں۔ ایسے ہی چند ایک تھے جنھوں نے حق پرستی کی آڑ میں ذاتی نفاق کو مذہبی اختلافات میں ضم کر کے موجودہ اور سابقہ فرقوں کی بنیاد رکھی۔

اگرچہ ایک امام ابو حنیفہ تھے خلیفہ نے اصرار کیا قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کا عہدہ لیں معذرت کی، اصرار کے ساتھ لالچ کا عنصر بھی شامل کیا تو انکاری ہوئے، پھر قید کرنے اور روزانہ کوڑے مروائے صبر کیا۔ روایت ہے زندگی کی آخری گھڑی بھی خلیفہ عبداللہ عباسی کے زیر عتاب میں گزری۔ مگر وہ امام تھے کوئی قادری، رضوی، پیر، الحاج، سیالوی، سرکار قبلہ نہ کہ سمجھوتا ہو جاتا۔ تو سائنس سے انکار کبھی نہیں کیا گیا بس یہ کہ وہ ماحول پیدا نہیں ہونے دیا گیا کہ سائنس کے علوم و فنون پروان چڑھیں۔

نظام تعلیم کو رٹے اور مشقی سوالوں پر مشتمل کر کے سائنسی غورو فکر کو بدعت سمجھا گیا آج جن مسلم سائنسدانوں پر امت کو فخر ہے چند ایک کو چھوڑ کر اکثریت اس وقت کی باغی تھی۔ عرض کی جا چکی خلافتِ عباسیہ، خلافت عثمانیہ اور باقی مسلم ادوار میں قرآن کی محض سیاسی تشریح کروائی گئی تاکہ خلیفہ کے جواز کو آیتوں سے تقویت مل سکے۔

اگر سائنس میں کچھ کام بھی ہوا تو ’’ فلاحی سائنس‘‘ میں نہیں جنگی سائنس میں۔ جب بھی ہیرلڈیم کی کتاب ’’سلیمان عالیشان‘‘ کا مطالعہ کریں تو ترک سلطنت کے امیر البحر خیرالدین بربروس کے بحیرہ روم میں کارنامے پڑھتے ہوئے جنگی تشنگی کو تسکین ملتی ہے کیسے Battle of pervaiza” کی ایک لڑائی میں پاپائے روم اور صلیبیوں کے اتحادی جنگی بیڑوں کو شکست فاش دیتا ہے۔ ایک لڑائی کے بعد وہ مفتوح پاپائے روم کے مقدس جھنڈے کو اپنی کشتی کے پیچھے باندھ کر تیراتا ہوا قسطنیطنیہ کی بندرگاہ شاخ زریں میں سلطان کو فتح کی سلامی دیتا ہے۔

جنگی عروج کا یہ دور بھی زوال پذیر ہوا، یورپ اس میں بھی بازی لے گیا، اس نے گولہ بارود، فلاحی سائنس میں برابری کی بنیاد پر ترقی کر لی۔ یورپ کے ہاتھ میں بندوق کا آنا تھا ہماری تلواریں بیکار ہو گئیں۔

یہ شاہوں کے وفاداروں کی من پسند لکھیں تاریخوں سے صرف ایک ہی سبق اخذ ہوتا ہے اونچے اونچے قلعے تعمیر کیجئے، بارود کے زرخیزے جمع کریں جس جغرافیہ میں دشمن نظر آئے ’’دارلحرب‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے چڑھائی کر دیں۔ جیت گئے تو غازی ورنہ شہید۔

جو بھی کریں مگر ہر گز یہ چند کام نہیں کرنے ورنہ خدائے عظیم تر کی ذات غضبناک ہو جاے گی۔
وہ ہے
اپنے نظریات میں توسیع
کافر اور ملحد کی عقل کو داد
دوسروں کے خیالات سے ہم آہنگی
قرآن حدیث اور سنت کی وہ تشریح جس سے سنی، شیعہ، الحدیث کی ایک مسجد میں اکھٹے باجماعت ادائیگیِ نماز ممکن ہو سکے
اور سب سے خطرناک عمل اپنے ماضی پر بے رحمانہ سوال اورتاریخ پر اعتراض
مشکوک فقیہی، سلطانوں اور واقعات پر شبہات۔

حضرات گرامی یہی نازک گھڑی ہے اپنے ایمان کو بچائیے۔ سٹیفن ہاکنگ، ناسا، نیوٹن اور سارے یورپ کے کالے کارناموں پر چند حروف بھیج کر اپنے ابنِ سینا کو سینے سے لگا کر شاندار ماضی کی حفاظت کریں رہی بات مستقبل کی تو مثل مشہور ہے
کل کس نے دیکھا۔

Facebook Comments Box
حق پرستخدا سے انکارسائنس اور اسلاممذہب اسلامملحد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
اسٹیفن ہاکنگ پر سب سے شاندار مضمون یہاں ملاحظہ کریں: عبدالغفار چھینہ
next post
خدا سب کو شادی سے ہم کنار کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.