تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

سینیٹ الیکشن: جمہوری مروڑ اور علاج: شہزاد صدیقی

by دانش ڈیسک 13/03/2018
written by دانش ڈیسک 13/03/2018
81

پانامہ کیس اور نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلوں کے بعد مسلم لیگ کھل کر اس عزم کا اظہار کرتی رہی ہے کہ وہ آئینی ترامیم کا سہارا لے کر ایسے تمام فیصلوں کو نہ صرف undo کرے گی بلکہ ججز کے اختیارات پر بھی نظر ثانی کی جائے گی۔ آسان لفظوں میں کہہ لیجیے کہ عدلیہ کہ پر کترنے اور پانامہ کرپشن کو دبانے کا مکمل پلان تھا۔ ایسی آئینی ترامیم کے لیے سینٹ کا رول بہت اہم قرار دیا جارہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سینٹ الیکشن بھرپور توجہ کا مرکز بنے رہے۔

پی ٹی آئی کے لیے سینٹ کے الیکشن کی اہمیت کی وجہ بعینہ وہی تھی جو ن لیگ کے لیے تھی۔ پی ٹی آئی، جو کہ پانامہ کیس کی اہم ترین اسٹیک ہولڈر ہے، وہ کسی بھی صورت پانامہ کی جدوجہد کو ضائع ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ ن لیگ اگر سینٹ میں اپنا چئیرمین لانے میں کامیاب ہوجاتی تو یہ پی ٹی آئی کی پانامہ کیس میں کی گئی تمام جدوجہد کو مٹی میں ملانے کے مترادف ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ سینٹ الیکشن پی ٹی آئی کے لیے مارو یا مرجاؤ کے مترادف تھا۔ پی ٹی آئی کے لیے اہم ترین سیاسی چیلنج و حریف پیپلز پارٹی نہیں، ن لیگ تھی اور پی ٹی آئی جانتی ہے کہ لیگیوں کی جان پانامہ کے طوطے میں قید ہے۔

صادق سنجرانی کا انتخاب پارلیمنٹ کے منہ پر تمانچہ اور عدالتی مفروروں کا remotely سینیٹر منتخب ہوجانا پارلیمنٹ کے گلے میں گلابوں کا ہار۔۔۔

وہ جمہوری نونہالان، جو روٹی کو چوچی اور پانی کو مم مم بولتے ہیں، سینیٹ الیکشن کی شکست فاش کے بعد عمران خان کو پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرنے کے طعنے دے رہے ہیں۔ وجہ بڑی سیدھی سادی ہے۔ عمران خان کی سمارٹ سیاسی موو نے کئی لوگوں کے تصوراتی شیش محلوں کو بے دردی سے توڑ ڈالا ہے۔ ان جمہوروں کو موہوم سی امید تھی کہ عمران خان اصول کی سولی پر چڑھتے ہوئے اپنا امیدوار کھڑا کرے گا جس کے بعد اپوزیشن کا ووٹ بری طرح تقسیم ہوجائے گا اور اس فاش سیاسی غلطی کا ن لیگ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا چئیرمین لے آئے۔ اسکے بعد کیا ہوتا، وہ سب کو معلوم ہے۔۔۔

جمہوروں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ خان کے اصلاحات کے مطالبے کو سرد خانے کی نظر کرتے جاؤ اور اسے گلے سڑے نظام کی پچ پر کھیلنے کے لیے مجبور کرو۔ اسی پچ پر کھیلتے ہوئے خان اگر چت ہوجائے تو جمہوریت کی فتح اور اگر خدانخواستہ سینچری جڑ دے تو اسے جمہوریت کی ہار قرار دے دو۔۔۔

جمہوروں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ خان کے اصلاحات کے مطالبے کو سرد خانے کی نظر کرتے جاؤ اور اسے گلے سڑے نظام کی پچ پر کھیلنے کے لیے مجبور کرو۔ اسی پچ پر کھیلتے ہوئے خان اگر چت ہوجائے تو جمہوریت کی فتح اور اگر خدانخواستہ سینچری جڑ دے تو اسے جمہوریت کی ہار قرار دے دو۔۔۔

جمہوروں سے سوال ہے کہ آپ واقعی اتنے احمق ہیں یا احمق نظر آنے کی “اداکاری” کررہے ہیں؟

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سیاست، خصوصاً پاکستانی سیاست میں اصول پرستی، بےوقوفی کا دوسرا نام ہے۔ موقع سے فائدہ نہ اٹھانا اور چانس مس کردینا پاکستانی سیاسی ڈکشنری کی رو سے عقل مندی نہیں۔ سیاسی دوست اور دشمن لمحہ بہ لمحہ بدلتے رہتے ہیں۔ اپنی نظر اپنے سب سے بڑے مقصد پر مرکوز کیے ہوئے سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا اور گیپ نکالتے ہوئے ماسٹر اسٹروک کھیل جانا، پاکستانی سیاست میں سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ وہ تکلیف دہ سبق ہے جو پاکستانی ورژن آف جمہوریت نے عمران خان کو کئی سال کی نیٹ پریکٹس کے بعد سیکھنے پر مجبور کیا۔ حالات اور نتائج بتاتے ہیں کہ خان صاحب اس سبق کو اپنے پلے ویسے ہی باندھ چکے ہیں جیسے 2013 الیکشن میں الیکٹیبلز والے سبق کو باندھا تھا۔ جو اصحاب دکھاوے کے جمہوری کوتوال بنے ہوئے ہیں، انھیں چائیے کہ عمران خان کی بجائے پاکستانی جمہوری نظام کو کٹہرے میں کھڑا کریں۔ سب جانتے ہیں کہ یہ نظام سالوں سے اصلاحات کا منتظر ہے۔ اس نظام میں اصلاحات کے لیے انھوں نے کیا کیا؟ کہاں آواز بلند کی؟ سینیٹ کے انتخابات میں منڈی برسوں سے لگتی آرہی ہے۔ حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ جو گھوڑا حکومتی اصطبل کا رخ کرے وہ جمہوری، جو مخالف اصطبل کا رخ کرے وہ سازشی؟ عمران خان نے اوور سیز پاکستانیوں کو الیکٹورل پراسیس میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جو ٹال دیا گیا۔ کیوں؟ پی ٹی آئی کی طرف سے بایومیٹرک نظام کا بھرپور مطالبہ کیا گیا جس کو باقی مطالبات کی طرح کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ کیوں؟ وجہ صرف یہ تھی کہ قوی امکان تھا کہ ان اصلاحات کا فائدہ پی ٹی آئی کو پہنچتا۔ جاتی امرائی جمہوریت کو یہ “کشٹ” اٹھانا قطعی گوارا نہ تھا۔۔۔

سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا اور گیپ نکالتے ہوئے ماسٹر اسٹروک کھیل جانا، پاکستانی سیاست میں کامیابی ہے۔ یہ تکلیف دہ سبق پاکستانی ورژن آف جمہوریت نے عمران خان کو کئی سال کی نیٹ پریکٹس کے بعد سیکھنے پر مجبور کیا۔

جمہوروں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ خان کے اصلاحات کے مطالبے کو سرد خانے کی نظر کرتے جاؤ اور اسے گلے سڑے نظام کی پچ پر کھیلنے کے لیے مجبور کرو۔ اسی پچ پر کھیلتے ہوئے خان اگر چت ہوجائے تو جمہوریت کی فتح اور اگر خدانخواستہ سینچری جڑ دے تو اسے جمہوریت کی ہار قرار دے دو۔۔۔

سینیٹ الیکشن کی اس تمام صورتحال سے یقیناً پیپلز پارٹی نے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا جس سے پی ٹی آئی کو کوئی خاص سروکار نہیں۔ پی ٹی آئی کا پرائمری مقصد ن لیگ کا راستہ روک کر اپنی پانامہ پر کی گئی جدوجہد کو بچانا تھا جس میں وہ پوری طرح کامیاب رہی۔ ن لیگیوں اور جمہوروں کا سینیٹ الیکشن میں دھول چاٹنے کے بعد کا غصہ اور شدید فرسٹریشن فطری ردِعمل ہے۔

یہ بھی پڑھئیے: پی ٹی آئی ٹائیگرز : اخلاقیات کا شکوہ — سمیع اللہ خان

 

اب رہا جمہوروں کا یہ اعتراض کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سینیٹ چئیرمین بلوچستان سے لاکر وہاں کون سی دودھ کی نہریں جاری ہونگی تو حضرات، 2013 کے الیکشن کے بعد سے پاکستان کے ان مقامات کی نشاندہی کردیجیے جہاں سے دودھ و شہد کی نہریں جاری وساری ہیں، نوازش ہوگی۔ یا اس جمہوری انتخاب کی نشاندہی کردیجیے جس کے کامیاب انعقاد کے بعد سے پاکستان ایشین ٹائیگر بننے کی راہ پر گامزن ہوگیا ہو۔۔۔

سینیٹ کے انتخابات میں منڈی برسوں سے لگتی آرہی ہے۔ حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ جو گھوڑا حکومتی اصطبل کا رخ کرے وہ جمہوری، جو مخالف اصطبل کا رخ کرے وہ سازشی؟

صادق سنجرانی کا انتخاب پارلیمنٹ کے منہ پر تمانچہ اور عدالتی مفروروں کا remotely سینیٹر منتخب ہوجانا پارلیمنٹ کے گلے میں گلابوں کا ہار۔۔۔

اگر آپ کے پیٹ میں جمہوریت کے لیے اٹھنے والے مروڑ خالص ہوتے تو آپ کی طرف سے اس شرمناک حرکت پر ضرور احتجاج ریکارڈ کروایا جاتا لیکن آپ کی طرف سے اس معاملے پر مکمل خاموشی کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہے۔ حضرات، یہ منافقت کب تک؟

سینیٹ الیکشن آپ کے مستقبل کی سیاسی پلاننگ کی شکست فاش ہے۔ براہ کرم اخلاقیات کے بھاشن دے کر اپنی دلی خفت و سیاسی منافقت کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش نہ کیجیے کیونکہ آپ کی سیاسی اخلاقیات چِندی برابر اور منافقت پہاڑ برابر ہے۔ یا تو اخلاقیات کا سائز بڑا کیجیے یا منافقت کی ڈاؤن سائزنگ کرلیجیے تاکہ ڈھانپنے میں قدرے آسانی ہوجائے۔۔۔!!!

Facebook Comments Box
featuredImran KhanPTISenate ChairmanSenate Elections Pakistanپاکستان سیاستپی ٹی آئیسنجرانیسیاستسینٹ الیکشنسینٹ انتخاباتسینٹ چیئر مینعمران خانمسلم لیگ نن لیگنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قابل مذمت یا قابل تعریف: ابن اسرار
next post
سینٹ الیکشن اور ہماری سیاست کا گھناونا چہرہ : ثناء غوری

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.