تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

نفسیاتی علاج کے مراکز یا قید خانے؟ —- ڈاکٹر فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 09/03/2018
written by دانش ڈیسک 09/03/2018
109

طبی نفسیات (Clinical Psychology) میں ایک معاملے میں بڑی الجھن پائی جاتی ہے اور وہ معاملہ ہے بعض ذہنی مسائل کے قابل علاج ہونے یا نہ ہونے کا۔ یہ سارا مخمصہ بہت سے مختلف اور متضاد نظریات کی’’مکس چاٹ‘‘ بنانے سے پیدا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ذہنی مسائل کی تشخیص کا مینول (جس کو DSM کہتے ہیں اور جس کا پانچواں ایڈیشن 2013 میں شائع ہوا) حیاتیاتی- نفسیاتی- سماجی (Bio-Psycho-Social ) ماڈل پر مبنی ہے۔ لیکن یہ ماڈل ہے کیا؟ کہا جاتا ہے کہ یہ ماڈل ہر ذہنی مسئلے کو حیاتیاتی، نفسیاتی اورسماجی تناظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تینوں تناظر اس قدر جدا ہیں کہ کبھی ان میں ایسا کوئی الحاق ممکن ہی نہیں۔ کچھ نفسیاتی علاج کے اداروں میں سوشل ورکر (کیس ورکر)، سائیکا ٹرسٹ اور نفسیات دان مل کر کام کرتے بھی ہیں۔ لیکن یہ ایک بڑی ہی مزاحیہ صورت حال ہوتی ہے کیونکہ تینوں کو ہی نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے کام کی سرحدیں کہاں تک ہیں۔

amanda seyfried nude Juicy Jaala

جدید نفسیاتی علاج کا ماڈل یہ ہے کہ نفسیاتی الجھن اپنی جگہ قائم رہے لیکن آدمی بس دیکھنے میں ٹھیک لگے اور پیسہ کماتا رہے۔

سوال یہ ہے کہ آیا نفسیاتی مسائل قابل علاج ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر حقیقت بیان کی جائے تو آج کے نفسیاتی معالجین کسی بھی نفسیاتی مسئلے کا علاج کرنا ہی نہیں جانتے۔ علاج کی جگہ مسائل کی صرف مینجمٹ (Management) ہی اس ماڈل کا مطمع نظر ہے۔ مسائل کے شکار افراد کو دوائوں کے ذریعہ سن کر دیا جایے، سوشل ورکر اُن کے معاشی اور دیگر معاملات میں ان کو کسی قابل بنا دیں یعنی وہ کسی قسم کی معاشی سرگرمی کا حصہ بن سکیں اور علم نفسیات کے ماہر ان کا دکھ سن لیں، اللہ اللہ خیر صلّا۔ یہ ہے جدید نفسیاتی علاج کا ماڈل! نفسیاتی الجھن اپنی جگہ قائم رہے لیکن آدمی بس دیکھنے میں ٹھیک لگے اور پیسہ کماتا رہے۔ اس دور میں آپ اور میں رابن ولیمز کی خودکشی پر حیران ہوتے ہیں کہ اتنا کامیاب اداکار کیونکر اچانک اتنا شدید مایوس ہوا کہ اپنی جان لے لی۔ آپ اور میں روحی بانو، راج کرن اور پروین بابی کے عجیب حال پر سوچتے ہیں کہ ان لوگوں کے ذہنی مسائل آخر کیوں ختم نہ ہو سکے۔ مذکورہ یہ سب افراد تو مشہور لوگ ہیں اور ایسے کروڑوں لوگ جن کو کوئی جانتا ہی نہیں، ان کا کیا؟

آج جس طور پر نفسیاتی علاج ہو رہا ہے، اس میں تو ہر ہر نفسیاتی مسئلہ ہی ناقابل علاج بن گیا ہے۔ نفساتی بیماریوں میں مبتلا ایسے افراد جن کا شعور مکمل طور پر بیماری سے متاثر نہیں ہوتا وہ تقریباً اپنی ساری عمر نفسیاتی علاج گاہوں کے چکر لگاتے گزار دیتے ہیں اور جن کا شعور زیادہ متاثر ہوجاتا ہے یعنی جو مکمل طور پر’’ بہک‘‘ جاتے ہیں ان کو نفسیاتی علاج گاہوں میں قید کر دیا جاتا ہے۔ بڑی حد تک ایسی نفسیاتی علاج گاہیں علاج کے لیے بنی ہی نہیں۔ یہاں لوگوں پر پاگل کا لیبل لگا کر ان کو تاحیات قید کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشی کھیل ہے جس میں اخلاقیات کا ہر ہر لمحہ قتل ہوتا ہے۔

بڑی حد تک ایسی نفسیاتی علاج گاہیں علاج کے لیے بنی ہی نہیں۔ یہاں لوگوں پر پاگل کا لیبل لگا کر ان کو تاحیات قید کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشی کھیل ہے جس میں اخلاقیات کا ہر ہر لمحہ قتل ہوتا ہے۔

2008 میں، میں نفسیاتی علاج کے ایک ادارے میں انٹرن شپ پر گیا۔ اس ادارے میں سارے ہی مریض مستقل طور پر تھے۔ ان سب افراد کو روز کئی کئی دوائیاں کھلائی جاتیں، ان کی گروپ تھراپی کی جاتی اور میوزک کی کلاس ہوتی۔ اکوپیشنل تھروپسٹ (Occupational Therapist) بھی ان سے مختلف کام کراتے۔ لیکن خدا گواہ ہے کسی کے دل میں یہ خیال نہ تھا کہ ان افراد کو یہاں سے آزاد کیا جائے۔ بہت سے پیسے ان افراد کے گھر والے دیتے اور بہت سے اخراجات شاید غیر ملکی امداد یا زکوٰۃ، خیرات اور فطرات سے پورے ہوتے۔ یوں نفسیاتی علاج کاشعبہ بغیر کچھ ڈیلیور کیے اب ایک پھلتا پھولتا بزنس ہے۔ اس میں دوائی بنانے والی کمپنیوں سمیت ہزاروں افراد کے مفادات وابستہ ہیں۔ نفسیاتی مسائل میں مبتلا لوگوں کے گھر والے بھی اکثر ان سے نجات چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے اس ’’آزاد‘‘ اور اپنی آزادی سے پیار کرنے والے معاشرے میں کون اپنے نفسیاتی مسائل کے شکار عزیز کو اپنے گھر میں رکھ کر اپنے آرام میں خلل ڈالے گا؟ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ کوئی ایسا نفسیاتی مسئلہ نہیں جس کا علاج نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک ایسے جہاد کی ضرورت ہو گی جس میں نفسیاتی علاج کے شعبے کو ہر ہر آلائش سے پاک کیا جائے۔ اس کے لیے حیاتیاتی- نفسیاتی- سماجی (Bio-Psycho-Social ) ماڈل نام کے ڈھکوسلے کو اکھاڑ پھینکنا ہو گا اور نفسیات کے صرف کسی ایک نکتۂ نظر اور اپروچ (Approach) جیسے سائکو انالاسز (Psychoanalysis) یا کوگنیٹو سائکولوجی Cognitive Psychology وغیرہ کا انتخاب کرنا ہو گا۔ اِس آپریشن کے بعد ہی ہمارے ملک میں نفسیاتی علاج صحیح طور ممکن ہو پائے گا۔

نفسیاتی علاج کاشعبہ بغیر کچھ ڈیلیور کیے ایک پھلتا پھولتا بزنس ہے۔ اس میں دوائی بنانے والی کمپنیوں سمیت ہزاروں افراد کے مفادات وابستہ ہیں۔

اب علم نفسیات کو اس’’مکس پلیٹ‘‘ سے نجات دلانا ہوگی تاکہ نفسیاتی مرکز کو ’’قید خانوں‘‘ سے ’’علاج گاہوں‘‘ میں تبدیل کیا جاسکے۔ مگرمعاشی مفادا ت کی ریل پیل اور نفسیات دانوں کی عمومی نا اہلی اور غیر تخلیقی رویے کے موجودہ منظر نامے میں ایسا کرے گا کون؟

Facebook Comments Box
Clinical Psychologyماہرین نفسیاتنفسیاتنفسیاتینفسیاتی الجھنیںنفسیاتی علاجنفسیاتی گرہیں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سینٹ انتخابات: خرید و فروخت کی روایت قائم ٭ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
next post
بھوکا کوا —— ببرک کارمل جمالی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.