تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیعلمیکالم

اسلام اور مغرب: مکالمہ کی کامیابی میں رکاوٹیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سجاد میر

by Editor2 26/02/2018
written by Editor2 26/02/2018
105

ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ہم سے کوتاہیاں ہوئیں اور ہمیں اپنے اندر خامیاں ڈھونڈنی چاہئیں، تلاش کرنا چاہئیں اور ان کا تدارک کرنا چاہیے۔ میں اُس خطہ زمین پر رہتا ہوں، جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں ان کا ایک معیار ہوتا ہے جو ان کی سوچوں کا رخ متعین کرتا ہے اور جو لوگ مغرب میں رہتے ہیں ان کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔

میں ایک دن ہنسی ہنسی میں کسی سے کہہ رہا تھا کہ طارق رمضان کو پڑھ لو، طارق فتح کو پڑھ لو۔ طارق علی کو پڑھ لو، ایک اور طارق تھا۔ جتنے بھی طارقین ہیں ان کو دیکھ لو، تارکین وطن ہیں۔ ان کے اندر خاص طور پر مغرب کے اندر اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنا، اپنے مزاج کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا، کمیونٹی کے لفظ کو استعمال کرنا اور اپنے لوگوں کو کہنا کہ یہ کریں وہ کریں الغرض ان میں بہت سے فرق ہیں لیکن یہ Basic چیز ہے جو ان میں ہوتی ہے۔ جناب خورشید ندیم صاحب اگر بُرا نہ مانیں تو ہندوستان کے بارے میں کہا کرتا ہوں کہ ہر آدمی کے اندر ایک چھوٹا سا وحید الدین خان بیٹھا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے مسلمان ہندوستان میں جو کچھ کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ بابری مسجد مسلمان کا قصور، فلاں مسلمانوں کا قصور، ہمیں سر نڈر کر دینا چاہیے۔ یہ بھی ایک Thinking ہے۔

ہماری اصل لڑائی تو سرمایہ داریت کے ساتھ ہے، جس نے پوری دنیا کو قبضہ میں لیا ہوا ہے۔ اسی قبضے سے ہر جگہ، ہر ملک میں مسائل پیدا ہوئے ہیں، بنیاد پرستی، انتہاء پسندی اور نہ جانے کیا کیا۔ سب کچھ اسی سامراجی قبضے کا نتیجہ ہے۔

ایک ہم لوگ ہیں جن کے اندر احساسِ برتری پیدا ہو گیا ہے اس بات سے کہ ہمارے نبیﷺ سب سے اعلیٰ ہیں، ہمارا دین سب سے اعلیٰ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ شاید اس نے ہمارے اندر کوئی خرابی پیدا کر دی ہے۔ ہمارے کچھ دوست کہا کرتے ہیں کہ سلیم احمد صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ ذرا غور کرو کہ اسلام میں ہمارے مسلمانوں میں جو شفاعت کا تصور ہے، کہیں اس نے ہمیں بے عملی کی طرف تو راغب نہیں کر دیا کہ نبی کریمﷺ ہماری شفاعت کر دیں گے، انہیں خوش کرنے کے لیے چھوٹے موٹے کام کرتے رہو۔ باقی عبادات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اعمال کو ہم نے نظر انداز نہیں کر دیا؟ کہ ایمان کا نیت سے کتنا تعلق ہے؟ تعلق ہے بھی کہ نہیں؟ یہ وہ فکری بحث ہے جو ہمارے ہاں ہوئی، لیکن ایک اچھی بات بھی کبھی کبھی اپنے اند ربہت سی خرابیاں پیدا کر دیتی ہے۔ بعض اوقات چھوٹی سی بات پر لڑائی ہو جاتی ہے۔ مغرب کو ہمارا حجاب پسند نہیں ہے۔ ہماری خواتین، ہماری بچیاں اگر حجاب لیتی ہیں تو تمہاری کس چیز کو چیلنج کرتی ہیں؟ اس میں جھگڑے کی کیا بات ہے؟ الغرض بات بات پر لڑائی ہو جاتی ہے، ممتاز صاحب کے ایک دوست نے کہا یہ فرانس والوں کا جو سیکولرزم ہے یہ ہمارے حجاب کے اس لیے خلاف ہے کہ یہ ان کی شکست کی علامت ہے اور نن کے وہ جو ہڈ ہیں اس کو وہ اس لیے قبول کرتی ہے کہ گویا وہ اس کی جیت ہے، ٹرافی ہے۔ انقلاب فرانس میں انہوں نے یہ جیتا تھا۔ دیکھیں! مغرب کے ہاں زنا کا کوئی مترادف نہیں ہے، کیوں کہ وہ اس کو بُرا ہی نہیں سمجھتے۔ ان کے ہاں فورنیکیشن ہے ’’زنا بالرضا‘‘ البیرکیمو نے کہا تھا۔ بیسویں صدی کے آدمی کی تعریف یہ کی جائے گی He fornicated and read papers وہ زنا بہ رضا کرتا تھا اور اخبار پڑھتا تھا، کمبخت نے کتابیں بھی نہیں کہیں۔ گویا اس فعل پر اعتراض نہیں ہے۔

دوسرا ہے adultery اس کو وہ غیر اخلاقی سمجھے ہیں۔ گویا آپ نے ایک بنیادی ایکٹ کو توڑا ہے یعنی شادی شدہ ہو کر آپ نے کوئی کوتاہی کی ہے تو وہ آپ نے اخلاقی ایکٹ کو توڑا ہے ورنہ اس فعل میں کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ اور تیسرا Rape ریپ ہے اور اس میں زور جبر پر ہے، اس ایکٹ پر نہیں ہے۔ جو بات میں نے کہنی ہے وہ صرف اتنی کہنی ہے کہ ترکی میں Adultery ایڈلٹری پر بھی قانون منظور ہونے لگا حالانکہ اس کو وہ بھی اخلاقی طور پر بُرا سمجھتے ہیں۔ پورا مغرب چیخ اُٹھا کہ ترکی کو کیا ہو گیا ہے؟ ترکی اپنے ہاں ایڈلٹری کے خلاف قانون پاس کر رہا ہے۔ جس چیز کو مغرب بھی غیر اخلاقی سمجھ رہا ہے اس پر قانون پاس ہونے پر بھی غصہ اور احتجاج کرنے لگے۔

اسی طرح ارشاد احمد حقانی صاحب نے لکھا کہ میں ترکی گیا تو ان کی فریج کھولنا چاہی تو اس نے اجازت نہیں دی۔ ان کا خیال تھا کہ اس میں شراب تھی، وہ لوگوں کو آفر کرتے تھے خود نہیں پیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ملائیشیا میں سور کا گوشت بکتا ہے لیکن وہ کھاتے نہیں ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں اسی طرح کی رواداری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ کیا اس طرح کی رواداری کا مظاہرہ کر کے ہم مغرب کو جیت سکتے ہیں؟ یہ آپ مجھے بتا دیجئے۔

جب بھی بین الاقوامی قانون کی بات سنتا ہوں تو ڈاکٹر محمد حمید اللہ یاد آتے ہیں جنہوں نے اس بات کو متعارف کروایا تھا کہ دنیا کو بین الاقوامی قانون سے روشناس کرانے والا اسلام تھا۔ ہمارے درمیان ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، جو اس صورت حال میں اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اچھا وہ رواداری کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟ ہمارا حجاب برداشت کیوں نہیں کرتا؟ مجھے یہ پتا نہیں چلتا کہ مغرب اور اسلام میں کیا مذہب کی لڑائی ہے؟ یہ مذہب کی لڑائی بالکل نہیں ہے۔ صلیبی جنگوں سے پہلے بھی مغرب میں ایک لڑائی موجود تھی۔ آج بھی ہے۔ جس کو آج ہم یورپ کہتے ہیں، یہ مغربی یورپ ہے اور مغربی یورپ بنیادی طور پر کیتھولک تھا، پروٹسٹنٹ اسی سے نکلے ہوئے ہیں۔ یہ جو مشرق کا یورپ تھا یا جو روس تھا وہ آرتھوڈکس چرچ تھا۔ اس کیتھولک چرچ کی آرتھوڈکس چرچ کے ساتھ بڑی طویل لڑائی رہی ہے، لیکن موجودہ مغرب جو ہے وہ خود اپنے چرچ سے بغاوت پر مبنی ہے، عیسائیت سے بغاوت پر کھڑا ہے، خود یونان سے مغرب باغی ہو گیا ہے، یا بالکل ایک نئی فکر، ایک نئی تہذیب ہے۔ اسی تہذیب کے بطن سے آج کے جدید نظریات نکلے ہیں، ہم جتنے مسائل پر بھی بات کر رہے ہیں، وہ اچھالے ہوئے مسائل ہیں، ہماری اصل لڑائی تو سرمایہ داریت کے ساتھ ہے، جس نے پوری دنیا کو قبضہ میں لیا ہوا ہے۔ اسی قبضے سے ہر جگہ، ہر ملک میں مسائل پیدا ہوئے ہیں، بنیاد پرستی، انتہاء پسندی اور نہ جانے کیا کیا۔ سب کچھ اسی سامراجی قبضے کا نتیجہ ہے۔

آخر میں یہ عرض کروں گا کہ جب ہم مغربیت کہتے ہیں تو اس سے مراد محض جغرافیہ نہیں ہوتا، ھم میں سے اکثر نے کوشش کی ہے کہ کسی طرح مغرب سے مکالمہ عام ہو جائے اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ اگر وہ تیار نہ ہو تو کیا کیا جائے گا؟ اس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ نیز کچھ اپنی کوتاہیوں کا جواب بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ پروفیسر ساجد شہباز خان صاحب نے بھی اچھی بات کی کہ انکے طرز علم کے مطابق انہیں دین سمجھایا جائے لیکن یہ بھی مسئلہ ہے کہ ہمارا طرز علم انہیں کیسے بتایا جائے؟ یا ہم بھول جائیں کہ آج سے ہم جاہل ہو گئے اور علم کا وہی تصور ہی اب چلے گا جو مغرب نے دیا ہے؟ یہ طرز عمل کسی نہ کسی صورت میں ہمارے ہاں بھی موجود رہا ہے۔ مثال کے طور پر ریشنل ازم کو لے لیں، ہمارے ہاں معتزلہ اس کے علمبردار تھے، سر سید نے اسی ریشنل ازم کو بنیاد بنایا۔ آپ بے شک عام آدمی کو مطمئن کرنے کے لیے معاصر اسلوب کو لیں لیکن یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ ہمارا اپنا بھی ایک اسلوب اور ایک طرز تھا۔ آج عالمی قانون پر بھی بات ہوئی، جب بھی بین الاقوامی قانون کی بات سنتا ہوں تو ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ یاد آتے ہیں جنہوں نے اس بات کو متعارف کروایا تھا کہ دنیا کو بین الاقوامی قانون سے روشناس کرانے والا اسلام تھا۔ ہمارے درمیان ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، جو اس صورت حال میں اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

(گفتگو)

Facebook Comments Box
featuredاسلاماسلام اور مغرباسلامی معاشرہمغربمغربی معاشرہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
101 لفظوں کی کہانی
next post
اہلیت اور نا اہلی —— محمد عثمان جامعی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.