تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

زرداری کا بہادر بچہ —- محمد عثمان جامعی

by دانش ڈیسک 19/02/2018
written by دانش ڈیسک 19/02/2018
111

چلو جی آصف علی زرداری نے راو¿ انوار کو بہادر بچہ قرار دے کر یہ مسئلہ تو حل کر دیا کہیہ بچہ کس کا بچہ ہے۔ اب دو اور بہادر بچہ بچی عزیربلوچ اور ایان علی بھی منتظر ہیں کہ روحانی ابو ”میرے بچے میرے نونہال“ کہہ کر گلے سے لگائیں گے۔ زرداری صاحب نے ایک اور مسئلہ بھی حل کردیا کہ ”ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم“ گنگناتا غائب ہونے والا راو انوار کہاں چھپا ہے، ظاہر ہے یہ بہادر بچہ سہم کر ابو ہی کی گود میں جا بیٹھا ہوگا یا ابا کے دامن میں منہہ چھپاکر دروازے کی طرف اشارے کرتے ہوئے ”بابا! بھؤ، بابا! بھؤ“ کہہ رہا ہوگا، اور ابو تھپکیاں اور دلاسے دے کر اس کا ڈر نکال رہے ہوں گے۔

آصف زرداری کی شفقت کا سایہ اویس مظفر ٹبی سے ڈاکٹر عاصم تک بہت سے بچوں پر ہے، لیکن لگتا ہے کہ آنکھ کا تارہ راو انوار ہے، کیوں نہ ہو، ایک تو کماو پوت ہے، پھر باقی بچوں ڈاکٹر، عاصم، عزیر بلوچ اور ایان علی کی طرح شرارت کرکے پکڑائی میں نہیں آیا، غائب ہوگیا اور ایسا غائب ہوا جیسے پاکستان پیپلزپارٹی سے ”بھٹوز۔“ پی پی پی کے پیشوا کیوں کہ خود بہت صفائی پسند ہیں اور پکڑائی نہیں دیتے، چناں چہ انھیں راو انوار پر ڈھیروں پیار کیوں نہ آئے۔

راو انوار سے زرداری صاحب کے پیار دُلار کی دوسری اہم وجہ اس کے پولیس مقابلے ہیں۔ پولیس مقابلے بہت سے مسائل حل کردیتے ہیں، خاص طور پر سلگتے ہوئے مسائل، مرتضیٰ بھٹو بھی تو ایک ایسا ہی مسئلہ تھا۔۔۔ آپ نے ایسی نیک خصلت اور ڈپٹی نذیر احمد کی اصغری صفت بہوئیں بہت دیکھی ہوں گی جو ساس نندوں کی جلی کٹی سُن کر بھی شوہر کی خاطر دوپٹے سے آنسو اور ناک پونچھ کر چُپ رہتی ہیں، لیکن آصف زرداری تاریخ کے شاید واحد داماد ہیں جو سالے کی کھری کھری سُن کر بھی چُپ شاہ کا تعزیہ بنے رہے اور گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوئے۔ اور پھر ایک روز ”پولیس مقابلے“ میں سالے کی زبان پر ہمیشہ کے لیے تالے پڑگئے۔

سابق صدر کو بہادر بچہ اس لیے بھی پیارا ہے کہ زرداری صاحب کی طرح اسے بھی زمین سے پیار ہے۔ افتخار عارف سے دھرتی کی محبت نے کہلوایا تھا مِری زمین مِرا آخری حوالہ ہے مگر آصف زرداری اور راو انوار کا زمین سے عشق پُکارتا ہے مِری زمیں مِرا ”آسان تر نِوالہ“ ہے۔ یہ زمین سے پیار ہی ہے کہ زرداری صاحب کو پورا ”پاکستان کھپے“ اور حصہ بہ قدر جُثہ راو انوار کو فی الحال صرف ملیر کَھپے۔

آصف زرداری اور راو انوار دونوں کو تعمیر سے بہت دل چسپی ہے، اب ان کے ذوق تعمیر کے لیے آپ شاہ جہاں کی مثال مت دیجیے گا، وہ مغل بادشاہ عمارتیں دکھانے کے لیے تعمیر کرتا تھا، اور یہ حضرات چُھپانے کے لیے کرتے ہیں۔ دونوں ملک میں اور بیرون ملک کوٹھیاں، بنگلے وغیرہ بنا کر اپنا معصوم سا شوق تعمیر پورا کرتے ہیں۔ البتہ شاہ جہاں اور آصف زرداری میں یہ قدر مشترک ہے کہ مغل بادشاہ نے اپنی بیوی کے غم میں تاج محل بنایا تھا اور جہیز میں وزارت اور اہلیہ کے ورثے میں پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہی کی اہلیت پانے والے آصف زرداری نے بیگم کے سوگ میں ایوان صدر بسایا تھا۔

آصف زرداری صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان میں بھٹو کی روح ہے، ہمیں پہلے بھی اس دعوے پر شک اور ان کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کا حال دیکھتے ہوئے یقین تھا کہ ان میں دراصل ضیاءالحق کی روح حلول کرچکی ہے

آصف زرداری صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان میں بھٹو کی روح ہے، ہمیں پہلے بھی اس دعوے پر شک اور ان کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کا حال دیکھتے ہوئے یقین تھا کہ ان میں دراصل ضیاءالحق کی روح حلول کرچکی ہے، اپنے اس خیال کو ہم نے یہ سوچ کر رد بھی کرنا چاہا کہ بھئی ضیاءالحقی روح کا سب سے اچھا ٹھکانا تو نوازشریف ہوسکتے ہیں، پھر سوچا ممکن ہے ان کی روح نے نوازشریف میں سمانا چاہا ہو لیکن وہ نہاری پائے سے اتنے بھرے ہوئے تھے کہ روح جگہ نہ پاکر مایوس ہوگئی اور پھر تَنِ آصف زرداری میں جا مقیم ہوئی۔ اب ان کے منہہ سے راو انوار کی ستائش سُن کر لگتا ہے کہ بھٹو نہ ضیاءان میں جنرل (ر) نصیراﷲ بابر کی روح براجمان ہوچکی ہے، جن کی قیادت میں راو¿ انوار جیسے کتنے ہی بہادر بچوں کی ولادت ہوئی تھی۔ یوں تو بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کے وزیرداخلہ نصیراﷲ بابر کے یہ سارے بچے ہی ان کی آنکھ کا نور اور دل کا سُرور تھے، لیکن ان میں سے دو بچے بہت ہی اچھے تھے، راو انوار اور بہادر علی۔ یہ بابری روح کی شفقت ہی ہے جو آصف زرداری کی صورت بہادر بچے پر سایہ کیے ہوئے ہے۔

جس ملک میں کتنے ہی بچے سڑکوں پر لاوارث گھومتے ہیں، وہاں بہادر بچہ وہ خوش نصیب نونہال ہے جسے کبھی ماں باپ کی کمی نہ رہی۔ وہ کسی بھی بااثر خاتون کے سامنے ٹُھنک ٹُھنک کر ”ماں مجھ کو جھلاو¿ ناں جھولا“ گانا شروع کردے تو ان کی ممتا فوراً جاگ اٹھتی ہے اور وہ اسے ”میرا مُنا“ کہہ کر جُھلانا شروع کردیتی ہے، اسی طرح وہ کسی مقتدر مرد کے سامنے ”پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا، بیٹا ہمارا ایسا کام کرے گا“ لہک لہک کر گانا شروع کردے، تو منہہ بولے پاپا اسے گلے سے لگا اور ماتھا چوم کر فوراً کام دے دیتے ہیں، لیکن بڑے پیار سے ہدایت کر دیتے ہیں،”میرے پپو، میرے مُنے! کام تو کردو، لیکن پاپا کا نام بڑا مت کرنا، بل کہ اسے چُھپائے ہی رکھنا، کیوں کہ چندا! تمھیں جو کام دیا جارہا ہے، اسے کرنے پر نام بڑا صرف سزایافتہ کا سابقہ لگ کر ہی ہوسکتا ہے۔“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بہادر بچے کو نصیراﷲ بابر اور آصف علی زرداری ہی کی پدرانہ شفقت میسر نہیں آئی، وہ گلوکارہ نورجہاں کا منہہ بولا بیٹا بھی بن گیا تھا۔

ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ سُر کی بولی بولنے والی میڈم نورجہاں نے گولی کی بھاشا والے راو انوار کو کس منہہ سے منہہ بولا بیٹا بنایا، شکر ہے یہ بات بہت بعد میں پتا چلی اور میڈم لوگوں کو منہہ دکھانے کے قابل رہیں۔ بہ ہر حال ہمیں یقین ہے کہ نورجہاں نے اپنے اس منہہ بولے بیٹے کے لیے یہ گیت نہیں گایا ہوگا، ”اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے“ کیوں کہ اس پُتر کو تو کوئی بھی خرید سکتا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredآصف علی زرداریراو انوارزرداری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خان صاحب کو موقع سے فائدہ اٹھانا نہیں آتا ۔۔۔ سراج احمد
next post
عمران خان کی شادیاں: آپ اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں —– محمود فیاض

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.