تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینصنف/ جینڈر

عورت محبت اور خط : سمیرا عابد

by دانش ڈیسک 16/02/2018
written by دانش ڈیسک 16/02/2018
108
پچھلے دنوں دانش پہ شایع ہونے والے دو خواتین مضنفین کی طرف سے فرضی محبوب نام کے خطوط کے بعد اسی خط کا جواب لکھا گیا اور ایک خوبصورت ادبی کاوش سامنے آئی۔ آج انہی خطوط پر ایک منجھی ہوئی لکھاری کی طرف سے عورت، اس کی محبت اور خطوط لکھے جانے پر ایک حساس تجزیہ آیا کہ پڑھتے ہوئے بے طرح بانو قدسیہ کی یاد تازہ ہو گئی۔

یہ محبت نامے پڑھ کے جی چاہا کہ ان لفظوں سے نچڑتے جذبوں کا کچھ اور دیر ساتھ رہے۔۔۔ تو کیا صورت ہو اس کی؟ سوچتی ہوں کہ پرائے محبت ناموں کا جواب تو لکھا نہیں جا سکتا۔ کیوں نہ تجزیے کے بہانے کود پڑوں۔۔۔

ویسے کون کہتا ہے کہ یہ محبت نامے ہیں۔ یہ تو ناسٹیلجیا ہے اس غلط فہمی کا جسے لوگ محبت کی طرح سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ ورنہ محبت ذرا سی بھی ہو تو انا مر جاتی ہے۔ جیسے ذرا سی روشنی اندھیرے کو مار دیتی ہے۔ جبکہ ان “نامۂ محبت” نامی شذرات میں انا یوں اچک اچک کر سامنے آتی ہے جیسے رات گئے کسی ویرانے سے گذرتی ٹرین کے ڈبے کے اندرونی روشن دیوار پر اندھیری کھڑکیاں ایک تسلسل سے ابھرتی ہیں۔

اگر بات کی جائے اس impulse کی جو چٹھیاں لکھواتی ہے۔ تو وہ بس اظہار ہے۔ جیسے کسی سکھی سے کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح دل کی بات کاغذ پہ بکھیری جاتی ہے۔ یہ کاغذ قلم کا عشق جوان رہ سکتا ہے کیونکہ کاغذ قلم جب بھی ہاتھ میں آتا ہے ہماری اپنی مرضی سے آتا ہے , مرضی سے چلتا ہے اور مرضی سے رک جاتا ہے۔ اب یہ سہولت انسانوں میں کہاں دستیاب۔۔۔ اس لئے وہ محبت مر جاتی ہے اور یہ محبت زندہ رہتی ہے۔

اور ان لوگوں کے لئے جو دور رہنے کے لئے فاصلے کا سہارا لیتے ہیں۔ فاصلہ رکھنے کے لیے آنکھ سے اوجھل ہونا چاہتے ہیں۔ آنکھ سے اوجھل ہونے کے لئے پہاڑ بیچ میں لاتے ہیں۔ پہاڑ پر جانے کے لئے سردی کا بہانہ کرتے ہیں۔۔۔۔ ٹھنڈ کوئی پربت سے مشروط تھوڑا ہی ہے۔ یہ تو کہیں بھی ہو سکتی ہے۔ الفاظ میں, لہجوں میں, سلوک میں, تعلق میں۔۔۔ موت میں۔۔۔ وہی موت جو تعلق ٹوٹنے پر جنم لیتی ہے۔ جو پربت ریزہ ریزہ ہونے پر آتی ہے۔ جو آسمان یا اس جیسی چادر پھٹنے پر آتی ہے۔

ایک بات کا بہت افسوس ہوتا ہے۔ جانے یہ اعترافات کی سپر عورت کے حصے میں ہی کیوں آتی ہے اور خود کو زخمی کرتی ہے۔ کیوں عورت ہی یہ سمجھتی ہے کہ جدائی کا فیصلہ اس کا اپنا تھا۔ حالانکہ کسی جدائی کا فیصلہ یکطرفہ نہیں ہوتا۔ جب شرط ساتھ دینے کی ہو تو جدائی کے لئے بھی دونوں کو مخالف سمت میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ یا ایک چل پڑے اور دوسرا رکا رہے تو جدائی جنم لیتی ہے۔ تو بے وقوف مونث۔۔۔ یہ کبھی بھی تمہارا فیصلہ نہیں ہوتا۔ تمہیں اس کا دھوکا دیا جاتا ہے۔ اور تم یہ سمجھتی ہو کہ تم گناہ گار ہو۔ تمہیں اپنی توقعات کا بوجھ اس پر ڈالنا پسند نہیں۔ اور وہ تم پر ترک تعلق کا بوجھ ڈال کر یہ توقع کرتا ہے کہ تم اسے پلکوں پر لیے پھرو گی۔ ۔۔۔ افسوس کہ تم لیے پھرتی ہو۔ ٹھیک ہے رہو اس غلط فہمی میں۔۔۔

مرد کے لیے اس محبت کا مفہوم کچھ اور ہی ہے۔ اس کے لئے یہ بڑی سہولت والا آئٹم ہے۔۔۔ جب جی چاہا الماری سے نکال کے کنگھی کی طرح بالوں میں پھیری۔ سر کی خارش بھی چلی گئی, بال بھی سنور گئے۔
کنگھی پھر الماری میں رکھ دی۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل پر نہیں رکھی جا سکتی۔ پرانی ہے۔۔۔ دندانے ٹوٹے ہوئے ہیں۔۔۔۔

اور بری بات یہ ہے کہ جوئیں نکالنے کی کنگھی ہے۔۔۔۔ دانشوری کی جوئیں اسی سے نکلتی ہیں۔ لیکن کسی کے سامنے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ دانش کو اعزاز کے طور پر دکھایا جاتا ہے پر عورت کی دانشوری جوؤں کی طرح کنگھی سے نکال دی جاتی ہے۔ صرف کسی کو بتایا نہیں جاتا۔ دانش رکھنے والی عورت سے دور رہنا پڑتا ہے۔ اسے خود سے دور رکھنا پڑتا ہے۔ ہاں سر کہیں چھوڑ آئے۔۔۔ بدن لے آئے۔ کافی ہے۔

مرد ایک ہی ڈائری کے صفحات الٹ کر زندگی نہیں گذارتا۔ پرانی ڈائری کے ہر دو اوراق کے درمیان اسے نئی یاد رکھنے کی عادت ہے۔ نئی شام گذارتے ہوئے پرانی گذری ہوئی شامیں اس کا رستہ نہیں روکتیں ۔کڑوی باتیں اسے صرف پرائی عورت کی میٹھی لگتی ہیں۔ دسترس میں موجود عورت کی میٹھی بات بھی تلخ لگتی ہے۔ دانشوری کی پیاس بجھانے کے لئے دانشوروں کے ہاں اکٹھا ہوتے ہیں۔ باقی پیاس بھی وہ بجھا لیتا ہے۔ کیونکہ اس کا مسئلہ صرف پیاس ہوتا ہے۔ یہ گلاس, وہ گلاس, نیلا پیلا گلاس, نیا پرانا, ٹوٹا پھوٹا گلاس یا منقش گلاس نہیں۔

یہ محبت کا نام لینا تو عورت کو باندھے رکھنے کا ایک کھونٹا ہے۔ یہ وفا تو اس کی آنکھوں پر چڑھائے گئے کھوپے ہیں۔ محبت نام کے سراب کو پانے کے لئے سچ پر جھوٹ کے غلاف چڑھانے پڑتے ہیں۔ اور دانشور عورت, ذہین عورت جھوٹ کے ادھڑے ہوئے پرتوں میں سے سچ بھانپنے لگتی ہے۔ اسی لئے وارے میں نہیں۔۔۔


سمیرا عابد، سیاسی و سماجی رہنما ہیں ، شاعرہ ہیں، ادیبہ ہیں، آرکیٹیکٹ ہیں، اور ایک بہترین ماں ہیں۔
Facebook Comments Box
خطخواتینشادیعشقعورتمحبتمحبوبمحبوبہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دیواریں : محمد مبشر مہدی
next post
جادوگرنی —– ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.