تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ تریندیگرعلم و ادب

اے محبت تیرے انجام پے رونا آیا: سحرش عثمان بنام محبوب

by دانش ڈیسک 10/02/2018
written by دانش ڈیسک 10/02/2018
153

محبوب کو خط لکھنا ہماری انسانی تہذیب کی ہزاروں سال پرانی روایت ہے، برصغیر کے معاشرے میں اس کو جتنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہو لیکن زندگی میں ایک بار ہر انسان محبت جیسے نرم احساسات کے تحت یہ خوشگوار غلطی ضرور کرتا ہے، اور کئی اس کو دہراتے بھی ہیں، سوشل میڈیا پر پہلی بار ہماری دو خواتین مصنفین نے اس روایت کو ایک نئے اور خوبصورت ڈھب سے اپنایا ہے، ملاحظہ کیجئے۔


سحرش عثمان بنام محبوب۔ ۔ ۔ ۔

مجھے نہیں پتا میں کس جذبے کے مجبور کرنے پر یہ خط لکھ رہی ہوں تمہیں۔ خط کی بھی خوب کہی خط کہاں بھئی؟؟؟ بس دوچار الٹی سیدھی سطریں ہیں، جو کاغذ پر گھسیٹنا چاہتی ہوں__

ہاں تو کیا کہہ رہی تھی کہ خدا جانے ایسا کونسا دورہ پڑتا ہے کونسی ایمپلس آتی ہے جو تمہیں چھٹیاں لکھنے بیٹھ جاتی ہوں۔ شائد میرا کاغذ قلم سے عشق ابھی بھی جوان ہے___

ہنسو مت۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہے مجھے تم بھی مجھے مادی دنیا کی باسی سمجھنے لگے ہو۔ سمجھتے ہو تو لگے رہو سمجھنے۔ ۔ ۔

میں سوچ رہی تھی یہ تحریر اس ٹپے سے شروع کرتی۔ ۔ ۔ ۔
“میں ایتھے تے ڈھولا پربت”۔ ۔ ۔
پر لکھتے لکھتے رک گئی کیوں کہ پربت تو میں ہوں نا___ یہاں ہڈیوں میں گودا جمانے والی ٹھنڈ ہے اور پربت بھی ایسے ویسے۔ ۔ ۔ !

تمہیں پتا ہے میری کھڑکی سے باہر چوٹی کے اوپر آسمان ایسے لگتا ہے جیسے ریشمی چادر ہے جو چوٹی کی نوک سے کسی دن پھٹ جائے گی۔۔ اپنا وجود کھو دے گی، میں روز اس آس میں کھڑکی سے چوٹی کے اوپر اس ریشمی چادر کو تکتی ہوں کہ جب یہ پھٹے تو کیا تماشا ہو؟؟
اب تم کہتے ہو گے میرا تماشا دیکھنے کا شوق بھی ویسا ہے۔۔ چچ چچ چچ__

نہیں نا!!! یہ ویسا شوق نہیں ہے نا۔ ۔ ۔ یہ تو ویسا شوق ہے کہ ریشمی چادر پھٹے اس کے پیچھے سے اک نئی دنیا ہو، پیاری دنیا تمہارے ساتھ والی دنیا، یا پھر کچھ بھی نہیں بس خالی سلیٹ ہو میرے ذہن جیسی۔ ۔ ۔

تم سوچتے ہو گے اب کیوں لکھ رہی ہوں یہ ساری باتیں؟
اس لیے کہ میں تسلیم کرنا چاہتی ہوں وہ ساری باتںیں، میری وہ ساری باتیں جو ہمارے تعلق کے درمیان آ گئی تھیں یا ہیں، ہاں مجھے پتا ہے یہ جدائیوں کا فیصلہ بھی میرا تھا۔۔ تمہاری محبت کا نظریہ، ساتھ میں تھا میرا محبت کے ساتھ آسانی، ساتھ میں سہولت، ساتھ میں تعیش میں۔

دیکھو ہم دونوں غلط نہیں تھے۔ پر ہم دونوں ہی اپنے اپنے نظریات کے غلام تھے۔ اپنی اپنی انا کے قیدی۔

تمہیں پتا ہے ہم دونوں کے درمیان کیا ہوا تھا؟؟ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ہم دونوں خود کو صحیح سمجھتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہم دونوں دوسرے کو غلط سمجھتے تھے۔ اور اسے صحیح کرنے پر تلے تھے۔

عمر کے اس حصے میں جب بالوں میں چاندی اور رنگت میں تانبا اترنے لگا ہے تو ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ خود کو صحیح سمجھنا اتنا خطرناک نہیں ہوتا، جتنا دوسرے کو غلط سمجھنا ہوتا ہے

زندگی کی اتنی بہاریں___ ہاہاہا بہاریں لکھ کر بے ساختہ ہنسی ہوں میں پر کیا کروں اب ایسے تو نہیں لکھ سکتی نا کہ زندگی کی اتنی خزائیں دیکھنے کے بعد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سو بہاریں ہی لکھتی ہوں۔ ۔ ۔ زندگی کی اتنی بہاریں دیکھنے کے بعد عمر کے اس حصے میں جب بالوں میں چاندی اور رنگت میں تانبا اترنے لگا ہے تو ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ خود کو صحیح سمجھنا اتنا خطرناک نہیں ہوتا، جتنا دوسرے کو غلط سمجھنا ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی خطرناک اسے “صحیح” کرنے کی کوشش کرنا۔اور سب سے خطرناک دوسروں کو اپنے بنائے ہوئے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کرنا انہیں اپنے مطابق چلانا ہے۔ لیکن یہ بات بہت دیر سے سمجھ آئی۔

اب لوٹنا بھی چاہیں تو نہیں لوٹ سکتے نا؟؟ مجھے معلوم ہے تم اب بھی آنگن کے بینچ پر بیٹھ کر ستارے ڈھونڈتے ہوگے۔ پر اب میں چاہوں بھی تو اس بینچ کے دوسرے سرے پر بیٹھ کر تمہاری اٹینشن ڈائیورٹ نہیں کر سکتی۔

خیر یہ کیا فضول ناسٹیلجیا لے کر بیٹھ گئی میں بھی۔ میں تمہیں کسی توقع کے بوجھ تلے نہیں دبانا چاہتی اس لیے نہیں تم توقعات پر پورا نہیں اترو گے۔ اس لیے کہ مجھے معلوم ہے کہ تم پورا اترو گے۔ اب ہم کیسے بھی بے ضمیر سہی بے حس نہیں۔

چلو خیر چلتی ہوں اب میں ایک تو یہ صفحہ ختم ہو رہا ہے دوسرا میں ہوسپٹل جا رہی ہوں۔ آج نائٹ ڈیوٹی ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ جس سے ہم سخت چڑتے تھے۔

چلتی ہوں۔۔
تمہاری_____
سحرش


الجواب۔ ۔ ۔ بنام سحرش عثمان

یہ کیسا نامہ ہے جس میں کوئی نرم سا احساس ہی نہیں؟جلی کٹی سنائی ہیں اب بھی تم نے! اگر مل جاتیں، تو ساری عمر تم سے یہی سننی پڑتیں۔ تم سوچنے والی عورتوں کا یہ بہت بڑا مسلہ ہے۔ سچ کہتا ہوں، جو اب ملی ہے، ایک تو زیادہ بولتی نہیں، دوسرے ہم ٹی وی کے ڈرامے دیکھنے اور ڈائجسٹ پڑھنے کی شوقین ہے۔ جب جب کوئی ڈراما دیکھ کر یا کہانی پڑھ کرآتی ہے، مزاج بڑا رومان پرور ہو رہا ہوتا ہے اس کا۔ تب تمہاری یاد کو لپیٹ کر کسی پرانی کتاب میں دباتا ہوں، کتاب کو شیلف کے اوپر والے خانے میں رکھتا ہوں اور اسے لے کر باہر کھانا کھلانے نکل جاتا ہوں۔ شامیں اچھی خاصی گزر جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔

کبھی کبھی تمھارے ساتھ گزارا وہ وقت یاد آتا ہے جب ہم تم ساتھ وقت گزارنے کے بہانے ڈھونڈتے، نظریات کو لے کرکوئی نہ کوئی لمبی بحث چھیڑ دیتے تھے۔ کڑوی کڑوی باتیں کرتی تم کتنی میٹھی لگا کرتی تھیں۔ مگر سچ پوچھو تو مجھے ڈر لگنے لگا تھا کہ اس کڑواہٹ کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ عقلمندی ہو گی؟ آج تمہارا نامہ پڑھ کر دل میں اٹھتی اس ہلکی سی لہر کو دبا کر سوچتا ہوں کہ بہتر ہی ہوا جو ہوا۔

۔۔۔جولڑکی  اب ملی ہے مجھے، ایک تو زیادہ بولتی نہیں، دوسرے ہم ٹی وی کے ڈرامے دیکھنے اور ڈائجسٹ پڑھنے کی شوقین ہے۔ جب جب کوئی ڈراما دیکھ کر یا کہانی پڑھ کرآتی ہے، مزاج بڑا رومان پرور ہو رہا ہوتا ہے اس کا۔ تب تمہاری یاد کو لپیٹ کر کسی پرانی کتاب میں دباتا ہوں، کتاب کو شیلف کے اوپر والے خانے میں رکھتا ہوں اور اسے لے کر باہر کھانا کھلانے نکل جاتا ہوں۔

وہ تیسری مرتبہ آواز لگا رہی ہے، مصالحہ ٹی وی سے کچھ نئی ترکیبیں سیکھ کر آج کچھ نیا بنایا ہے شائد۔ کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو مجھے بھی اب بلانے لگی ہے۔ وہاں وہ کانوں میں جھمکے پہنے، نئے لان کے سوٹ میں ملبوس بڑی چاہت سے میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ بس اتنا سننے کی منتظر کہ “کھانا تم بہت مزیدار بناتی ہو۔” اس کے علاوہ کچھ شاپنگ کروا کر اس کی امی کے گھر چھوڑ آنا کافی ہو گا اور وہ خوش ہو جاۓ گی۔

اس کو وہاں ڈراپ کر کے کچھ دوست خواتین و حضرات کے ساتھ دانشوارنہ گفتگو کے لیے میں کافی ہاؤس چلا جاؤں گا۔ یہ تشنگی بھی پوری ہو لے گی۔ دماغ بھی مطمئن اور دل بھی شاداں۔ تم کہو تو اس کافی ہاؤس کا پتہ تم کو بھی دیتا ہوں۔ ان نائٹ ڈیوٹیوں کی تھکن اتارنے کے لئے کبھی موقع ملے تو چلی آؤ۔ تمہاری دانشوری کی پیاس بجھانے کا کافی انتظام ہوگا وہاں۔ انجواے کرو گی۔

اب میں چلوں ورنہ اس نے آکر یہ نامہ پڑھ لینا ہے۔ اور شروع ہوتی رات کے ان خوبصورت اور پرسکون لمحات کو میں برباد نہیں کرنا چاہتا ۔ اپنا خیال رکھنا۔ بلیک کافی ذرا کم پینا۔ بال اس سے بھی سفید ہوتے ہیں۔ اس نے تو کچھ روز قبل ہی بالوں میں سنہرے شیڈز ڈلواۓ ہیں۔ اچھی لگ رہی ہے

(اے محبت تیرے انجام پر رونا آیا) ????

مصنفہ جویریہ سعید


از طرف سحرش عثمان

سلام۔
تمہارے خط سے اندازہ ہوا ہے تم ٹھیک ہو چنگے بھلے ہو۔
حیرت ہوئی تم میری تحریر میں ابھی بھی نرم سا احساس ڈھونڈ رہے تھے۔ گویا تمہاری امید پرستی قائم ہے۔

تم کہتے ہو اگر تم مل جاتیں تو عمر بھر یہ ہی سننا پڑتا۔ تم صحیح کہتے ہو ہم سوچنے والی عورتوں کا یہ ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی سوچ کے آزار میں دبی اداس رہتی ہیں۔
ہماری ذہانت ہماری بے حس خوشیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔

سنو! اس نہ ملنے میں جو لذت بھری کسک ہے نا یہ ہی ہمارا تمہارا ساتھ ہے۔

مشرقی عورت اگر ذہین عورت بھی ہو تو بلا کی جھوٹی ہوتی ہے۔ اس کو گھر بنانے عمر گزارنے کے لیے ہر ہر موڑ پہ جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں۔ ماسکنگ کرنا پڑتی ہے۔ وگرنہ گھر نہیں بنتے۔ اور گھر مشرقی عورت کا المیہ ہی تو ہوتا ہے۔

تمہیں معلوم ہے مشرقی مرد کا المیہ کیا ہے ؟ اسے ذہین عورت سے محبت کرنا نہیں آتی۔ کیونکہ اسے ہمیشہ محبت کا ایک ہی فلسفہ پڑھایا جاتا ہے ملکیت والا۔ وہ عورت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا اسے تصرف میں رکھنا چاہتا ہے۔ اور تمہیں تو پتا ہے۔ تصرف میں آئے تعلقات میں سب سے پہلے محبت مرتی ہے۔

کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ نظریات کی بحث ہم دونوں کے اندر کا خالی پن تھا جسے ہم دونوں ایک دوسرے سے بھرتے رہتے تھے۔

خیر نظریات پر لمبی بحثوں کا مجھے بھی کوئی شوق نہیں رہا۔

تمہارے ساتھ بحث کب کرتی تھی؟؟؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ نظریات کی بحث ہم دونوں کے اندر کا خالی پن تھا جسے ہم دونوں ایک دوسرے سے بھرتے رہتے تھے۔ خیر اب جب اندر گھٹن بڑھ جاتی ہے تو سوشل میڈیا پر بلاگز پر لکھ لیتی ہوں۔ لوگ حسب ذائقہ سراہ دیتے، تنقید کردیتے ہیں۔ میری بھی “انٹیلکچوئل تھرسٹ” سیٹسفائی ہوجاتی ہے۔

مصالحہ ٹی وی پر نئی ترکیبیں میں بھی دیکھتی ہوں۔ نئے کھانے بناتی ہوں۔ مجھے بھی کسی سے سننا ہوتا ہے نا “کھانے تم بہت اچھے بناتی ہو”
گو کہ یہ جملہ امرت تو نہیں لگتا مجھے لیکن سننا ایسا خاص برا بھی نہیں لگتا۔
یوں بھی اب گھر میں کون دیوار برلن، اس کا انہدام، رینیساں اور اقوام متحدہ ڈسکس کرے؟

تم صحیح کہتے ہو ہم سوچنے والی عورتوں کا یہ ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی سوچ کے آزار میں دبی اداس رہتی ہیں۔

سنو! ہم تم مل جاتے تو تمہاری ملکیت اور میری انا دونوں مل کے محبت کا سانس بند کردیتے۔ اور پھر ہم اوروں سے کہتے پھرتے۔ ۔ ۔ ۔ اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔ ۔ ۔

سنو! اس نہ ملنے میں جو لذت بھری کسک ہے نا یہ ہی ہمارا تمہارا ساتھ ہے۔

خوش رہنا سیکھ لیا تم نے؟؟؟ بہت خوب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالوں کی سفیدی سے نہ ڈرا کرو۔ آج کل سلور گرے ان ہے فیشن میں۔ جارج کلونی جیسے ہینڈسم تو نہیں لگ سکتے تم لیکن چلو۔ ۔ ۔ گزارہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

خیر، چلتی ہوں۔ ۔ ۔ میرا مارکیٹ میں سیلیں کھنگالنے کا وقت ہوگیا۔

Facebook Comments Box
CouplefeaturedLoveLove Affairازدواجیخطخواتینرومانرومانویشادیعشقلولو افیئرمحبتمحبوبہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ملحد روس، کمیونسٹ چین اور سی پیک منصوبہ ۔۔۔۔ انوار احمد
next post
پھول اور کتابیں – پشاور اور کوئٹہ — دو شھروں کا خوشبودار تذکرہ : مطربہ شیخ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.