تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

پاکستانی شناخت کے متلاشی قبائل ’’اُن‘‘ کی نظر میں ۔۔۔۔ سمیع اللہ خان

by دانش ڈیسک 05/02/2018
written by دانش ڈیسک 05/02/2018
68

“وہ” کہتے ہیں کہ فاٹا کے مالک، فاٹا کے لوگ ہیں۔ ہم نے فاٹا کا قصد اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ وفاق کے ایجنٹ یعنی پولیٹیکل ایجنٹ کی درخواست پر فاٹا میں مداخلت کی ہے۔ اب چونکہ فاٹا کے لوگ فاٹا کے مالک ہیں اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف یہ کہ اپنی حفاظت کریں بلکہ ہمیں بھی اگر کسی قسم کا نقصان پہنچا تو ذمہ دار قبائل ہوں گے۔ اس لیے قبائل کو چاہیے کہ “غلط” لوگوں کو قبائلی علاقوں میں داخل ہونے سے روکیں۔ کیونکہ “غلط” لوگوں کو روکنا اور قبائلی علاقوں میں آباد نہ ہونے دینا ہماری نہیں بلکہ قبائل کی ذمہ داری ہے۔ یہ ہے وہ پس منظر جس کی بدولت ہم دیکھتے ہیں کہ جب قبائلی علاقے میں سیکورٹی اداروں کو جب بھی نقصان پہنچا، جائے وقوعہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کےباشندوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور اُن کو سزا دی گئی۔ بغیر کسی ثبوت، تفتیش اور عدالت کے۔ اوربقول قبائل کے کہ یہی وہ مکمل اور اندھی آزادی ہے جو کہ علاقہ غیر میں برتی جاتی ہے۔

قبائل اپنی نظر میں۔۔۔

قیام ِ پاکستان کے وقت، ہم اپنی آزادی کے لیے نہیں بلکہ اپنے عم زادوں کے کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان کے بازوئے شمیرزن بنے۔آج جس طرح آزاد کشمیر، تحریکِ آزادئ کشمیر کا بیس کیمپ ہے اسی طرح قبائلی علاقے، ریاست کی سیکورٹی پالیسی کے پیشِ نظر افپاک کے لیے بیس کیمپ قرار پائے۔ مگر آزاد کشمیر کو بیس کیمپ بننے کی وہ قیمت نہیں اداکرنی پڑی جو کہ قبائل کے حصے میں آئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیر میں بھی پاکستانی ریاست نے جہادی بیانیے کو ڈِس اون کیا یعنی یو ٹرن لیا مگر اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ ہندوستان کو وہ بات نہ سوجھی جو امریکہ کو سوجھی۔ یعنی امریکہ نے افغانستان میں مصروف جہادی عناصرکی، جو پاکستان کی پوسٹ نائن الیون افغان پالیسی سے متفق نہیں تھے ان کی درپردہ پشت پناہی شروع کی۔ جس کی وجہ سے پاکستان اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں اس تباہی کا آغاز ہوا جس نے سب کچھ ملیا میٹ کردیا۔ قبائل نے نہ صرف یہ کہ جانی اور مالی قربانی ادا کی بلکہ اپنی ادھوری پاکستانیت پر بھی صبر وشکر کیا۔ قبائلی علاقے کم وبیش صاف چٹیل میدان بنادیے گئے۔ آج بھی قبائلی علاقے میں ہماری حیثیت ایک مکمل پاکستانی شہری کی نہیں۔ہماری شناخت کے لیے نادرا کاشناخت کارڈ کارآمد نہیں، بلکہ ہماری شناخت کے لیے وطن کارڈ متعارف کرایا گیا۔ ہمارا مطالبہ پاکستان سے آزادی کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمیں مکمل پاکستانی تسلیم کیا جائے۔ ہمیں بھی وہ آئینی حقوق دیے جائیں جو کہ ایک عام پاکستانی کو میسر ہیں۔

ان کا مسئلہ صرف نقیب نہیں، بلکہ نقیب تو فقط ایک آئس برگ ہے جس کے نیچے ناانصافی، محرومی اور ادھوری شناخت کے المیے ہیں۔ آپ کو ان کی باتیں تلخ لگیں گی، یہ آپ کو جلی کٹی بھی سنائیں گے کیونکہ ان کےنہ صرف یہ کہ گھر جل گئے ہیں بلکہ ان روح تک جلی ہوئی ہے۔

قبائل یہ کہتے ہیں کہ جب زمین ہماری ہے اور ہم ہی اس کے وارث ہیں تو پھر ہماری مرضی کہا ں ہے؟ پولیٹیکل ایجنٹ مختارِکُل کیوں ہے؟ افغانستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جو عالمی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کا ایندھن بننے سے ہمیں بچانے کے لیے ریاست نے کیا کردارادا کیا؟ قبائلی علاقوں میں دنیا بھر سے جو لوگ آئے تو وہ چھاتہ بردار تو تھے نہیں کہ براہِ راست قبائلی علاقوں میں نازل ہوئے ہوں، ظاہر ہے کسی نہ کسی سرحد کو پار کرکے ہی وہ لوگ قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا سرحدوں کی نگرانی بھی ہمارا ہی کام ہے؟

قبائل پاکستانیوں کی نظر میں۔۔۔۔

قبائل پاکستانیوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ کیونکہ ان کی رسائی قبائلی علاقوں تک ہے ہی نہیں۔ نہ خود جاسکتے ہیں اور نہ میڈیا۔ سو مکمل اندھیرا ہے۔ اب ایک صورت بنی ہے کہ قبائلی نوجوان خود پاکستانیوں کے پاس چل کر آئے ہیں۔ اس لیے ہر پاکستانی کو چاہیے کہ ان قبائلی نوجوانوں کے دل کا حال جاننے کےلیے ان کے دھرنے میں پہنچے اور ان کی بات سُنے۔ ان کا مسئلہ صرف نقیب نہیں، بلکہ نقیب تو فقط ایک آئس برگ ہے جس کے نیچے ناانصافی، محرومی اور ادھوری شناخت کے المیے ہیں۔ آپ کو ان کی باتیں تلخ لگیں گی، یہ آپ کو جلی کٹی بھی سنائیں گے کیونکہ ان کےنہ صرف یہ کہ گھر جل گئے ہیں بلکہ ان روح تک جلی ہوئی ہے۔ یہ نوجوان پاکستان کا اثاثہ ہیں اس لیے ہوشیار رہیے کہ کہیں کوئی بدفطرت آپ سے آپ کا یہ اثاثہ چُرا نہ لے۔ ان کے پاس جائیے اور ان کو اپنے پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور مہاجر سینے سے لگائیے اور ان کو بتائیے کہ ہم بھی آپ ہی کے طرح دل جلے پاکستانی ہیں۔ ان کو بتائیے کہ آپ اپنی انفرادی حیثیت میں بھلے ایک پنجابی، سندھی، بلوچی،سرائیکی،کشمیری یا مہاجر ہوں مگر فقط یہ بتانے آ ۓہیں کہ مجھے آپ سے کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی میرے نام پر کسی اور کو آپ سے مسئلہ ہونا چاہیے۔ اپنا دکھ ان کو سنائیں اور ان کا دکھ ان سے سنیں۔جائیے اورمل کراپنے سینوں کی آگ سے وہ روشنی کشید کریں جس سے ظلمت فروشوں کا یہ شیطانی کھیل اپنے انجام کو پہنچے۔ ان شیطانی قوتوں کا کھیل جو پاکستانی کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہے۔جائیے اور ان قبائلی نوجوانوں کے دست و بازو بنیں۔ یہ آپ کے مہمان ہیں۔ ان کی میزبانی کیجیے۔ جاکر ان کی خاطر داری کریں۔ یہ آپ کے بھائی ہیں۔ آپ کے بھائی کھلے آسمان تلے راتیں بسر کر رہے ہیں۔ ان کی آواز کو اپنی آواز بنائیں۔ ان کو ان کی مطلوبہ پاکستانی شناخت حاصل کرنے میں ان کی مدد کریں۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ دیر نہ کریں کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔۔۔۔

یہ نوجوان پاکستان کا اثاثہ ہیں اس لیے ہوشیار رہیے کہ کہیں کوئی بدفطرت آپ سے آپ کا یہ اثاثہ چُرا نہ لے۔ ان کے پاس جائیے اور ان کو اپنے پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور مہاجر سینے سے لگائیے

Facebook Comments Box
Jirgaاسلام آباد دھرناراو انوارقبائلقبائل جرگہقبائل دھرنانقیب اللہ کیس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹرمبارک علی: مطالعاتی اور علمی زندگی — آخری اور تیسرا حصہ
next post
عسکری کا شعورِِ نثر —– عزیز ابن الحسن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.