تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

بنت حوا کی ارزانی: فاروق احمد بھٹی

by دانش ڈیسک 27/01/2018
written by دانش ڈیسک 27/01/2018
77

الفاظ میں درد دل کو بیان کرنا اگر مکمل طور پہ ممکن ہوتا تو غالب شاید اپنی بے بسی کو یوں اس شعر میں نہ ڈھالتے

دردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوں
انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا

وہ کہتے ہیں نا کہ جس تن لاگے سو جانے۔۔ درست کہتے ہیں۔ ہم کسی کے دکھ میں شریک ہو سکتے ہیں، کسی حد تک اس کی حالت سے ہمارا دل پسیج بھی سکتا ہے اس کی آہ و بکا سے ہماری آنکھیں نم ہو سکتی ہیں۔ لیکن جو اس پہ بیت رہی ہے اس کو ہم کبھی بعینہ محسوس نہیں کر سکتے۔

مرد کے مقابل عورت کے کمزور اور مظلوم ہونا ایک سامنے کی بات ہے۔ اسی طرح ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ریاست کی ذمہ داریوں میں عدل و انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن کیا ہمیں اس بنیادی معاملے میں بھی ریاستیں پہلو تہی کرتی نظر نہیں آتیں؟ یا ناکام نظر نہیں آتیں؟

خلیفہ اول صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جب بطور خلیفہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ “تم میں سے جو کمزور ہے میرے لیے وہ طاقتور ہے (کیونکہ کمزور کا حق ہے حکمران پہ کہ وہ اس کے حق کے لیے لڑے )جب تک کہ میں اس کا حق طاقتور سے چھین کر اسے واپس مہیا نہ کر دوں اور تم میں سے جو طاقتور ہے میرے لیے وہ کمزور ہے (کیونکہ حکمران پہ فرض ہے کہ وہ سماج میں موجود طاقتوروں سے مغلوب نہ ہو ) جب تک کہ میں کمزور کا حق اس سے چھین نہ لوں”۔

یہ راہنما اصول ہے کسی بھی حکمران کے لیے کیونکہ یہی مقصد ہے حکمرانی کا۔ عہد حاضر میں اگر نظر دوڑائی جائے تو دنیا بھر میں کمزوروں کا استحصال شد و مد کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اور دنیا بھر کی حکومتیں ہی اپنی رعایا کے خلاف اس استحصال کو جاری رکھے ہوئے ہیں یا کم از کم استحصال کرنے والوں کی معاونت کا فریضہ کسی نا کسی طریقے سے سر انجام دے ہی رہی ہیں۔ یوں تو اس استحصال کی بہت سی جہات ہیں۔ اور ہر قسم کا استحصال قابل مذمت ہے۔ لیکن ہمارے مضمون کا مقصد خواتین کے جنسی استحصال کی ایک جہت جو کہ کسی المیہ سے کم نہیں اسے پیش کرنا ہے۔

اس وقت کرہ ارض پہ اسلحہ و منشیات کی خرید و فروخت کے بعد ہیومن ٹریفکنگ تیسرا بڑا غیر قانونی دھندہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً تیس ملین اور ایک دوسری تحقیق کے مطابق چالیس سے پینتالیس ملین لوگ اس غیر قانونی ٹریفکنگ کی وجہ سے غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اور اس میں ستر سے پچھتر فیصد کے قریب خواتین یا کم عمر بچیاں شامل ہیں۔ جنہیں سیکس ورکرز کے طور پر جنسی دھندہ کرنے والوں کے آگے فروخت کیا جاتا ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں قحبہ خانے نہ ہوں۔ اکثریت ممالک میں تو قانونی طور اجازت بھی ہے اور جہاں قانونی طور اجازت نہیں وہاں بھی یہ دھندہ بڑے پیمانے پہ جاری و ساری ہے۔ باوجود اس بات کا علم رکھنے کے، کہ ان قحبہ خانوں کو سیکس ورکرز کا مہیا ہونا کیونکر اور کیسے ممکن ہوتا ہے آپ کو ان قحبہ خانوں کے حق میں بولنے والے بھی دنیا بھر میں میسر آ جائیں گے۔ ان کے حق میں بولنے والی ایک واضح اکثریت آپ کو انسانی حقوق کے نام پر حقوق نسواں، اظہار رائے کی آزادی، جنسی آزادی، اور شخصی آزادی جیسے معاملات میں بھی نغمہ سرا نظر آئے گی۔ لیکن قحبہ خانوں میں سیکس ورکرز کی رسد کس طرح پوری کی جاتی ہے اس بارے میں یہ بات کرتے آپ کو نظر نہیں آئیں گے۔ الا ماشاءاللہ۔ اور اگر نظر آئیں بھی تو آپ کو وہ انداز اور شدت دیکھنے کو میسر نہیں آئے گی جو اوپر بیان کردہ حقوق سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا طرہ امتیاز ہے۔ ان قحبہ خانوں کا پیٹ بھرنے کے لیے اغوا شدہ بچیاں کام میں لائی جاتی ہیں اور اس ضمن میں رسد کا ایک بڑا حصہ تیسری دنیا کے ممالک سے میسر آتا ہے۔ اس کے علاوہ رسد کا ایک بڑا حصہ دنیا کے جنگ زدہ علاقوں سے پورا کیا جاتا ہے۔ جو بھی شہر یا ملک قانونی قحبہ خانوں کی ایک کثیر تعداد رکھتا ہے وہاں آپ کو تقریباً دنیا کے ہر ملک اور رنگ نسل سے تعلق رکھنے والی سیکس ورکرز نظر آئیں گی یہ کیسے ممکن ہوتا ہے، بیان کرنے کی شاید حاجت نہیں رکھتا لیکن پھر بھی بیان کر دیا گیا۔ کیا دنیا بھر کے ریاستی ادارے ایسی غلامی کی زندگی گزارنے والوں کی مدد کرنے میں ناکام نہیں؟ اور جو لوگ اپنی ہی ریاست کی سرحدوں کے اندر ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیا وہ اس ریاست کے شہری نہیں؟ کیا ان کے بنیادی انسانی حقوق نہیں؟

ملک پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں کم سن بچیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی درندگی کے واقعات کی لہر نے جہاں لوگوں کا چین و سکون چھین لیا، وہیں اس ظلم کے خلاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی اور بے حسی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی ہمت بھی دی۔ لیکن کیا بچوں اور بچیوں کے اغواء اور جنسی تشدد کے یہ واقعات نئے ہیں۔ یقیناً ایسا تو بالکل بھی نہیں ہے، سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال کا قصہ ابھی بہت زیادہ پرانا نہیں ہوا۔ جدت ان واقعات میں بس یہ آئی کے پہلے کے واقعات میں اغوا و جنسی تشدد اور قتل کے بعد شاید قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خوف سے لاش ٹھکانے لگا دی جاتی۔ اور اب درندے اس قدر بے باک ہوئے کہ لاش ٹھکانے لگانا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ اور بیچ چوراہے پھینک کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا منہ چڑاتے ہیں۔

اگر ہم بحیثیت پاکستانی اپنے رویوں پر غور کریں تو یہ بات سمجھنا شاید مشکل نہیں کہ بحیثیت قوم ہم نے صرف لاشوں پہ ماتم کیا اور ہمارے منتخب کردہ حکمرانوں نے اس پہ سیاست۔ زینب بیٹی ایک ہفتہ کے قریب اغوا رہی اور اس کے بعد ہمیں ماتم و سینہ کوبی کے لیے اس کی لاش میسر آ گئی اور ہم نے ساری دنیا کو ماتم کر کے دکھایا کہ ماتم کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا زینب کی اذیت تو ختم ہو گئی( اللہ اس معصوم کلی کے گھر والوں کو صبر عطا کرے) لیکن یہاں ہزاروں ایسی بچیاں ہیں جن کو کم سنی میں اغوا کی گیا اور پھر انہیں بیچ دیا گیا قحبہ خانوں میں چند ٹکوں کے عوض۔ اور ان کی زندگی کو موت سے بھی بد تر بنا دیا گیا جہاں وہ روزانہ چند ٹکوں کی خاطر کسی کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں اور وہ چند ٹکے بھی ان کے نہیں ہوتے۔ کیا ایسے اغوا کار اور دلال دندناتے نہیں پھرتے۔ وطن عزیز کا شاید ہی کوئی ضلع ایسا ہو جہاں ایسے کئی کئی اڈے نہ ہوں۔ ان میں اکثر سیکس ورکرز ایسی ہیں جن کو اغوا کیا گیا اور پھر عمر بھر کے لیے یہاں چھوڑ دیا گیا۔ یہاں کئی آپ کو ایسی بھی ملیں گی جنہیں پیار کا جھانسا دے کر بھگا کر شادی کی گئی اور پھر یہاں بیچ دیا گیا۔ ان کے ماں باپ کو تو ان کی لاشیں بھی نہ ملیں کہ انہیں مٹی کے سپرد کر کے ان کی تلاش تو ختم ہوتی۔ کیا کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ان مظلوموں کی داد رسی کرنے کی کوشش کی؟
مہنگے ترین ہوٹلوں سے لے کر گلی محلوں میں دو تین کمروں کے مکانوں میں قائم ہوس کے پجاریوں کو دعوت گناہ دیتے یہ قحبہ خانے کتنی زینبوں کے مقبرے ہیں۔ آبادیوں کے بیچوں بیچ یہ زندوں کے قبرستان بھی ہم کو دعوت فکر دیتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی ان زندہ لاشوں کے لیے نالہ و ماتم کیا کہ جن کو بھنبھوڑنے کے لیے امراء سے لے کر غربا تک ہوس کے پجاری بے تاب نظر آتے ہیں۔ معاشرے کے بڑے بڑے وائٹ کالرز کے تعلقات کے شواہد بھی آپ کو آسانی سے دیکھنے کو میسر ہیں۔ آئیے مل کر سوچیں کہ ہمیں ہر دفعہ ماتم و نوحہ کرنے کو ایک مردہ ہی کیوں چاہیے؟

ان زندہ لاشوں کے لیے آواز کون بلند کرے گا کہ جو کسی سستے ہوٹل کے ایک وقت کے کھانے سے بھی کم قیمت پہ روزانہ بکتی ہیں۔
آو ماتم کریں بنت حوا کی ارزانی کا
آو زندوں کے لیے آواز بلند کرنے کی ریت ڈالیں۔ کہ ہمیں روزانہ لاشوں پہ ماتم نہ کرنا پڑے۔

افسوس! دنیا ظلم سے بھر چکی، انسانیت سسکتی رہ گئی بیوپاریوں نے لوگوں کے احساسات اور دکھ درد کا کاروبار کرنے کے لیے دکانیں کھول لیں۔ اور آج درد بھی بکتا ہے، آہیں اور سسکیاں بھی بکتی ہیں، اشرف المخلوقات زمین و آسمان کو شرمانے لگے۔ فرشتے بھی خالق ارض و سما سے کہتے ہوں گے۔ کہ اے رب ذوالجلال تیری مخلوق نے ہمارے خدشات کے عین مطابق زمین ظلم و فساد سے بھر دی۔ کہاں گئے وہ تیری تاریک راتوں کے مسافر، انسانیت ان کی راہ دیکھ رہی ہے۔ تیرے بندوں نے خود کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ کے ترے احکامات سے منہ موڑ لیا، تقدیر کا بہانہ بنا کر راہ عزیمت سے منہ موڑ لیا۔

نہ جانے رب ذوالجلال اپنے ملائک سے کیا کہتا ہو گا۔

Facebook Comments Box
پاکستانی عورتعورتعورت کا کاروبارعورت کہانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسلامی تصور جہان اور جدید سائنس (جز اول) — حسین نصر/ تدوین: اطہر وقار عظیم
next post
مولانا مودودی، جماعت اور مولانا اصلاحی: غامدی صاحب کے جواب میں — سمیع اللہ بٹ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.