تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات یا چائنا کٹنگ ۔ محمد عبدہ

by دانش ڈیسک 29/01/2018
written by دانش ڈیسک 29/01/2018
82

پاکستان میں نئی نسل سوال کرتی ہے کہ بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کیا ہے۔ جو دونوں ملکوں کو ماضی میں فوجی ٹکراؤ تک لے جاتی رہی اور اب بھی ہمہ وقت جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں تو دانشور انہیں ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ جب تک بھارت کشمیریوں کے آزادی کے حق کو تسلیم نہیں کرتا تو پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہی رہیں گے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے اپنے ارد گرد موجود دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات دوستانہ اور نارمل ہیں۔ کیا بھارت کے گرد موجود تمام ہمسایوں کے ساتھ بھارت کے تنازعات کی اصلی وجہ یہ نہیں کہ بھارت خطے میں اپنی چودھراہٹ چاہتا ہے پاکستان سمیت جو ملک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں حائل ہیں بھارت ان کا دشمن ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا تنازع حل ہو بھی جائے تو بھی بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ بھارت نے پاکستان کو بطور آزاد ریاست تسلیم ہی نہیں کیا تو ہم کیوں بھارت سے کشیدہ تعلقات کو مسئلہ کشمیر تک محدود کرتے ہیں۔

سب سے پہلے بھارت نے 26 اکتوبر کو ریاست جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ اس نے مہاراجہ کی جانب سے نام نہاد الحاق کو اس کی بنیاد بنایا لیکن آج تک ہندستان الحاق کی وہ دستاویزات نہیں دکھا سکا۔ ہندستان نے دوسرا غاصبانہ قبضہ 9 نومبر 1947 کو ریاست جونا گڑھ اور مناور پر قبضہ کر کے کیا۔ انگریزوں کے جانے کے بعد برصغیر میں پاکستان، ہندوستان اور حیدرآباد تین ملک بن گئے۔ پاکستان نے حیدرآباد کی خود مختاری کو قبول کیا اور مشتاق احمد خان اُس کے سفیر کی حیثیت سے پاکستان میں تعینات ہوئے۔ حیدرآباد نے برطانیہ میں بھی اپنا سفیر مقرر کیا۔ ہندوستان نے اپنی غاصبانہ اور ‘اکھنڈ بھارت’ کی پالیسی کے تحت قائد اعظم کی وفات کے فوراََ بعد حیدرآباد پر فوج کشی کردی۔ 13 سے 18 ستمبر 1948 تک حیدرآباد میں ہندستانی افواج اور بلوائی قتلِ عام میں مصروف رہے اور دو لاکھ افراد کے قتل کے بعد حیدرآباد ہندستان کے قبضے میں چلا گیا۔ ‘اکھنڈ بھارت’ کی پالیسی کے تحت 1961 میں دادرانگر حویلی اور گوا پر قبضہ کر لیا گیا۔ سکم کی ریاست اس سلسلے کی پانچویں مثال بنی جسے ہندوستان اپریل 1975 میں ہڑپ کر گیا۔ 1984 میں سیاچن کے غیر آباد علاقے میں ناجائز قبضہ بھی اسی توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ تھا۔

چین۔
1962 ء میں چین کے ساتھ بھارتی کشیدگی نے جنگ کی صورت کیوں اختیار کی۔ بھارتی مورخین کی تحریریں اٹھا کر دیکھ لیں وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر بھارت متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود چین کے زیر کنٹرول علاقے پر قبضہ کی غلطی نہ کرتا تو چین نے جوابی کارروائی نہیں کرنی تھی۔

آزاد ملک سکم۔
تقسیم ہند کے وقت سکم نے بھارت یا پاکستان میں شامل ہونے کی بجائے آزاد ملک بننے کو ترجیح دی۔ بھارت نے وہاں پہلے تو امن و امان کے مسائل پیدا کئے بعد ازاں 1973ء میں سکم کے بادشاہ کے خلاف بغاوت برپا کر کے قیام امن کے نام پر پولیس کی بھاری نفری سکم میں داخل کر دی۔ اور آخرکار 1975 میں بھارتی پارلیمنٹ میں خودساختہ پیش کردہ قرار داد کے بعد ریاستی ایکٹ کے تحت سکم کو بھارت میں شامل کر لیا گیا۔

بنگلہ دیش۔
پاکستان کو توڑنے کیلے بنگلہ دیش بنانے کیلے اپنی فوجیں مشرقی بنگال میں اتارنے کا تو حکومتی سطح پر اعتراف کرچکا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش کے ساتھ سمندری حدود‘ دریاؤں کے پانی‘ سرحدی تنازعات جوں کے توں موجود ہیں جن کی بنا پر ماضی میں بھارت اور بنگلہ دیش کی افواج کے درمیان متعدد خونیں جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ان تنازعات کو حسینہ واجد کی بھارت کیلئے ریشہ ٔ خطمی بھی خاتمہ نہیں کر سکی۔

مالدیپ۔
مالدیپ کی بھارت کے ساتھ نہ کوئی سرحد ملتی ہے نہ ہی کوئی سمندری حدود کا جھگڑا ہے تو پھر کیا یہ حقیقت نہیں کہ 1988 ء میں بھارت نے مالدیپ پر قبضے کی کوشش کی جہاں وہ 1980 ء سے سری لنکا میں سرگرم گوریلا تنظیم ’’پی ایل او ٹی ای ‘‘ کو بدامنی پھیلانے کیلئے استعمال کر رہا تھا۔ 3 نومبر1988 کو 80 کے قریب بھارت کے اشارے پر گوریلوں نے مالدیپ کے دارالحکومت مالے پہنچ کر ’’ائرپورٹ‘‘ کے علاوہ دیگر اہم سرکاری عمارتوں و مواصلاتی تنصیبات پر قبضہ کر لیا۔ مالدیپ کے سربراہ نے فوری طور پرمدد کیلئے امریکہ‘ برطانیہ کو مراسلے بھیجے۔ قریب ہی سمندر میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے باوجود بھارت کو موقع مل گیا کہ وہ ائرفورس کے ’’آئی ایل-76 ‘ ساختہ ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے 1600 فوجیوں پر مشتمل خصوصی فورس مالے روانہ کرے۔ بھارت کا فوجی دستہ بریگیڈئر فرخ بلسارا کی سربراہی میں 2 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے مالے پہنچا تو سری لنکن گوریلے وہاں سے دم دبا کر بھاگ گئے۔ اس ڈرامائی بغاوت کو مالدیپ کے اندر آج بھی ’’افسانوی بغاوت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘ بھارت کے آپریشن کیکٹس کے بعد سے مالدیپ کو بغیر اعلان شدہ بھارتی کالونی تصور کیا جاتا ہے۔

سری لنکا۔
سری لنکا میں تامل گوریلوں کے ذریعے بھارت نے 2 دہائیوں تک تباہی مچائے رکھی۔ بھارت سری لنکا پر اپنے گرد موجود دیگر چھوٹی ریاستوں پر کنٹرول کی طرح دسترس چاہتا تھا جسے سری لنکا کی عوام اور حکومتوں نے ناکامی سے دوچار کر دیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب بھارت قیام امن میں معاونت کے نام پر 1987ء میں اپنی ایک لاکھ فوج سری لنکا بھیجنے میں کامیاب ہو گیا لیکن سری لنکا میں بھارتی فوج کے سری لنکن عوام کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک اور اس بنا پر وہاں بھارتی فوج پر ہونیوالے حملوں کے نتیجے میں بھارت کو 1990ء میں اپنی فوجیں واپس بلانی پڑیں۔ 30 جولائی 1987 ء کو سری لنکا میں کولمبو ائرپورٹ پر بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی پر فوجی دستے کی سلامی کے دوران ایک سری لنکن فوجی کی طرف سے بندوق کے بٹ کے ساتھ حملے نے خاصی شہرت حاصل کی جو پوری دنیا میں بھارت کیلئے شرمندگی کا باعث بنی۔

بھوٹان۔
بھوٹان میں تربیت کے نام پر بھارتی فوج کی بڑی تعداد موجود ہے بظاہر آزاد یہ ملک سیاسی ‘ معاشی اور عسکری اعتبار سے بھارت کے قبضے میں ہے۔

نیپال۔
نیپال قدرے آزاد ہے۔ بھارت تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک نیپال پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کبھی نیپال کا تجارتی سامان روک لیتا ہے تو کبھی چاول و دیگر اشیائے خورونوش کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

برما۔
برما میں مداخلت اور ناگا علیحدگی پسندوں کیخلاف کاررائی کے نام پر بھارتی فوج تاریخ میں متعدد بار سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے برما میں داخل ہو چکی ہے۔ 10 جون 2015ء کو برما کی حکومت کو بھارتی فوج کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کرنا پڑا کیونکہ اس سے ایک روز قبل برما کی سرحد کے ساتھ پٹرولنگ کے دوران بھارتی فوجیوں پر علیحدگی پسندوں نے گھات لگا کر حملہ کیا اور پٹرولنگ دستے کے سارے فوجیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ اپنی عوام کو راضی کرنے کیلئے بھارت نے اپنی فوج برما میں داخل کر دی اور کہا کہ وہاں قائم علیحدگی پسندوں کے کیمپ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ برما نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے برما میں بھارتی علیحدگی پسندوں کے کیمپوں یا اڈوں کی موجودگی کو الزام قرار دیدیا۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساحلی علاقوں سے نکلنے والی قدرتی گیس و پٹرول کے حقوق حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد بھارت وہاں مسلمانوں کے قتل عام میں بدھوں کو کس طرح استعمال کر رہا ہے یہ ایک الگ داستان ہے۔

(یہ مضمون مختلف مضامین میں سے تیار کیا گیا ہے)

Facebook Comments Box
featuredبرمابنگلہ دیشبھارتبھوٹانپاک بھارتپاک چائناپاکستانجنوبی ایشیاچینسری لنکاعالمی سیاستمالدیپنیپال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جماعت اسلامی اور تحریک انصاف میں مماثلت : محمد خان قلندر
next post
کرکٹ اور ٹیم قیادت کا نفسیاتی تجزیہ: سیدرا صدف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.