تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

تجاہلِ عارفانہ : لالہ صحرائی کا طنز و مزاح

by لالہ صحرائی 28/01/2018
written by لالہ صحرائی 28/01/2018
70

فرکس، کیمسٹری، میتھ، بیالوجی، انجینئرنگ اور میڈیکل سے وابستہ تُندخُو مسلمانوں نے جب سے بم دھاکے، دہشت گردی اور بچوں کے ساتھ زیادتیاں شروع کیں ہیں تب سے دین وطن ملک قوم سب بدنام ہو کے رہ گئے ہیں مگر انہیں کبھی بھی اس بات کا احساس تک نہیں ہوا۔

علمائے اکرام، فاضلین مدرسہ اور مولویوں نے جب سے کمرشلز، فلمیں اور ماڈلنگ ایجینسیز کھولی ہیں انہوں نے خواتین کی ہاٹ فوٹو شوٹس اور گلیمر کی آبیاری کر کر کے ایک طرف عورتوں کے وقار کو سخت نقصان پہنچایا ہے تو دوسری طرف جنسی بے راہ روی کو اسقدر ہوا دی ہے کہ جنسی بھیڑیوں سے اب بچے بھی محفوظ نہیں رہے۔

مناقب، قوالی اور نشہ فروشوں نے اپنا اپنا سودا بیچنے کیلئے اچھے بھلے، بھولے بھالے، اور معصوم صفت صوفیوں کو شرک فی التوحید، گانے باجے، ناچ میلے اور نشے پتے پر ایسے لگا رکھا ہے کہ بیخودی کے عالم میں وہ دین کے اندر دن بدن بدعات داخل کرتے چلے جا رہے ہیں اور کسی کو اس بات کا احساس بھی نہیں کہ یہ سب کچھ اگر حَسن بھی ہو تو بھی دین کی وہ شکل بگڑتی چلی جا رہی ہے جو اہل مدینہ نے دیکھی تھی۔

ٹیوشن پڑھنے والوں نے اچھے بھلے شریف النفس اساتذہ کو علم کی ریڑھی لگانے پر مجبور کر رکھا ہے اور اپنے والدین کی محنت کی کمائی سے انہیں زبردستی بھاری فیسیں تھما جاتے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں جانے سے انکاری تساہل پسند مریضوں نے ڈاکٹروں کی ناک میں دم کر رکھا ہے کہ وہ شام کو اپنے ذاتی کلینک کھولیں، اس کام کیلئے یہ ان کو منہ مانگے دام دینے کو بھی تیار ہیں مگر انہی ڈاکٹروں کے پاس سرکاری ہسپتالوں میں جانا قطعی پسند نہیں کرتے۔

اب کس کس کا رونا روئیں۔

بئی۔مان قوم کے بدنیتی کیساتھ ادا کردہ سارے ٹیکسز اپنی پلیدی اور نحوست کی وجہ سے اپنے آپ کافور ہو جاتے ہیں اور غبن کا الزام بیچاری منتخب حکومتوں پر لگتا ہے۔

پھر کرپشن کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے بھی اس قدر شور مچا رکھا ہے کہ ان کی وجہ سے منتخب جمہوری قوتوں کو انہماک کیساتھ عوامی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کا ایک دن بھی موقع نہیں ملتا، اپوجیشن کی انہی چیرہ دستوں کی وجہ سے پانچ سال کا عرصہ یونہی رائیگاں چلا جاتا ہے جس میں عوام کیلئے دُودُو اور شہد کی نہریں بہائی جا سکتی ہیں مگر یہ لوگ حکومت کے ہاتھ باندھے رکھتے ہیں۔

عوام سیاستدانوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ انہیں کچھ دے کے جائیں لیکن ان بیچاروں کے پاس عوام کو دینے کیلئے کچھ ہوتا نہیں اسلئے وہ لعنت دے کے چلے جاتے ہیں۔

بعض سیاستدان عوام میں آکے اسمبلی پر لعنت بھیج دیتے ہیں اسلئے کہ اندر جانے کا انہیں موقع نہیں ملتا، چلے بھی جائیں تو وہاں کوئی بولنے نہیں دیتا، بولنے بھی دیں تو ان کے منہ پہ کچھ کہتے ہوئے ہمت نہیں پڑتی، ہمت پڑ بھی جائے تو باہر کی عوام کو اتنا پتا نہیں چلتا کہ انہوں نے اندر کیا بولا ہے جتنا باہر کھڑے ہوکے بولنے سے پتا چلتا ہے، اندر والوں تک بھی اڑتے اڑتے ہر بات پہنچ ہی جاتی ہے مگر ان کے سدھرنے کے امکانات بھی ہمیشہ کم ہی رہے ہیں۔

اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے زندگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ یہاں زبردستی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں گھس جاتے ہیں اور ان کی بندوقیں اٹھا کے خود کو بے دردی سے گولیاں مار لیتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا کو بھی کچھ کرنے کا موقع ملتا رہے۔

شرپسند مذہبی عوام بروز جمعۃالمبارک نہا دھو کے مسجدوں میں گھس جاتے ہیں اور چیخ چیخ کر ایک طرف علماء اکرام کو خوفزدہ کرکے انہیں مخالف فرقوں کے عقائد پر سب و شتم اور تکفیر کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو دوسری طرف شرپسندی اور تکفیری کلچر کی ترویج کیلئے نہ صرف انہیں زبردستی چندہ دیتے ہیں بلکہ انہیں اسلحہ تھما کے مخالفین کو ٹھکانے بھی لگواتے ہیں۔

یہاں گجروں اور ناگوری بیچاروں کو گائے بھینسیں اپنے دودھ میں پانی ملانے پر مجبور رکھتی ہیں اور بعض جانوروں کو نشے کی بھی لت پڑ چکی ہے، اکثر ایسے نشئی جانور اتنے اذیت پسند واقع ہوئے ہیں کہ ٹیکہ لگوائے بغیر دودھ بھی نہیں دیتے۔

کال کمپنیز کا مدعا تو صرف اپنی حق حلال کی کمائی ہے یعنی وہ صرف کال کے پیسے وصول کرنا چاہتی ہیں مگر نوجوانوں انہیں نائٹ پیکجز، کالر ٹیونز، قسمت کا حال، لطیفے سننے اور دیگر مصروفیات پیدا کرنے پر مجبور کرتے ہیں، بس اسی پر اکتفا نہیں یہ انہیں اس بات پر بھی مجبور رکھتے ہیں کہ وہ روزانہ انہیں یہ پیکجز لگانے کی یاد دہانی کیلئے بار بار میسجز بھی بھیجتے رہیں۔

اکثر ادارے اپنے ملازمین کو کام نہ کرنے پر تنخواہ دیتے ہیں اور دفتر میں سونے یا غیر حاضر رہنے پر مجبور بھی کرتے ہیں، بعض ادارے تو ملازمین کو ان کے گھر پہ تنخواہ پہنچا کے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ کوئی پرائیویٹ جاب یا اپنا ذاتی کاروبار بھی کرتے رہیں تاکہ آپ کو یہ باور ہو سکے کہ ہمارا ادارہ آپ کی ترقی اور مالی خوشحالی کا ضامن ہے۔

بعض ملازمین اپنی سیٹ پر مہینوں اسلئے دستیاب نہیں ہوتے کہ عوام اپنے کام کرانے کیلئے انہیں رشوت نہ دے سکیں، اور باقی محض اسلئے حاضر رہتے ہیں کہ عوام کی طرف سے پیش کئے جانے والے نذرانوں کی بے قدری نہ ہو اور انہیں ٹھکرایا نہ جائے۔

اسکولوں میں بچوں کو باقائدہ بلایا جاتا ہے تاکہ انہیں بے قائدگی کی عادت نہ پڑے اور پڑھاتے اسلئے نہیں تاکہ ان کے والدین انہیں پڑھانے کے بہانے بچوں کیساتھ ساتھ خود بھی تعلیم حاصل کرتے رہیں۔

نادرہ والے شناختی کارڈ پر محض اسلئے بدنما تصویر لگاتے ہیں تاکہ آپ کو نظر نہ لگے اور آپ بیجا کسی کو اپنا شناختی کارڈ دکھانے کے قابل نہ رہیں بلکہ صرف وہیں پیش کریں جہاں ناگزیر ہو۔

کم آمدنی والے پولیس اہلکاروں کو جرائم پیشہ افراد محض سماجی بہبود کیلئے سپورٹ کرتے ہیں تاکہ وہ بھوک و افلاس سے پریشان نہ ہوں۔

یہاں کسی کو بھی غیرمعیاری کھانوں کے تندور کھولنے کا کوئی شوق نہیں لیکن وہ لوگ جو اپنے گھر پہ معیاری کھانا کھانا پسند نہیں کرتے وہ انہیں اس طرح کے تندور کھولنے پر مجبور کئے رکھتے ہیں خاص طور پہ وہ لوگ جن کی خواتین اپنے گھر پہ مزیدار کھانا بنانا نہیں جانتیں وہ بدمزہ کھانے کیلئے انہی تندوروں کو ترجیح دیتے ہیں اسلئے یہ کام بھی دوطرفہ مجبوری میں ہی چل رہا ہے۔

خواتین لباس کے معاملے میں غیرمحتاط اسلئے رہتی ہیں تاکہ عوام میں سے ٹھرکی اور بھائی الگ الگ کر کے دیکھ سکیں

خواتین لباس کے معاملے میں غیرمحتاط اسلئے رہتی ہیں تاکہ عوام میں سے ٹھرکی اور بھائی الگ الگ کر کے دیکھ سکیں، یہی کام خواتین فیس بک پہ اسٹیٹس لگا کے کرتی ہیں تاکہ مردوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ انہیں انبوکس میں آکے چھیڑیں، اس سے ٹھرکیوں کا پتا بخوبی چل جاتا ہے، پھر بھائیوں کی تلاش میں انبوکس کا حال لکھتی ہیں، اس سے بھائی لوگ بھی کھل کر سامنے آجاتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ایک بہن کے بھائی دوسری کیلئے ٹھرکی اور دوسری کے بھائی تیسری خاتون کیلئے ٹھرکی ہی ثابت ہوتے ہیں۔

الغرض یہ کہ ہمارے ہاں بس دو ہی قسم کے لوگ ایسے ہیں جو کسی کو کسی کام پر مجبور نہیں کرتے، ایک وہ جو صاحبِ صدر یا شوہر ہو کے بھی خاموش رہنے پر مجبور ہوں اور دوسرے وہ جنہیں ان کی یہ ادا پسند ہو۔

فیس بک پہ پڑھے لکھے لوگ اکثر چولیں مار کے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہیں پڑھنے والوں کا اپنا علم بھی کچھ ہے کہ نہیں، ایسی علمی ہستیوں نے اپنی اس ٹیسٹ ٹرانسمیشن کی کبھی تردید بھی نہیں کی اور نہ ہی باز آتے ہیں، نہ مستقبل میں باز آنے کا کوئی ارادہ ہے۔

میں بذات خود چونکہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں اسلئے چول مارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مندرجہ بالا کہانی کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ تمام ویلے لوگ جن کے پاس کرنے کو کوئی ڈھنگ کا کام نہیں وہ ان جملوں کی ساخت کو درست کر کے اپنا فالتو وقت یہاں باآسانی کاٹ سکتے ہیں یا ایسے کچھ اور جملے لکھ کر کچھ دیر تک کیلئے مزید صروف بھی رہ سکتے ۔

Facebook Comments Box
مزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
مولانا مودودی، جماعت اور مولانا اصلاحی: غامدی صاحب کے جواب میں — سمیع اللہ بٹ
next post
لبرلزم: ایک تنقید: آلان دی بونوا (حصہ اول) — ترجمہ: کبیر علی

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.