تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

محکمہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ۔ میاں ارشد فاروق

by میاں ارشد فاروق 18/01/2018
written by میاں ارشد فاروق 18/01/2018
161

ہر معاشرہ ایک خاص وقت پہ پرانے عہد کو بدل کر نیے عہد میں داخل ہوتا ہے اور انسانوں کی اجتماعی فطرت، نیے عہد کے شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل اس نیے عہد کے تقاضوں سے معاشروں کو آگاہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ان اشاروں کو سمجھنے کیلیے نہ تو کسی ارسطو کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی گہرے ادراک کے حامل صوفیا کی۔ یہ عام فہم سی باتیں ہوتی ہیں جن کی طرف غور و فکر کرنے سے مستقبل کا نقشہ صاف صاف نظر آنے لگتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ تیز ترین تبدیلیوں کے نقطہ آغاز پہ ہے، آنے والے چند سالوں میں یہ سست رو نیم دیہاتی ماحول سے چھلانگ لگا کر ایک تیز ترین تجارتی، صنعتی سماج میں تبدیل ہونے والا ہے۔ ہماری تمام انتظامی مشینری، پولیس، عدلیہ اور نظام انصاف کو اس دور سے ہم آہنگ ہونے کی تیاری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔  جس ملک میں ساٹھ ہزار تیل کے ٹرک روزانہ گزریں گے وہاں کس قسم کے حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہو گی؟ اور عالمی سیاست کا ایک مرکزی حصہ ہونے کے باعث پاکستان کو کس طرح اپنے ٹریڈ روٹ کو محفوظ رکھنا ہو گا، ایک کثیر قومیتی سماج کو کس طرح کی پولیسنگ چاہیے ہوگی۔۔۔ ۔۔ یہ آج سوچنے کی باتیں ہیں، کیونکہ کل ہمیں عمل کا وقت تو دے گا، پلاننگ کا نہیں۔

ہمارا پولیس کا نظام فرسودہ ہی نہیں بلکہ یہ بہت عرصہ قبل ہی مر چکا ہے۔ اور اب صرف یہ پروٹوکول سروسز دینے اور قابل خرید انصاف حاصل کرنے کی ایک مارکیٹ کی شکل میں موجود ہے۔

زینب مرڈر کیس میں جو مسلہ ہمارے سامنے کھل کے آیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا پولیس کا نظام فرسودہ ہی نہیں بلکہ یہ بہت عرصہ قبل ہی مر چکا ہے۔ اور اب صرف یہ پروٹوکول سروسز دینے اور قابل خرید انصاف حاصل کرنے کی ایک مارکیٹ کی شکل میں موجود ہے۔ اس نطام کو جب انگریزوں نے قایم کیا تھا تو اسکی بنیاد نظام اطلاعات پہ رکھی گیی تھی جسے مخبروں کا نظام کہا جاتا ہے۔ پوشیدہ مخبروں کے علاوہ تقریبا تمام نمبردار، چوکیدار، نہری پٹواری اور نایب قاصد  بھی مخبر ہی ہوا کرتے تھے جو ہر وقت معاشرے کی ہر تبدیلی پہ نظر رکھتے اور اہم تبدیلیوں کی اطلاعات کشید کرتے، پھر اطلاعات کی چھان پھٹک اور تصدیق کیلیے باقاعدہ سٹاف ہوتا تھا اور ہر ماہ پولیس گزٹ شایع ہوا کرتا تھا جس میں پورے معاشرے کی ایک واضح تصویر سامنے آجاتی تھی۔ یہ گزٹ امن و امان قایم رکھنے والے تمام اداروں کے افسران کو بھیجا جاتا۔ اگر آپ پرانے پولیس گزٹ مطالعہ فرمایں تو حیرت کا اک جہان کھل جاتا ہے کہ سپیشل برانچ کی معلومات کس قدر تیزاور ایڈوانس  ہوا کرتی تھیں۔ پولیس کا سٹاف معاشرے کی سب سے زیریں پرت سے براہ راست رابطے میں ہوتا ہے، اگر اسکے پاس چوکیداروں، نمبرداروں اور چھپے  ہوے مخبروں سے معلومات حاصل کرنے کے وساییل نہیں ہونگے تو یہ ایک منظم گروہ تو ہو سکتا ہے لیکن اسے پولیس کہنا نہ صرف تکنیکی طور پہ غلط ہے بلکہ باعث شرم ہے۔

تقسیم سے قبل نو آبادیاتی ضروریات کے باعث پولیس ریاست کے خلاف ہونے والے تمام جرایم کی سرکوبی کی زمہ دار سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت سرکاری املاک کی چوری ہونے پہ رپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ اسکا جواب ایس ایچ او کو دینا پڑتا تھا اور قتل  کی واردات پہ تو پورا تھانہ معطل ہو سکتا تھا، کیونکہ معاشرے میں ہونے والی ہر حرکت سے واقف ہونا پولیس کی زمہ داری تھی جسکے لیے اسکے پاس نظام مخبریات تھا۔ تقسیم کے بعد نہ جانے کن وجوہات کی بنا پہ پولیس کا نظام مخبریات غیر فعال ہوتا گیا اور آہستہ آہستہ اس کا کام صرف رپورٹ کیے گیے جرایم پہ کاررواییاں کرنا رہ گیا اور زمانہ حال میںں صرف حکومتی اہلکاروں کی حفاظت اور پروٹوکول مہیا کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔ نظام اطلاعات کے معدوم ہونے کی وجہ سے محکمہ کی کارکردگی ہی متاثر نہیں ہوی بلکہ سیاسی مداخلت میں بھی اضافہ ہوا اور منظم جرایم کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے، یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں قبضہ گروپ، منشیات فروشوں اور ناجایز دھندہ کرنے والے بتدریج زیر زمین دنیا سے نکل کر شرفا میں شامل ہوتے گیے اور آہستہ آہستہ ایوان اقتدار اور سرکاری عہدے بھی حاصل کرنے لگے ہیں۔ اور اگر یہ خدمت اعلی جاری رہی تو ایک وقت آے گا جب چور قانون ساز ہونگے، بدمعاش سارے پولیس میں ہونگے اور رسہ گیر جج ہونگے۔ اس وقت حال یہ ہے کہ جب کوئی امیدوار مقابلے کا امتحان پاس کر لیتا ہے تو اسکی رپورٹ طلب کی جاتی ہے تب کچھ سادہ لباس اہلکار اس امیدوار سے مٹھائی لینے پہنچ جاتے ہیں، اگر اس امیدوار کی فیملی ہجرت کر کے آی ہو تو اسکے بیک گراونڈ کے بارے میں معلومات کا کوئی ذریعہ ہمارے کسی بھی ذی وقار ادارے کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔

حساس اداروں کا دایرہ کار علاقائی افقی نہیں ہوتا بلکہ عالمی عمودی ہوتا ہے۔ دونوں کاموں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ بہت سا فرق بھی ہے

تقسیم سے پہلے ایسا نہیں تھا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اسپر باقاعدہ کمیشن بننا چاہیے اور تحقیق ہونی چاہیے۔ میرے خیال میں ایک وجہ تو ہمارے حساس اداروں کی زیادہ فعالیت بھی ہو سکتی ہے، یعنی ہو سکتا ہے اس غلط فہمی کی بنا پہ کہ پولیس کا کام محض امن و امان قایم رکھنا ہے اور حساس معلومات اکٹھی کرنا صرف حساس اداروں کا کام ہے اور پولیس کو یہ کام کرنے کی ضرورت نہٰیں ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ ایک بہت بڑی غلطی کی گئی ہے کیونکہ حساس اداروں کا دایرہ کار علاقائی افقی نہیں ہوتا بلکہ عالمی عمودی ہوتا ہے۔ دونوں کاموں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ بہت سا فرق بھی ہے اور اس فرق کے ساتھ ہی ساتھ انکا آپس میں ایک گہراتعلق بھی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے بھیانک جرایم کو بے نقاب کرنے میں حساس ادارے معاون ہوتے ہیں (جو زینب کیس میں تو ابھی تک نہایت بری طرح سے ناکام ہوتے دکھای دے رہے ہیں)، جبکہ مشکوک افراد کی جو ہسٹری شیٹ پولیس تیار کرتی تھی اس سے بوقت ضرورت ان اداروں کو بھی بہت سی معاونت حاصل ہوتی تھی۔

آنے والے سالوں میں پاکستان میں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد رہایش اختیار کرنے والی ہے، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجیز کے باعث ایسے جرایم جو صرف ترقی یافتہ معاشروں میں سننے کو ملتے ہیں انسے ہمارا واسطہ بھی پڑنے والا ہے اور اس صورت حال سے نپٹنے کیلیے پولیس کے ادارے کو تیار کرنے کی ضرورت ہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ اسکے نظام اطلاعات کو منظم اور مربوط بنانا بہت ہی ضروری ہے۔

Facebook Comments Box
featuredاصلاحاتمحکمہ پولیسنظام اطلاعات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
میاں ارشد فاروق

previous post
ڈاکٹر حسن عارف کی وفات کے حقائق: بیٹی کی زبانی ۔ مترجم سیدہ صبیح گل
next post
سعادت حسن منٹو : عزیز ابن الحسن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.