تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

رجب طیب اردگان اور ہمارے رہنما تحریر: جواد اکرم

by دانش ڈیسک 16/01/2018
written by دانش ڈیسک 16/01/2018
61

کبھی کبھی دل میں ایک خیال سا آتا ہے کہ 2016 میں ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے سامنے کیوں عوام ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہو گئی اور ہمارے ہردلعزیز رہنماوں کے رخصت ہونے پر عوام سکھ کا سانس کیوں لیتی ہے بلکہ کہیں کہیں تو مٹھائیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ اب تو بہت سارے ہمارے سیاسی رہنما بھی ہماری عوام کو کبھی کھل کر، کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں ترک قوم سے کچھ سیکھنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں حالانکہ سیکھنے کی ضرورت تو ہمارے رہنماوں کو ہے کہ وہ ترک رہنما رجب طیب اردگان سے کچھ تو سیکھیں، پھر دیکھیں عوام ان کا کتنا ساتھ دیتی ہے۔

ہمارے سیاسی رہنما بھی ہماری عوام کو کبھی کھل کر، کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں ترک قوم سے کچھ سیکھنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں حالانکہ سیکھنے کی ضرورت تو ہمارے رہنماوں کو ہے کہ وہ ترک رہنما رجب طیب اردگان سے کچھ تو سیکھیں

جی ہاں، اگر مخلص قیادت میسر ہو تو ہماری قوم وہ عظیم قوم ہے جو کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرتی۔ قیام پاکستان کے بعد کے حالات پر ہی تھوڑی نگاہ دوڑا لیجئے جب مخلص رہنماوں کے پاس ملک کی باگ دوڑ تھی تو ہمارے لوگ کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب حکومت پاکستان کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ تک دینے کے لئے پیسے نہیں تھے تو نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی نے اپنے ذاتی سرمائے سے سرکاری ملازمین کو تنخواہ دی۔ مجھے یاد ہے جب لاہور میں بی آر بی نہر کی تعمیر کے لئے حکومت پاکستان کے پاس سرمایہ نہیں تھا تو اس وقت کے وزیراعلٰی پنجاب نواب افتخار حسین آف ممڈوٹ کی پکار پر اہلیان لاہور نے بلا اجرت محض چند دنوں میں یہ نہر بنا ڈالی۔ اس زمانے کی یادداشتیں تو اتنی طویل ہیں کہ بیسیوں کتابوں میں بھی سموئی نہیں جا سکتیں۔خیر ذکر ہو رہا تھا موجودہ زمانے کا کہ آخر کیوں ترک عوام نے اپنے لیڈر رجب طیب اردگان کے خلاف بغاوت ناکام بنا دی جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ رجب طیب اردگان درحقیقت صرف ایک ترک رہنما کا نام نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم و جبر ہو طیب اردگان ان کی نہ صرف آواز بنتا ہے بلکہ ہر ممکن مدد بھی کرتا ہے۔ جبکہ ہمارے رہنما تو محض بیان دینے سے بھی کتراتے رہتے ہیں۔

مجھے یاد ہے جب حکومت پاکستان کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ تک دینے کے لئے پیسے نہیں تھے تو نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی نے اپنے ذاتی سرمائے سے سرکاری ملازمین کو تنخواہ دی۔ 

یہ طیب اردگان ہی تھا جس نے میانمار میں روھنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر نہ صرف عالمی سطح پر آواز بلند کی بلکہ تب سے آج تک بنگلہ دیش میں کیمپوں میں مقیم لٹے پھٹے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے۔ آج بھی بنگلہ دیش کے کاکس بازار کے کیمپوں میں روہنگیا مسلمانوں کے لئے امید کی کرن وہیں ہے جہاں ترکی کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا ہے کیونکہ وہیں سے انھیں کھانا، علاج اور دیگر اشیاء امداد کے طور پر ملتی رہتی ہیں۔

ابھی ان دنوں میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے القدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کا مسئلہ ابھرا تو کھلے عام جس مسلمان رہنما نے اس کی مخالفت کی وہ طیب اردگان ہی تھا۔ اس مسئلہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں فلسطین اور مصر کے ساتھ مل کر قراردادیں لانے والا ملک بھی ترکی ہی تھا-

گزشتہ چھ ماہ سے گلف ممالک کی جانب سے قطر کے بائکاٹ کے بعد اول دن سے قطری عوام اور حکومت سے تعاون کرنے میں بھی ترکی پیش پیش رہا۔

عالمی سطح کے علاوہ ترکی کے اندر طیب اردگان کی کارکردگی بھی بلاشبہ بےمثال رہی ہے۔ طیب اردگان نے 2001 میں اپنی سیاسی جماعت “جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی” بنائی اور 2002، 2007 اور 2011 کے انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کی۔ طیب اردگان 2003 سے 2014 تک مسلسل ترکی کے وزیراعظم رہے اور 2014 سے اب تک ترکی کے صدر ہیں۔ طیب اردگان کی پالیسیوں کی بدولت ترکی کی معیشت دنیا کی تیزترین ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہے۔ 2002 سے 2011 تک کا ہی جائزہ لے لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ترکی کی معیشت کا حجم اس دوران تین گنا بڑھا اور اب بھی مسلسل بڑھے جا رہا ہے۔ عوام میں خوشحالی کا دوردوراں ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ترکی کسی ترقی یافتہ یورپی ملک کا منظر پیش کرتا ہے۔

اب ایک ایسے عظیم رہنما سے عوام کی محبت کو مثال بنا کر اپنے لئے بھی اپنی عوام سے ایسی بےمثال محبت کی امید رکھنے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہئے۔ ایسی لازوال عوامی محبت کی آس صرف تب ہی رکھی جا سکتی ہے جب اپنا کردار بھی اس عظیم رہنما جیسا ہی ہو – ورنہ، مٹھائیاں ایسے ہی بٹتی رہیں گی۔

Facebook Comments Box
tayab eurdoganترکیروہنگیاسرکاری ملازمینطیب ایوردوانعظیم رہنما
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خاندان کا اخلاق، جنسی آگاہی اور اسلام : فواد رضا
next post
شاید کے ترے دل میں اتر جائے میری بات : شنیلا بیلگم والا

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.