تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

بچے، جنسی جرائم اور سماج : عثمان سہیل

by دانش ڈیسک 11/01/2018
written by دانش ڈیسک 11/01/2018
87

آج جبکہ ذرائع اطلاعات تیزرفتار اور قابل رسائی ہونے کی بنا پر کسی بھی اچھے برے واقعہ سے فوراً آگاہی ہوجاتی ہے۔ لاہور کے نواحی شہر قصورمیں ننھی زینب کے ساتھ پیش آنے والا روح فرسا سانحہ جلد ہی زبان زد عام ہوا اخبار اور ٹیلیویژن چینل سے خواص اور سوشل میڈیا سے عوامی رد عمل بھی فوری طور پر سامنے آیا ہے۔ زیادہ تر ردعمل ویسا ہی ہے جوایسے روح فرسا واقعہ کے فوری بعد ہوسکتا ہے۔ احساس رکھنے والا کون شاید ہی کوئی شخص ہو جو جذبات پر قابو رکھ سکے اور کیوں رکھے! یہ کم علم نفسیاتی و سماجی امور کا ماہر نہیں تاہم مشاہدہ و محدود علم کی بنیاد پر قارئین سے بطور عام فرد کچھ گفتگو بذریعہ تحریر کرنا چاہتا ہے۔

سماج ہر درجہ کے ذہن اور جذبات کے حامل افراد پر مشتمل ہوتا چنانچہ ہر طرح کا تبصرہ اور تجزیہ پڑھنے کو ملتا ہے۔ خواص و عوام کے تبصرے و تجزیے روایتی یا غیر روایتی ذرائع سے نظر سے گذرے ہیں۔ ان میں جو باتیں سامنے آئیں ہیں ان میں سرفہرست مجرم/ مجرمین کی فوری گرفتاری اور قرار واقعی سزا دینا مطالبہ ہے۔ واقع پر شدید احتجاج کا اظہار ہڑتال، مظاہرہ کی صورت بھی اختیار کر گیا۔ پولیس کے ساتھ مظاہرین کا ٹکراؤ کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت نے المیہ در المیہ کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ اس بہیمانہ جرم سے جڑے معاملات پر محکمہ پولیس کے اہلکاروں کی سنگدلی بھی سامنے آئی جس کی بنا پر وزیر اعلی و دیگرعیدیدران پر شدید تنقید ہوئی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ محمکہ پولیس گنہ گار سے زیادہ بے گناہ کے لیے خوف کی علامت ہے اور یہ کہنا شاید بیجا نہ ہوگا کہ پبلک کے دلوں میں پولیس اہلکاروں کیلیے ایک نفرت کا جذبہ بھی پوشیدہ ہے۔ اس پر بھی سوچ و بچار کے علاوہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں جرم کے ساتھ سزا کے علاوہ اس کے محرکات اور آئندہ کیلیے انسداد کے معاملات بھی جڑتے ہوتے ہیں۔ محرکات کے ذیل میں بعض حلقے ان جرائم کا تعلق ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات میں دکھائے جانے والے پیار ومحبت اور ملبوسات سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ مواد جنسی جذبات کو ابھارتا ہے نتیجتاً اس وجہ سے بلواسطہ کچھ افراد مجرمانہ ذریعہ سے جنسی تسکین کے حصول کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ اس نوعیت کا الزام فلمی دنیا پر چوری و ڈکیتی سے لیکر قتل اور بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی نت نئی راہوں کو دکھانے کاہے۔ ممکن ہے تفریحی میڈیا نے اسے مہمیز کیا ہو لیکن کیا اسے تنہا اور بنیادی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم امکانات کی دنیا میں رہتے ہیں اور سماجی معاملات میں وجوہات کا تعین آسان نہیں ہوتا ہے۔سماجی علوم کے ماہرین کے علاوہ جو لوگ دیہی و شہری زندگی کے ہر طرح کے ماحول سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ بچوں کیساتھ جنسی جرائم ہمارے معاشرے میں نئی بات نہیں ہے۔ یہ تب بھی ہوتے تھے جب بصری تفریح کے ذرائع نہیں ہوتے تھے۔ اس کی کیا توجیہہ کی جاسکتی ہے؟ معاشرے میں جنسی گھٹن بھی اس کی وجہ قرار دی جاتی ہے۔ مگر جیسا کی اس واقعہ سے متعلق جو روح فرسا تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں جنسی کے علاوہ دیگر جسمانی تشدد بھی شامل ہے۔ دیگر جرائم کیساتھ جان بھی لے لینا اورہ بھی ایک ننھی پری کی ایسی بربریت محض ایک عام جنسی جذبہ نہیں ہے۔ معاملہ سنگین نہیں بلکہ سنگین ترین ہے۔ لازم ہے کہ ایسے کسی مزید واقعہ سے بچنے کے لیے جلد از جلد مجرم قانون کی گرفت میں آ کر سزا پائے۔ مجرم کو کسی پولیس مقابلے میں مار دینا بھی بذات خود ایک جرم ہے۔ اس مجرم کی پراسکیوشن ہر ممکن طریقے سے شفاف بنانا اس سے جڑے دیگر معاملات کی تفہیم کیلیے ازحد ضروری ہے علاوہ ازیں اس تعین کہ یا بہیمانہ عمل انفرادی ہے یا اور لوگ بھی ملوث ہیں۔ تاہم سزا کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ اس واقعہ کے مجرم کو سزا سے آئندہ کے لیے راہ رُک جائے گی۔ بلکہ زیادہ مناسب اور بہتر سوال ہوگا کہ کیا کڑی سزا سے مجرمانہ میلانات اور ارادہ کی نفس میں پیدائش کا اسقاط ہو جائے گا؟ ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے جذبہ کو دبا لینا یا اس کی تہذیب کر لینا ممکن ہے مگر اسے مٹا دینا نہیں۔

جنسی فعل انسانی نسل کے تسلسل کیلیے ضروری ہے اور اس میں لطف و انبساط کا پہلو اس تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔ محض یہ کہ دینا کہ بالغ افراد میں جنسی عمل کو بہت زیادہ آزاد کر دیا جائے بھی چنداں مفید خیال نہیں معلوم ہوتا۔ غذا کا حصول انسان کا بنیادی حق ہے مگر اس میں بھی دوسرے کا نوالہ چھین لینے پر قید موجود ہے۔ سو ان میں بھی کچھ حدود و قیود کا ہونا لازم ہے۔ علاوہ ازیں انسانی فطرت کا تقاضا ہےکہ وہ کسی بھی کام میں اکتا جاتا ہے اور پھر اسے مزید دلچسپ بنانے کیلیے نت نئے طریقے ایجاد کرتا ہے۔ جنسی رویوں میں بھی ایسا ہی ہے جہاں کچھ موڑ ایسے ہیں جہاں سے اس کے حصول کیلیے غیرفطری ذرائع کے راستے کھلتے ہیں۔ فحش بصری مواد (پورنوگرافی) کا شعبہ بھی معمول کے جنسی رویے سے پرتشدد طریقے دکھانے تک جا پہنچا ہے۔ ممکن ہے یہ رجحان اگلے وقتوں سے چلا آرہا ہو مگر ایسے مواد کی دستیابی اور عام رسائی نوعمر سے لیکر پیرانہ سال ذہنوں سبھی کو نت نئی راہیں سجھا رہا ہے دکھا رہا ہے۔ ‏ جنسی جذبات میں تخریف اور تخریب کیونکر پیدا ہوتے ہیں معاشرے مین ان اسباب و علل کا کھوج لگا کر ہی آئندہ کیلیے راہیں مسدود کی جا سکتی ہیں۔ راقم الحروف سمجھتا ہے کہ انواع و اقسام کے سماجی مسائل سے نبٹنے کیلیے تعلیم و تربیانت اور صحت مندانہ سماجی سرگرمیاں اولیں ذرائع ہیں، سزا بھی ضروری مگر ثانوی ذریعہ ہے۔

ممکن ہے تفریحی میڈیا نے اسے مہمیز کیا ہو لیکن کیا اسے تنہا اور بنیادی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم امکانات کی دنیا میں رہتے ہیں اور سماجی معاملات میں وجوہات کا تعین آسان نہیں ہوتا ہے۔

اس ضمن میں تشویس کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کی طرف سے “فوری نوٹس” لیے جانے کے اقدامات تو نمایاں نظر آتے ہیں جسے نمائشی یا اپنی اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش نہ بھی سمجھا جائے تب بھی بات نہیں بنتی۔ سماجی مسائل کا حل ایسے انفرادی واقعات کو مثال بنا کر مربوط اور منظم (systematic) ہمہ جہتی حل تلاش کرنے اور اس کی کوشش کرنے میں مضمر ہے۔

کیا اس واقعہ کے مجرم کو سزا سے آئندہ کے لیے راہ رُک جائے گی؟ بلکہ زیادہ مناسب سوال ہوگا کہ کیا کڑی سزا سے مجرمانہ میلانات اور ارادہ کی نفس میں پیدائش کا اسقاط ہو جائے گا؟

آخر میں ایک سوال ملک کی جامعات میں بیٹھے سماجیات اور اجتماعی نفسیات کے اساتذہ کرام سے کرنا چاہوں گا۔ کیا آپ کا کام محض آپس میں علمی مقالہ جات کا تبادلہ اور ریسرچ گرانٹس کا حصول ہے یا معاشرہ کی رہنمائی بھی فرمائیں گے۔ اور دوسرا سوال قوم کے منتخب نمائندوں سے کہ ان میں سے کسی نے آجتک معاشرہ کے غیر مادی مسائل پر سوچا ہے؟ مثلاً پنجاب کے سماجی بہبود کے منسٹر جناب ملک مختار یا انسانی حقوق کے وزیر خلیل سندھو صاحب اس مسئلہ کے بیچ کیا فرماتے ہیں۔ وزیر قانون چونکہ حریف جماعت کے سربراہ کی مبینہ شادی یا نامہ و پیام کے معاملہ پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے چنانچہ ان کو ایسے کسی سوال سے دق کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں حکومتی پارٹی کے رہنما اپنے نااہل سربراہ کی کرپشن چھپانے، اپوزیشن یہاں وہاں نظر رکھنے، فوج امور خارجہ پر گرفت کرنے اور عدلیہ صحت کے مسائل سلجھانے میں مصروف ہوں۔ ؎

نشیمن ہی کے لٹ جانے کا غم ہوتا تو کیا غم تھا
یہاں تو بیچنے والوں نے گلشن ہی بیچ ڈالا ہے
(علی احمد جلیلی)

Facebook Comments Box
featuredJustice for ZainabZainabجنسی جرائمجنسیتزینبزینب قتلزینب مرڈر کیسقصور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
یہ ’’زینب‘‘ پہلی نہیں ہے: آخری بھی نہیں ہوگی؟ ثمینہ ریاض
next post
امریکی صدر کا دماغی معائنہ ضروری ہے : ڈاکٹر رئیس صمدانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.