تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

اندھی تقلید : ابن فاضل

by دانش ڈیسک 05/12/2017
written by دانش ڈیسک 05/12/2017
126

cody_sunshine hot

ہمارا سب سے بڑا سماجی مسئلہ شاید ‘اندھی تقلید’ ہے۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور ساری مذہبی جماعتوں کے کارکنان اپنے اپنے راہنماؤں کو دیوتا کا درجہ دیے بیٹھے ہیں۔ ہر چاہنے والا ہر طرح کی منطق سے بالا ہو کر اپنے راہنما کے سیاہ و سفید پر سردھننے اور اس کے افکار و اعمال کو باقی ساری دنیا سے افضل و برتر ثابت کرنے پرتلا ہے۔ بلکہ صورتِ حال اس سے بھی دگرگوں ہے کہ کسی راہنما کے قول و فعل کے مقابل کسی قسم کی عقلی دلیل بھی نہ صرف یہ کہ باعثِ نزاع ثابت ہوتی ہے بلکہ بیشتر اوقات انقطاع تعلقاتِ دیرینہ پر منتج ہوتی ہے۔

بہت حیرانی ہوتی ہے جب کوئی اپنے سیاسی راہنما کی بدعنوانی یا بدزبانی کا دفاع کرتا ہے۔ بلکہ اب توایک گروہِ مومنین پر اپنے مرشدین کے بے طرح سب و شتم کے دفاع اور اس عین حلال ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے۔ دراصل یہ کم علمی و کج فہمی کا شاخسانہ ہے۔ بخدا جس اللہ کے ہم ماننے والے ہیں اور جس نبی صلی الله عليه وسلم کے ہم امتی ہیں اور اگر ان کے احکامات و تعلیمات سے تھوڑا بھی لگاؤ اور علاقہ ہوتا تو ایسا غلغلہِ فرومایہ ہرگز بپا نہ ہوا ہوتا۔ دیکھیے قرآن کریم میں اللہ کریم کیا فرما رہے ہیں،

[25:73] Al-Furqān-الْفُرْقَان
(“وَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَمۡ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّ عُمۡیَانًا ﴿۷۳

اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھی کرتے ہیں)۔

اللہ کریم اپنے پسندیدہ بندوں یعنی عبادالرحمن کی جملہ خصوصیات بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر قرآن مجید کی آیات بھی ان کے سامنے نصیحت کے لئے پیش کی جارہی ہوں تو بھی اندھے،بہرے ہو کر ان کو نہیں لیتے بلکہ خوب سوچ سمجھ کر متذکرہ آیات کے حتمی پیغام تک پہنچتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

حیرانی اس بات کی ہے کہ ہمارے سیاسی کارکنان میں سے کون ایسا رہا ہوگا کہ جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کرتے کا واقعہ نہ سن رکھا ہوگا۔ اور اسلامی تاریخ میں بزرگی، فراست اور انتظامی لحاظ سے کونسا راہنما یا حکمران ایسا ہے یا کبھی رہا ہو گا جو ان کا عشرِ عشیر بھی ہو۔ پھر بھی رعایا یا یوں کہہ لیجیے کہ اسوقت کے سیاسی کارکنان ان کی بات سننے تک پر آمادہ نہیں کہ جب تک وہ اپنے صرف ایک کرتے جی صرف ایک کرتے کا حساب نہیں دے دیتے۔ اور ادھر یہ عالم ہے کہ کسقدر ڈھٹائی سے فرمایا جارہا ہے کہ ‘اگر اثاثہ جات آمدن سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا۔’ اور کارکنان ہیں کہ پھر بھی اک واری فیر کے نعرے لگا رہے ہیں۔

اسی طرح اگر بزعمِ خود اس گروہِ مالکانِ مذہب میں ایک بھی ایسا ہوتا جو سالارِ صندلی چرخدار نشین سے پوچھتا کہ شریعتِ محمدی کی رو سے کونسا ایسا جرم ہے جو بجائے خود اتنا بڑا ہے کہ اس کے تدارک کی خاطر چھ معصوموں کی جان لی جا سکتی ہے، پورے ملک کا نظام تلپٹ کیا جا سکتا ہے۔ کڑوروں کی سرکاری ونجی املاک نذرِ آتش کی جا سکتی ہیں، لاکھوں افراد کو عملی طور یرغمال و محبوس اور بے دست و پا کیا جا سکتا ہے،لاکھوں غریب دہاڑی داروں کو مزدوری اور آمدن،اور کروڑوں بچوں کو دو دن تک تدریس سے محروم کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔مگر حیرت ناک طور پر فی الحقیقت اتنا چھوٹا کہ اس کی پاداش میں کسی کو کوئی سزا دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ تو شاید یہ ہنگامِ خاک وخون نہ ہوا ہوتا۔

خدا کی پناہ کیا مذاق ہے، بھیانک مذاق۔ کیسا خوفناک نظام معاشرت ہے، کیسی عجب تفہیم ہے دینِ حنیف کی۔ گویا کیا ملکی و شرعی قوانین اور کیا اخلاقی و سماجی اقدار سب کے سب کی توضیح آپ کی قزم فکری اور چرب زبانی کی رہینِ منت ہے۔ قابلِ رحم، بے عمل،نادان اور روحِ دین سے نا بلد خلدِارزاں کے خواہشمندوں کی یہاں ویسے ہی بہتات ہے جو متاعِ دین و دنیا لٹانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ پھر کیا عجب کہ بھر پور مجمع نہ جمے، اور زبردست تماشہ نہ ہو کہ جب جادوگر بھی ہو اور تماشائی بھی۔ مگر خدا کا واسطہ ایک ساعت کو تنہائی میں سوچیے گا ضرور جس سرورِ کائنات کی حرمت کے نام پر یہ سب کیا ان کی تعلیمات کیا ہیں اور ان کا اپنا اور ان کے جانثاروں کا عمل کیا تھا۔ اور پھر یہ بھی کہ ہم نے کل روز جزا ان کا سامنا بھی کرنا ہے۔

Facebook Comments Box
ابن فاضلاندھی تقلیدتقلید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نکلے اپنی تلاش میں: سحرش عثمان
next post
دسمبر کی سرد یادیں اور پرینہ : عابد آفریدی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.