تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادب

آزادیٔ افکار ۔ ۔ ۔ تباہی کا راستہ؟ رشاد بخاری

by ویب ڈیسک 04/12/2017
written by ویب ڈیسک 04/12/2017
123

ایک دعوی یہ ہے کہ فکر کی آزادی کے بغیرعلم و دانش کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا، ترقی کی سیڑھی کا ایک زینہ نہیں چڑھا جاسکتا، اقوام عالم میں کسی عزت کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ نہ کوئی نظریہ سازی، نہ کوئی فکر اندوزی، نہ کوئی نکتہ آفرینی، نہ کوئی تدبر، نہ کوئی تذکر، نہ کوئی تفکر! اگر آپ کو اس دعوی سے اتفاق ہے تو پھر افسوس ہے کہ آپ میں اقبال کا شاہین بننے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرب کلیم میں اقبال فرماتے ہیں:

آزادیٔ افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادیٔ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

اقبال کے اس کلام سے اگر یہ نتیجہ نکالا جائے کہ اقبال آزادیٔ افکار سے منع فرما رہے ہیں تو شائد زیادتی ہوگی اور اقبال سے ہماری عقیدت ہماری کج فہمی پر ضرور ہمیں ملامت کرے گی۔ کیوں کہ یہاں اقبال نے آزادیٔ فکر کی مخالفت نہیں کی بلکہ فکر و تدبر کے سلیقے کے بغیر’مغرب‘ سے درامدہ اس خوش نما نعرے کو اپنانے کے خطرناک مضمرات سے ہمیں آگاہ کیا ہے۔ انکار کی مجال نہیں لیکن کچھ سادہ مزاج ایسے بھی ہیں جو اس سلیقے کے مفروضہ خدوخال میں الجھے رہتے ہیں جسے حاصل کرنا فکری آزادی کی خواہش سے پہلے فرض ہے۔ کیا اس سلیقے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اپنے فکر و اذہان کی کچی دیواروں کو اپنے مصدقہ بزرگوں اورمسلمہ عقائد اور ان پر تیقن کے ذریعے اتنا پختہ بنا لیا جائے کہ کسی نئی فکر کا پتھر ان میں دراڑیں نہ ڈال سکے؟ کیا فکری آزادی کا جگنو پکڑنے کی ہمت آپ کو اسی وقت کرنی چاہئے جب کم سن فکری شعور بلوغت کی منزل حاصل کرچکا ہو؟

لیکن پھر سوال یہ ہے کہ پختہ کاری کی عمررسیدگی میں کسی بھی جگنو کو پکڑنے کی، چاہے وہ فکری آزادی کا جگنو ہی کیوں نہ ہو، خواہش ہی کہاں رہ جاتی ہے؟ پھر تو بس اپنے خیالوں کا ادعا، ان کی تکرار اور ان کا دفاع ہی رہ جاتا ہے؟ یا ایسا نہیں؟ شائد ہم ہی سمجھنے میں کچھ غلطی کر رہے ہیں۔ سوچ بھی ایک ایسی کافر چیز ہے کہ یہ پوچھنے سے باز نہیں رہتی کہ اگر آزادئ افکار نہیں تو پھر کیا غلامئ افکار ہوگی؟ اور کیا غلامیٔ افکار کا مطلب یہ سیدھا سادھا اعتراف نہیں کہ ہم، یا اصل میں آپ، چونکہ فکر کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے ہم سے پہلے ہماری ہی فکری روائت میں جو عالی دماغ لوگ فکر فرما گئے ہیں ان کے بنائے گئے دائرے میں رہنا ہی عافیت ہے۔ دیکھئے فکر کی ضرورت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آخر کوئی نہ کوئی فکر تو ضروری ہے اپنی نہ سہی دوسروں کی سہی، اور پھر دوسروں کی بھی کیوں ہمارے اپنے جتنا ہمارے لئے سوچ گئے کیا اتنا کافی نہیں؟ اس سے آگے بڑھے تو گمراہی اور تباہی کا گڑھا ہمارا منتظر ہے۔

سوال یہ ہے کہ پختہ کاری کی عمررسیدگی میں کسی بھی جگنو کو پکڑنے کی، چاہے وہ فکری آزادی کا جگنو ہی کیوں نہ ہو، خواہش ہی کہاں رہ جاتی ہے؟

اگر ہماری فکر پہلے سے ہی پختہ نہیں ہے تو کیا فکری آزادی ہمیں حیوان بنا دے گی؟ اب اس کے بعد فکری آزادی یا دوسرے لفظوں میں اپنی فکر اختیار کرنا ایک بہت بڑا رسک لینے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟ اور جو پھر بھی ایسی جرأت کرے اسے معلوم ہونا چاہئیے کہ حیوانوں کے بارے میں انسانوں کی کیا رائے ہے!اپنی آزاد فکری کا مظاہرہ کرنے والے ہمارے ہی اکابرین کی ایک لمبی فہرست ہے جنہیں اس فکری آزادی کے جرم کی پاداش میں نہ صرف تحقیر و تذلیل سے لے کر، کفر و الحاد کے فتوے برداشت کرنے پڑے بلکہ قید و بند، سماجی مقاطعے اور موت تک سے دوچار ہونا پڑا۔

کبھی کبھی خواہش ہوتی ہے کہ جیسے اقبال کو رومی مل گئے، رومی کو شمس تبریز مل گئے، موسی کو خضر مل گئے، کاش ہم جیسے راندہ درگاہوں کو بھی کوئی مرشد کامل مل جاتا اور انگلی پکڑ کر مشکل سوالوں کے بھنور سے پار کرا دیتا۔ لیکن سب کا ایسا نصیبا کہاں؟ شکر ہے کہ ہمارے پاس اقبال ہیں۔ اقبال کے کلام میں ایسی تاثیر ہے اور یہ آپ کے جذباتی شعور کی اس سطح کو متاثر کرتا ہے، آپ میں عشق اور لگن کی وہ جوت جگاتا ہے کہ عقل لب بام تماشے میں محو ہو جانے کے علاوہ کسی کام کی نہیں رہتی۔ اب یہ عشق اور لگن بھی تواصل میں ایک عطا ہے جو کسی عقل کی گٹھڑی میں بندھے کا مقدر نہیں۔ سوچ میں پڑے ہوؤں کا کوئی علاج نہیں!

ایک اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ کسی کے ایک اقتباس یا شعر کو سیاق و سباق سے نکال کر اس کی فکر کے بارے میں اتنے بڑے نتیجے کیسے نکالے جا سکتے ہیں۔ بالکل بھی نہیں۔ لیکن اقبال کی اس سوچی سمجھی رائے کے بارے میں ان کی اردو، فارسی، انگریزی کی کتابوں سے بہت سے حوالے پیش کیے جاسکتے ہیں اور علمأ اور روائت پسندوں کا بڑا طبقہ اگر ان کا شیدائی ہے تو اس کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ اقبال اپنے فکری دائرے اور اس کی حدود کو نہ صرف خود پہچانتے ہیں بلکہ اپنے پڑھنے والوں کو بھی اسی دائرے میں رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اقبال فکر و تدبر کے خلاف ہیں لیکن وہ فکر و تدبر کے لئے اپنا پیمانہ استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں، اور ہاں پیمانے پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں ہے کیوں کہ یہاں معاملہ عقل کی حدود سے نکل کر عشق کی اقلیم میں داخل ہوجاتا ہے۔

اقبال کے کلام میں ایسی تاثیر ہے اور یہ آپ کے جذباتی شعور کی اس سطح کو متاثر کرتا ہے، آپ میں عشق اور لگن کی وہ جوت جگاتا ہے کہ عقل لب بام تماشے میں محو ہو جانے کے علاوہ کسی کام کی نہیں رہتی۔

اقبال کے ہاں اپنی شناخت کا احساس بہت گہرا ہے اور شائد اسی لئے شناخت کے بحران میں پھنسی قوم کے لئے ان کی آواز نقارۂ جاں فزا ہے، آوازہ حق ہے۔ شناخت کا موضوع، اس کے کھو جانے یا بگڑ جانے کا خوف اور اس کی ہماری سوچ میں کارفرمائیاں ایک علیحدہ مضمون کی متقاضی ہیں۔ لیکن کیا یہ ایسا ہی نہیں کہ جیسے محلے کے گمراہ اور بدقماش لڑکوں کی صحبت کے برے اثرات سے بچانے کے لیے اپنے بچوں کو اپنے گھر کے دالان میں قید کردیا جائے؟ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر اپنی ہی ذات کے گنبد میں اذانیں دینے والوں سے یہ بھی نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ تم نے علم و فن میں ترقی کیوں نہیں کی؟ کیوں کہ ان کی کسی علمی یا فکری ترقی کے امکان کا گلہ تو ہم انہیں اپنے گھر کے دالان میں قید کر کے خود گھونٹ چکے ہیں! یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ یہ کہیں مغربی فکر کے دھندلکوں میں، اپنی شناخت کے، جو ہمارے علیحدہ وجود کا اثبات کرتی ہے، کھو جانے کا خوف تو نہیں جو اقبال جیسے عبقری کو اپنی قوم میں فکری آزادی کی لگامیں کھینچ لینے پر مجبور کرتا ہے؟

Facebook Comments Box
featuredآزادی فکراقبالشناختعلامہ اقبالفکری ترقی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کیا تھر پاکستان کے لیئے گیم چینجر بننے جارہا ہے:   محمد ارشد قریشی  
next post
احوبہ ——– جیلانی بی اے — 3

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.