تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

سر سید۔ ایک عالمی نوآبادیاتی تناظر میں: پیر الطاف

by پیر الطاف 24/11/2017
written by پیر الطاف 24/11/2017
140

سرسید احمد پہ جاری حالیہ بحث کے حوالے سے دانش پہ اس سے پہلے بھی مضامین چھپ چکے۔ زیر نظر تحریر پیر الطاف صاحب نے بطور خاص دانش کے قارئین کے لیے پیش کی ہے۔ اتفاق و اختلاف سے قطع نظر تحریر سے چھلکتی دانش، اس کو شایع کرنے کا بنیادی محرک رہی۔ اہل دانش اگر اس بحث کو آگے بڑہاتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔


بھلا ہو ابوبکر صاحب کا۔ سر سید پر لگ رہی بحث کے بارے میں علم انہیں کی زبانی ہوا۔ کچھ ارباب فہم کی تحریریں پڑھیں۔ کچھ احباب کے تبصرے پڑھے۔آج کل چونکہ لکھاری زیادہ اور قاری کم ہیں لہذا راقم بحث مباحثوں میں تبصرے پر ہی اکتفا کر لیتا ہے۔یہ تبصرے اکثر اوقات جہان برق میں صحرا برد ہو جاتے ہیں اوربیشتر اصحاب ذوق کی نظروں تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ لہذا سوچا کہ اس دلچسپ موضوع پر ذہن میں مجتمع خیالات کو ایک منظم تحریر کی شکل دوں۔ شائد نئے زاویئے متعین ہوں۔

مجھے نہیں معلوم کہ محترم احمد جاوید صاحب کے سر سید مرحوم کے بارے میں اصل الفاظ کیا تھے۔ مجھے اس پر کوئی تعجب نہیں کہ اس سے جنم لینے والی بحث جذبات اور پند ونصائح سے لبریز ہے۔ اور نہ ہی اس پر حیرت کہ ھم جن مباحث میں جنگ آزادی کے بعد الجھے ہوئے تھے آج بھی وہی گتھیاں سلجا رہے ہیں۔ ہاں مگر یہ فکر ضرور دامن گیر ہے کہ رجعت پسندوں اور جدت پسندوں کی اس رزم گاہ میں کم ہی لوگ اس مسئلے کا ایک عالمگیر تاریخی اور سماجی تناظر میں از سر نو جائزہ لینے کے لئے تیار ہیں۔ اس ضمن میں ابو بکر صاحب کی عبارت آرائی یقینناً قابل داد ہے۔ تاہم انھوں نے اپنا تجزیہ برصغیر تک ہی محدود رکھا۔ راقم کی کاوش یہی ہے کہ ایک وسیع تناظر میں محولہ بالا موضوع کا جائزہ کسی جذباتیت کے بغیر کیا جائے۔ اس میں تاریخی نو آبادیاتی اور عمرانی عوامل کو مدنظر رکھا جائے۔

سر سید کوئی شخصیت کا نام تھوڑی ہے۔ سر سید تو بس ایک استعارہ ہے۔ ایک ردعمل کا استعارہ۔ وہ رد عمل جو کسی استعمار کی بھٹی میں دہکتے محکوم ذہن میں الہامی متون کی مجرد تعبیرات اور جدید دنیا کے تقاضوں کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں اسلام سے مراد برصغیر کا اسلام اور تاریخ سے مراد بر صغیر کی تاریخ ہے، لہذا سر سید بھی صرف برصغیر کا ہی نظر آتا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق پلٹائے جائیں اور تعصب کے چشمے اتار کر انیسویں صدی کا مطالعہ کیا جائے تو آپکو جا بجا سرسید نظر آئیں گے۔ ہندوستان کے سید امیر علی، ترکی کے جمال الدین افغانی و نمیک کمال، اور مصر کے محمد عبدُہ۔ سب سر سید کے معاصر۔ سب کے جعرافیے الگ۔ سب کےتعلیمی میدان الگ۔ کبھی باہم ملاقات بھی نہیں کی۔ مگر سب کی سوچ ایک جیسی۔ سب مسلمانوں کی پستی کی وجہ جدید علوم سے روگردانی خیال کرتے تھے اور سائنسی علوم اور کائنات میں غور و فکر کو عین اسلامی سمجھتے تھے۔ سب سرسید کی طرح متحرک تھے۔

سر سید تو بس ایک ردعمل کا استعارہ ہے۔ وہ رد عمل جو کسی استعمار کی بھٹی میں دہکتے محکوم ذہن میں الہامی متون کی مجرد تعبیرات اور جدید دنیا کے تقاضوں کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔

تو آخرکار ان افتادگان خاک کا ظہور میں کیونکر ممکن ہوا۔ اس کے لئے اسلامی معاشروں، بالخصوص ان میں تعلیمی اداروں کی ساخت نوآبادیاتی دور سے پہلے، اس کے دوران کارفرما عوامل کا جائزہ ازحد ضروری ہے۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسے لوگ عرب معاشروں میں کیونکر پیدا نہ ہوئے۔

نو آبادیاتی دور سے قبل اسلامی دنیا میں تعلیمی اداروں کی ساخت مختلف جعرافیائی حدود میں مختلف تھیں۔ مثلاً مصر کے علماء بدرجہ اُتم منظم تھے اور الاظہر میں مرکوز تھے۔ ترکی، ھندوستان اور انڈونیشیا میں کوئی بڑا منظم اسلامی ادارہ نہیں تھا اور علماء چھوٹے چھوٹے مدرسوں کی شکل میں ملک کے طول عرض میں منقسم تھے۔ تاہم ترکی میں علماء کو ایک سرکاری حیثیت حاصل تھی۔ ایران کے علماء بھی مدرسوں میں منقسم تھے اور انہیں کوئی سرکاری حیثیت حاصل نہ تھی۔ اگرچہ سیاست میں ان کا عمل دخل کافی تھا۔ ان متغیر ساخت کا اثر اسلامی تعلیمی اداروں کی ارتقاء پر براہ راست پڑا۔

نوآبادیاتی دور میں کسی مخصوص علاقے میں اسلامی اداروں کے ارتقاء کی ماہئیت ان کے استعمار کے تشخص کے مرہون منت بھی رہی۔ مثلاً برطانوی اور ڈچ استعمار نے اسلامی اداروں کو نہیں چھیڑا بلکہ قدامت اور روایت پسندی کو پروان چڑھایا۔ جبکہ فرانسیسی استعمار نے الجیریا اور شمالی افریقہ کے اسلامی اداروں پر نہ صرف اپنا اثر ڈالا بلکہ صوفیاء کو علماء پر فوقیت دی۔ اسی طرح ایران اور مصر براہ راست استعمار کے زیر اثر نہ تھے مگر ان کے بین الاقوامی سیاست کی اثر و رسوخ سے آزاد بھی نہ تھے۔ ترکی استعمار کے زیر اثر نہ تھا مگر اس کے اسلامی ادارے مغربی اثرات سے مکمل محفوظ بھی نہ تھے۔ جبکہ عرب دنیا کے اسلامی تعلیمی ادارے کسی بھی قسم کے تسلط سے مکمل آزاد تھے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں کے خدوخال مختلف ارتقائی عوامل کے زیر اثر مختلف رہے اور یہ فرق آج بھی نمایاں ہے۔ اس دور پر نظر ڈالی جائے تو اسلامی دنیا میں جدیدیت پسندوں کے دو فکری دھارے نظر آتے ہیں۔ ایک وہ دھارا جنہوں نے جدید علوم کی عملی جہات کو فکری جہات کے مقابلے میں اہم گردانا۔ ان کے ہاں ایک اسلامی ذہن کو فکری سطح پر جدید علوم کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یعنی ان کے نزدیک ایک اسلامی ذہن کے لئے طب اور سائنس کے دیگر میدان میں آگے بڑھنا تو ٹھیک تھا، کہ یہ شیوہ ابنائے روزگار کاہے اور دنیاوی کامیابی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔ مگر ان کے ہاں اخروی زندگی کے تیاری کے لئے ایک اسلامی ذہن کو فکری سطح پر جو بھی رہنمائی درکار ہے وہ اسلامی تعلیمات و متون میں وافر موجود ہے اور فکری سطح پر جدوید علوم محض ذہن کو دنیاوی رغبتوں سے پراگندہ ہی کر سکتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس فکر کے نتیجہ میں جس ذہن نے جنم لینا تھا وہ اپنی تخصیص میں علم کی ایک ایسی دوئی کا شکار ہوگا جو جدت اور روایت کے مابین فاصلے کی پیمائش سے معذور تھا۔ دوسرے فکری دھارے کے نزدیک مسلمانوں کو جدید علوم کو فکری اور اور عملی دونوں سطح پر قبول کرنے کی ضرورت تھی۔ انکے ہاں کسی بھی قسم کا علم نقصان دہ نہیں ہوسکتا اور مسلمان ہی جدید علوم کے اصل وارث تھے جنہیں مغرب نےقرون وسطیٰ کے بعد ہتھیا لیا تھا۔ لہذا کامیابی کے لئے اس ورثے کا واپس ہاتھ آنا ضروری تھا۔ قبل الذکر فکری دھارا ترکی کے علماء و شرفاء دونوں میں زیادہ مقبول ہوا، جس کی وجہ اظہر من الشمس ہے۔ یہ دھاراسماج میں علماء کے اثر و نفوذ کا ضامن بھی تھا اور مسلمانوں کی جدیدیت کا نسخہ بھی۔ لہذا ترکی کے “تنظیمات اصلاحات “کے ذرریعے علوم و فنون کو الگ کر دیا گیا اور دینی و دنیاوی علوم کے دمیان خلیج مزید وسیع ہوتی چلی گئی۔ فنون کے اداروں کے لئے ذیلی ” رشدیہ سکول” کھولے گئے تاکہ مدرسوں کے نظام کو چھیڑا ہی نہ جاسکے۔

اب اس سارے قضیے کو اگر تاریخی عوامل کی بلا تعصب جانچ اور نوآبادیاتی دور کے سماجی اور نفسیاتی المیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو نمیک کمال، محمود عبدہ، جمال الدین افغانی، سید امیر علی اور سید احمد خان جیسے لوگوں کے ظہور کو سمجھنا کیا مشکل ہے؟ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آخرالذکر فکری دھارے کے سِروں کو ایک ایسے دور میں دوبارہ پکڑنے کی کوشش کی جب کہ بہت دیر ہوچکی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب اسلامی دنیا میں علاقائی نیشنلزم استعمار اور مغرب کے خلاف ایک ردعمل کے طور پر ابھری۔ مسلمانوں میں یہ جذبات شدت سے ابھرے کہ ایک طرف تو استعماری طاقتیں اپنے زیر تسلط علاقوں کے وسائل کو اپنے وطن منتقل کر رہے ہیں اور محکوموں کا نفسیاتی اور معاشی استحصال کئے ہوئے ہیں تو دوسری طرف اپنے ہاں جمہوریت و فکری آزادی جیسے ثمرات کے خوب مزے لوٹ رہے ہیں۔ جن مسلمان مفکرین نے اس دوران مغرب کا دورہ کیا وہ ان کے اس دوغلے پن پر انگشت بدنداں رہ گئے۔ ترکی اور مصر میں نیشنلزم کی نئی تحریکوں نے سر اٹھایا جو کہ اسلامی تشخص کی تحریکوں کے متوازی چلیں۔ اس دور میں جس نے بھی جدیدیت کا راگ الاپا، معاشرے نے اسے استعمار کا ایجنٹ قرار دیا۔ چاہے یہ مسلمانوں کے سائنس میں عروج کا تذکرہ ہی کیوں نہ ہو۔ ۱۸۷۰ میں ترکی کے جمال الدین افغانی نے جب “دارلفنون” کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطبے میں ابن سینا کے حوالے دئیے تو رجعت پسند اس قدر چراغ پا ہوئے کہ انہیں ملک ہی چھوڑنا پڑا۔

اسلامی روایت پسند الہیات میں کسی بھی جدیدیت کی کاوش کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ سلسلہ قرون وسسطٰی سے چلا آرہا ہے۔

مغرب میں سائنس کے عروج اور تنویری تحریکوں کے اثرات کو اپنے سماج میں ضم کرنے لئے کچھ لوگوں نے خرد افروزی بھی کی۔اس سلسلے میں ترکی کے ماہر عمرانیات ضیاء گوکالپ، مصر میں طٰہیٰ حسین قابل ذکر ہیں۔ابو بکر صاحب نے استعمار کی کوکھ میں جنم لینے والی ترقی کی جانب جو اشارے کیئے راقم اس پر مزید خامہ فرسائی نہیں کر سکتا۔ نہ ہی ہم سر سید کے علم الکلام پر کوئی عالمانہ رائے دینے کے اہل ہیں۔ ھماری رائے میں تو یہ حالات کے جبر کی داستان ہے۔ سرسید کے سامنے دو راستے تھے، ایک مغربی سیکولرزم کا اور دوسرا اسلامی جدیدیت کا۔ہر دو صورتوں میں انہیں مذہبی طبقے کے عتاب کا سامنا کرنا تھا۔سو انھوں نے اسلامی جدیدیت کا راستہ اپنایا۔ جسے آج کا رجعت پسند جدیدیت ہی کی مصنوعات مثلاً، کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتا رہتاہے۔

اس تناظر میں ڈاکٹر فضل الرحمن مرحوم صاحب کا تجزیہ قابل غور ہے۔ اسلامی روایت پسند الہیات میں کسی بھی جدیدیت کی کاوش کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ سلسلہ قرون وسسطٰی سے چلا آرہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اقبال کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں کہ اقبال نے اسلامی تعلیمی نظام میں اصلاحات کی کوئی کاوش ہی نہیں کی۔ اگر اقبال وہی کچھ کرتا جو سر سید نے کیا تو کیا اقبال آج بھی رجعت پسندوں کے ہاں وہی مقام رکھتا؟

سر سید پر جاری بحث کو نوآبادیاتی نفسیات کے زاویئے دیکھنے سے بہت ساری گتھیاں سلجھ سکتیں ہیں۔ ہمارے دوست قلم کار و ماہر نفسیات جناب اختر حسین سید اسی پر بجا اصرارکرتے نظر آتے ہیں۔ اس پر فی الحال کوئی تفصیلی بحث تو نہیں کی جاسکتی مگر کچھ اشارے ضرور دئیے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ھومی بھابھا کے نظریات جو کہ فرانزفینون کے (Black.Skin.White.Mask) اور ایڈورڈ سعید کے کام سے متاثر تھے، کافی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ پسِ ساختیت کے مفکر ھومی بھابھا کے ہاں استعمار اور محکوم کے ٹکراؤ سے دو نسلی(Hybridity) کا ظہور ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ظہور جو اپنی مائیت میں دو مختلف تشخصات کے اجزاء لئیے ہوتے ہیں۔ یہاں دونسلی کا استعارہ صرف ذہنی ساخت اور تشخص کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ بھابھا کے (جائے ثقافت The.Location.Of.Culture)کے مطابق تاریخ رزم گاہوں اور بیرکوں میں نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات اور ان نظاموں میں ہوتی ہے جنہیں ھم تشکیل دیتے ہیں۔ بھابھا کی نظر میں تاریخ بیتے واقعات کا تسلسل نہیں بلکہ محض ہماری ایک منظر کشی ہوتی ہے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا، کہ سر سید تو محض ایک استعارہ ہے۔ اگر سر سید نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا۔ روایت پسندوں اور جدیدیت پسندوں کی یہ بحث العشعری اور المعتذلہ سے لیکر، پرویز اور غامدی تک جاری ہے اور جاری رہے گی۔ ایک ادنٰی تحریر میں اس بحث کا احاطہ ممکن نہیں اور نہ ہی یہ بحث ختم ہو سکتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سوچ کو وسعت دی جائے اور معاصر اکادیمی مباحث کی رو سے نئے زاوئیے تلاش کیے جائیں۔

Facebook Comments Box
Sir Syed Ahmed khanاسلامی تہذیباسلامی فکراشاعرہبرصغیرجمال الدین افغانیسرسیدسرسید احمدسرسید احمد خانمسلم تہذیبمعتزلہنیچری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
پیر الطاف

previous post
دانش نامہ ۔۔۔ سازش : محمد خان قلندر
next post
سراج منیرکا تصور تہذیب (حصہ دوم): عزیز ابن الحسن

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.