تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

دشمن کا بچہ پڑھتا ہے: محمد عثمان جامعی

by Daanish Editor 14/11/2017
written by Daanish Editor 14/11/2017
90

اگرچہ ہمارے ملک کے اکثر اساتذہ ہر بچے کو دشمن کا بچہ سمجھ کر پڑھاتے ہیں، مگر اب سے کچھ عرصہ پہلے دشمن کے بچوں کو پڑھانا قومی پالیسی قرار پایا ہے، بہت اچھی پالیسی ہے، لیکن دشمن کے کچھ پڑھے لکھے بچے دشمنی کا سبق اس طرح یاد کرچکے ہیں کہ تعلیم ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی اور وہ ایک ہاتھ میں کتابیں اور تعلیمی سند اور دوسرے میں بم پکڑے جھوم جھوم کر گاتے ہیں ”مجھے اَبّو کے مقصد کو بڑھانا ہے۔“

ہمارا خیال ہے کہ اس پالیسی کو عملی جامہ بلکہ عملی جیکٹ پہنانے کے لیے درس گاہوں میں دشمن کے بچوں کا کوٹا مقرر کردیا جائے گا، عین ممکن ہے کہ خصوصی انتظام کرتے ہوئے تعلیم بالغاں کی طرح تعلیم دشمناں کا کوئی علیحدہ سلسلہ شروع کیا جائے۔ اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ اس پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے، ”مجھے دشمن کے ابو کو پڑھانا ہے، مجھے دشمن کی امی کو پڑھانا ہے، مجھے دشمن کی پھپھو کو پڑھانا ہے، مجھے دشن کی خالہ کو پڑھانا ہے، کے نغمات یکے بعد دیگرے لاکر دشمن کے پورے خاندان کو تعلیم دینے کا بیڑا اٹھا لیا جائے، اگلا نغمہ یہ بھی ہوسکتا ہے، مجھے دشمن کے ٹبر کو پڑھانا ہے۔

یہ تو خیر بعد کی بات ہے، ہم تو فی الوقت یہ سوچ رہے ہیں کہ دشمن کے بچوں کے لیے شروع کی گئی تعلیم دشمناں کی کلاس کا منظر کیا ہوگا، شاید کچھ ایسا ہوگا:

پیارے پیارے دشمن کے بچو!
کیا ہے بے
ہاں بول
بُری بات، استاد سے ایسے بات نہیں کرتے
ام کو یہ پتا ہوتا تو ام تمارے پاس پڑھنے کیوں آتا۔
اچھا چھوڑو، قاعدہ کھولو۔
تم بولو تو ام القاعدہ کول لے۔
ارے نہیں نہیں، بستے سے اپنی کتابیں نکالو۔
تو ایسا بول ناں۔
پڑھو الف الف سے
ایٹم بم اوئے استاد، ام کو ایٹم بم بنانا سکھاﺅ، ام امریکا کو مارے گا۔
نہیں نہیں بیٹا ایٹم بم نہیں، الف سے انار
انار تو ام کو بغیر پڑے بھی مل جاتا ہے، اس کے لیے پڑنے مڑنے کا کیا ضرورت ہے، ام کو نئیں پڑنا۔
ارے نہیں، بیٹھو بیٹھو، چلو الف کو چھوڑو، بتاﺅ ب سے۔
ب سے بندوق استاد ام کو بندوق لاکر دو، امارے ہاتھ میں خارش ہوتا ہے۔
ارے بچو! ب سے بکری سب کہو ب سے بکری

تم خود ایک دم بکری اے، ام کو تماری ب سے بکری نئیں چائیے، وہ تو امارے گاو¿ میں بہت ہے، بندوق دینا اے تو دو ورنہ امارا جان چوڑو۔

اچھا، ب بھی چھوڑا، پ سے
پستول امارے بستے میں پستول رکا اے، نکالے؟
اررررے، نہیں بیٹاپ سے پستول نہیں پلنگ۔
ایسا ”پے“ کیا کیا پائدہ جس سے پستول نہ بنے دَپا کرو، نئیں پڑنا۔
ارے بیٹھو بیٹھو
اوئے خانہ خراب کا بچہ، تم نے امارا دماغ بوت خراب کردیا، اب تم بیٹو اَم تم کو پڑائے گا۔
بولو، ت سے تورابورا۔

ارے بیٹا! پڑھانا میرا کام ہے(لہک لہک کر گاتے ہوئے) مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے ے ے ےایسے نہیں کرتے بیٹا، آپ تو بہت اچھے بچے ہیں۔

کبی کیتا اے دشمن کا بچہ، کبھی کیتا اے اچا بچہ، تمارا ایک زبان نئیں اے۔
چلو تم امارا نغمہ سُنو:
امے استاد کو خودکُش بنانا اے اے اے
کیا کہہ رہے ہو بیٹا! استاد کا کام تو علم کی روشنی پھیلانا ہوتا ہے۔

وئی تو، تم جب جیکٹ پین کر زور سے پَٹے گا تو تمارے اندر سے علم کا روشنی نکل کر دور دور تک پیلے گادیکو ایسے بڑوووووم م م م۔

چلو اب شراپت سے بیٹ جاو ¿ اب تم کو پڑاتا ہے۔ دیکو ام سے سبق لے لو ورنہ ام سبق سکا دے گا۔ ام تمیں بارود والا جیکٹ بنانا سکائے گا، بم بنانا سکائے گا، پِر تم جتنا چائے روشنی پیلانا۔

میرے مُنے! میرے بچے، من کے سچے! روشنی تو چراغ سے ہوتی ہے، بم اور بارود سے تھوڑی ہوتی ہے۔

(دشمن کا بچہ کچھ دیر تک استاد کے نم آنکھوں سے دیکھنے کے بعد) نئیں استاد صاب! تم غلط بولتا اے۔ جب امارے گاوں میں بمباری اوا ناں تو ام چراغ کی روشنی میں پڑ رہا تھا۔ اس سے پیلے گر میں اتنا اندیرا تا کہ امیں کسی کا چیرا ساپ نظر نہیں آرہا تا، نہ باپ کا نہ ماں کا نہ چوٹے بائی اور چوٹی بین کا پِر جاز آیا، اس نے بم گرایا، بم پٹا تو اتنا روشنی تا کہ ام نے ماں، باپ بین، بائی سب کو بالکل صاپ گِرتے اور مرتے دیکابم میں بوت روشنی اوتا اے استاد صاب، چراغ میں تو کچ بی نئیں، خدا کا قسم۔

Facebook Comments Box
بچہ پڑھاناپڑھنادشمن کا بچہطنزعلم کی روشنیمجھے دشمن کے بچے کو پڑھانا ہے۔
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت: خالد بلغاری ـ قسط 2
next post
بدعنوانی کے خلاف جنگ یا اقتدار کی رسہ کشی : ثناء غوری

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.