تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبفلسفہ

فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت ۔ خالد بلغاری

by خالد ولی اللہ بلغاری 11/11/2017
written by خالد ولی اللہ بلغاری 11/11/2017
183

بے مقصدیت، یا اسکو لامقصدیت کہنا چاہئے؟
نفسیات کی زبان میں کہیں تو میجر ڈپریشن؟
صورت حال یوں، کہ زندگی کے اندر سے سارے رنگ جیسے گُم ہوگئے۔ سب منظر پھیکے، ساری باتیں بے کیف، ہر کیفیت بے سُرور۔
پژمردگی، مردنی، ایک مہیب وجودی لایعنیت۔

مشکل یہ ہے کہ ایسی کیفیت ہر آدمی پر طاری ہوتی ہے۔ کسی پر زیادہ شدت کیساتھ ہوتی ہے، کسی پر کم۔ کسی کیلئے اس کیفیت کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے، کسی کیلئے طویل، کسی کیلئے طویل تر اور کسی کیلئے مستقل۔
ارادہ یہ ہے کہ اس کیفیت کی جو فلسفیانہ قسم ہے، اس کا یہاں پر تذکرہ کیا جائے۔ اور آخر میں اس کی کچھ تنقید بھی کرنے کی کوشش ہو۔

فلسفیانہ اداسی ظاہر ہے کہ فلسفیوں پر ہی طاری ہوتی ہے۔
مشاھدہ یہ بھی ہے کہ اس قسم کی اداسی میں فلسفیانہ گہرائی اور فکری شکوہ پیدا کرنے کیلئے اسے ‘وجودی بحران’ اور ‘وجودی لایعنیت کا احساس’ وغیرہ کے بھاری بھرکم ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں کہیں اگر، تو وزن دو چار کلو مزید بڑھ جاتا ہے؛ ایگزیسٹینشل کرائسس! ان اصطلاحی ناموں کی ایک پوشیدہ حکمت یہ ہے کہ حاملِ اداسی فلسفی اس لایعنیت کے اندر سے بھی اصطلاح کے زور پر خود ستائی اور اپنی اہمیت کا کچھ عرق کشید کرسکے۔ اور یوں اپنی اداسی کو غیر فلسفیانہ اداسی سے ممتاز دکھا سکے۔
آپ سوچتے ہونگے کہ یہ تنقید تو تذکرے سے پہلے ہی شروع ہوگئی ہے۔ اسلئے فی الحال فلاسفہ کی اتنی سرزنش کو کافی جانتے ہوئے فلسفیانہ اداسی یا لایعنیت کی پیدائش و پرداخت کے اسباب کا کچھ تجزیہ کرلیتے ہیں۔

ڈپریشن کے حوالے سے طبّی نفسیات کا ایک موٹا اصول یہ ہے(سارے اصول موٹے ہی ہوتے ہیں) کہ شدید اداسی اور ڈپریشن میں مبتلا شخص بھی اگر بے رنگی اور بے کیفی کے عذاب کو ساتھ ساتھ گھسیٹتے ہوئے جب تک اپنی بنیادی زمہ داریاں ادا کرتا رہے، بیمار شمار نہیں ہوگا۔ یعنی جب تک اپنی صحت کا خیال رکھتا رہے، جن افراد کی دیکھ بھال اسکے ذمے ہے انکا خیال رکھتا رہے، طبّی نقطہ نظر سے تب تک اس شخص کو ایسا ڈپریشن نہیں ہے کہ جہاں علاج ضروری ہوجائے۔ تاآنکہ اُس سے اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے متواتر یا مستقل کوتاہی سرزد ہونی شروع ہوجائے۔ مثلاً صبح بستر سے اٹھ ہی نہ پائے۔ کام پر نہ جاسکے۔ کھانا پینا چھوڑ دے۔ وغیرہ۔ اگر اس طرح کی صورت حال کا سامنا ہو، یعنی مذکور شخص اپنی بنیادی انسانی بلکہ حیوانی ذمہ داریاں بھی نہ پوری کرسکے، تو پھر ایسے شخص کو نفسیاتی مریض قرار دے کر اس کا علاج دواؤں اور دیگر طریقہ ہائے گوناگوں سے کیا جاتا ہے جو طبّی نفسیات میں رائج ہیں۔

حیوان کی بات آگئی تو یہاں تحریر میں وزن پیدا کرنے کیلئے حیوانات کا بھی کچھ ذکر شامل کرلیتے ہیں۔
جدید سائنسی مزاج کی ایک مصیبت یہ ہے کہ فوراً جانوروں کیساتھ تقابل کرنے کو دوڑتا ہے۔ مابعد ڈارون عہد میں پیدا ہونے کی زمانی نحوست میں چونکہ مصنف بھی جبراً مبتلا ہے اسلئے یہ سوال سرسری طور پر پوچھ کر آگے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا وجودی اداسی کی یہ کیفیت جانوروں پر بھی طاری ہوتی ہوگی؟
مگر سرسری طور پر آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا۔

اس سوال کا جواب دینے کے ارادے کیساتھ پہلے ہی قدم پر چند مزید سوال فوری پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس بات کو طے کرنے کا کیا طریقہ ہوگا آخر،کہ جانور بھی اس کیفیت سے گذرتے ہیں؟ یا نہیں۔ کونسا “سائنسی تجربہ” یہ بتا سکے گا کہ واقعی جانوروں پر بھی ڈیپریشن طاری ہوتا ہے۔ اس مذکورہ تجربے کے درست ہونے کا معیار کیا ہوگا۔ دوسری طرف اس تجربے کو ناقابل اعتبار ٹھہرانے کے کیا اصول ہونگے۔ وہ اصول کس نے متعین کئے۔ ان اصولوں کی اپنی کیا حیثیت ہے۔ اُن اصولوں کی حیثیت متعین کرنے میں بھی کچھ اصول ہی کارفرما رہے ہونگے۔ یا بس یونہی؟

اور پھر جانور ہی کیا۔ انسانوں کے اندر کی اداسی کو بیماری یا ڈپریشن قرار دینے کا جو موٹا اصول اوپر بیان ہوا ہے، اس پر بھی تو اسی نوعیت کے سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔ کہ یہ کوئی اصول تو نہیں، ایک طرح کی سودے بازی اور کمپرومائز ہی ہے۔ آخر کب ہم کہیں گے کہ یہ آدمی اپنی زمہ داریاں پوری کررہا ہے اور وہ عورت نہیں کررہی۔ ایسے معیار طے کرنے کا اختیار ہمیں کس نے دیا ہے۔ ہفتے میں کتنے دن کام پر نہ جائے تو کہا جائے گا کہ یہ شخص اب بیمار ہے۔ اور کام پر نہ جانے کی وجہ میں سے خالص عدم دلچسپی اور وجودی لایعنیت کے علاوہ باقی ممکنہ عناصر کو الگ کیسے کرینگے اور کس کے کہنے پر اور کیوں کرینگے؟
اور پھر یہ کہ جو شخص اپنے اندر مکمل سرایت کی ہوئی ایسی لایعنیت اور بے مقصدیت کے باوجود گھسٹ گھسٹ کر چل رہا ہے، اسکا کیا قصور ہے کہ اسکو معذور سمجھ کر رخصت نہیں دی جاتی۔ اور جو ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جائے، اسکے علاج کیلئے دوڑ دھوپ کی جاتی ہے۔؟
جو موٹا اصول ان تفصیلی سوالات کا سامنا کرنے سے گھبرا کر فوری ضرورت کے تقاضے کے تحت بنالیا گیا ہےـ اسکی حیثیت تو بس ایک عارضی بندوبست کی سی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ایسا بندوبستی بودا پن صرف اس طبّی نفسیاتی اصول تک محدود نہیں ہے۔ جس بھی کارآمد عملی اصول کو اس طرح پرکھا جائے گا، چاہے اسکا تعلق کسی شعبے سے ہو۔ اسکی نوعیت اسی طرح کی برآمد ہوگی۔ عارضی، مصلحتاً ترتیب دیا گیا، بندوبستی۔

فلسفیانہ اداسی چنانچہ ایک طرف، اسی نوعیت کے ختم نہ ہونے والے سوالات کے تسلسل سے، اور دوسری طرف ادھورے اور ناکافی جوابات پر اکتفا کرکے بندوبستی اصول قائم کرلینے، اور پھر ان پر عمل پیرا ہوجانے کے بعد مزید سوالوں سے نظریں چرانے والے رویّوں کے بودے پن کے خلاف ایک ردّ عمل کے طور پر پیدا ہوتی ہے۔

غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اِس وقت بھی، اور اس سے پہلے وقتوں میں بھی، تمام تر زندگی، اصل سوالات سے آنکھیں چرانے، ان سوالات کا سامنا نہ کرسکنے کے ننتیجے میں طاری ہونے والی گھبراہٹ سے بچاؤ، اور کام چلانے کیلئے عارضی بندوبستی اصول ترتیب دینے پر چلتی آرہی ہے اور چلتی رہیگی۔

ان اصولوں کا بودا پن جن لوگوں پر واضح ہے اور کچھ کر نہیں پاتے، وہی فلسفیانہ طور پر اداس ہیں۔ یہ فلسفیانہ اداسی ہے۔ اور یہی وجودی لایعنیت ہے۔
کچھ کر اسلئے نہیں پاتے کہ کچھ کرنا چاہتے نہیں۔ ایسے فلسفیانہ مزاج افراد کی وجودی لایعنیت انہیں کچھ نہ کرنے پر قائل کئے رکھتی ہے۔ انکے نزدیک اہداف متعین کر کے، اور اصول طے کرکے کام کرنے والے لوگ درمیانے اور پست درجے کی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں، اور غور نہیں کرتے۔ انکا کہنا ہے کہ کام اگر کوئی کیا بھی جائے تو اسکے پیچھے مقصد کوئی نہیں ہونا چاہئے۔ بس یونہی کرلیا جائے۔ “بس یونہی” اور “مقصد” انکے نزدیک برابر ہیں۔ کیونکہ زندگی کے تمام اصول “بس یونہی” بنے ہیں اور انکی کوئی مستقل بنیاد نہیں ہے، اسلئے مستقل اصول ایک فریب ہے اور اس اصول کی موجودگی کے دعویدار سب فریبی۔

یہ نقطہ نظر ایک ایسے وجودی خلا کو جنم دیتا ہے جو وقت گذرنے کیساتھ مستقل لایعنیت کے احساس میں ڈھل جاتا ہے۔ اور پھر صورت حال یوں ہو جاتی ہے، کہ زندگی کے اندر سے سارے رنگ جیسے گُم ہوگئے۔ سب منظر پھیکے، ساری باتیں بے کیف، ہر کیفیت بے سُرور۔
پژمردگی، مردنی، ایک مہیب وجودی لایعنیت۔۔۔۔
اس کیفیت کی شدت سے جان چھڑانے کیلئے آدمی نشہ کا استعمال شروع کرسکتا ہے اور انتہائی صورتوں میں خود کُشی تک بھی نوبت آسکتی ہے۔

آج یہ ایک بڑا زندہ چیلنج ہے کہ ایسی، اپنے ہاتھوں محنت اور غور و فکر کرکےکمائی ہوئی لایعنیت کے فلسفیانہ نتیجے کیساتھ زندگی کے تقاضوں کا جوڑ کیسے لگائے۔

جدید فلسفی کیلئے آج یہ ایک بڑا زندہ چیلنج ہے کہ ایسی، اپنے ہاتھوں محنت اور غور و فکر کرکےکمائی ہوئی لایعنیت کے فلسفیانہ نتیجے کیساتھ زندگی کے تقاضوں کا جوڑ کیسے لگائے۔ وہ تقاضے جو زندہ دلی اور دلچسپی کے بغیر پورے نہیں کئے جاسکتے۔ ان تقاضوں کا تعلق زندگی گذارنے کے بہت بنیادی اور اہم ترین معاملات کیساتھ ہے جنکے بغیر زندگی مفلوج ہوجاتی ہے۔ جیسے روزی کمانے کی غرض سے کوئی ملازمت/کاروبار کرنا۔ کھانا کھانا۔ وقت پر سونا، وقت پر جاگنا۔ بیوی/خاوند بچوں کی زمہ داریاں پوری کرنا۔ قوانین کی پاسداری کرنا۔ والدین کے حقوق ادا کرنا وغیرہ۔
وجودیاتی فلاسفہ کی تحاریر میں جا بجا اس لایعنیت کے مظاہر ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر البرٹ کامیو کے مشہور ناول “دی سٹرینجر” کا اس بامسمّٰی مرکزی کردار ‘مرسوو’ جو اپنی والدہ کے جنازے پر بھی جذبات سے عاری رہتا ہے، اس شام بھی عیاشی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پھر کسی کو قتل کرکے جیل جاتا ہے اور موت کی سزا کا اسی عدم جذبات کیساتھ انتظار کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کی سزا پر عمل درآمد ہوجاتا ہے۔
یا پھر دوستیوسکی کا “نوٹس فرام انڈرگراؤنڈ” جہاں لایعنیت کے دیگر بیانات کے ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے، کہ بے عملی ہی اعلی ذہانت کا اولین مظہر ہے۔ اگرچہ اپنے اس نتیجے سے بھی وہ خوش اور مطمئن نہیں ہوتا۔

ہمارے ہاں جون ایلیا کے کلام میں اس طرح کی وجودی لایعنیت کے زوردار اشارے ملتے ہیں۔ اپنے احباب کی مصنوعی اور خود ساختہ فلسفیانہ بے عملی پر انکا ایک طنزیہ شعر یوں ہے کہ

یہ خراباتیانِ خِرَد باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائینگے!

صبح ہوتے ہی کام پر جانے کو خردباختگی کہنے والے اس انوکھے شاعر نے خود ساری زندگی کوئی کام نہیں کیا اور اسی طرح اپنی زندگی تباہ کرلی۔ مگر دیکھیے کیا فرماتے ہیں، کہ

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

وجودی لایعنیت کا یہ رویہ جدید فلسفہ کا (ادبیات کا بھی) ایک غالب ذہنی رویہ ہے۔ ہماری طالب علمانہ نظر میں جون صاحب کی جدید مقبولیت کے شدت سے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے اِس جدید فلسفیانہ رویے کا بھی ہاتھ ہے جو ہمارے ہاں کا جدید آدمی دانستہ یا نادانستہ اپنے اندر جذب کرچکا ہے۔ اسی یاسیت زدہ رویے سے ابسرڈزم اور مابعد جدید کے بے سروپا لسانیاتی فلسفے پھوٹے ہیں اور پھوٹتے جارہے ہیں۔ (مابعد جدید فلسفہ اور فلاسفہ کو بے سروپا کہنے سے انکو یقیناً خوشی ہوتی ہے)۔ اس رویے کی فلسفیانہ تنقید فلاسفہ کی طرف سے ہونی چاہئے۔

(جاری ہے)


مضمون کے شروع میں تفصیلی تنقید کا وعدہ مصنف کی طرف سے بھی کیا گیا تھا مگر طوالت کے خوف کے پیش نظر تنقیدی حصّے کو الگ پیش کیا جائے گا انشاءاللہ۔

ضروری فرہنگ:
۱۔ وجودی بحران: existential crisis
۲۔ وجودیاتی فلاسفہ:existential philosophers

Facebook Comments Box
Existentialismfeaturedاداسیجون ایلیاسارترفلسفہفلسفیانہ اداسیلایعنیتوجودی لایعنیتوجودیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خالد ولی اللہ بلغاری

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

previous post
سرسید اور مشرق و مغرب کے درمیان مکالمہ۔۔۔ شاہنواز فاروقی
next post
مخمصہ: سیاسی تمثیل —— عمار یاسر زیدی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.