تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینفلمکلچر، آرٹ

آئٹمز سونگ کی بھیڑ چال: عینی خان

by Daanish Editor 27/09/2017
written by Daanish Editor 27/09/2017
161

پاکستان فلم انڈسٹری مکمل طور تباہ ہوچکی تھی ایسے میں کسے پتہ تھا کہ لالی ووڈ انڈسٹری پھر سے ریوائو ہو گی وہ بھی اتنے شاندار طریقے سے۔ خدا کے لیے، بول ، وار، ماہِ میر، منٹو، بن روۓ آنسو، ایکٹر اِن لا جیسی خوبصورت فملوں نے باکس آفس پر دھوم مچا دی تھی۔

جہاں یہ بات پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارے لیےقابلِ فخر ہے وہاں کچھ باتیں چند دور اندیش لوگوں کے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ ان باتوں کو نظر انداز کرنا آنے والے وقت میں مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے۔

جو باتیں کبھی قابل شرم سمجھی جاتی تھیں وہ آہستہ آہستہ قابلِ قبول بنائی جا رہی ہیں۔ صائمہ، نرگس اور دیدار جیسے مخصوص طرز کے رقص اور معنی خیز بول پہ آئٹم سونگ اب لازمی ڈالے جا رہے ہیں. متھیرا اور ماہ نور بلوچ سے ‘میں ہوں شاہد آفریدی’ میں آئیٹم سونگ کروایا گیا۔ جسے اسٹوری کی ڈیمانڈ کہا گیا اور لوگوں نے بہت پسند کیا۔

اُس کے بعد تو لگتا ہے سب پاکستانی ہیروئنز اسی انتظار میں ہی تھیں کہ ہمیں کچھ ایسا کرنے کا موقع ملے۔ صبا قمر، عائشہ عمر ،سوہا علی ابڑو ، مہوش حیات، عروہ اور ماورہ سمیت اور بہت سی اداکارائیں آئٹم سونگز عکس بند کروانے لگیں۔ صبا قمر کے مستانی روپ میں ذومعنی بول اور نازیبا رقص سے شائد مشہور ہوسکی ہوں مگر چھوٹی اسکرین پر ان کے سنجیدہ اور باوقار امیج کو سخت نقصان پہنچا. مہوش حیات نے نامعلوم افراد ‘میں ہوں بلی’ جیسا دھماکہ دار آئیٹم پیش کیا مگر فلمساز یہ بھول گئے کہ بار ڈانسر یا آئٹم گرل کا تصور پاکستانی ثقافت میں نامانوس اور نامناسب ہے۔

ژالے سرحدی کی شوخ جوانی یا، عائشہ عمر کی چولی انڈین فلم کا چربہ تو کہے جا سکتے ہیں فلم کی ضرورت قرار نہیں دیئے جا سکتے ہیں. بلکہ اب تو ایسا لگنے لگا ہے کہ پاکستانی فلم بعد میں بنتی ہے اور شائد آئٹم سانگ سب سے پہلے بنایا جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آئٹم سانگ فلم کا لازمی جز بنتا جا رہا ہے؟ آئٹم سانگ بھی ایسے جو نہ فلم کی اسٹوری میں کچھ اضافہ کرتے ہیں نہ معیار میں۔ پہلے بھی سلطان راہی انداز کی موویز کی مسلسل پیشکش نے ہماری فلم انڈسٹری کا بیڑا غرق کیا اب بھی فلم ساز اسی بھیڑ چال کو رواج دیں گے تب فلم انڈسٹری پھر سے ان سنبھلتے سنبھلتے تباہ ہو سکتی ہےدوسری طرف ان سونگز سے ہمارے معاشرے میں بے حیائی اور جنسی انارکی ہی پھیلے گی جیسے ہندوستان میں صورت حال بے قابو ہو چکی ہے اور وہاں بھی سنجیدہ حلقے آئٹم سونگز شامل کئے جانے پر تنقید کر رہے ہیں۔ انڈین فلموں میں پیش کیا جانے والا رقص اور موسیقی ہندوآنہ کلچر کے عین مطابق ہے. مگر اپنی ہی فلموں میں یہ سب پیش کرنے کے سےصرف بے راہ روی تیزی سے بڑھے گی۔

پڑوسی ملک سے مقابلہ کرنا ہے تو آرٹ فلم یا مکمل محنت سے پروفیشنل انداز میں فلم بنائی جائے. سریلے نغمات، عمدہ موسیقی، جاندار اداکاری اور خوب صورت مقامات اور اپنے ثقافتی طور طریقے پیش کرنے سے کامیابی یقینی طور سے مل سکتی ہے۔

بھارت کی نقل میں آئٹمز سونگ دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان کو ریپستان بنانے میں انڈین فلموں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ہندوستان میں موویز کے اس کلچر کو اب بہت حد تک بدل دیا گیا۔
آئٹم سانگز کے بغیر بھی بالی وڈ فلمیں بن رہی ہیں اور ہٹ بھی ہو رہی ہیں۔ ہم کیوں ہر چیز کو اُس حد تک لے جاتے ہیں جہاں وہ فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بننے لگتی ہے۔

دوسروں کی ایسی اندھی تقلید اور اپنی تہزیب سے لاتعلق ہو کر مقابلہ کرنے کی دھن نہ صرف ذہنی غلامی اور احساسِ محرومی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ شدید احساسِ کمتری کا ثبوت بھی ہے۔ بڑے بڑے کُرتے لاچے پہنی ہیروئن کو پنجاب کے کھیتوں میں ہیرو کے پیچھے بھاگتے دیکھ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ یہ ہمارا کلچر نہیں وہاں آئٹم سانگز کے نام پر اب ہیروئنز اور آئٹم گرلز کے کپڑے سکڑ کر اتنے چھوٹے ہو گئے ہیں کے وہ نیم برہنہ نظر آتی ہے۔ کیا یہ ہمارا کلچر ہے؟ کیا گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ یہ فلمز دیکھ سکتے ہیں؟

کبھی نور جہاں کے بے باک پنجابی گانے سن کر ہمارے کان شرمندگی سے گرم ہو جاتے تھے اور اب جب مہوش حیات “گٹکا میں ہوں چبا لے باجا میں ہوں بجا لے” گاتی ہے تو ہم فخر سے سنتے ہیں کہ واہ پاکستانی فلم انڈسٹری نے کتنی ترقی کر لی۔ آئٹم سانگز کے معاملے میں تو انڈیا سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گیا اور مقابلے بازی کے چکر میں انڈیا جس پستی کا شکار ہے اُس سے گہری کھائی میں جا گرا۔
ان فلموں اور آئٹم سانگز کے ساتھ آپ فیملیز کو تھیٹر میں کبھی کھینچ کر نہیں لا سکتے. اب بھی چیزوں کو بگاڑ سے بچانا اور کسی بھی معاملے میں شدید ردِ عمل آنے سے پہلے روکنا بہت ضروری ہے۔

Facebook Comments Box
Item Songآئیٹم سانگصبا قمرعائشہ عمرفحاشیفلمفلمی گانےگانا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
مرد کا المیہ: ایک عورت کی پوری گواہی : سحرش عثمان
next post
چین سے تصادم کی امریکی تیاریاں؟ The Globalist

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.