تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

سراج منیر ایک یاد: زخمِ دل مبادا بِہ شود — عزیز ابن الحسن

by دانش ڈیسک 25/09/2017
written by دانش ڈیسک 25/09/2017
261

ستمبر ایک میر اور دو ’مِیریوں‘ کی برسی کا مہینہ ہے۔
میر ۲۱ ستمبر ۱۸۱۰ کو خلد آشیانی ہوئے جبکہ سلیم احمد یکم ستمبر ۱۹۸۳ اور سراج منیر ۲۵ ستمبر ۱۹۹۰ کو جنت مکانی ہوئے. ستمبر کا مہینہ ستمگری کا مہینہ ہے۔
سلیم احمد کاملاً  مِیری تھے، ساری زندگی میر میر کرتے رہے مگر کتاب لکھی غالب پر: “غالب کون؟”

سراج منیر غالب پسند ہونے کے باوجود میر مائل تھے. میر کی طرف انکا جھکاؤ بطیبِ خاطر تھا۔ جبکہ شمس الر حمان فاروقی جیسے غالب پرست نے بڑی تکلیف سے گزر کر میر کو غالب سے بڑا مانا ہے. اس لیے فاروقی کی قربانی میری نظر میں بڑی ہے کہ یہاں بارگاہِ میر میں غالب قربان ہوا ہے۔

آج سراج منیر کی ستائیسویں برسی ہے. افسانہ تنقید خطاطی مصوری فنون ثقافت مذہب تہذیب اور مابعد الطبیعیات کے اوگھٹ مسائل پر سیکڑوں صفحات لکھ کر اور ریڈیو ٹی وی اور مختلف ادبی و ثقافتی مجالس میں اس سے دس گنا زیادہ صفحات کا مسالہ فی البدیہہ گفتگوؤں کی صورت فضا میں بکھیر کر وہ صرف اڑتیس برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے، وہ عمر کہ جب بقول اعجاز حسین بٹالوی ابھی “ساری عمر سامنے نظر آرہی ہوتی ہے”. اس عمر میں انہوں نے ایسے ایسے موضوعات پر اس بلند سطح سے اتنا کچھ لکھ دیا کہ مجھ ایسے بے شمار لوگ آج نصف صدی جتنی عمر میں بھی اسے پوری طرح سمجھنے کے اہل نہیں۔

سراج بھائی مجلسی گفتگو کے ایسے دھنی تھے کہ میں نے ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ڈاکٹر اجمل (نفسیات والے) ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی اور مختار مسعود جیسے جنات کو بھی ان کے حسنِ تکلم پر فدا ہوتے دیکھا ہے۔

سراج مجھے فخر ہے کہ میں نے آپ جیسے فطین اور عالم نوجوان کو دیکھا ہے اور اس سے باتیں کی ہیں۔  بانو قدسیہ

ایک دفعہ مجھے انکے ساتھ بانو قدسیہ کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا. باتوں باتوں میں وہاں کوئ مسئلہ چھڑ گیا جسپر سراج بھائی نے ایک لمبی تقریر کرڈالی بانو قدسیہ محویت سے انہیں دیکھتی رہیں مگر بُشرے سے ظاہر تھا کہ ان کی بات سے متفق نہیں ہو پارہیں۔ اسپر سراج بھائی نے “راجہ گدھ” کے پروفیسر سہیل کے بعض مؤقفات سے دلیل لا کر کہا “بانو آپا میں تو آپ ہی سے سیکھی ہوئ بات کو ذرا مختلف پیرائے میں بیان کر رہا ہوں” اسپر بانو آپا مسکرا کر رہ گئیں اور بولیں “سراج مجھے فخر ہے کہ میں نے آپ جیسے فطین اور عالم نوجوان کو دیکھا ہے اور اس سے باتیں کی ہیں”۔

سراج بھائی اردو اور انگریزی زبان کے بے پناہ مقرِر تھے. اردو تو انکے گھر کی زبان تھی مگر وہ انگریزی بھی اہلِ زبان کی طرح بولا کرتے تھے. اردو و انگریزی تحریر و تقریر پر انہیں گورنمنٹ کالج لاہور کے طالبعلمی کے زمانے ہی سے بڑی مشق تھی. مولانا جعفر قاسمی صاحب جنکی زندگی کا بڑا حصہ BBC کی ملازمت کے سلسلے میں انگلستان میں گزرا تھا انکے انگریزی لب و لہجے کے بڑے معترف رہتے تھے۔

کوئی نجی ادبی مجلس ہو یا سامعین سے بھرا پنڈال ہو، انکی گفتگو یا تقریر کے بعد کسی دوسرے مقرِر کا جم پانا مشکل ہوتا تھا. انکی فی البدیہہ گفتگو بھی اتنی مربوط مسلسل مدلل معنی آفریں کیف انگیز اور وجد آور ہوتی کہ اگر اسے تحریر کر دیا جائے تو (حسنِ ادا کی تاثیر کے سوا) وہ ہر اعتبار سے مکمل مقالہ نظر آتی۔

سراج بھائی کی شخصیت کا جوہر تین چیزوں میں تھا: نکتہ آفریں دماغ، شیریں مقال زبان اور دل آویز سراپا. لیکن اگر میں انکی شخصیت کو کسی ایک کلمے سے بیان کر سکوں تو اس کیلیے مناسب ترین لفظ ہے “شانِ محبوبی”. منجلہ دیگر اوصاف کے سراج بھائ کی سب سے بڑی خوبی انکی خجستہ طلسمی جاذبیت تھی. ہر کوئ انکی طرف کھنچتا محسوس ہوتا ان کے قریب ہونا چاہتا تھا اور دوستوں کے ساتھ انکا معاملہ بھی یہ ہوتا کہ ہر کسی کو گمان ہوتا کہ سراج بھائ کا اس سے خصوصی تعلق ہے. جب وہ کسی محفل میں ہوتے تو بس وہی مرکزِ دل و نگاہ ہوتے تھے مگر تنہائ میں بھی ایسے ہی دلآویز نظر آتے تھے۔ عام زندگی میں وہ بہت سادہ اور معصوم آدمی تھے. گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بچوں کے سے انداز میں جوتے اتار دیتے اور ننگے پاؤں گھومتے رہتے۔ صوفے پر بیٹھتے تو دونوں پاؤں اوپر چڑھا کر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے۔ ان کے قہقہوں میں بچوں کی سی جاذبیت ہوتی تھی۔ کھانے کے بعد ہمارے ساتھ کبھی چہل قدمی کیلیے باہر سڑک پر نکلتے تو اسی طرح ننگے پاؤں چل پڑتے. کبھی لہر میں ہوتے تو چہل قدمی کرتے ہوئے شعر ترنم کے ساتھ بھی پڑھا کرتے تھے. کسی ایسے ہی موقعے پر عرفی کا شعر
از باغ جہاں رخت ببستیم و گزشتیم
شاخے ز درختے نہ شکستیم و گزشیم
میں نے انہیں بڑی محویت و ترنم سے ترنم پڑھتے سنا تھا.  سچ پوچھیے تو ایک دن وہ اسی طرح دامن سمیٹے دنیا سے چلے گیے۔

عزیز ابن الحسن

ڈاکٹر برہان صاحب نے لاھور میں ایک طویل زندگی گزاری تھی مگر انکو جو قدردانی اور طمانیت سراج بھائی کے ہاں محسوس ہوئی تھی وہ انہوں نے کہیں اور نہ پائی تھی. مجھ ایسے نوآموز تو انکی محبوبانہ اداؤں کے قتیل تھے ہی ڈاکٹر برہان جیسا اسی سالی بوڑھا بھی انکی ادائے دلنوازی کا ہم سے بڑھ کر اسیر تھا۔ برھان صاحب انہیں مخاطب کرکے کثر کہا کرتے کہ اقبال کا دعائیہ مصرع
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
آپ کے حق میں قبول ہوگیا ہے۔

سراج بھائی کی برسی کے موقعے پر انکی یاد میں بے ساختہ ذہن میں آجانے والی ان باتوں کو میں مرزا جانِ جاناں مظہر کے ایک شعر پر ختم کرتا ہوں۔
سراج بھائی کے انتقال کے بعد ڈاکٹر برہان احمد بہت دکھی رہنے لگے تھے. ایک روز کہنے لگے “عزیز میاں، غم کی ایک مستقل کیفیت ہے جس سے میں نکلنا بھی نہیں چاہتا مگر یہ تکلیف دہ بہت ہے”. اور پھر انہوں نے سراج بھائ کا نام لیکر ایک شعر پڑھا. میرے ہاتھ میں اس وقت ان کی کتاب “ملتِ اسلامیہ: تہذیب و تقدیر” تھی. میں عرض پرداز ہوا کہ مجھے یہ انکی کتاب پر اپنے قلم سے یہ شعر لکھ دیں. تب انہوں نے اپنی شیروانی کی جیب سے قلم نکالا اور اپنی شکستہ تحریر میں لکھا:
زخمِ دل مظہر مبادا بِہ شود ہشیار باش
کیں جراحت یادگارِ ناوکِ مژگانِ اوست

سراج بھائی کے انتقال کو ستائس برس ہوگئے ہیں. ان تمام برسوں میں ایک خواب مسلسل میرا پیچھا کرتا ہے. وقت اور جگہ کا اکثر کوئ پتا نہیں چلتا. کہیں بھی کسی بھی جگہ پر گھومتے پھرتے یا دفتر میں بیٹھے اچانک کہیں سے سراج بھائی آجاتے ہیں اور یہ اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ “تم لوگوں نے مجھے خواہ مخواہ مرا ہوا سمجھ لیا ہے، دیکھو میں بلکل بھلا چنگا ہوں میں زندہ ہوں تم کیوں پریشان ہوتے ہو”۔
وہی جانِ جاناں والی تنبیہ
زخمِ دل مظہر مبادا بِہ شود ہشیار باش!

Facebook Comments Box
بانو قدسیہسراج منیرسلیم احمد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جمہوری حکمرانی پر مبنی مباحث: سلمان عابد
next post
ہمارے معاشرے میں جنسی رجحانات: Lack of Libido OR Lack of Love — فارینہ الماس

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.