تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

غیر قانونی صورتحال کا آئینی حل — نعمان علی خان

by دانش ڈیسک 23/09/2017
written by دانش ڈیسک 23/09/2017
146

کڑا احتساب شروع ہونے سے فقط ایک روز پہلے ملزمان میں سے آخری فرد تک، ملک سے نکل گیا، توکیا ایسا انہوں نے محض اپنی چھٹی حس کے بل بوتے پر کیا، یا یہ سب ٹائم ٹیبل اور نورا کشتی میں طے شدہ کسی این آر او کے مطابق تھا۔ معاملہ کچھ زیادہ ہی ٹیڑھا نظر آرہا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ قوم ایلیٹ اور رعایا ہی میں تقسیم نہیں بلکہ، قانون توڑنے اور ملک کے آئین سے کھیلنے والوں اور اس ملک کے ایڑھیاں رگڑتے، خون میں لتھڑے ہوئے، آئینی حقوق سے محروم عوام میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ہم شاید کسی بہت ہی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں جس کا ہمارے خیال میں کوئی علاج نہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کیا بیماری ہے اور کیا واقعی اس کا کوئی علاج نہیں۔

چلیں ان سوالات کو سامنے لاتے ہیں جو ملک کے باشعور شہریوں کے ضمیر میں چبھ رہے ہوں گے لیکن کسی بھی وجہ سے انہیں یہ سوال پوچھنے کی فرصت نہیں، تاکہ ہماری بیماری کی تشخیص ہوسکے۔

سوالات برائے تشخیص:

1: اس سیاسی نظام نے، احتساب مکمل ہونے سے پہلے، ملوثین کو نکل جانے کیوں دیا؟
2: باقر نجفی رپورٹ بھی میدان صاف ہوجانے کے بعد ہی کیوں شائع ہورہی ہے؟
3: جو اثاثے منجمد کئیے گئے ہیں ان کی کل مالیت کیا ہے؟ کیا یہ مالیت اس رقم کے برابر ہے جتنی اس ملک سے لوٹ کر بیرونِ ملک منتقل کی جاچکی ہے؟
4: اگر یہ رقم اتنی ہی ہے یا اس سے بہت کم ہے جتنی باہر گئی ہے تو پھر یہ توبہت تھوڑی رقم کی بازیابی ہوئی۔ باقی رقم کیسے واپس آئے گی؟ کون لائے گا؟
5: تمام منجمد اثاثے اور اکاوٰنٹس جو منجمد کئِے گئے ہیں ان کی کل مالیت کیا ہے؟ ان میں سے جو اثاثے فروخت کئِے جائیں گے ان کی خرید کے امیدوار کون لوگ ہونگے؟ ایسے خریدارامیدواروں کی ذاتی شفافیت پر کون نظر رکھے گا؟ یہ نظر رکھنے کا کیا بندوبست ہے؟ کِس نے یہ بندوبست کیا ہے؟ اگر نہیں کیا گیا تو اس انتظامی نا اہلی کا کون ذمے دار ہے؟
6: کیا ایسا تو نہیں، کہ جو لوگ ان اثاثوں کی خرید کے امیدوار ہوں گے، انہوں نے ہی تمام ملوثین اور ملزمین کے ملک سے نکل جانے میں کردار ادا کیا ہو اوریہ بھی باہمی رضا مندی سے طے کرلیا ہو کہ اکاوٰنٹس اور اثاثوں کی شکل میں ملک کے اندر کم از کم اِتنی مالیت چھوڑی جائے گی، جو بالواسطہ سہولت کاروں کے حصے میں آئے؟
7: اس ملک کے عوام کی دولت کو جمہوریت کے پردے میں جِن جن لوگوں نے لوٹا ہے اور جو لوگ اس ملک کے مظلوموں کے آئینی حقوق مسلسل معطل کئیے بیٹھے ہیں، ان تک عدالتی احتساب کا دائرہ کب تک وسیع کیا جائےگا؟ عوام کے آئینی حقوق کی معطلی پر عدالتیں کب سووٰ موٹو ایکشن لیں گی؟
8: کیا سانحہ ماڈل ٹاوٰن کے مجرمین اس وجہ سے قانون کی گرفت سے آذاد رہیں گے کیونکہ کچھ لوگوں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر اس جرم پر انصاف کیا گیا تو ملک میں فرقہ وارانہ فساد کروادیا جائے گا؟

جو تجزیہ کار موجودہ سیاسی فیاسکو کی سنگینی کا ذکر کرکے بس یہی بات کہتے ہیں کہ اس کا حل ایک بہت بے رحم مارشل لا ہے۔ ایسا مارشل لا جو پاکستان میں پہلے کبھی نہیں آیا، اگلی ہی سانس میں یہ بھی فرمادیتے ہیں کہ “لیکن فوج تو ایسے کسی اقدام پر تیار ہی نہیں” تو دراصل وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا اب کوئی حل نہیں بچا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی ہمارے موجودہ مسائل کا کوئی حل نہیں کیونکہ اب ہمارے ہاں مارشل لا نہیں لگے گا۔ ایسے مایوسی کے پیامبر تجزیہ نگاروں کی اطلاع کیلئِے عرض ہے کہ حل موجود ہے اور بہت سیدھا سادہ، قانونی حل ہے۔ وہ حل آج تک پاکستان میں استعمال نہیں ہوا کیونکہ مفاد پرست صاحبانِ فکر ماضی میں پہلی آپشن ہی مارشل لا سمجھنے اور اسی کی حمائت کے عادی رہے ہیں۔

آئیے ایسے صاحبانِ فکرو نظر اور تجزیہ کاروں سے پاکستان کے آئین کے مطابق جو حل ہے اس بابت کچھ ایسے سوالات کرتے ہیں، جن کے جواب میں ہی پاکستان کے نظام میں عملی انقلابی تبدیلی کا راز پوشیدہ ہے۔

سوالات برائے علاج:

1: کیا اس معاشرتی نظام کو تبدیل نہیں ہونا چاہئیے، جو محض ایک فرد کی نا اہلی کی بنا پر اس ملک کے آئین کو ہی تبدیل کرنے کیلئیے سرعت کے ساتھ پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پیش کرنے میں جت جائے؟ کیا جمہوریت کے نام پرقائم ایسی پارلیمنٹ اس ملک کا نظام تبدیل کرسکتی ہے جو نظام کے معمولی احتساب پر آئین کو تبدیل کرنے پر اتر آئے؟
2: تو پارلیمنٹ کے علاوہ بھی کوئی ادارہ ہے اس ملک میں جو ریاست، عوام کے حقوق اور آئین کی پاسبانی کرسکے؟ اور حکومت کو اس آئین کی مکمل پاسداری پر مجبور کرسکے؟
3: کیا عدلیہ کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ جمہوری اداروں کو قائم رکھتے ہوئے، الیکشن کمیش کی مبینہ غیر آئنی تشکیل، اس مبینہ غیر آئینی الیکشن کمیشن کے زیر انتظام منعقد ہونے والے انتخابات اور ان کی بنا پر قائم ہونے والی پارلیمنٹ ہی کی آئنی حیثیت پر غور کرے؟ پارلیمنٹ کے ممبرز کو آرٹیکل 62/63 کی سکروٹنی سے گذارے؟
4: کیا یہ بات ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ضروری ہے کہ عدلیہ کسی مارشل لا کے بعد ہی سیٹ اپ کو “نظریہ ضرورت” کی کلین چٹ فراہم کرے؟ کیا بغیر مارشل لا کے اس ملک کو نظریہ ضرورت کے تحت معاملات ٹھیک کرنے کی ضرورت نہیں؟ یعنی کیا کسی مارشل لا کا انتظار کئیے بغیر، ملک کو تباہی سے بچانے کیلئِے اس لوٹ مار اور غارتگری پر مبنی “نظام” کو”نظریہ ضرورت” کے تحت درست کرنے کی واقعی ضرورت نہیں؟ کیا کوئی انٹیرم حکومت عوام کے حقوق کی بحالی کیلئِے احتساب کا عمل نہیں کرسکتی؟ کیا موجودہ حکومت کے تحت ہی کوئی ایسا آئنی سیٹ اپ وجود میں نہیں آسکتا جو جمہوری ٹھیکیداروں کی طرف سے ملک کے اندر برپا کی جانے والی کسی ممکنہ بد امنی کی کوشش سے نمٹنے کیلئیے عوام اور فوج کو اپنی محدود مدد کیلئیے طلب کرے؟
5: کیا آرٹیکل 190واقعی عدلیہ کو کسی ایسے انتظام کی اجازت نہیں دیتا؟ کیا عدلیہ اس بات کی تحقیقات کروانے سے قاصر ہے کہ اس پارلیمنٹ میں آئین کے آرٹیکل 3-29 کے تحت عوامی فلاح اور پرنسپلز آف پالیسی کے سلسلے میں کئِے جانے والے اقدامات پر حکومت اور پارلیمنٹ نے کتنی بار صدر صاحب کے ذریعے رپورٹ پیش کی ہے اور اس پر پارلیمنٹیرینز نے کیا مباحث کئیے ہیں اور عوامی فلاحی حقوق کے استحقاق کی بابت کیا سفارشات منظور کروائی ہیں؟ کیا صدرِ مملکت اس بابت، سپریم کورٹ سے، عوامی مفاد کے حوالے سے آرٹیکل 186 کے تحت عوامی حقوق کی معطلی پر ایڈوائزری نہیں مانگ سکتے؟ اور کیا سپریم کورٹ پرنسپلز آف پالیسی کے آرٹیکلز، خاص طور پر آرٹیکلز 37 اور 38سیِ ڈی میں عوام کے روزگار، بنیادی ضرورتوں اور سوشل انشورنس کی ریاستی ذمے داریوں کی عملی طور پرمسلسل معطلی پر سوٰو موٹو نوٹس نہیں لے سکتی؟

جیسا کہ پہلے بھی عرض کرتا رہا ہوں، ہمارے تمام مسائل کا آئینی حل موجود ہے۔ بس کمی ہے تو تمام قومی ذمہ داروں کے یکسو ہونے کی۔ ہمارا حل اس بار، بغیر مارشل لا کے نظریہ ضرورت کے تحت عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کی جانب سنجیدہ عدالتی توجہ میں ہے۔ جس طرح یہ قوم ہمیشہ سے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے آج اپنی عدلیہ کی پشت پر بھی اپنی محبت اور حمایت کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ اس قوم کی نظریں آج عدلیہ کی جانب اٹھی ہوئی ہیں کہ آج سے پہلے، کب نظریہ ضرورت کی اتنی ضرورت تھی جتنی آج اس ملک کی تعمیرِ نو کیلئیے ہے؟

Facebook Comments Box
آئینی حلاحتسابپارلیمنٹپاکستانی سیاستسانحہ ماڈل ٹاونسیاستعدالتی احتساب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جادو اشتہارات کا: محمد عثمان جامعی
next post
ویڈیو گیمز یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ فرحین شیخ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.