تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیکالم

پاکستان کے مفاداتی دانش ور: کچھ مشہور اقسام ۔۔۔ اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 23/09/2017
written by دانش ڈیسک 23/09/2017
142

پاکستان ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے اور اس کی عمر ابھی صرف ستّر برس ہے، اس لیے یہاں حقیقی دانش ور نام کی چیز نہیں پائی جاتی۔ البتہ کمرشل/ مفاداتی دانش ور کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جن کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ مشہور اقسام کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

اورنگ زیب نیازی

طبیعیاتی:
یہ مفاداتی دانش وروں کی سائنسی قسم ہے۔ یہ ڈالروں میں تنخواہ لیتے ہیں بہ وقتِ ضرورت ڈالروں کو ٹوائلٹ ٹشو کے طور بھی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کائنات کا پہلا، دوسرا، تیسرا، چوتھا۔۔۔۔ علیٰ ھذا القیاس۔۔۔ آخری حتمی علم فزکس کا وہ علم ہے جس کی تصدیق پینٹا گون کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سامنے آپ کسی دوسرے علم کا ذکر کریں گے تو آپ فوری طور پر جاہل، قدامت پسند قرار دے دیے جائیں گے۔ (لہٰذا خبردار رہیے)۔ ان کے دلائل کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:

٭    چوں کہ پانی سے گاڑی نہیں چل سکتی لہٰذا خدا موجود نہیں۔
٭    چوں کہ زمین گول ہے بلکہ بیضوی ہے لہٰذا مذہب ایک فضول سر گرمی ہے۔
٭    چوں کہ ذہن کا دایاں حصہ آپ زیادہ استعمال کرتے ہیں لہٰذا آپ مولوی اور طالبان ہیں۔

ان کا سربراہ کوئی سائنس دان ہونے کا دعویٰ دار شخص ہوتا ہے۔ جس کے کریڈٹ پر کوئی اہم سائنسی ایجاد یا ریسرچ تو نہیں ہوتی البتہ وہ جعل سازی اور دھوکہ دہی کی انکوائریز ضرور بھگت چکا ہوتا ہے۔

حرکیاتی:
یہ مفاداتی دانش وروں کی صحافتی قسم ہے۔ صحافت کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں جتنا کوئی دولے شاہ کا چوہا بیدل کی شاعری کے بارے میں جانتا ہے۔ انھیں، ان کے گھر والے بھی سنجیدہ نہیں لیتے، اس لیے یہ ایک دوسرے کو ہی دانش ور، دانش ور کہہ کر شوق پورا کرتے ہیں۔ ان کی سر توڑ کوشش کے با وجود کوئی بڑا ٹی وی چینل یا اخبار ان کو نوکری نہیں دیتا، اس لیے یہ صرف سوشل میڈیا پر اپنی ویب گاہوں میں رہتے ہیں۔ ان کی تعداد دس، پندرہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ اپنے آپ کو سیکولر جمہوری سمجھتے ہیں اس لیے ان میں بھانت بھانت کے چہرے پائے جاتے ہیں۔ کچھ گنجے ہوتے ہیں، کچھ لمبے بالوں والے، کچھ ڈاڑھی والے، کچھ لمبی ڈاڑھی والے، کچھ چھوٹی ڈاڑھی والے اور کچھ میک اپ زدہ خواتین۔ یہ سیکس، حیض اور اس طرح کے دوسرے موضوعات پر مضامین شایع کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنی ریڈر شپ بڑھانے کے لیے خواتین اداکارؤں کی نیم برہنہ تصاویر شائع کر کے ’’سماج کی خدمت کرتے ہیں اور معاشرے میں علمی و فکری مکالمے کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ دانشور اتاؤلا، چتاؤنی، حرکیات اور استخراجی منطق جیسے الفاظ تواتر سے استعمال کر کے سادہ لوح قارئین پر اپنی علمی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صرف خوب صورت خواتین کے مضامین شائع کرتے ہیں۔ مذہب اور ملک مخالف سرگر میوں میں ملوث افراد کو خوب بڑھاوا دیتے ہیں، معاشرے میں انتشار پھیلاتے ہیں، جب ’’ڈنڈا‘‘ حرکت میں آتا ہے تو تردیدیں اور وضاحتیں پیش کرتے ہیں۔

۔۔۔ یہ اتاولا، چتائونی، حرکیات اور استخراجی منطق جیسے الفاظ تواتر سے استعمال کر کے سادہ لوح قارئین پر اپنی علمی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر بیٹھ کر جمہوریت اور آزادیء اظہار کا درس دیتے ہیں اور دلائل و براہین سے حکومتی کوے کو سفید ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح چھوٹے موٹے چیک لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کا لیڈر بالعموم کوئی صحافی نما شخص ہوتا ہے جو شاعروں میں صحافی اور صحافیوں میں شاعر سمجھا جاتا ہے۔ یہ شہرت اور دولت کے لالچ میں خوشامد کی ہر حد سے گزر جانے کو جائز سمجھتا ہے لیکن اپنے مقاصد میں مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے بوکھلا چکا ہوتا ہے اور اکثر مضحکہ خیز باتیں کرتا پایا جاتا ہے۔

ظلماتی:
مفاداتی دانش وروں کا یہ گروہ زیادہ تر کمسن گھریلو ملازمائوں پر تشدد کرنے والی آنٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چوں کہ ان کو ’’آکسیجن‘‘ باہر سے مل رہی ہوتی ہے، اس لیے یہ زیادہ عرصہ زیر زمین رہتی ہیں۔ یہ دو تین ماہ بعد باالعموم لاہور کے لبرٹی چوک پر شام کے وقت نمودار ہوتے ہیں۔ ان کا انتخابی نشان موم بتی ہے۔ یہ ٹی وی چینلز پر آکر کچھ دن انسانی حقوق کا واویلا کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں بشر طیکہ ظلم کرنے والا مسلمان اور ڈاڑھی والا ہو جب کہ مظلوم عورت کی حمایت کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھر سے بھاگی ہوئی ہو۔

۔۔۔ ان کی زمام کسی بے کردار مردانہ عورت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

ریاستی اداروں کے ہاتھوں ظلم کا شکار لوگ ان کے خیال میں جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں اس لیے ان کے حق میں آواز اٹھانا ضروری خیال نہیں کرتے۔ یہ بڑے عہدوں کے متمنی ہوتے ہیں، ناکامی کی صورت میں بنکوں سے قرضے لے کر معاف کرانے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ یہ آزادیء اظہار ِرائے کے لیے شراب کی چسکی اور چرس کے سُوٹے کو بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان کی زمام کسی بے کردار مردانہ عورت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

مالیاتی:
یہ نوبل پرائز لے کر راتوں رات مالا مال ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہ در اصل وہ ’’پیشہ ور‘‘ہیں جوعلم اور ذہانت کے گھنگرو پہن کر ناچتے ہیں اور صاحبان اقتدار کے دل رجھاتے ہیں۔ یہ، بہ ظاہر بہت پڑھے لکھے اور اور بے ضرر معلوم ہوتے ہیں لیکن در حقیقت مفاداتی دانش وروں کی سب سے خطر ناک قسم یہی ہیں۔ ان کا شجرہء نسب انگریز دور کے ابن الوقتون سے ملتا ہے۔ اس لیے یہ منہ ٹیڑھا کر کر کے انگریزی بولتے ہیں۔ یہ بڑی بڑی انگریزی کتابیں پڑھتے ہیں، انگریزی میں لکھتے بھی ہیں، گفتگو میں مغربی دانشوروں کے حوالے دیتے ہیں۔ ادب، ثقافت اور تعلیم پر بحثیں کرتے ہیں۔ جی حضوری ان کا مستقل پیشہ ہوتی ہے۔ ادبی اشرافیہ میں شامل ہونے کو بے تاب رہتے ہیں۔ ان کی دال جلدی گل جاتی ہے چناں چہ مراعات لینے میں بھی جلدی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کو کمال حاصل ہوتا ہے کہ ہر ریاستی پالیسی کو درست بھی ثابت کر سکتے ہیں اور حکومت کے بدل جانے پر اسی پالیسی کو غلط بھی ثابت کر سکتے ہیں۔ یہ اپنا اُلو خود سیدھا کرنا جانتے ہیں اس لیے کسی کی سربراہی کو قبول نہیں کرتے لیکن وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ تسلیم کرنا عار نہیں سمجھتے۔

Facebook Comments Box
featuredپاکستانی لبرلزدانشوردانشوریلبرلز
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سگریٹ نوشی پر اعتراض یا لباس پر؟ اقرا بیگ
next post
زنداں کا سکوت: شہنیلہ بلگم والا

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.