تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادب

آج بے طرح تیری یاد آئی: شاہد صدیقی

by Daanish Editor 12/09/2017
written by Daanish Editor 12/09/2017
109

عام دنوں میں اُدھڑی ہوئی بوسیدہ سیڑھیوں سے اوپر جائیں تو کھلے میدان میں تا حدِ نظر قبروں کی قطاریں نظر آتی ہیں لیکن یہ ساون کا مہینہ ہے۔ قبریں اور اُن تک پہنچنے کے تنگ راستے خود رو پودوں میں چھپ گئے ہیں۔ سمت کا اندازہ کر کے میں چلتا گیا اور پھر ایک بوسیدہ درخت کے قریب مجھے ماں کی قبر مل گئی۔ قبر کی لوح‘ جہاں پر نام اور تاریخ وفات درج تھے، گھاس میں چھپ گئی تھی۔ میں قبر کے پاس بیٹھ گیا اور گھاس کو ہاتھ سے ایک طرف ہٹانے لگا، بالکل ویسے ہی جس طرح بچپن میں ماں میری پیشانی سے بال ہٹاتی تھی۔ وہ بھی کیا دن تھے جب مجھے لمبے بال رکھنے کا شوق تھا۔ ایک دن والد صاحب نے اپنے مخصوص مشفقانہ انداز میں بال کٹوانے کا مشورہ دیا۔ اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا، ماں نے کہا”مجھے اس کے لمبے بال اچھے لگتے ہیں۔”والد صاحب یہ سن کر مسکرا دیئے اور دوبارہ کتاب پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔ میں آج بھی یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ ماں نے میری خواہش کو اپنی خواہش بنا کر پیش کیا تھا۔

ماں نے سکول کی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی، لیکن اخبارات، رسائل اور کتابیں شوق سے پڑھتی تھیں۔ انہیں سلطان باہو، بلھے شاہ اور میاں محمد کے بہت سے اشعار یاد تھے۔ گھر کے کام کرتے ہوئے وہ اکثر کوئی نہ کوئی شعرگنگنا رہی ہوتیں۔ ماں کے والد قیامِ پاکستان سے پہلے ایک سکول میں ریاضی کے استاد تھے۔ ماں بڑے فخر سے اپنے والد کی ریاضی دانی کے قصے ہمیں سناتیں۔ ان میں ایک قصہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کے تعلق کا تھا۔ ایک بار گرمیوں کی تعطیلات میں وہ شاگردوں کو اپنے گھر لے آئے، جہاں ساری چھٹیوں میں ان کو امتحان کی تیاری کرائی۔ ماں بھی گاؤں کے بچوں کو بلا معاوضہ قرآن پاک پڑھایا کرتیں۔ اب میں سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ گھر کے سارے کاموں کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کو قرآن پاک پڑھانے کے لئے کیسے وقت نکالتی تھیں۔

آج کل ماحولیات کے حوالے سے ہونے والی بحثوں کا مرکز وسائل کو ضیاع سے بچانا ہے۔ ماں کی کوئی رسمی تعلیم نہ تھی‘۔ نہ ہی وہ ماحولیات کے جدید نظریات سے آگاہ تھیں۔ مگر مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر کبھی روٹی پھینکی نہ جاتی۔ ایک وقت کی پرانی روٹی وہ بچوں کو نہ دیتیں بلکہ خود کھا لیتیں۔ ہمارے منع کرنے پر وہ کہتیں “میں نہیں چاہتی روٹی ضائع ہو۔ “اسی طرح پانی کے ضائع کرنے پر بھی پابندی تھی۔ ہمیں سختی سے تاکید تھی کہ بچا ہوا پانی ضائع کرنے کے بجائے پھولوں اور پودوں کی کیاریوں میں ڈالیں۔

مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ماں نے ہم بہن بھائیوں کی کبھی پٹائی کی ہو۔ انہوں نے کبھی اپنی پریشانی کو ہم تک منتقل نہ کیا۔ بہت مشکل حالات میں بھی کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر کبھی قدغن نہیں لگائی البتہ ایک بات کی سختی سے تاکید تھی کہ گالم گلوچ کرنے والے بچوں کے ساتھ نہ کھیلیں۔ وہ زبان کی شائستگی کی قائل تھیں۔ ہم بچوں کو بھی ادب سے بلاتیں۔ ہمیشہ دوسروں کی عزت کی تلقین کرتیں۔ انہوں نے ہمیں ایک سادہ اصول سمجھایا کہ ہم دوسروں کی عزت کریں گے تو لوگ ہماری عزت کریں گے۔ اسی طرح دوسروں کی کامیابیوں پر بہت خوش ہوتیں۔ تعریف میں کبھی بخل سے کام نہ لیتیں۔ ہمیں بھی ہمیشہ نصیحت کی کہ اچھائی کہیں بھی ہو تو تعریف میں کنجوسی نہ کریں۔

گاؤں سے شہر آ کر بھی وہ آخری وقت تک گاؤں کے گلی کوچوں کو یاد کرتی رہتیں۔ وہاں کے رہنے والے پرانے کرداروں کے دیو مالائی قصے سناتی رہتیں۔ کچھ قصے تو ہم نے اتنی بار سنے کہ وہ ہمیں زبانی یاد ہو گئے اور بغیر دیکھے وہ کردار ہمارے شعور کا حصہ بن گئے۔ اکثر یوں ہوتا کہ وہ بیٹھے بیٹھے کہیں کھو جاتیں۔مجھے معلوم تھا کہ وہ اپنے بچپن کے دنون کو، اپنے ماں باپ کو، اور ان گلی کوچوں کو یاد کر رہی ہیںِجہاں ان کا بچپن گزرا۔ وہ اکثر یہ شعر پڑھتیں:

سَے سَے جوڑ سنگت دے ویکھے آخر وِتھاں پیئاں
جیہناں باجھوں اِک پل سی نہیں لنگھدا او شکلاں یاد نہ رہیاں

(دوستی اور محبت نے وصال کے کتنے ہی رنگ دیکھے لیکن آخر کار جدائی مقدر ہوئی۔ جن کے بغیر ایک پل گزارنا مشکل تھا۔ اب ان کے چہروں کے نقوش بھی یاد نہیں)

ماں اکثر بیٹھے بیٹھے کہیں کھو جاتیں۔ نجانے کون سی سوچیں تھیں جو ان کو گھیر لیتیں۔ ماں کا دل بھی گہرے سمندر کی طرح تھا جو سطح پر خاموش ہوتا ہے لیکن اس کی تہہ میں بے چین لہروں کے کتنے الٹ پھیر ہوتے ہیں۔ ماں کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ اس خواب کی تعبیر انہوں نے اپنی زندگی میں دیکھ لی۔ ایک طویل مشقت بھری زندگی سے اب وہ تھک سی گئی تھیں اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب بیماری نے انہیں بستر سے لگا دیا تھا۔ ان کا وزن بہت کم ہو گیا تھا۔ ایک بار پہلو بدلوانے کے لئے میں نے انہیں دونوں ہاتھوں میں اٹھایا تو یوں لگا‘ جیسے میرے ہاتھوں میں ایک سُبک پھول ہو۔ میں ان کے بستر پر بیٹھ گیا اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ کچھ دیر خالی نظروں سے کمرے کی چھت کو دیکھتی رہیں پھر مدھم آواز میں بولیں ”ایک بات پوچھوں؟‘‘ میں نے کہا‘ ضرور پوچھیں۔ وہ نحیف آواز میں بولیں ”کیا مرنے کے بعد میں جنت میں جائوں گی؟‘‘ میں نے ماں کے چہرے کو دیکھا جہاں سرسوں کا رنگ پھیل گیا تھا۔ آنکھوں کے چراغوں کی لو مدھم پڑ گئی تھی۔ زندگی کا سفر تمام ہونے کو تھا۔ میں نے ماں کے کمزور ہاتھ کو چومتے ہوئے کہا‘ آپ کی ساری زندگی ہمارے آرام اور سکون کی تلاش میں گزری، آپ کی ذات سے کبھی کسی کو آزار نہیں پہنچا۔ آپ یقینا جنت میں جائیں گی۔ یہ سن کر ماں کے لبوں پر ہلکی سے مسکراہٹ پھیلی۔ آنکھوں میں اطمینان کی لہر آئی اور گزر گئی۔

اس روز مجھے لاہور واپس جانا تھا۔ جب بھی چھٹی کے بعد میں رخصت ہونے لگتا وہ کہتیں ” تم ایک دن اور نہیں رک سکتے؟ “یہ میرے لئے سخت آزمائش کا مرحلہ ہوتا۔ اس دن خلاف توقع انہوں نے مجھے رُکنے کا نہیں کہا۔ میں رخصت لینے کے لئے ان کے سامنے جھکا، انہوں نے ہمیشہ کی طرح میرے سر پر ہاتھ پھیرا دعا دی اور مدھم آواز میں بولیں:

لَے او یار حوالے رب دے میلے چار دِناں دے
اُس دِن عید مبارک ہوسی، جس دِن فیر مِلاں گے

(اے دوست جا تجھے خُدا کے سپرد کیا یہ دنیا چار دنوں کا میلہ ہے۔ جس دن دوبارہ ملاقات ہو گی، وہ ہمارے لیے عید کا دن ہو گا۔
آج ماں کی قبر کے پہلو میں بیٹھے مجھے شدت سے احساس ہواِ، میری زندگی میں وہ عید اب کبھی نہیں آئے گی۔۔۔

Facebook Comments Box
Motherشاہد صدیقیماںماں کی یاد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
جماعت اسلامی کا احتساب مارچ : صفدر چیمہ
next post
ہیجڑوں کے چامکوں کی شامت: شوکت علی مظفر – قسط 12

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.