تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

جنگ ستمبر کی اہمیت : خرم علی شفیق

by Daanish Editor 08/09/2017
written by Daanish Editor 08/09/2017
88

ستمبر ۱۹۶۵ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں پہل کس نے کی، اس کی ذمہ داری کس پر تھی اور مجموعی طور پر کون جیتا، کون ہارا، یہ وہ سوال ہیں جن پر ماہرین اور مورخین بحث کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ گولڈن جوبلی کے حوالے سے جنگِ ستمبر کی اصل اہمیت شاید کچھ اور ہے۔

پاکستان ایک نئی ریاست تھی جو عدم سے وجود میں آئی تھی۔ اِس کے لیے سب سے پہلا ہدف یہی ہو سکتا تھا کہ اس کے شہری اسے تسلیم کر لیں۔ اس کے باشندے مستقل باشندے کہلائیں۔ بین الاقوامی برادری نہ صرف اس کے وجود کو تسلیم کرے بلکہ اس کی بین الاقوامی سرحدیں بھی تسلیم کی جائیں۔ یہ تمام اہداف ۱۹۴۷ء میں یکدم پورے نہیں ہو گئے تھے جب پاکستان وجود میں آیا تھا۔ درحقیقت یہ ایک طویل عمل تھا جو تقریباً بیس برس جاری رہا۔ جنگِ ستمبر کی اصل اہمیت یہی ہے کہ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان، جو بیس برس پہلے وجود ہی نہیں رکھتا تھا اب واقعی ایک ریاست ہے۔ اس کا وجود مستقل ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جنگِ ستمبر میں پاکستان کے شہری اپنے وطن کا دفاع کرنے کے لیے متحد ہو گئے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ۱۹۴۷ء سے پہلے ہی سے یہاں آباد تھے۔ وہ بھی شامل تھے جو قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے آئے تھے۔

اس طرح اس بات کا ثبوت مل گیا اوریہ بات سب کے دل و دماغ میں بھی اتر گئی کہ پاکستان واقعی ان کا وطن ہے۔ بظاہر یہ بات معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن درحقیقت ایک نئی ریاست کے لیے اس سے زیادہ اہم بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اِسی بات ایک پہلو یہ بھی تھا کہ مشرقی پاکستان میں جنگ کے بعد شدید ردِ عمل ظاہر ہوا کیونکہ وہاں یہ خیال تھا کہ جنگ کے دوران مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے کافی فوج موجود نہیں تھی۔ جنگ کے بعد مشرقی پاکستان کی طرف سے یہ مطالبہ ہوا کہ اُسے اپنے دفاع کا بندوبست کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ مغربی پاکستان کے بعض سیاستدانوں نے اِس مطالبے کو کچھ اور رنگ دے دیا لیکن ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو یہ مطالبہ بھی اسی بات کا ثبوت تھا کہ مشرقی پاکستان اپنے آپ کو بھارت سے علیحدہ اور پاکستان کے ساتھ رکھنے کی فکر میں ہے۔

دُوسری بات یہ ہے کہ جنگِ ستمبر سے پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبادی کا تبادلہ عموماً بہت آسانی سے ہو جاتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال اُس وقت سامنے آتی ہے جب ہم فنکاروں اور مصنفوں کی سوانح پر نظر ڈالتے ہیں۔ جنگِ ستمبر سے پہلے بڑی آسانی سے ایک ملک کے فنکار یا ادیب دوسرے ملک میں جا کر قسمت آزمائی کر لیتے تھے اور جہاں ماحول سازگار ملتا وہیں کے ہو رہتے۔ یہی حال عام شہریوں کا تھا۔ جنگِ ستمبر کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ اِس طرح ایک ریاست کے لیے جو ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے شہری اُس کے مستقل باشندے ہوں، وہ بات پاکستان میں جنگِ ستمبر کے بعد بلکہ اس کی وجہ سے پوری ہوئی۔ تیسری بات یہ ہے کہ جنگِ ستمبر سے پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد کی نوعیت بھی پتھر پر کھینچی ہوئی لکیر جیسی نہیں تھی۔ کچھ کے علاقے میں پاکستان نے ایک کچی سڑک بنائی تو وہ بعض جگہوں پر ڈیڑھ میل تک بھارتی سرحدوں کے اندر سے گزرتی چلی گئی۔ اِسی طرح بھارت نے یہ کہہ کر ستمبر ۱۹۶۵ء میں لاہور کے قریب سرحد عبور کر لی۔ بھارت کا موقف تھا کہ اس سے پہلے پاکستان نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی تھی۔ گویا بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے درمیان فرق مبہم تھا۔ جنگِ ستمبر کے بعد تاشقند میں دونوں ممالک کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اُس کے بعد اِس قسم کی تشریحات ممکن نہ رہیں۔

ایک بات جو شاید آج ہمارے لیے سب سے زیادہ کام کی ہے وہ اُس نئے قسم کے ادب کی تخلیق ہے جو جنگِ ستمبر سے پہلے دنیا میں کہیں موجود نہیں تھا اور جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں پیدا ہوا۔

چوتھی اور شاید سب سے اہم بات وہ جذبہ ہے جو پاکستان کے عوام میں پیدا ہوا۔ درحقیقت وہی جذبہ آج تک اس ملک کو سنبھالے ہوئے ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جس کی تصدیق ہمیں دانشوروں کی محدود سوچ کی بجائے اپنے دلوں سے کروانی چاہیے۔ قوم کے دل میں یہ اعتماد کہ وہ ایک زیادہ طاقتور دشمن کے مقابلے پر اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہے ہیں، ایک بے بہا سرمایہ ہے۔ “یہی قوت ہے جو صورت گرِ تقدیرِ ملت ہے۔” اس کی ایک اور مثال برطانیہ کی تاریخ میں ملتی ہے۔ انگریز یورپ کی دوسری قوموں سے بہت پیچھے تھے ۔ ۱۵۸۸ء میں اسپین کی بحریہ نے جو دنیا بھرکے سمندروں پر حکمرانی کرتی تھی ایک بہت بڑے بحری بیڑے کے ساتھ برطانیہ پر حملہ کر دیا۔ برطانیہ نے یہ حملہ ناکام بنا دیا۔ اگرچہ اب مورخ یہ کہتے ہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کن فتح نہیں تھی لیکن اُس وقت انگریز قوم کے دل میں جو خود اعتمادی پیدا ہوئی اور جس طرح اگلے ایک سو سال تک اُس واقعے کو یاد کیا جاتا رہا، اُسی کا نتیجہ تھا کہ بعد میں یہ قوم سب سے آگے نکل گئی یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب اس کی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔

پانچویں بات جو شاید آج ہمارے لیے سب سے زیادہ کام کی ہے وہ اُس نئے قسم کے ادب کی تخلیق ہے جو جنگِ ستمبر سے پہلے دنیا میں کہیں موجود نہیں تھا اور جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں پیدا ہوا۔ ہم جنہیں جنگِ ستمبر کے جنگی ترانے یا قومی نغمے کہتے ہیں اور پوری منافقت کے ساتھ دل ہی دل میں یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان میں صرف اسکول کے بچوں کو دلچسپی لینی چاہیے، درحقیقت اُن میں سے بہت سے نغمے ایک بالکل نئے فلسفے اور ایک نئے جذبے کا انکشاف کرتے ہیں۔ اگلی پوسٹ میں میں جنگِ ستمبر کے بعض ترانوں کے حوالے سے وہ چیزیں پیش کروں گا جو میرے خیال میں نہ دنیا کے ادب میں کہیں اور موجود ہیں اور نہ ہمارے ادب میں جنگِ ستمبر سے پہلے موجود تھیں۔ یہ اُردو زبان کا فخر بھی ہے اور ہمارا قومی سرمایہ بھی۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلے بیس برس ایک مکمل مرحلہ پیش کرتے ہیں جو ریاست کی تشکیل کا مرحلہ ہے۔ یہ تشکیل ۱۹۴۷ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۶۶ء میں مکمل ہوئی۔ اس سلسلے میں جنگِ ستمبر سب سے اہم سنگِ میل بن گئی۔ جنگِ ستمبر کے اِن پہلووں کی طرف اشارہ میں نے اپنی کتاب راشد منہاس میں کیا تھا۔ ان کی تفصیل میری آیندہ کتاب میں آ رہی ہے جو چند ہی روز میں شائع ہونے والی ہے۔ ۵ ستمبر ۲۰۱۵ 1971کی شکست اور ہمارا حوصلہ جنگِ ستمبر کی اہمیت کے بارے میں میری پوسٹ زیادہ تر پسند کی گئی لیکن یہ تبصرہ بھی موصول ہوا کہ چونکہ ۱۹۷۱ء میں پاکستان دولخت ہو گیا اور بھارت کے مقابلے میں ہتھیار بھی ڈالنے پڑے اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ جنگِ ستمبر نے قوم کو جو خوداعتمادی عطا کی وہ ابھی باقی ہے اور وہی آج تک اس ملک کو سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ خیال کبھی میرے دل میں بھی آیا تھا لیکن پھر معلوم ہوا کہ یہ خیال ہمارا اپنا نہیں ہے بلکہ ہمیں اُن دانشوروں کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے جن کی دانشوری حقیقت میں ذہنی بٹیربازی ہے۔ اُس پر بھی ہاتھوں میں جو بٹیر ہیں وہ غیروں کے سدھائے ہوئے ہیں۔ اِس لیے یہ دانشور مجھے کبھی ان سوالوں کے جواب نہیں دے سکے کہ کیا ہم سے الگ ہو کر مشرقی پاکستان دوبارہ بھارت کا حصہ بن گیا؟ کیا وہاں شکست کھانے کے بعد ہم بالکل ہی حوصلہ ہار کر بیٹھ گئے؟ جب یہ دونوں چیزیں نہیں ہوئیں تو پھر یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ ۱۹۶۵ء میں پیدا ہونے والے جذبے ہی کا نتیجہ ہے کہ ۱۹۷۱ء میں بہت بڑی شکست کھانے کے بعد بھی حوصلہ سلامت ہے۔ ویسے بھی ہم اپنی تاریخ کیوں بھول جائیں۔ غزوہء بدر کے بعد غزوہء اُحد بھی ہوا تھا۔ پھر کیا اُس کے بعد خدا کی مدد کا آسرا اُٹھ گیا؟ فتحِ مکہ کے بعد حنین کامرحلہ بھی گزرا ۔ کیا اُس کی وجہ سے سورہء نصر منسوخ قرار پائی؟ شکست بھی زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن جب ایک دفعہ قوم میں خوداعتمادی پیدا ہو جائے تو پھر وہ مدت تک قائم رہ سکتی ہے: “من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں۔” ہمیں نالائق طالب علموں کی طرح نہیں سوچنا چاہیے کہ چھٹی جماعت میں پاس ہوئے تھے مگر چونکہ ساتویں میں فیل ہو گئے ہیں اس لیے اب آٹھویں میں نہیں جا سکیں گے۔ زندگی کچھ اور شے ہے۔

Facebook Comments Box
IndiaWar of 65پاک آرمیپاک افواجپاک بھارت جنگپاکستانجنگ ستمبر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
یونیورسٹی طلبہ میں انتہا پسندی کا رحجان: فارینہ الماس
next post
لکڑی کی گولیاں: ابنِ فاضل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.