تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلم و ادب

مدت ہوئی ہے حادثہ دیکھے ضمیر کا — ذوالقرنین سرور

by دانش ڈیسک 05/09/2017
written by دانش ڈیسک 05/09/2017
145

میرا بچپن قصے کہانیاں پڑھتے سنتے گزرا ہے۔ انہی قصے کہانیوں میں تاریخ کے ٹکڑے بھی شامل تھے جو ہم نے اپنے بڑوں سے سنے یا پھر خود پڑھے۔ظاہر ہے کہ یہ تاریخی ٹکڑے کسی خاص منظر یا پس منظر کو بیان کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ بہرحال یہاں میں تاریخ کے ان واقعات کو بیان کرنے والوں کی نیتیں بیان کرنے نہیں بیٹھا کہ انہوں نے اس سے کیا فوائد اٹھائے یا ان کا حصول کیا تھا۔ یہاں میں وہ چند جملے بیان کرنا چاہتا ہوں جو میرے ذہن میں کئی سوچوں کی بنیاد بنتے رہے اور میں اپنی کم علمی اور کج فہمی کے سبب زندگی کے مختلف ادوار میں ان سے مختلف مطالب اخذ کرتا رہا۔

ایک منظر جو ہمارے ہاں بیان کی جاتا ہے کہ “جب تاتاری بغداد پر حملے کے لیے جمع ہو رہے تھے تو بغداد کے علمی مراکز میں “والضالین” کی قرأت پر بحث چل رہی تھی۔

میں مدتوں اسی سوچ کا شکار رہا کہ قدیم زمانے میں دشمن جب حملے کے لیے جمع ہوتا تھا ا تو میدان جنگ کے لیے تو باقاعدہ حکمت علمی ترتیب دی جاتی تھی۔ پھر یہ کیونکر ممکن ہوا کہ اہل بغداد نے اس جنگ کے مقابلے کی تیاری نہ کی۔ یا تیاری تو کی لیکن علمی حلقے اس تیاری کا حصہ نہ تھے اور انہوں نے اپنے روزمرہ کے مشاغل کو جاری رکھا۔ ایک دور مجھ پر ایسا بھی آیا کہ میں یہ سوچنے لگا کہ مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی میں یا باہمی مسائل میں اس قدر الجھ چکے تھے کہ ان کو بیرونی عناصر کی پیش قدمی کا احساس نہ ہو سکا۔ لیکن خود ہی اپنے اس خیال کو غیر عملی سمجھتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ہو سکتا ہے کہ قریبی شہروں یا ملکوں کے مسلمانوں نے کہا ہو کہ بغداد پر حملہ ہونے لگا ہے۔ اللہ مسلمانوں کی مدد فرما۔ عین ممکن ہے کہ کسی رقیق القلب ہمسائے نے بعد از جنگ چند بستر، کمبل اور کھانے پینے کا سامان بھیجا ہو کہ ہمیں اہل بغداد کی اس مشکل وقت میں مدد کرنی چاہیے۔ پتا نہیں اس دور میں اخبار تھا یا نہیں، لیکن علماء اپنی مجالس میں اس دردناک منظر کی تصویر تو کھینچتے ہوں گے۔

دوسرا منظر جو میرے لیے حیرانی کا سبب رہا ہے وہ یہ کہ جب انگریز برصغیر پر باقاعدہ لشکر کشی فرما چکے تھے۔ اور بلا کسی تفریق کے مسلمانوں کو جنت اور کافروں کو جہنم رسید کرنے کا شغل جاری رکھے تھے تو ایسے میں اہل ہند کا بادشاہ شاعری پر واہ واہ کروایا کرتا تھا اور اس کی شامیں عروضی زمینوں میں لشکر کشی کرتے گزرتی تھیں۔

عرصہ دراز تک میں اس کو افسانوی رنگ سمجھتا رہا۔ پھر جب شعور نے آنکھ کھولی تو میں یہ سمجھنے لگا کہ بات درست ہے مگر اس میں مبالغہ آرائی کا پہلو نمایا ں ہے۔ قریبی ممالک افغانستان، ایران جو یوں بھی ہند پر لشکر کشی کے عادی تھے وہ ضرور مسلمانوں کی مدد کو پہنچے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے اہل ہند کی درگت بنتی دیکھ کر انہوں نے انگریزوں کے پاس کوئی سفیر بھیجا ہوگا کہ ان پر ہاتھ ذرا ہلکا رکھا جائے۔ عین ممکن ہے کہ کئی خدمت خلق کے جذبے سے سرشار لوگوں نے روزمرہ کی ضروریات کا سامان پہنچایا ہو۔ مجھے یقین ہےکہ اس پرآشوب دور میں ادیبوں اور دانشوروں کے آنسو نہ تھمتے ہوں گے۔ کتنے ہی رسائل و جرائد میں دل دہلانے والے مضامین شائع ہوتے ہوں گے۔ ہند کے مسلمانوں کی بہتری کے لیے مساجد میں دن رات دعائیں مانگی جاتی ہوں گی اور جمعہ پر تو خصوصاً اجتماعی دعاؤں کا التزام کیا جاتا ہوگا۔

جب انگریز برصغیر پر باقاعدہ لشکر کشی فرما چکے تھے۔ اور بلا کسی تفریق کے مسلمانوں کو جنت اور کافروں کو جہنم رسید کرنے کا شغل جاری رکھے تھے تو ایسے میں اہل ہند کا بادشاہ شاعری پر واہ واہ کروایا کرتا تھا اور اس کی شامیں عروضی زمینوں میں لشکر کشی کرتے گزرتی تھیں۔

میرا بچپن عراق، کشمیر اور فلسطینی مسلمانوں کی نصرت کے لیے دعائیں مانگتے گزرا ہے۔ پھر بڑھتی عمر کے ساتھ میں شام بھی شامل ہو گیا۔ اُدھر بھارتی مسلمانوں کے لیے بھی دعائیں جاری رکھیں۔ پھر فلسطین اور بالخصوص غزہ کے لیے ہم نے دن رات دعائیں مانگیں۔ایک دور ایسا بھی آیا کہ اس آگ کی تپش ہم اپنے شہروں میں محسوس کرنے لگے۔ تعمیر کے نام پر تخریب اور ایمان کے نام پر الحاد کے لیے جس طرح ہم نے آواز اٹھائی کیا تاریخ انسانی میں کسی گروہ نے اٹھائی ہوگی۔ آتے آتے اس دعائیہ فہرست میں برمی مسلمان بھی شامل ہوگئے۔ دور بدل گیا تھا۔ ہم نے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا۔منظر کشی کو الفاظ کی حاجت نہ رہی۔ بلکتے بچوں، مرتے جوانوں، لرزتے بوڑھوں اور نچی ہوئی دوشیزاؤں کی تصاویر دن رات پھیلا کر ہم دن رات علمی مجالس گرمانے لگے۔ پوسٹس لگنے لگیں۔کالم لکھے جانے لگے۔ تبصرے ہونے لگے۔ شرم و حیا دلائی جانے لگی۔ کس کو؟ مظلوم کے حصے میں تسلی دلاسے آنے لگے جو ظاہر ہے کہ ماضی کی داستانوں کی طرح مظلوم تک نہیں پہنچ پائے۔ فتح و نصرت کی دعائیں مانگی جانے لگیں۔

اور میں کم عقل، کج فہم، پریشان حال شخص،منتشر سوچیں، عقائد سے اٹھتے گمان اور گمان میں لپٹے عقائد لیے ان سارے مناظر میں ایک مشترک منظر دیکھ رہا ہوں۔ ایک ایسا منظر جو اصل سے الگ ہے۔ جو ہوا میں معلق ہے۔

Facebook Comments Box
featuredضمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
روہنگیا مسلم: مسئلے کے ممکنہ حل ۔۔۔ صفدر چیمہ
next post
ہارے ہوئے لشکر کا بہادر سپاہی: خرم سہیل

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.