تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عالمی مسلم سیاسی وحدت کا خواب اور اس کی حقیقت —- ڈاکٹر عرفان شہزاد

by دانش ڈیسک 26/08/2017
written by دانش ڈیسک 26/08/2017
121

ایک مسلم اجتماعیت سیاسی سطح پر عمر فاروق کے دور حکومت کے بعد مسلمانوں کو کبھی حاصل نہیں رہی، بلکہ اس کی ضرورت بھی کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ بنو امیہ کے دور حکومت کے بعد مسلم خلافت کئی خلافتوں میں بٹ گئی۔ مسلم خلفاء بادشاہ، سلاطین دیگر حکمرانوں سے بلا امتیاز مسلم و غیر مسلم اپنے مقبوضات کی حفاظت اور ملک گیری کے لیے لڑتے رہتے تھے۔

کسی دور میں عالمی مسلم اجتماعیت کا کوئی وجود نہیں پایا گیا، یہ بعد کے دور میں ہم ایسا محسوس کرتے ہیں کہ مسلم حکومتوں کے کسی دور میں مسلم اجتماعیت پائی جاتی ہوگی۔

عثمانی سلطنت نے اپنے مقبوضات کے علاوہ کسی مسلم ریاست کی مدد نہیں کی۔ ہندوستان کے مسلم حکمرانوں اور علما نے کئی بار انھیں مدد کے لیے پکارا مگر وہ کھبی نہیں آئے۔ یہ ہم تھے جو انھیں اپنا خلیفہ مانتے تھے، ان کی بادشاہت بنام خلافت بچانے کے لیے تحریک خلافت برپا کرتے تھے، حتی کہ حکومت برطانیہ سے اس پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑ ہجرت کر جاتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی ہمیں اپنا کچھ نہیں سمجھا نہ ہمارے لیے کبھی کچھ کیا۔ انھوں نے تو کبھی ہمیں فتح کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔

یہ دور زوال کے چند مسلم مفکرین کا خیال تھا کہ نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر مسلمانوں کی عالمی اجتماعیت ہونی چاہئیے۔ اس کے لیے انھوں نے مسلم اخوت کی اخلاقی قدر کو سیاسی قدر بنا کر پیش کیا۔ زوال کا دور تھا ان کا یہ نعرہ چل گیا۔ مسلمانوں نے خود کو اپنے اپنےعلاقائی کلچر سے علیحدہ کرکے مسلم اجتماعیت کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ یہ خواب شرمندہ تعبیر تو کبھی نہ ہوسکا اور ان گنت سماجی ثقافتی اور سیاسی عوامل کی بنا پر نہ ہی ہو سکتا ہے لیکن ادھر یہ اپنے اپنے علاقوں کی مقامی سیاست سے بھی وابستہ نہ رہے۔ کثیر القومی سماجوں میں مذہبیت کی بنیاد پر قائم قومیت سیاسی تصور کے ٹھٹ حکومت کے قیام کی راہ پر چل پڑے جس سے دیگر غیر مسلم کمیونٹیز سے وہ اجنبی، بلکہ سیاست میں رقیب بن گئے۔ مقامی سطح کے بہت سے مسلم طالع آزماؤں کو اپنے سیاسی ایجنڈا کے لیے مسلم سیاسی پیروکاروں کی صورت میں اپنے اقتدار کے حصول کے لیے ہموار زمین البتہ دستیاب ہو گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے ہر گز بھی یہ ضروری نہ تھا کہ عالمی سطح پر ان کی کوئی سیاسی وحدت ہو۔ یہ ایک ایسے دین کے تاثر کے لیے مناسب بھی نہ تھا جو انسانوں کی اخلاقی اور روحانی بھلائی کے لیے آیا تھا۔ عالمی سطح پر ایک سیاسی بلاک دیگر سیاسی حریف طاقتوں کو مستقل دعوت مبارزت دینے کے مترادف ہے۔ ایسے میں دعوت کا عمل کیا اثر دکھا سکتا ہے۔ دعوت ہمدردی سے دی جاتی ہے تحکم سے نہیں۔

اسلام کی ابتدائی صدیوں میں عربوں کو حاصل ہونے والے سیاسی غلبہ و اقتدار کو ایک واقعہ، جس کے اپنے مخصوص عوامل تھے، کو ایک واقعہ سمجھنے کی بجائے دین کا لائحہ عمل سمجھ لیا گیا جس کا کوئی مستقل، براہ راست حکم دین میں موجود ہی نہ تھا۔

قرآن مجید میں رسول اللہ صلعم اور آپ کے ساتھیوں کے غلبے کو بطور واقعہ بیان کیا گیا ہے جیسے کہ دیگر انبیاء کے واقعات بطور تذکیر و نصیحت بیان ہوئے ہیں کہ رسالوں کی مخالفت کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ سیاسی غلبے کا یہ تذکرہ دین کے حکم کے طور پر بیان نہیں ہوا۔

مسلمانوں نے جب سے خود کو قومیت کے جدید سیاسی تصور کےتحت ایک قوم سمجھنا شروع کیا تب سے ان کے ذہنوں میں ایک عالمی سیاسی وحدت بننے کا خیال بھی پروان چڑھا، لیکن جس دین کے بھروسے پر یہ سب سوچا گیا اس نے اپنے پیروکاروں سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کر رکھا تھا۔
کرنے کا کام یہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی رہتے ہیں اپنے مقامی کلچر اور سیاست کے ساتھ وفادار رہتے ہوئے اچھا سے اچھا کردار اپنائیں۔ دین اسلام کی صورت میں ان کو اخلاق و قانون کا بہترین مجموعہ تعلیم حاصل ہے اس پر بساط بھر عمل پیرا ہوں۔ جہاں حکومت بھی ان کے ہاتھ میں آ جائے وہاں البتہ اپنی مسلم کمیونٹی پر دین کے اجتماعی احکام کا نفاذ بھی کریں اور دعوت کے راستے سے خدا اور دین کا تعارف اور اخلاقیات کی تعلیم دیگر کمیونٹیز کو پہنچائیں۔ اس سے زیادہ کوئی دینی مطالبہ ان کا دین ان سے نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو دین کے نام پر سیاست بازی اب ترک کرنی چاہیے۔

Facebook Comments Box
Muslim Blockاتحاد اسلامیخلافتخلافت اسلامیہسیاسی اسلامعالمی اسلامی حکومتعالمی مسلم سیاسی وحدت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بڑی عید کے بڑے جانور —– ببرک کارمل جمالی
next post
عمیرہ احمد کی مخالفت کیوں؟ امجد جاوید

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.