تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

کیا پاکستان، اشرافیہ کے مستقل سرکس کے لئےقائم ہوا تھا؟

by Daanish Editor 09/08/2017
written by Daanish Editor 09/08/2017
110

اگر آج کے مارچ کے ذریعے ، میاں صاحب اپنے لئیےعوام کی محبت کسی حد تک برقرار رکھنے کا کامیاب مظاہرہ کرلیتے ہیں تو اس کے بعد 45 دن والےعباسی صاحب، اسمبلیاں توڑ کر یا توڑے بغیر، آئندہ الیکشن کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اور الیکشن سے پہلے ایک ریفرنڈم منعقد کرائے جانے کا امکان بھی ہے کہ جس میں “عوام” کی “مرضی” کے ذریعے، نا اہلی کا “فیصلہ” واپس کروانے، ایک زیادہ “منصفانہ” بنچ تشکیل دلوانے اور ملک کے آئین کی زیادہ “جمہوری” تدوین و تبدیلی کا “مینڈیٹ” حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ یوں اس بہانے، اس نورا کشتی کے تمام کھلاڑیوں کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار، یعنی آرٹیکل 62/63 سے بھی جان چھڑا لی جائے گی۔

اگر عباسی صاحب یہ سب کچھ کامیابی سے کروالیتے ہیں تو اس کے بعد، نیب کے ذریعئِے، مخالفین کو جو جوابی رگڑا لگایا جائے گا اور جو سودے بازیاں ہونگی، وہ سب خاک و خون میں ایڑیاں رگڑتی، بھوک اور مصائب میں مبتلا، اپنے آئینی فلاحی حقوق سے محروم اس قوم کیلئیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوگا۔
دیکھتے ہیں پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کے نام پر قائم اس نون لیگ کے سیاسی کھلاڑی، اس ملک کے ساتھ کل سے کس نئی کھلواڑ کا بندوبست کرتے ہیں۔
اس چارٹر آف ڈیموکریسی کی نورا کشتی نے پاکستانی قوم کے پورے دس سال مکمل طور پر ضائع کردئیے۔ یہ اس ملک کے ننگے بھوکے عوام کے مو نہوں میں اپنے وہ “میگا پروجیکٹس” ٹھونستے رہے ہیں جن میگا پروجیکٹس نے ان کے اپنے آف شور اکاوٰنٹس لبریز کردئیے لیکن عوام کے جسموں سے بچے کھچےچیتھڑے بھی نوچ لئیے۔

میں پہلے کہتا تھا کہ یہ ملک اِن ظالموں کے باپ کا نہیں، ہمارے باپ دادا کا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں اور مجھ جیسے چند اور لوگ جو اس طرح کی احمقانہ باتیں کرتے تھے، غلط تھے۔ یہ ملک تو اصل میں انہی کے باپ دادا نے ہمارے باپ دادا کے ووٹ لے کرانگریزوں سے اپنی اپنی برادریوں اور خاندانوں کی باری باری لوٹ مار کیلئیے حاصل کیا تھا۔

جس ملک میں درجنوں ٹی وی چینلز کی سکرینز پر دن دہاڑے سیکڑوں انسانوں پر گولیاں برسانے کا اور 14 جیتے جاگتے، اس وطن سے محبت کرنے والے معصوم انسانوں کے قتلِ عام کا منظرنشرہوا ہو اور پھر بھی ان مظلوموں کو آج تک انصاف نہ ملے، اور اس قتلِ عام کے ملزمان، اس ملک کی اشرافیہ ہی کا حصہ بنے رہیں اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر اس ملک میں دندناتے پھریں، کون کہتا ہے کہ وہ ملک اس کے محب وطن، پر امن عوام کیلئیے وجود میں آیا تھا۔ یہ ملک یقیناً اس میں طاقت کے بل پردندناتی، دولت کے بل بوتے پراینڈتی، محترم اشرافیہ ہی نے اپنےلئیے بنایا تھا۔ عوام تو بس اس ملک کے وجود میں آنے کے عمل کا “ایکسس بیگیج” ہیں۔ معلوم نہیں کب تک یہ سخت جان ڈھیٹ عوام، اپنے آئینی حقوق سے محرومی کے باوجود، اپنی وطن سے محبت کی وجہ سے اس اشرافیہ کی عیاشیوں کے رنگ میں بھنگ ڈالے رکھتے ہیں۔

جس ملک میں حکومت، ریاست کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی میں، کروڑوں انسانوں کیلئیے اگلے دن کے بنیادی رزق کی ضمانت نہیں لیتی، کروڑوں عوام اور مڈل کلاس کیلئیے معمولی بیماریوں تک کا علاج حکومتوں کی جانب سے میسر نہیں اور اگر کوئی اس آئینی ذمے داری کے پورا نہ کرنے پر بات بھی کرے تو حکومتی زعماء اس کا منہہ یہ کہہ کر بند کردیں کہ ہم نے جتنے میگا پروجیکٹس بنائے پیں اتنے کسی نے نہیں بنائے تو پھرسوال تو بنتا ہے کہ کیا یہ سب میگا پروجیکٹس عوام کی بہبود کے لئے بنائے گئے تھے یا یوں بہ وقت ضرورت ڈگڈگی بجانے کے لئے یا کونسا اپنے پلے سے بنائے گئے تھے؟ صد حیف ہے اس انداز حکمرانی پر کہ جب چاہو آئین اور ریاستی اداروں کے ساتھ جب چاہے کھلواڑ کرو۔ جاوٰ یار جو مرضی کرو یہاں کے آئین اور ریاستی اداروں کے ساتھ کہ خواب دیکھنے والی آنکھوں کا قصور ہے سب کہ کروڑوں عوام کے باپ دادا کو شاید کوئی بہت بڑی خوش فہمی تھی۔

Facebook Comments Box
جی ٹی روڈ مارچشق 62/63میگا پروجیکٹسنون لیگ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
تخلیق پاکستان کے بعد دو قومی نظریئے کی ضرورت: محمد دین جوہر
next post
کس منہ سے جمہوریت کی بات کرتے ہو: محمد شہزاد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.