تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

غیر لچکدار ذہنیت کا فریب (1)۔۔۔۔۔وحید مراد

by وحید مراد 30/03/2025
written by وحید مراد 30/03/2025
253

٭زندگی، کوئی جامد اصول نہیں، مسلسل تغیر پذیر حقیقت ہے جہاں صحیح اور غلط کے درمیان بے شمار امکانات موجود ہوتے ہیں۔

٭ حقیقی سیاسی، مذہبی، روحانی اور علمی قیادت انتہا پسندی سے گریز کرتے ہوئے وسیع تر حقیقت کو سمجھنے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اکثر انسان زندگی کو سادہ خانوں میں بانٹنے کے عادی ہوتے ہیں- صحیح یا غلط، سچ یا جھوٹ، اچھا یا برا، سیاہ یا سفید۔ یہ سادہ، محدود اور میکانکی طرز فکر، ذہنی سکون (Comfort of mind-set) اور وقتی اطمینان کا احساس دلاتے ہوئے باور کراتا ہے کہ زندگی کی گاڑی درست ڈگر پر گامزن ہے لیکن زندگی کسی متعین مشینی عمل کا نام نہیں۔ مشین، مخصوص مقاصد کے حصول کیلئے قوانین اور ضابطوں کے ایک پروگرام پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں لچک نہیں ہوتی۔ اس کا ایک بٹن اسے آن یا آف کرتا ہے، اسکے لئے ہر چیز درست ہوتی ہے یا غلط۔ مشین کا طے شدہ طرز عمل اسے کارآمد تو بناتا ہے لیکن یہ پروگرام، پیچیدگیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔

دوسری طرف زندگی ایک جیتا، جاگتا، ارتقاء پذیرتجربہ ہے۔ یہ جذبات، نقطہ نظر، تجربات اور ارتقاء پذیر شعور سےمتاثر ہوتی ہے۔ ایک ہی واقعہ دو مختلف پس منظر، ثقافت اور سوچ رکھنے والے افراد کے لیے یکسر مختلف معانی رکھ سکتا ہے۔ زندگی پروگرام شدہ متعین مشینی عمل اور دوٹوک فیصلوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ یہ حکمت، تدبر، فہم اورگہری بصیرت کی متقاضی ہے۔ اسی لیے حقیقی دانشمند اور روحانی رہنما دنیا کو سیاہ و سفید کی عینک سے نہیں دیکھتے، وسیع تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سادہ، دو ٹوک فیصلوں اور انتہاء پسندانہ عمل سے گریز کیا جائے۔

سیاہ و سفید طرز فکر زیادہ تر ان شعبوں میں پروان چڑھتا ہے جہاں نظم و ضبط، فوری فیصلو ں اور واضح اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوجی افسران کے فیصلے واضح اور دو ٹوک ہوتے ہیں کیونکہ میدان جنگ میں زیادہ پیچیدگی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک فوجی کے ذہن میں دوست، دشمن، اطاعت، بغاوت، دفاع، جنگ اور امن کے تصورات میں ابہام کی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔ اکثر مذہبی علماء بھی روایتی تعلیمات اور عقائد کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں جہاں حلال و حرام یا گناہ و ثواب جیسے دوٹوک اصول موجود ہوتے ہیں۔ بعض تکنیکی ماہرین جیسے انجنئرز، سائنسدان اور ماہرین اقتصادیات بھی مسائل اور عددی اوردو ٹوک منطقی انداز میں دیکھتے ہیں۔ یہ طرز فکر ان مخصوص شعبوں میں مفید ثابت ہوتا ہے مگر جب اسے عام زندگی پر لاگو کیا جاتا ہے تو اکثر ناکافی اور غیر لچکدار ثابت ہوتا ہے۔

زندگی ایک متحرک حقیقت ہے، جامد اصول نہیں۔ یہ ریاضی کے کسی سادہ معروضی سوال کی طرح نہیں جہاں صرف ‘درست ‘ یا ‘غلط’ جواب ہو۔ زندگی میں انسانی نفسیات، سماجی و ثقافتی عوامل، تاریخی پس منظر اور بدلتے ہوئے حالات ہر فیصلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایک فیصلہ جو کسی مخصوص وقت ‘صحیح’ لگتا ہے، وہ مستقبل ں بدلتے حالات کے تحت ‘غلط’ ثابت ہو سکتا ہے۔ مختلف معاشروں میں اخلاقیات کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں لہذا ایک ہی مسئلہ مختلف مقامات پر مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ روحانی اور فکری شخصیات اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں کہ زندگی کو جامد مشینی اصولوں کے تحت نہیں چلایا جا سکتا اس لیے وہ ایک بڑے تناظر میں سوچے ہیں اور حقیقت کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی چیز قطعی طورپر اچھی یا بُری نہیں ہوتی بلکہ چیزیں ہمارے نقطہ نظر اور حالات کے مطابق معنی رکھتی ہیں۔ وہ زندگی کو بڑے کینوس میں دیکھتے ہیں جہا ں ہر چیز مطلق نہیں بلکہ متغیر ہوتی ہے اسی لیے وہ اعتدال کو ترجیح دیتے ہیں اور شدت پسندی سے گریز کرتے ہیں۔

حقیقی سیاسی رہنما اور کرشماتی قیادت وہ ہوتی ہے جو زندگی کی تمام پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے اپنی سوچ میں لچک رکھے۔ تاریخ میں بڑے قائدین نے ہمیشہ سخت گیر موقف سے گریز کیا اور وسیع زاویہ نگاہ اختیار کیا۔ وہ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ جذبات، تعلقات اور غیر متوقع حالات اکثر سخت گیر تجزیوں اور فیصلوں کو غیر موثر بنا دیتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے نسل پرستی کےمصائب کا شکار ہونے کے باوجود معاف کرنے اورمصالحت کا راستہ اپنایا کیونکہ انتقام کی سیاست ملک کو مزید تقسیم ہونے سے نہیں روک سکتی تھی۔ اسلامی خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے بنو امیہ کے روایتی سخت گیر حکمرانوں کے برعکس حکمت اور نرمی کے ساتھ اصلاحات کیں اور تمام مکاتب فکر کی نظر میں قابل قبول ٹھہرے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ پرامن اورقانون کے دائرے کے اندر سیاست کی اور قیام پاکستان کو ایک خواب سے حقیقت تک پہنچایا۔ حقیقی سیاسی قیادت وہی ہوتی ہے جو ہر چیز کو سیاہ وسفید میں دیکھنے کے بجائے مفاہمت اور دانشمندی سے فیصلے کرے۔ عظیم شخصیات کی سوچ ہمیشہ کھلے ذہن پر مبنی ہوتی ہے اور وہ ہر طرح کے امکانات کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عام لوگ شکایت کرتے ہیں کہ سیاسی قائدین مفاہمت کی پالیسی اپناتے ہوئے بار بار یوٹرن کیوں لیتے ہیں؟ اپنے ایک ہی موقف پر جمے کیوں نہیں رہتے؟ ان کے بیانات میں تضاد کیوں پایا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ قیادت صرف دو ٹوک اور غیر لچکدار فیصلے کرنے کا نام نہیں بلکہ بدلتے حالات کے مطابق راستہ نکالنے کا فن ہے۔ یوٹرن لینا کمزوری نہیں یہ رویہ قوموں کو بحرانوں سے نکالنے کا باعث بھی بنتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) کا انٹرویو کرتے ہوئے ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ اپنے سیاسی بیانات بدلتے کیوں رہتے ہیں؟ کیا یہ تضاد بیانی کے زمرے میں نہیں آتا؟ تو بھٹو صاحب نے بڑا دلچسپ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو میں ایک صوفے پر بیٹھا ہوں اور اس پر بیٹھنے کی بہت گنجائش موجود ہے۔ میں اس کے دائیں حصے، بائیں حصے، درمیان، آگے، پیچھے ہر جگہ بیٹھ سکتا ہوں حتیٰ کہ اس پر لیٹ بھی سکتا ہوں۔ بیٹھنے کی ہر پوزشن یہ واضح کرتی ہے کہ میں ایک ہی صوفے پر براجمان ہوں لیکن آپ مجھے مختلف زاویوں سے دیکھو گے تو تضاد نظر آئے گا۔ یہ ظاہری نظر کا تضاد ہے حقیقت میں ایک ہی صوفہ ہے جس پر مستقل طورپربیٹھا ہوں۔

سیاستدان کبھی کسی مسئلے پر سخت موقف بھی اختیار کرتا ہےمگر بعد میں سفارتی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر نرمی برتتا ہے تو یہ تضاد نہیں، حالات کے مطابق حکمت عملی ہے۔ لیڈر کو وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے، کسی ایک لمحے کے فیصلے کی بنیاد پر اس پر تضاد کا الزام لگانا درست نہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ کو ظاہر ی نظر سے دیکھیں تو اس میں کئی تضادات نظر آئیں گے لیکن حقیقت میں وہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ پر ہمیشہ قائم رہے۔ موقف میں تبدیلی تضاد نہیں بلکہ وقت اور حالات کے تحت حکمت عملی میں تبدیلی تھی۔

بدلتی دنیا میں جو رہنما سخت گیر موقف اپناتے ہیں وہ اکثر بحرانوں سے نمٹنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ ایک ذہین لیڈر اپنے فیصلوں میں نرمی رکھتا ہے تاکہ مشکل حالات میں بہترین ممکنہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ جنگ اور تصادم سےبچنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا کمزوری نہیں بہترین حکمت عملی ہے۔ لیڈر صرف آج کی سیاست کو نہیں دیکھتا مستقبل کی حکمت عملی بناتا ہے۔ نرم موقف بصیرت کا ثبوت ہے نہ کہ تضاد۔ سخت گیر ماہرین اور حکمران مشکل سفارتی یا سیاسی بحرانوں کو موثر طریقے سے نہیں سنبھال سکتے۔ کوئی ملک اور قوم اکیلے ترقی نہیں کر سکتے، قومی مفاد کی خاطر پرانے موقف میں تبدیلی لانی پڑتی ہے۔ اچھے لیڈر ہمیشہ بنیادی مقصد پر قائم رہتے ہیں مگر راستے اور وقت کو دیکھتے ہوئے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ حقیقی رہنما کا مقصد، نظریہ اور حتمی منزل وہی رہتے ہیں۔

زندگی کو سیاہ و سفید کی دو انتہاؤں میں تقسیم کرنا حقیقت کی پیچیدگی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ کامیاب لوگ ہمیشہ بنیادی مقصد پر قائم رہتے ہیں مگر طریقہ کار میں لچک پیدا کرتے ہیں۔ زندگی میں کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسان متغیرات کو سمجھے اور ان کے مطابق حکمت عملی اپنائے۔ زندگی سے پیار کرنے والے بڑے کینوس پر سوچتے ہیں اور سخت گیر لوگ محدود نظریات کے اسیر بن جاتے ہیں۔

اس سلسلے کا سابقہ مضمون (7)

اس سلسلے کا اگلا مضمون (9)

Facebook Comments Box
Absolute BeliefsAgha Khan BoardBlack & White thinkingBoard ResultCIE Exam ScheduleExamexam tipsExtreamismextremist mindsetGCE O levelIGCSE O levelInflexible beliefIntermediate ResultKarachi Board of educationlesson planMatric ResultMCQsnon-flexible mind-setPast paperspractice questionquestion bankquick revisionQuizRigid thinkingU Turnvideo lectureword problemsworksheetجامد سوچ، انتہا پسندانہ سوچ، سخت گیر رویہ، قطعی نظریات،رک رخی سوچ، لچک سے عاری سوچ، غیر لچکدار نظریات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
وحید مراد

previous post
خدا حافظ پیارے دوست اصغر عابد! —- محمد حمید شاہد
next post

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.