وحید مراد اور ہمارا عہد: قوم کا ارمان —- قسط 5 — خرم علی شفیق

0
  • 184
    Shares

آج کی قسط کا عنوان ’’قوم کا ارمان‘‘ ہے، اس لیے آدھی قسط قوم کے بارے میں ہے، اور آدھی قسط فلم ’’ارمان‘‘ کے بارے میں ہے۔ ٹھیک ہے؟ یہ تجویز بھی موصول ہوئی ہے کہ قسطیں ہفتے میں ایک دفعہ پیش کی جائیں اور زیادہ سے زیادہ طویل ہوں۔ میرے خیال میں مناسب ہے۔ اسی دفعہ سے عمل کیا جا رہا ہے۔ اس لیے یہ قسط کافی طویل ہے اور اگلی قسط اگلے جمعے کو آئے گی۔ اِس دفعہ آپ کی تجاویز کا بہت خاص طور پر انتظار رہے گا کیونکہ میں نے ایک بالکل نئی بات کہنے کی کوشش کی ہے۔ یہ میری برسوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ پچھلے دس بارہ سال سے اپنی ورکشاپس اور بعض تحریروں میں بھی ذکر کر چکا ہوں لیکن اس سے پہلے اتنی وضاحت کے ساتھ پیش نہیں کی تھی۔ پچھلی قسط کے لیے اس لنک پہ کلک کیجیے۔ مصنف۔


سُہیل رعنا کہتے ہیں کہ ۱۹۶۳ء میں انہوں نے خواب میں راگ ایمن کی ایک دُھن سنی۔ آنکھ کھلی تو اُسے یاد رکھنے کے لیے اُس طرز پر دو مصرعے لکھ لیے:

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بِنا ہم بھلا کیا جئیں گے

کراچی کے ایک فلمساز سے اس دُھن کا سودا ہو گیا لیکن وہ اس پر تیار نہ ہوئے کہ اسے لاہور جا کر پینسٹھ سازوں کے آرکسٹرا کے ساتھ ریکارڈ کیا جائے۔ سہیل نے دُھن واپس لے لی۔ وہ سوچ رہے تھے کہ پرویز ملک کے ساتھ مل کر فلم پروڈیوس کریں۔ اس کا نام ’’دوراہا‘‘ تجویز ہوا تھا۔ اس دوران وحید نے یہ دُھن سن لی اور سہیل سے کہا کہ ’’دوراہا‘‘ ابھی دُور ہے مگر فلم آرٹس کی اگلی فلم کی کہانی وہ لکھنا شروع بھی کر چکے ہیں، جس کا نام ’’ارمان‘‘ ہو گا۔ سہیل نے کچھ شرائط رکھیں۔ یہ نغمہ فلم میں تین دفعہ آئے گا۔ پہلی دفعہ مردانہ آواز میں سوفٹ طریقے سے، دوسری دفعہ زنانہ آواز میں کم سازوں کے ساتھ غمگین انداز میں اور تیسری دفعہ زنانہ آواز میں پورے آرکسٹرا کے ساتھ، جس میں پینسٹھ ساز ہوں گے اور لاہور میں ریکارڈ ہو گا۔ تیسری شرط یہ تھی کہ فلم اِس نغمے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی، اسکے بعد کوئی وائنڈ اَپ وغیرہ نہیں ہو گا۔ وحید نے تینوں شرائط قبول کر لیں (یہ تمام تفصیلات سہیل رعنا نے مجھے ایک انٹرویو میں بتائیں جو میری انگریزی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ تھوڑی سی مزید وضاحت انہوں نے ایک ایمیل کے ذریعے بھی کی)۔

پرویز ملک نے لکھا ہے:

’’ارمان کا جنم دراصل ایک گانے سے ہوا۔ سہیل رعنا نے ایک گانا بنایا جس پر مسرور انور نے بول لکھے۔ یہ گانا تھا ’اکیلے نہ جانا‘۔ ہم سب کو یہ گانا بیحد پسند تھا۔ ہر دعوت میں ہم یہ گانا مل کر گایا کرتے تھے۔ پھر اِسی گانے کو سامنے رکھ کر وحید نے اور میں نے مل کر ارمان کا اسکرپٹ لکھا۔‘‘

آخری جملے سے مراد ہے کہ وحید نے کہانی لکھی اور پرویز نے منظرنامہ، جیسا کہ فلم کے کریڈٹ میں ہے (یہ وضاحت اُنہوں نے مجھ سے ایک انٹریو میں کی تھی، اور یہ بھی میری انگریزی ویب سائٹ پر موجود ہے)۔ مکالمے مسرور انور نے لکھے۔ نغمات بھی انہی کو لکھنے تھے لیکن پھر ستمبر ۱۹۶۵ء میں پاک بھارت جنگ چِھڑ گئی۔

اس جنگ کے اسباب، واقعات اور نتائج کے بارے میں ماہرین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے (اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ بعض دوسری جنگیں بھی اسی طرح متنازعہ ہیں حالانکہ وہ متعلقہ قوموں کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں، مثلاً ۱۵۸۸ء کی مشہور جنگ جب اسپین کے بحری بیڑے نے برطانیہ پر حملہ کیا تھا)۔ بہرحال اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس موقع پر پاکستانی عوام اپنے وطن کی حفاظت کرنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے پر آمادہ ہو گئے اور یہ جنگ صرف افواج نے نہیں لڑی بلکہ پوری قوم اس میں شریک تھی۔ فاطمہ جناح اور حزبِ مخالف کے رہنما بھی، جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے انتخاب میں شکست کو دھاندلی قرار دیا تھا، تمام اختلافات کے باوجود حکومت کے ساتھ کھڑے تھے۔

قومی نغمات کے محقق ابصار علی کے مطابق ۶؍ ستمبر کو جب ریڈیو سے اعلان ہوا کہ بھارتی افواج نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے، اُس کے بعد سب سے پہلے احمد رشدی کی آواز میں علامہ اقبال کی یہ نظم پیش کی گئی:

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان
گفتار میں، کردار میں اللہ کی بُرہان

جنگِ ستمبر میں قومی نغموں کی اہمیت اب پاکستان کی تاریخ کا ایک مستقل موضوع ہے۔ اس سلسلے میں میڈم نورجہاں، مہدی حسن، سلیم رضا اور دوسرے گلوکاروں، جمیل الدین عالی، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور دوسرے شاعروں، بہت سے موسیقاروں، اور ریڈیو اور ٹی وی پر پسِ پردہ کام کرنے والے بہت سے لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرنے کے بعد ہم اِس بات کا ذکر کر سکتے ہیں کہ جنگ کے دنوں میں ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ کا نغمہ بھی بار بار بجتا رہا:

بادل تیرے، دریا تیرے، تیری ہر وادی
ہر قیمت پر باقی رکھنا اپنی آزادی
آزادی کی خاطر جینا، آزادی کی خاطر مرنا
تیرا رکھوالا ہے اللہ،
بگڑے کام بنائے مولا،
بولو بچہ، اللہ اللہ!
ہمت سے ہر قدم اُٹھانا تُو ہے پاکستانی
تجھ سے ہی یہ ملک بنے گا دُنیا میں لافانی!

جنگ کے زمانے میں بھی سہیل رعنا اور مسرور انور نے ریڈیو اور ٹی وی کے لیے نغمے بنائے، جن میں سب سے زیادہ مشہور مہدی حسن کی آواز میں گایا ہوا نغمہ ’’اپنی جاں نذر کروں‘‘ ہے۔

ستر ہ دنوں میں جنگ ختم ہو گئی۔ ۱۰؍ جنوری ۱۹۶۶ء کو رُوس کے شہر تاشقند میں صدر ایوب اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے درمیان معاہدہ ہوا۔ پاکستان نے بھارت کی اکثر شرائط مان لیں۔ بھارت نے دونوں ملکوں کی درمیانی سرحد کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا۔ پاکستان میں اس معاہدے کے خلاف احتجاج ہوا کیونکہ جنگ کے دوران یہاں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ پاکستانی افواج، بھارت کو زبرست شکست دے رہی ہیں۔ اس تاثر کی روشنی میں یہی سمجھا جا سکتا تھا کہ میدان میں جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دی گئی۔

مشرقی پاکستان کی طرف سے یہ شکایت سامنے آئی کہ کسی ایسے ہی بھارتی حملے کے خلاف وہاں دفاع کا کافی بندوبست نہیں ہے۔ چنانچہ مارچ ۱۹۶۶ء میں شیخ مجیب الرحمان نے اُس صوبے کی طرف سے جو مطالبات (’’چھ نکات‘‘) پیش کیے، اُن میں ایک مطالبہ اس حوالے سے بھی موجود تھا۔

1965-War-Australian-newspaper

ان واقعات کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں قوم نے جو مقصد اپنایا تھا وہ اب حاصل ہو گیا۔ وہ مقصد ایک ریاست کا حصول تھا۔ ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء میں ہی یہ مقصد حاصل ہو گیا لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ اُس وقت ہمیں صرف خودمختاری اور رقبہ ملا تھا۔ صحیح معنوں میں ریاست کہلانے کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اُس کی ایک مستقل آبادی ہو، جو اُس ریاست کو اور وہاں کی حکومت کو تسلیم کرتی ہو۔ یہ شرائط ۱۹۴۷ء میں پوری نہیں ہوئی تھیں کیونکہ تقسیمِ ہند کے منصوبے کو قبول کرتے ہوئے کانگرس اور ہندو مہاسبھا نے اپنی قراردادوں میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وقتی جوش ٹھنڈا پڑے گا، تقسیم ختم ہو جائے گی اور دونوں ملک پھر ایک ہو جائیں گے۔ یہ پروپیگنڈا اس شدت کے ساتھ کیا گیا کہ تقسیم کے وقت دونوں طرف بہت سے لوگ یہی سوچ رہے تھے کہ یہ عارضی بندوبست ہے، اور جلد ہی ختم ہو جائے گا۔

جنگِ ستمبر کی جو بھی وجوہات رہی ہوں اور جو بھی نتائج نکلے ہوں، بہرحال یہ ثابت ہو گیا کہ پاکستان کے عوام اپنی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ معاہدۂ تاشقند کے بعد بین الاقوامی سرحد کے بارے میں مغالطے بھی دُور ہو گئے اور دونوں ریاستوں میں رہنے والے پورے پورے معنوں میں مستقل شہری سمجھے جانے لگے۔

یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوا کہ ستمبر ۱۹۶۵ء میں عوام ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ریاست کے دفاع کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب بھارت نے باقاعدہ قراردادوں کے ذریعےاِس بات کو اپنی ریاست کا عقیدہ بنا رکھا تھا کہ پاکستان عارضی ہے، اور تقریباً بیس برس تک پوری طاقت کے ساتھ یہی پروپیگنڈا کیا تھا تو پھر پاکستانی عوام وقت آنے پر بلاجھجھک اپنے وطن کے دفاع پر کیسے تیار ہو گئے؟

اس میں حکومتوں کا کوئی دخل نہیں تھا کیونکہ خواجہ ناظم الدین کے بعد کی تمام حکومتوں نے ریاست کے استحکام کے بارے میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ گورنر جنرل غلام محمد نے ۱۹۵۵ء میں فیڈرل کورٹ سے یہ فیصلہ دلوایا کہ پاکستان کبھی آزاد نہیں ہوا اور اُس وقت بھی اُسی طرح برطانیہ کے ماتحت ہے جیسے ۱۹۴۷ء سے پہلے تھا۔ اگلے برس اسکندر مرزا نے اعلان کیا کہ اب پاکستان آزاد ہوا ہے، چنانچہ کوشش کی گئی کہ اس کا سہرا قائداعظم کی بجائے اسکندر مرزا کے سر پر باندھا جائے (نوجوان ذولفقار علی بھٹو نے بھی اُن کے نام خط میں لکھا کہ جب بھی پاکستان کی تاریخ ٹھیک سے لکھی گئی، آپ کا نام جناح کے نام سے پہلے آئے گا)۔ ایوب خاں نے حکومت سنبھالنے کے بعد بھارت کو مشترکہ دفاعی افواج بنانے کی دعوت دے ڈالی جسے وہاں سے وزیراعظم نہرو نے حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ ایوب نے اپنی سوانح میں لکھا (یا لکھوایا) کہ وہ برطانوی استعمار کے خلاف نہرو کی جدوجہدِ آزادی سے بڑے متاثر تھے (قائداعظم کے مطابق کانگرسی لیڈر، جن میں نہرو بھی شامل تھے، درحقیقت انگریزوں کو زیادہ سے زیادہ عرصہ برصغیر میں رکھنا چاہتے تھے اور اُن کی جدوجہدِ آزادی محض ایک ڈھونگ تھا)۔

ارمان کا یونٹ

ادبیات اور فنونِ لطیفہ پر جو لوگ سب سے اونچے مقامات پر فائز تھے، اُن کے خیالات پر ہمیں تنقید کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بہرحال اُن کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان کے وجود کو مستقل بنانے کے مقصد میں اُنہوں نے بھی کوئی مدد نہیں دی۔ کچھ بڑی مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔

فیض احمد فیض، پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے رہنما تھے۔ یہ سیاسی جماعت بھارت کے شہر کلکتہ میں ۶؍مارچ ۱۹۴۸ء کو یہ کہہ کر قائم کی گئی تھی کہ ’’چونکہ پاکستان (بھارت کے مقابلے میں) نسبتاً چھوٹا ملک ہے، اور عدم استحکام کا شکار ہے، اس لیے یہاں انقلاب لانا زیادہ آسان ہو گا‘‘ (وِکی پیڈیا پر صفحہ آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے)۔ اس کے صرف دو ہفتے بعد قائداعظم نے ڈھاکہ میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں بالکل صاف اور واضح طور پر آپ کو بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کے درمیان کچھ کمیونسٹ اور دوسرے ایجنٹ موجود ہیں جنہیں غیرملکی امداد حاصل ہے، اور اگر آپ محتاط نہ رہے، تو آپ کے درمیان انتشار پیدا کر دیا جائے گا‘‘ (قائداعظم کی تقریر کا لِنک یہ ہے)

محمد حسن عسکری کمیونسٹوں کے مقابلے پر میدان میں اُترے اور ’’پاکستانی ادب‘‘ کی دلفریب اصطلاح پیش کی لیکن اُن کا کہنا تھا، ’’جناح صاحب جس چیز کو حقیقت کہیں گے وہ سوفیصدی وہی چیز نہیں ہو گی جسے میں حقیقت کہہ سکوں…اس کی وجہ یہ ہے کہ شیکسپئر، حافظ، میر، بودیلئر اور جوئس، جناح سے کئی گنا بڑے ہیں اور انسانیت کے لیے زیادہ اہم ہیں۔‘‘

قرۃ العین حیدر کے ’’آگ کا دریا‘‘ (۱۹۵۹) کو بہت سے دانشوروں نے اُردو کا سب سےعظیم ناول قرار دیا۔ اس میں ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کی روشنی میں دکھایا گیا کہ پاکستان کو وجود میں نہیں آنا چاہیے تھا۔ عبداللہ حسین کے ناول ’’اُداس نسلیں‘‘ (۱۹۶۳) کو بھی بلندترین مقام دیا جا رہا تھا۔ اس میں قیامِ پاکستان سے ذرا پہلے کے مسلمان معاشرے کی تصویر پیش کی گئی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ قائداعظم کا کہنا بالکل غلط تھا کہ یہ قوم اپنا کھویا ہوا کردار دوبارہ حاصل کر چکی ہے۔

مذہبی رہنماؤں میں سب سے اونچا بولنے والوں کی شان یہ تھی کہ حکومت کی کوئی ادا پسند آ جائے تو کہہ دیتے تھے کہ آج ریاست مسلمان ہو گئی ہے، اور کسی بات پر ناراض ہو جائیں تو عوام کو سڑکوں پر لے آتے تھے۔

حکومت، ادب اور مذہب کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ان معززترین ہستیوں کی خدمات جتنی بھی قابلِ قدر رہی ہوں، انہوں نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش ہرگز نہیں کی تھی کہ ابھی سب کچھ چھوڑ کر ریاست کے وجود کو مستقل بنانے پر توجہ دو۔ اس مقصد کے لیے اگر ناگوار باتیں بھی برداشت کرنی پڑیں تو کر لو کیونکہ ریاست پائیدار ہو گئی تو بعد میں آنے والی نسلیں اس کے اندرونی حالات خود ہی درست کر لیں گی۔

ارمان

یہ پیغام سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شدومد کے ساتھ ابنِ صفی نے دیا۔ اُن سے پہلے بھی بعض ناول نگار پاکستان سے محبت کا درس دے رہے تھے، جیسے ایم اسلم، نسیم حجازی اور دوسرے، لیکن ابنِ صفی پہلے مصنف تھے جنہوں نے کہا کہ حُبُ الوطنی کا ثبوت یہی ہے کہ قانون اور ریاست کی غیرمشروط اطاعت کی جائے۔ اِس اطاعت کا تصوّر بڑی پرانی ریاستوں کے شہریوں کے لیے بھی ایک کڑوی دوا ہوتا ہے، لیکن ابن صفی نے اِس میں ایسی شیرینی ملائی کہ ہندوستان اور پاکستان جیسی نوزائیدہ ریاستوں کے شہری بھی نشے کی طرح اس کے عادی ہو گئے (اور یہ بات معنی خیز ہے کہ جنگِ ستمبر میں دونوں ریاستوں کے سربراہ یعنی لال بہادر شاستری اور صدر ایوب کسی نہ کسی لحاظ سے ابنِ صفی کے ناولوں کی سرپرستی کر چکے تھے)۔ ابن صفی اور اُن کے ساتھیوں کے بعد دوسرا گروہ اُن شاعروں، فنکاروں اور فلمیں بنانے والوں کا تھا جن کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے (جس میں اور ناموں کا اضافہ ہو سکتا ہے، جیسے میاں بشیر احمد جنہوں نے ۱۹۴۰ء میں قراردادِ پاکستان کے موقع پر نظم ’’ملّت کا پاسباں‘‘ پیش کی تھی)۔

اِن لوگوں کے ذہن اپنے مقصد کے حوالے سے اتنے صاف تھے کہ حیرت ہوتی ہے، مثلاً ابن صفی نے لکھا ہے:

’’میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن ۱۹۴۷ء میں جو کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ سڑکوں پر خون بہہ رہا تھا اور عالمی بھائی چارے کی باتیں کرنے والے سوکھے سہمے اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ہنگامہ فرو ہوتے ہی پھر پناہ گاہوں سے باہر آ گئے اور چیخنا شروع کر دیا۔ ’یہ نہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ بہت برا ہوا۔ ‘ لیکن ہوا کیوں؟ تم تو بہت پہلے سے یہی چیختے رہے تھے۔ تمہارے گیت دیوانگی کے اِس طوفان کو کیوں نہ روک سکے۔

’’میں سوچتا …سوچتا رہا۔ آخر کار اِس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی میں جب تک قانون کے احترام کا سلیقہ پیدا نہیں ہو گا یہی سب کچھ ہوتا رہے گا۔ یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام سیکھے۔ اور جاسوسی ناولوں کی راہ میں نے اسی لیے منتخب کی تھی۔ تھکے ہارے ذہنوں کو تفریح بھی مہیا کرتا ہوں اور انہیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے۔ اور دوسروں سے قانون کا احترام کرانے کے لیے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔‘‘

پرویز ملک سے میں نے ۱۹۹۶ء میں پوچھا کہ آپ نے حبُ الوطنی کے موضوع پر جو ڈھیر ساری فلمیں بنائیں، اُن میں جمہوریت اور شہری حقوق کے حوالے سے سوالات کیوں نہیں اٹھائے؟ اُن کا جواب تھا، ’’اس قسم کے مسائل کافی آگے کی باتیں ہیں۔ یہ بعد میں آتے ہیں۔‘‘

اقبال رضوی سے میری ملاقات ۲۰۱۴ء میں ہوئی جب ملک میں اپنے مستقبل سے مایوسی کی وبا پھیلی ہوئی تھی (یہ عمران خاں کے دھرنے سے پہلےکی بات ہے)، لیکن رضوی نے کہا کہ اُنہیں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی شک شبہ نہیں ہے۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ جو لوگ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہاں رہتے تھے اور جو تقسیم کے بعد ہجرت کر کے یہاں آئے، دونوں کی اولادوں نے اسے اپنا وطن تسلیم کر لیا ہے۔

ارمان

سہیل رعنا سے اُسی برس (۲۰۱۴ء میں) کینیڈا کے ایک ٹی وی چینل نے پاکستان کی مشکلات کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ دس بیس برس کی مشکلات ایک قوم کی زندگی میں کوئی خاص بات نہیں، بڑی بڑی طاقتیں اس سے بھی برے حالات سے گزری ہیں۔ صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہر شخص خلوص کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرے۔ مسائل کے حل کے لیے قائداعظم کے تین نکات بہت کافی ہیں، ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط۔

یہ ہے وہ نظریہ جسے یہ لوگ د ن رات عوام کے دل و دماغ تک پہنچاتے تھے، کبھی کھلے الفاظ میں یہ کہہ کر کہ ’’ہر قیمت پر باقی رکھنا اپنی آزادی‘‘ ، اور کبھی جاسوسی کہانیوں اور رومانی داستانوں کے پیرائے میں۔ ۶؍ ستمبر کی صبح اگر پاکستانی عوام ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر جان قربان کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے، اُس وطن کے لیے جو صرف انیس برس پہلے وجود میں آیا تھا، تو یہ بات خودبخود نہیں ہو گئی۔ اس کے لیے ایک خاص مکتبِ فکر نے دن رات محنت کی تھی:

بے معجزہ دنیا میں اُبھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہُنر کیا!

جنگِ ستمبر حقیقت میں اِس قسم کے ادب کی فتح بھی تھی، اور فتح کا جشن پوری قوم نے فلم ’’ارمان‘‘ دیکھ کر منایا۔
——–

’’ارمان‘‘ ۱۶؍ مارچ ۱۹۶۶ء کو رِیلیز ہوئی۔ یہ پہلی اُردو فلم تھی جس نے پلاٹینم جوبلی (پچھتر ہفتے) حاصل کی۔ وحید مراد کو بہترین پروڈیوسر کا نگار ایوارڈ ملا۔ زیبا، مالا اور احمد رشدی نے بھی ایوارڈ حاصل کیے۔ فلم کے تمام نغمے بیحد مقبول ہوئے۔ وحید مراد مقبول ترین ہیرو بن گئے۔ کہا جاتا تھا کہ لڑکیوں کے پرس میں وحیدمراد کی تصویریں ہوتی ہیں۔ بہرحال اُن کا ہئر اسٹائل اکثر نوجوانوں کے چہروں پر دکھائی دیتا تھا۔ پرویز ملک نے لکھا ہے:

’’اُس زمانے میں وحید کو مذہب سے بھی لگاؤ تھا۔ ہم لوگ نماز جمعہ پڑھنے کے لیے اکٹھے جایا کرتے۔ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر اکثر حاضری دیتے اور پھر ایک دفعہ ہم دونوں نے حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری کا پروگرام بنایا۔ عرس کا موقع تھا اور وہاں بے پناہ ہجوم تھا۔ لوگوں نے وحیدمراد کو پہچان لیا اور پھر اُس کا گھیراؤ کر لیا۔ وحیدمراد اس ہجوم کے ریلے سمیت مزار شریف میں داخل ہوا۔ بڑی مشکل سے فاتحہ پڑھی اور پھر تقریباً ان لوگوں کے کندھوں پر باہر آیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد وحید نے مساجد اور مزاروں میں جانا بند کر دیا تھا۔ وہ لوگوں کے اِس رویہ سے پریشان ہو جاتا تھا جو اُسے دیکھ کر اپنے مقصد کو بھول جاتے ہیں۔ کہتا تھا، ’میری وجہ سے اِن مقدس مقامات کی بے حرمتی ہوتی ہے۔‘‘

پچاس برس سے زیادہ عرصہ گزرنے پر بالکل واضح ہو چکا ہے کہ قوم کی تاریخ میں اِس فلم کا مقام سب سے جدا ہے۔ ہدایتکار نذرالاسلام نے نہ صرف اپنی مقبول ترین فلم ’’آئینہ‘‘ (۱۹۷۷) میں ہیروئین کا نام نجمہ رکھاجو ’’ارمان‘‘ کی ہیروئین کا نام ہے ( ’’آئینہ‘‘ میں ہیروئین اگرچہ ریٹا کے نام سے پکاری جاتی ہے لیکن ایک مقام پر بتاتی ہے کہ اُس کا اصل نام نجمہ ہے)، بلکہ اپنے بیٹے کا نام بھی ارمان رکھا اور فلم ’’نہیں ابھی نہیں‘‘ میں مرکزی کردار کا نام بھی یہی ہے۔ وہ کردار ادا کرنے والے فیصل رحمٰن نے بہت سال بعد ’’نہیں ابھی نہیں‘‘ کے دوسرے حصے کا ہلاٹ بنایا جس میں یہ کردار، ارمان، بڑے ہونے کے بعد خیالوں میں علامہ اقبال کے پاس پہنچتا ہے۔ یہ فلم اقبال اکادمی پاکستان نے پروڈیوس کی اور میں نے اسکرپٹ لکھا لیکن اس کی کہانی اور بعض مناظر فیصل ہی کے لکھے ہوئے ہیں (میرے اصرار کے باوجود اُنہوں نے کریڈٹ میں اپنا نام شریک مصنف کے طور پر نہیں دیا)۔ اس طرح فلم ’’ارمان‘‘ سے شروع ہونے والی روایت یہاں تک پہنچی ہے۔

ارمان

حال ہی میں بعض چاہنے والوں نے، یقیناً اچھی نیت کے ساتھ، اس فلم سے وابستگی کا اظہار کچھ ایسے طریقوں سے بھی کیا ہے جو فلم کو کسی اور رنگ میں ڈھالنے کی کوشش بن گئے۔ ایک ٹی وی چینل نے ’’ری میک‘‘ میں کہانی بدل دی (میں نے دوسروں سے سنا ہے، مجھے وہ ری میک دیکھنے کی ہمت نہیں ہو سکی ہے)۔ پچھلے دنوں کچھ چاہنے والوں نے ’’کوکوکورینہ‘‘ کے ساتھ اسی قسم کی آزادی لی تو دو بڑی سیاسی جماعتوں کی دو بڑی شخصیات جو شاید ملکی معاملات میں کسی نظریے پر متفق نہ ہو سکتی ہوں، بذریعہ ٹوئٹر اِس بات پر متفق ہو گئیں کہ ’’کوکوکورینہ‘‘ کی سالمیت برقرار رہنی چاہیے۔

اب ’’ارمان‘‘ کی تشریح صرف ایک فلم کے طور پر نہیں کی جا سکتی۔ اسے قومی ورثے میں جگہ مل چکی ہے۔ اس ورثے کی دوسری چیزوں کے درمیان اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ وہ خواب ہے جسے قوم نے عین اُس وقت دیکھا جب وہ اپنا پہلا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اُس وقت وحید نے جو کتابچہ جاری کیا اُس میں کہانی کا خلاصہ انگریزی اور اُردو میں الگ الگ درج تھا (مجھے یہ کتابچہ اپنے دوست اور محقق اختر وسیم ڈار کی مہربانی سے حاصل ہواہے)۔ اُردو خلاصہ اِس طرح تھا:

’’ارمان دو دھڑکتے ہوئے دلوں کی کہانی ہی نہیں اُس گمراہی کے خلاف ایک آواز ہے، جس کی ظاہری چمک دمک اندھیروں کا زہر پلا کر زندگی کو کبھی نہ ختم ہونے والا اضطراب بنا دیتی ہے۔ سیما (ترنم) لاہور کے کالج میں پڑھتی ہے، جہاں اس کی ملاقات سہیل (قمر) سے ہوئی۔ یہ ملاقات جلد ہی ایک ایسی محبت میں بدل گئی جو رُوحانی رشتوں کا نام لے کر گناہوں کو جنم دیتی ہے۔

’’نجمہ (زیبا) سیما کی ایک بے سہارا رشتہ کی بہن نے اس گناہ کو خاندان کی عزت کا سوال بننے سے پہلے سیما سے بچہ کی پرورش اور اس راز کو چھپانے کا وعدہ کر لیا۔ بیگم صاحبہ (بِبو) جلد اپنی بیٹی سیما اور ڈولی (روزینہ) کی شادیوں سے سبکدوش ہو جانا چاہتی تھیں۔ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر کے دوست خان بہادر وجاہت (ظہور) کو رشتہ کا پیغام بھجوا دیا۔ اُن کا اکلوتا، کھلنڈرا اور شوخ مزاج لڑکا ناصر (وحید مراد) اپنے دوست شاہد (نرالا) کے ہمراہ مری آیا تاکہ ان دونوں لڑکیوں میں سے کسی ایک کو شریکِ زندگی بنا لے۔ مگر ناصر نجمہ کو دل دے بیٹھا۔ خان بہادر صاحب نے بیٹے کی خواہش پر نجمہ کو بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر جب یہ انکشاف ہوا کہ نجمہ ایک بچہ کی ماں ہے تو سب لوگ دم بخود رہ گئے۔ اتنا بڑا فریب! ناصر کو یقین نہ آتا تھا۔ نجمہ راز کو چھپانے کا وعدہ کر چکی تھی، وہ بھلا کیسے زبان کھولتی۔ خان بہادر صاحب کے اصرار پر مجبوراً ناصر نے سیما سے شادی کر لی۔

وحید مراد، زیبا اور پرویز۔ ارمان کی لوکیشن پہ

’’کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک اتفاقیہ حادثہ نے غریب نجمہ کو ایک دفعہ پھر سیما اور ناصر کی زندگی میں دھکیل دیا۔ اور پھر انہی دنوں سہیل جو مرچنٹ نیوی میں چلا گیا تھا لوٹ آیا۔ سیما کو سیل کے آجانے سے اپنے راز کے کھل جانے کا ڈر پیدا ہوا گیا۔ نجمہ نے اس مرحلہ پر بھی سیما کی مدد کی۔ مگر جرم اور گناہ زیادہ عرصہ تک چھپا نہیں رہ سکتا۔ ایک دن ناصر کو سب کچھ معلوم ہو گیا۔ سہیل اپنا بچہ واپس مانگ رہا تھا۔ ناصر کو اپنی پاکیزہ محبت کی تلاش تھی۔ حالات کی یہ اُلجھن کس طرح سلجھی، یہ آپ فلم ’ارمان‘ میں دیکھیں گے۔‘‘

’’ارمان‘‘ کے ہیرو کے کردار پر سہیل رعنا نے ایک انٹرویو میں اِس طرح روشنی ڈالی ہے:

’’ارمان کی بات یہ ہے کہ ایک لڑکے کی کہانی ہے جو ماڈرن ہے، اور جو کلبوں میں جانا پسند کرتا ہے۔ اور اُن کلبوں میں کیا ہوتا تھا؟ روک ان رول، فاکس ٹراٹ، ٹوئیسٹ۔ اگر وہاں وہ گیت گاتا ہے تو مغربی ٹچ، مغربی بِیٹ، مغربی ساز — یہی ہم نے ’کوکوکورینہ ‘ کے ساتھ کیا۔ مگر ہم نے بیک گراؤنڈ ذرا مشرقی رکھا۔ ’کوکوکورینہ ‘ کا مقصد لڑکے کا وہ کردار ظاہر کرنا تھا جو کہانی کے شروع میں ہے۔ اس کے بعد وہ ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر میچور ہوتا ہے، اُس میں ایک تبدیلی آتی ہے۔ اب وہ کلبوں میں نہیں جاتا، وہ اپنی محبوبہ کو کلب نہیں لے جاتا، نہ ہی اُسے ایسی لڑکی محبوبہ کے طور پر چاہیے۔ اس لیے اب وہ اپنے جذبات کا اظہار ’اکیلے نہ جانا ‘ سے کرتا ہے، جو راگ ایمن میں ہے۔ یہ گیت ہمارے اپنے آرٹ، ہماری اپنی اقدار، ہماری اپنی علامتوں پر مشتمل ہے۔ بعد میں جب وہی لڑکا کلب واپس جاتا ہے تو وہ ایک مختلف گیت گا رہا ہے۔ کلب میں چیزیں اُسے سائے جیسی غیرحقیقی لگ رہی ہیں– ’’سائے کی طلب کرنے والو‘‘ – اور وہ راگ بھوپالی میں اظہار کرتا ہے، ’’جب پیار میں دو دل ملتے ہیں‘‘ ۔ اب، یہ گیت، ’کوکوکورینہ ‘ سے بہت مختلف ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے ایک ہی کردار سے اُس کی زندگی کے تین مختلف مراحل میں تین مختلف گیت گوائے ہیں [اور] میں نے اُن میں سے ہر ایک کا جواز آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔‘‘

سہیل رعنا نے یہ نہیں کہا کہ یہ علامتی فلم تھی، لیکن انہوں نے اس بات سے منع بھی نہیں کیا کہ اس میں مزید معانی تلاش کیے جائیں جو فلم بنانے والوں کے نظریۂ حیات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

اس لیے آئیے، اپریل ۱۹۴۶ء کا تصوّر کرتے ہیں جب پورے برصغیر کے مسلم نمایندوں نے اکٹھے ہو کر کہا کہ ہندوستان اور پاکستان میں اقلیتوں کے ’’مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دوسرے حقوق اور مفادات‘‘ کی حفاظت اُن کے مشورے سے مؤثر طور پر کی جائے۔ اُس وقت اُن کے سامنے پاکستان کا تصوّر کتنا خوبصورت اور پاکیزہ تھا۔ اس کے ساتھ وفاداری کا عہد کرتے ہوئے، اور یہ سمجھتے ہوئے کہ قوم کے سب افراد بھی اُن کے ساتھ مل کر عہد کر رہے ہیں، اُنہوں نے اپنے خوابوں کےپاکستان کے بارے میں کیا ’’ارمان‘‘ محسوس کیا ہو گا؟ شاید پورے اُردو ادب میں اُن جذبات کی ترجمانی کے لیےاس سے بہتر الفاظ موجود نہیں ہیں کہ:

ارمان

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بِنا ہم بھلا کیا جئیں گے!
دِیا حوصلہ جس نے جینے کا ہم کو
وہ اِک خوبصورت سا احساس ہو تم
جو مٹتا نہیں دل سے تم وہ یقیں ہو
ہمیشہ جو رہتی ہے وہ آس ہو تم
یہ سوچا ہے ہم نے کہ اب زندگی بھر
تمہاری محبت کو سجدہ کریں گے
فسانہ جو اُلفت کا چھیڑا ہے تم نے
ادھورا نہ رہ جائے یہ سوچ لینا
بچھڑ کے زمانے سے پایا ہے تم کو
کہیں ساتھ تم بھی نہ اب چھوڑ دینا
یہی ہے تمنا، یہی التجا ہے
اور اِس کے سوا ہم بھلا کیا کہیں گے!

سہیل رعنا نے یہ دُھن شعوری طور پر ایجاد نہیں کی تھی بلکہ خواب میں سُنی تھی۔ تحریکِ پاکستان کے وقت وہ بچے تھے۔ اُس زمانے کے بہت سے محسوسات اُن کے لاشعور میں بھی رہے ہوں گے۔ اگر وہاں سے خواب میں منتقل ہوتے ہوئے وہ موسیقی میں ڈھل گئے تو کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ وہ ایک موسیقار کا خواب تھا۔ اسی دُھن پر مسرور انور نے مصرعے لکھے۔ نتیجے میں جو گیت سامنے آیا اُس میں سے اگر پاکستان کا عہدنامہ برآمد نہ ہوتا تو ضرور تعجب کی بات ہوتی۔ کیونکہ انہی سہیل رعنا نے چند برس میں ’’جیوے پاکستان‘‘ اور ’’سوہنی دھرتی‘‘ کی دُھنیں مرتب کرنی تھیں اور مسرور انور نے ’’سوہنی دھرتی‘‘ اور ’’وطن کی مٹی‘‘ لکھنےتھے۔ ان لوگوں کے لاشعور سے اور کس چیز کے برآمد ہونے کی توقع رکھنی چاہیے؟

ترے مغنی کی ہر صدا میں تری ہی خوشبو مہک رہی ہے!
ہر ایک دُھن میں ہر ایک لَے میں تری محبت چمک رہی ہے،
گواہ رہنا! وطن کی مٹی، گواہ رہنا!

جہاں تک وحید کا تعلق ہے، اُنہوں نے اپنے فن کی تشریح میں لمبے چوڑے بیانات نہیں چھوڑے ہیں۔ لیکن ’’ارمان‘‘ میں جو بات غیرشعوری طور پر کہی گئی، وہ اسی سال ریلیز ہونے والی ’’بھیا‘‘ میں شعوری طور پر کہی جا رہی تھی، اور اُس کے ہیرو بھی وحید تھے۔ یہ فلم محترمہ ساجدہ انیس ڈوسانی نے مشرقی پاکستان سے پیش کی تھی۔ کہانی کے ایک مقام پر جب غریب ہیروئین (چترا سنگھ) کو سرمایہ دار کے ہاتھوں ایک سخت صدمہ پہنچتا ہے تو وہ روتے روتے قائداعظم کی تصویر کی طرف دیکھتی ہے۔ اُس کے تصوّر میں تحریکِ پاکستان کی جھلکیاں آتی ہیں اور ذہن میں قائد اعظم کے مشہہور الفاظ گونجتے ہیں (۱۹۴۳ء کے مسلم لیگ کے اجلاس دہلی کے خطبۂ صدارت سے)، ’’زمیندار، مہاجن، سرمایہ دار اور خودغرض لوگ اگر یہ سمجھ بیٹھے کہ اِس ملک میں اُنہی کا راج ہو گا تو وہ غلطی کریں گے۔ پاکستان میں اگر غریب مزدور کی عزت محفوظ نہ ہو تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے۔‘‘

وہ تصویر کو مخاطب کر کے کہتی ہے:

’’تمہارا پیغام ہم نہیں بھولے قائد! بھول چکے وہ دَھن والے جو ملک کو اپنی جائیداد سمجھتے ہیں۔ جو اپنی خوشی کے لیے ہمارا سُکھ چین کچل دیتے ہیں۔ ہمیں برباد کر دیتے ہیں، میرے محسن! اُن کے خلاف میری یہ فریاد ہے۔ اُن کے خلاف آج میرا سنگرام ہے۔‘‘

اس کے بعد وہ خدا سے دعا مانگتی ہے، ’’مجھے ہمت دے، طاقت دے تاکہ میں بتا سکوں کہ ہماری بھی عزت ہے۔ ہمارا قائد سچا ہے، اُس کا کہا سچا ہے۔‘‘

—جاری ہے—

اگلی قسط کا عنوان ’’لہراتا سمندر‘‘ ہے۔ ۱۹۴۷ء میں قوم نے جو مقصد اپنایا تھا اُسے ۱۹۶۶ء میں حاصل کر لیا۔ اُس کے بعد کون سا مقصد متفقہ طور پر اپنایا گیا اور وحید مراد کے فن میں وہ کس طرح ظاہر ہوا؟ اس لنک پہ پڑھیے۔


“اکیلے نہ جانا” گانا

Interview of Sohail Rana (2014):

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: