مولوی اور لبرل مناظرہ باز: زوال کا سبب ——- رعایت اللہ فاروقی

0
  • 60
    Shares

کبھی آپ نے اس سادہ سے سوال پر غور کیا کہ علمی تحقیق کے ذریعے انسان حاصل کیا کرنا چاہتا ہے؟ تحقیق جس شعبے کی بھی ہو انسان پہنچنا “حقیقت” تک چاہتا ہے کیونکہ کسی چیز کو رد تو شاید شک کی بنیاد پر بھی کردیا جائے لیکن قبول تب تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کی حقیقت معلوم نہ ہو جائے۔ کائنات کی تمام حقیقتوں کا کچھ حصہ روح میں پوشیدہ ہے تو کچھ مادے میں اور انسان مختلف علوم، فنون اور ریاضتوں کی مدد سے اپنے اپنے شوق و ذوق کے شعبہ حیات کی “حقیقت” تک پہنچنا چاہتا ہے۔ یہ درحقیقت “حق پرستی کی تحریک” ہے اور اس میں کامیابی اسی کو ملتی ہے جو “حقیقت پسند” ہو۔ ہرچند کہ ایسے لوگ اکا دکا عہد زریں میں بھی دیکھے گئے مگر ہمارے زمانے کو تو تھوک کے حساب سے دستیاب ہیں جو سراب پر محض پانی کا ہی نہیں بلکہ آب حیواں کا گماں کرکے یہ کہتے ہوئے رک گئے “میں نے حقیقت پالی” لیکن ایسے لوگ تاریخ میں ذکر خیر نہیں پاسکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے اپنے لئے کوئی حریف ڈھونڈتے ہیں اور جب مل جائے تو پھر لاحاصل بحث بازی یا مناظرے کی مدد سے اسے “لاجواب” کرنا اپنا مقصد حیات بنا لیتے ہیں۔ اور خوش گمانی کا یہ عالم کہ ان سرگرمیوں سے متعلق ان کا ارشاد ہوتا ہے

“میرا اوڑھنا بچھونا تو بس یہی ہے”

لاحاصل بحث بازی یا مناظرے کی جہل سے تین بڑی نسبتیں ہیں:
ایک یہ کہ اس کا مقصد قائل کرنا نہیں بس لاجواب کرنا ہوتا ہے اور لاجواب کرنا شیطانی مزاج کے سوا کچھ نہیں۔ تخلیق آدم کا موقع ہی دیکھ لیجئے کہ فرشتوں نے تو سمجھنے کے لئے خدا سے اس ہستی کی تخلیق کا سبب پوچھا اور خدا نے بھی آگے سے یہ نہ فرمایا کہ میں خالق و مالک، تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے؟ بلکہ جواب دیا اور قائل کیا۔ جبکہ شیطان تخلیق کے بعد بھی اکڑ کر کھڑا ہوگیا کہ میں تو لاجیکل دلیلیں دے کر آپ کو لاجواب کروں گا کہ “مجھ سے بہتر کوئی نہیں” اور “مناظر اول” کی دلیل فقط یہ کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی سے، آگ مٹی سے بہتر ہے لھذا میں آدم سے بہتر ہوا۔ مناظرے کے شوق کا نتیجہ پھر وہی نکلا جو مناظرین کا نصیب ہے۔ ابدی ذلت ہی نصیب ہوئی شیطان کو۔ اس کے برخلاف قائل کرنا خدائی سنت ہے۔ جس نے اپنی ہی مخلوق کا خالق و مالک ہونے کے باوجود اسے قائل کرنے کے لئے چار کتابیں اور کئی صحیفے اتارے۔ اور اس باب میں بھی برا بھلا سب خوب سمجھا کر فرما دیا، اب “مرضی تمہاری” جس راہ پر چلو مگر یاد رکھنا ہر راہ کے “نتائج” میں نے بتا دئے، کل کو یہ نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی تھی۔
مناظرے اور لاحاصل بحث بازی کی جہل سے دوسری نسبت یہ ہے کہ اس کی پہلی شرط “محدود وقت” ہوتا ہے۔ اگر مقصد “حقیقت تک پہنچنا” ہو تو یہ کیسے طے ہوسکتا ہے کہ یہ مقصد کتنے عرصے میں حاصل ہو سکتا ہے؟ مثلا سائنسدان ایڈز کے علاج کی حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں اور وہ مسلسل اس پر سالہا سال سے تحقیق کر رہے ہیں لیکن تاحال پہنچ سکے ہیں اور نہ ہی یہ بتا سکتے ہیں کہ ایسا کب تک ممکن ہوپائے گا؟ جبکہ مناظرہ اسی لمحے ختم ہوجاتا ہے جس لمحے فریقین میں سے ایک لاجواب ہوجائے۔ بھلا لاجواب ہونا بھی غلط ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے؟ یہ تو فقط ایک فریق کے فہم کے خاتمے کی دلیل ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ دروازے کے باہر اس سے بھی بڑا مناظر کھڑا ہو جو کسی بھی لمحے ہال میں داخل ہوکر فاتح مناظر کو “لاجواب” کردے۔
مناظرے کی جہل سے تیسری نسبت یہ ہے کہ اس کا اختتام تذلیل پر ہوتا ہے اور تذلیل علمی سرگرمی نہیں۔

مسلم دنیا کا موجودہ اجتماعی مزاج مناظرے کا ہے جس میں لاجواب کرنا مقصد حیات بن چکا ہے۔ ہم مولویوں کی طرف دیکھیں تو خادم حسین رضوی نظر آتے ہیں اور سائنسدانوں کی جانب نظر اٹھائیں تو پرویز ہود بائی۔ دونوں ہی ماشاءاللہ اعلیٰ نسل کے مناظر ہیں اور دونوں ہی اپنے حریف کی تذلیل میں سکون پاتے ہیں۔ حقیقت تک پہنچنا مسلمانوں کے اجتماعی مزاج سے خارج ہوچکا جو روحانی و سائنسی دونوں ہی میدانوں کا بنیادی مقصد ہے۔ اور یہی پچھلے سات سو سال سے جاری ہمارے زوال کا اصل سبب ہے۔ جس دن ہم نے مناظرے کے بجائے تحقیق اور لاجواب کرنے کے بجائے قائل کرنا اور قائل ہونا شروع کردیا، ہماری ترقی کا آغاز ہوجائے گا۔ ہمارے سماج میں کوئی لبرل ہے جسے خادم حسین رضوی سے شکایت ہے اور کوئی مولوی ہے جسے پرویز ہود بائی سے تکلیف ہے کیونکہ کسی نہ کسی درجے میں یہ سب بھی لاجواب کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے پرویز ہود بائی نے اس کے حصے کے خادم حسین رضوی کو لاجواب کر رکھا ہے تو کسی کے خادم حسین رضوی نے اس کے نصیب کے پرویز ہود بائی کی بولتی بند فرما رکھی ہے۔ لیکن کچھ ہم سے بیچارے بھی ہیں جو دونوں ہی کے ہاتھوں عذاب میں ہیں، سو دونوں ہی سے کھری کھری سنتے ہیں۔ ملا ہم جیسوں کو لبرل کہتا ہے اور لبرل کے نزدیک ہم ملا ہیں۔ مشکل یہ آن پڑی ہے کہ اگر کبھی کسی لبرل کی درست بات کو درست کہدیں تو وہ اسے شیئر کرکے ہماری حقیقت پسندی کی تحسین فرماتے ہیں لیکن انہی موصوف کی کسی غلط بات کو غلط کہ دیں تو ان کے دست عظمت سے کھڑے کھلوتے “منافق” کا ٹائٹل پا جاتے ہیں۔ اور بعینہ یہی کچھ مولوی صاحب سے بھی آئے روز بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے تو عصر حاضر کے “فقہاء” تک سے ذاتی حملے بھگت چکے۔ گویا جب ایک بار سراہ دیا تو لازم ہے کہ ہر بات کو سراہا جائے۔ یہ منطق آپ کو سمجھ آتی ہے؟ کوئی بتا سکتا ہے، جس کے ایک کام کو سراہ دیا اس کے ہر کام کو سراہنا کیوں واجب ہے؟ اور جس کے ایک اقدام کو مسترد کردیا اس کے تمام اقدامات کو مسترد کرنا کیوں لازم ؟ زمانہ وہ کہ ہم زوال کی انتہائی حد کو چھو چکے اور شوق یہ کہ “معصوم عن الخطاء” ہونے سے کم پر ملا تو ملا لبرل بھی راضی نہیں!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: