تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

مولوی اور لبرل مناظرہ باز: زوال کا سبب ——- رعایت اللہ فاروقی

by دانش ڈیسک 01/12/2018
written by دانش ڈیسک 01/12/2018
104

کبھی آپ نے اس سادہ سے سوال پر غور کیا کہ علمی تحقیق کے ذریعے انسان حاصل کیا کرنا چاہتا ہے؟ تحقیق جس شعبے کی بھی ہو انسان پہنچنا “حقیقت” تک چاہتا ہے کیونکہ کسی چیز کو رد تو شاید شک کی بنیاد پر بھی کردیا جائے لیکن قبول تب تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کی حقیقت معلوم نہ ہو جائے۔ کائنات کی تمام حقیقتوں کا کچھ حصہ روح میں پوشیدہ ہے تو کچھ مادے میں اور انسان مختلف علوم، فنون اور ریاضتوں کی مدد سے اپنے اپنے شوق و ذوق کے شعبہ حیات کی “حقیقت” تک پہنچنا چاہتا ہے۔ یہ درحقیقت “حق پرستی کی تحریک” ہے اور اس میں کامیابی اسی کو ملتی ہے جو “حقیقت پسند” ہو۔ ہرچند کہ ایسے لوگ اکا دکا عہد زریں میں بھی دیکھے گئے مگر ہمارے زمانے کو تو تھوک کے حساب سے دستیاب ہیں جو سراب پر محض پانی کا ہی نہیں بلکہ آب حیواں کا گماں کرکے یہ کہتے ہوئے رک گئے “میں نے حقیقت پالی” لیکن ایسے لوگ تاریخ میں ذکر خیر نہیں پاسکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے اپنے لئے کوئی حریف ڈھونڈتے ہیں اور جب مل جائے تو پھر لاحاصل بحث بازی یا مناظرے کی مدد سے اسے “لاجواب” کرنا اپنا مقصد حیات بنا لیتے ہیں۔ اور خوش گمانی کا یہ عالم کہ ان سرگرمیوں سے متعلق ان کا ارشاد ہوتا ہے

“میرا اوڑھنا بچھونا تو بس یہی ہے”

لاحاصل بحث بازی یا مناظرے کی جہل سے تین بڑی نسبتیں ہیں:
ایک یہ کہ اس کا مقصد قائل کرنا نہیں بس لاجواب کرنا ہوتا ہے اور لاجواب کرنا شیطانی مزاج کے سوا کچھ نہیں۔ تخلیق آدم کا موقع ہی دیکھ لیجئے کہ فرشتوں نے تو سمجھنے کے لئے خدا سے اس ہستی کی تخلیق کا سبب پوچھا اور خدا نے بھی آگے سے یہ نہ فرمایا کہ میں خالق و مالک، تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے؟ بلکہ جواب دیا اور قائل کیا۔ جبکہ شیطان تخلیق کے بعد بھی اکڑ کر کھڑا ہوگیا کہ میں تو لاجیکل دلیلیں دے کر آپ کو لاجواب کروں گا کہ “مجھ سے بہتر کوئی نہیں” اور “مناظر اول” کی دلیل فقط یہ کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی سے، آگ مٹی سے بہتر ہے لھذا میں آدم سے بہتر ہوا۔ مناظرے کے شوق کا نتیجہ پھر وہی نکلا جو مناظرین کا نصیب ہے۔ ابدی ذلت ہی نصیب ہوئی شیطان کو۔ اس کے برخلاف قائل کرنا خدائی سنت ہے۔ جس نے اپنی ہی مخلوق کا خالق و مالک ہونے کے باوجود اسے قائل کرنے کے لئے چار کتابیں اور کئی صحیفے اتارے۔ اور اس باب میں بھی برا بھلا سب خوب سمجھا کر فرما دیا، اب “مرضی تمہاری” جس راہ پر چلو مگر یاد رکھنا ہر راہ کے “نتائج” میں نے بتا دئے، کل کو یہ نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی تھی۔
مناظرے اور لاحاصل بحث بازی کی جہل سے دوسری نسبت یہ ہے کہ اس کی پہلی شرط “محدود وقت” ہوتا ہے۔ اگر مقصد “حقیقت تک پہنچنا” ہو تو یہ کیسے طے ہوسکتا ہے کہ یہ مقصد کتنے عرصے میں حاصل ہو سکتا ہے؟ مثلا سائنسدان ایڈز کے علاج کی حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں اور وہ مسلسل اس پر سالہا سال سے تحقیق کر رہے ہیں لیکن تاحال پہنچ سکے ہیں اور نہ ہی یہ بتا سکتے ہیں کہ ایسا کب تک ممکن ہوپائے گا؟ جبکہ مناظرہ اسی لمحے ختم ہوجاتا ہے جس لمحے فریقین میں سے ایک لاجواب ہوجائے۔ بھلا لاجواب ہونا بھی غلط ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے؟ یہ تو فقط ایک فریق کے فہم کے خاتمے کی دلیل ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ دروازے کے باہر اس سے بھی بڑا مناظر کھڑا ہو جو کسی بھی لمحے ہال میں داخل ہوکر فاتح مناظر کو “لاجواب” کردے۔
مناظرے کی جہل سے تیسری نسبت یہ ہے کہ اس کا اختتام تذلیل پر ہوتا ہے اور تذلیل علمی سرگرمی نہیں۔

ہم مولویوں کی طرف دیکھیں تو خادم حسین رضوی نظر آتے ہیں اور سائنسدانوں کی جانب نظر اٹھائیں تو پرویز ہود بائی۔ دونوں ہی ماشاءاللہ اعلیٰ نسل کے مناظر ہیں اور دونوں ہی اپنے حریف کی تذلیل میں سکون پاتے ہیں

مسلم دنیا کا موجودہ اجتماعی مزاج مناظرے کا ہے جس میں لاجواب کرنا مقصد حیات بن چکا ہے۔ ہم مولویوں کی طرف دیکھیں تو خادم حسین رضوی نظر آتے ہیں اور سائنسدانوں کی جانب نظر اٹھائیں تو پرویز ہود بائی۔ دونوں ہی ماشاءاللہ اعلیٰ نسل کے مناظر ہیں اور دونوں ہی اپنے حریف کی تذلیل میں سکون پاتے ہیں۔ حقیقت تک پہنچنا مسلمانوں کے اجتماعی مزاج سے خارج ہوچکا جو روحانی و سائنسی دونوں ہی میدانوں کا بنیادی مقصد ہے۔ اور یہی پچھلے سات سو سال سے جاری ہمارے زوال کا اصل سبب ہے۔ جس دن ہم نے مناظرے کے بجائے تحقیق اور لاجواب کرنے کے بجائے قائل کرنا اور قائل ہونا شروع کردیا، ہماری ترقی کا آغاز ہوجائے گا۔ ہمارے سماج میں کوئی لبرل ہے جسے خادم حسین رضوی سے شکایت ہے اور کوئی مولوی ہے جسے پرویز ہود بائی سے تکلیف ہے کیونکہ کسی نہ کسی درجے میں یہ سب بھی لاجواب کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے پرویز ہود بائی نے اس کے حصے کے خادم حسین رضوی کو لاجواب کر رکھا ہے تو کسی کے خادم حسین رضوی نے اس کے نصیب کے پرویز ہود بائی کی بولتی بند فرما رکھی ہے۔ لیکن کچھ ہم سے بیچارے بھی ہیں جو دونوں ہی کے ہاتھوں عذاب میں ہیں، سو دونوں ہی سے کھری کھری سنتے ہیں۔ ملا ہم جیسوں کو لبرل کہتا ہے اور لبرل کے نزدیک ہم ملا ہیں۔ مشکل یہ آن پڑی ہے کہ اگر کبھی کسی لبرل کی درست بات کو درست کہدیں تو وہ اسے شیئر کرکے ہماری حقیقت پسندی کی تحسین فرماتے ہیں لیکن انہی موصوف کی کسی غلط بات کو غلط کہ دیں تو ان کے دست عظمت سے کھڑے کھلوتے “منافق” کا ٹائٹل پا جاتے ہیں۔ اور بعینہ یہی کچھ مولوی صاحب سے بھی آئے روز بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے تو عصر حاضر کے “فقہاء” تک سے ذاتی حملے بھگت چکے۔ گویا جب ایک بار سراہ دیا تو لازم ہے کہ ہر بات کو سراہا جائے۔ یہ منطق آپ کو سمجھ آتی ہے؟ کوئی بتا سکتا ہے، جس کے ایک کام کو سراہ دیا اس کے ہر کام کو سراہنا کیوں واجب ہے؟ اور جس کے ایک اقدام کو مسترد کردیا اس کے تمام اقدامات کو مسترد کرنا کیوں لازم ؟ زمانہ وہ کہ ہم زوال کی انتہائی حد کو چھو چکے اور شوق یہ کہ “معصوم عن الخطاء” ہونے سے کم پر ملا تو ملا لبرل بھی راضی نہیں!

Facebook Comments Box
رعایت اللہ فاروقیلبرلمناظرہ بازمولوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
رومی اور روح: مثنوی از ڈاکٹر ایرکان ترکمان —- تبصرہ: علی عبد اللہ
next post
دل پسند کیفیات اور روحانی امراض کا توڑ: چترا پریتم —– حمزہ حیدر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.