بیٹنگ ٹائم: ابنِ قاسمؒ کا گریبان —– لالہ صحرائی

0
  • 439
    Shares

فاتح سندھ، عمادالدین محمد بن قاسمؒ کیخلاف ایک صحافی صاحب نے کچھ عرصہ قبل ایک بڑا سنگین مقدمہ قائم کیا تھا جو آج پھر دم بہ دم شئیر ہو رہا ہے۔

ویسے تو جس بندے کو سندھ میں پیرس جیسی ترقی کے آثار نظر آتے ہوں اور وہ اپنے اس دعوے پر مُصر بھی رہے تو اس کے تاریخی حوالے کتنے مستند ہوں گے یہ آپ خود بھی اندازہ لگا سکتے ہیں تاہم آپ کی سہولت کیلئے آج ہم صحافی صاحب کیساتھ ایک اوور کھیل کے دکھا دیتے ہیں۔

مقدمہ نمبر۔1
صحافی صاحب فرماتے ہیں کہ:
مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آپ محمد بن قاسم کو ہیرو کیوں نہیں مانتے! میں نے کہا کیونکہ میں ایک مسلمان ہوں اور بطور مسلم میں مدینے کی بیٹیوں کی عزت خراب کرنے کی کوشش کرنے والے کی کم از کم عزت نہیں کرسکتا۔

گزارش ہے حضور کہ:
یہ بہت ہی ڈھیلی سی بال تھی۔
ابن قاسمؒ نے کبھی کسی عورت کی عزت کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ وہ عرب کے قبیلہ بنو عزیز و بنو یربوع کی بیٹیوں کو قید سے چھڑانے کیلئے دیبل آیا تھا۔
یہ ان عرب تاجروں کی اہل خانہ تھیں جو سری لنکا میں مقیم ہوئے اور وہیں فوت ہوگئے، انہیں پتا چلا کہ جزیرہ یاقوت، سراندیپ، کا راجہ خیرسگالی اور دوستی کی غرض سے عرب حاکموں کو ہیرے، جواہرات، غلام اور کنیزیں بھیج رہا ہے تو یہ خواتین بھی زیارتِ حرم اور آبائی وطن کو دیکھنے کیلئے اس قافلے کے ہمراہ چل دیں۔
دیبل کے قزاقوں نے جب حملہ کیا تو اس پکڑ دھکڑ میں بنو یربوع کی ایک بیٹی نے حجاج کی دہائی دی، اغثنی یا حجاج اغثنی، ہمیں بچاؤ اے حجاج ہمیں بچاؤ، اس موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والوں نے جب یہ بات حجاج تک پہنچائی تو اس نے غصے سے اٹھ کے کہا تھا، ابھی آیا، میں ابھی آیا۔

فتوح البلدان، صفحہ 184
چچ نامہ صفحہ 115
تاریخ سندھ، سید سلمان ندوی، صفحہ 44
تحفۃالکرام، میر شیر علی قانع، صفحہ، 26
تاریخ سندھ، محمد عبدالحلیم شرر، صفحہ 113
تاریخ ہند، حصہ سندھ، ابوظفر ندوی، صفحہ 58
انگلش بک، ہسٹری آف سندھ بائی موہن گیہانی، صفحہ 71
(ان کتابوں کے مختلف پبلشرز کے مختلف ایڈیشنز میں صفحہ نمبر کا تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے مگر حوالے مستند ہیں)

صحافی صاحب نے مدینے کی بیٹیوں کی عزت کا نام لیکر جن کتابوں کے حوالے سے مسلمانوں کو جذباتی کرنے کی کوشش کی ہے ان کے اندر سے اس دعوےٰ کا ثبوت قیامت تک نہیں ملے گا، اس فراڈ اور شقاوت قلبی کو آگے چل کر مزید بے نقاب کرتا ہوں، فی الحال بس یہ سمجھ لیں کہ یہ نو بال ہی تھی پھر بھی ہم نے ہلکی سی شاٹ مار دی ہے۔

نمبر۔2
صحافی کہتا ہے کہ:
میرے پاک نبیؐ سے مدینے کی نسبت ہے، وہاں کی خاک بھی میرے لئے معتبر ہے تو کیسے ممکن ہے کہ میں وہاں کے لوگوں کے قاتل محمد بن قاسم کو ہیرو قرار دوں۔ یہ میری غیرت ایمانی کے تقاضوں کے برخلاف ہے۔ یہ معاملہ سمجھانے کے لئے میں آپ کے سامنے تاریخ کا ایک پہلو رکھتا ہوں۔

دوستو گزارش ہے کہ:
یہ بھی مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی ایک کوشش ہے، محمد بن قاسم نے کبھی کسی ایسی مہم میں حصہ نہیں لیا جس نے مدینہ طیبہ کے اندر یا باہر اہل مدینہ کا قتل کیا ہو۔

دراصل پہلی اور دوسری بال انہوں نے کرائی ہی جذباتی کرنے کیلئے تھی تاکہ اگلی بال جس میں مدینے کے ان بیٹے، بیٹیوں کا ذکر ہوگا جن کیساتھ ابن قاسم نے ظلم کیا، تو اس پر لوگ ایکدم سے بھڑک اٹھیں، لہذا اس بال پر ہم بھی جذباتی اور سچے دل سے ایک سویپ ماریں گے۔

دیکھو بھیا:
مدینہ طیبہ کی بیٹیاں اور بیٹے تو رہے ایک طرف، ابن قاسم نے اگر وہاں کے کسی کتے پر بھی ایک پتھر مارا ہو تو ہماری طرف سے اس فاتح سندھ پر چار حرف مگر پہلے کوئی مستند حوالہ پیش کرو، یہ آواز آندی اے والی گل نہ کرو، بے سروپا آوازیں ہم نہیں سنتے۔
ہمارے دیہاتوں کے بے علم مولوی جب اپنی تقریر میں سنی سنائی باتیں پیلتے ہیں تو حوالہ پاس کوئی نہیں ہوتا اسلئے ہر بات کے ساتھ یہ کہہ کے کلٹی کھا لیتے ہیں کہ:
مومنو آواز آندی اے!
مومنو آواز پئی آندی اے کہ اَینج ہوگیا تے اُونج ہوگیا۔

خیر اگلی بال دیکھتے ہیں جس میں صحافی صاحب اپنے پہلے دو دعووں کے حق میں اب تاریخ کا ایک پہلو ہمارے سامنے رکھیں گے۔

نمبر۔3
صحافی کہتا ہے کہ:
جب بنوامیہ اور بنوہاشم کی لڑائی میں بنوہاشم کو شکست ہوئی تو اپنی خواتین کے ہمراہ کچھ گھرانے جان بچا کر سندھ آئے، سندھ اموی حکومت کی سرحدوں سے باہر تھا، روایات کے مطابق عرب سے سندھ آنے والوں میں عبداللہ شاہ غازی اور ان کے بھائی مصری شاہ بھی تھے۔

دوستو! دیکھا آپ نے:
بس روایات کے مطابق، یعنی آواز پئی آندی اے، کوئی تاریخ نہیں، کوئی حوالہ نہیں، بس مومنو، یقین کرلو کیونکہ آواز پئی آندی اے۔

پہلی دو بال ہم نے بڑے صبر و تحمل سے کھیلیں ہیں لیکن اب صبر نہیں ہوتا، اب ہم ماریں گے ٹُلے، اور ٹکا کے ماریں گے۔

بنو ہاشم یعنی اہلبیتؓ اطہار کیساتھ ہمارا بڑا گہرا قلبی عقیدت کا معاملہ ہے، ان کے مقابلے میں ہم بنوامیہ کو رتی بھر اہمیت بھی نہیں دیتے۔
بنو امیہ کے خلیفہ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؓ، یزید کی اولاد سے ہیں مگر یزید کو رحمۃاللہ علیہ کہنے والے بندے کو انہوں نے اپنے سامنےجوتے لگوائے تھے اسلئے کہ جہاں اہلبیتؓ کا معاملہ ہوگا وہاں مومنین کو اپنے باپ کی پرواہ بھی نہیں ہوتی، اسی تقوے کی بنیاد پر عمر بن عبدالعزیزؓ ہمارے سر کا تاج ہیں اور ہم انہیں خلفائے راشدینؓ میں شمار کرتے ہیں۔

لیکن حرمتِ سادات کی آڑ میں عوام کو کسی بیگناہ کیخلاف بڑھکانا بھی ایک انتہائی گھٹیا اور شنیع عمل ہے جس کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔

اب تاریخی حقائق دیکھیں:
حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام کی تیسری یا چوتھی نسل میں سید محمد نفس ذکیہؓ کے صاحبزادے ہیں، آپ واقعہ کربلا کے لگ بھگ چالیس سال بعد سن 720ء میں پیدا ہوئے تھے جبکہ محمد بن قاسمؒ نے سن 711ء میں سندھ فتح کیا اور سن 715ء میں واسط کے سرکاری زندان میں شہید ہوگئے۔

اب یہ کیسے ممکن ہے کہ عبداللہ شاہ غازیؒ اپنی پیدائش سے نو سال پہلے اپنے بھائی کیساتھ سندھ میں ابن قاسم کے ہاتھوں 711ء میں شہید ہوگئے۔

بنو ہاشمؓ کے مقابل بنوامیہ کی مجھے کوئی پرواہ نہیں مگر سچ یہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد ان کے درمیان کوئی قابل ذکر لڑائی نہیں ہوئی البتہ عباسی دور میں سید محمد نفس ذکیہؓ نے خلیفہ منصور کیخلاف حسینیؑ علم بلند کیا تھا اور اپنے بھائیوں اور صاحبزادوں کو اپنا نمائندہ بنا کر مختلف ممالک میں بھیجا تھا تاکہ وہ علوی حکومت کے قیام کیلئے جدوجہد کریں۔
اپنے والد صاحبؓ کے حکم پر سید عبداللہ شاہ غازیؒ، سید مصری شاہؒ اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سن 760ء میں سندھ تشریف لائے تھے، یہاں آپ نے تبلیغ دین کی اور ذریعہ معاش کیلئے گھوڑوں کی تجارت شروع کی، درجنوں عربی گھوڑے آپ اپنے ساتھ بھی لائے تھے۔
یہاں آپ نے نو سال قیام کیا، ماہ ذوالحج سن 769ء میں ایک سفر کے دوران جنگل میں گھات لگائے کچھ لوگوں نے ایک شدید حملہ کیا جس میں آپ شہید ہو گئے، حملہ آوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خوارج کا کوئی ٹولہ تھا۔

حوالہ جات:
تاریخ سندھ، مصنف اعجازالحق قدوسی صاحبؒ، صفحہ 260, 261, 262
انگلش بک، اے ہسٹری آف سندھ، مصنف سہیل ظہیر لاری، آکسفورڈ پریس ایڈیشن 1995، بحوالہ ندیم پراچہ، مضمون، عبداللہ شاہ غازیؒ دی سیوئیر سینٹ*، ڈان نیوز، 23 نومبر 2014،
the saviour saint*

(اسی مضمون میں ندیم پراچہ صاحب نے ڈاکٹر داؤد پوتا صاحب کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ سید عبداللہ شاہ غازیؒ، محمد بن قاسم کیساتھ سندھ آئے تھے اور ابن قاسم کے ایک ماتحت جرنیل کے نائب کمانڈر تھے، مگر یہ صحیح نہیں، ڈاکٹر محمد داؤد پوتا سندھ کے بہت بڑے محقق ہیں، وہ ایسی غلطی نہیں کرسکتے، یہ دراصل ایک کاؤنٹر نیریٹیو ہے، اسے ڈسکس کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔)

کاؤنٹر نیریٹیو یہ ہے کہ پچھلے سال غازی صاحبؒ کا 1287 واں عرس تھا، 2017 میں سے اگر 1287 مائنس کریں تو ان کا سنِ وصال 730ء ہونا چاہئے، بنوامیہ کا دور 750ء تک ہے اس کے بعد عباسی دور شروع ہوتا ہے لہذا شنید ہے کہ وہ محمد بن قاسم کے ساتھ ہی آئے تھے، اگر وہ بنو امیہ کے باغی ہوتے تو فتح سندھ کے دور میں شہید کر دئے گئے ہوتے مگر آپ اپنے کنبے سمیت 19 سال بعد تک بقید حیات رہے اور بوقت شہادت بھی صرف آپ کی شہادت بتائی گئی ہے باقی کنبہ اور احباب سلامت رہے، اور غازیؒ صاحب کے مزار کے پاس ہی آباد ہوئے، انہیں میٹھے پانی کی شدید قلت درپیش تھی، اسی پریشانی میں کسی ایک نے خواب میں دیکھا کہ غازی صاحبؒ پہاڑی کے نیچے اپنی قبر کے پاس میٹھے پانی کے چشمے کی نشاندہی کر رہے ہیں، وہ چشمہ اب بھی جاری ہے۔

تاریخ سندھ کے مصنف ابو ظفر ندویؒ اور تحفۃ الکرام کے مصنف میر شیر علی قانعؒ نے اپنی کتابوں میں علوی سکول آف تھاٹ پر بھی بحث کی ہے، ان کی بحث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سید محمد نفس ذکیہؓ اور ان کے بھائی نے عباسیوں کے خلاف ہی اسٹینڈ لیا تھا اور ان کے نمائندوں نے سندھ کے معروف اور مؤثر سومرہ خاندان کی حمایت بھی حاصل کرلی تھی، یہ سومرہ خاندان محمد بن قاسم کے جرنیل اور لشکری تھے جو سندھ میں آباد ہوگئے تھے، بنوامیہ کی موجودگی میں ان کے سپاہیوں سے لارج اسکیل پر علویت کیلئے حمایت حاصل کرنا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا تھا لہذا یہ عباسی دور ہی کی بات ہے۔

سندھ میں علویت کے دوسرے بڑے علمبردار حضرت لعل شہباز قلندر ہیں، وہ اپنے خاص معتمدوں کو ہر سال درگاہ غازیؒ صاحب کی خدمت کیلئے بھیجا کرتے تھے، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، سیہون شریف کی درگاہ سے کچھ لوگ آج بھی درگاہ عبداللہ شاہ غازیؒ کی خدمت کیلئے بھیجے جاتے ہیں۔

یہ کاونٹر نیریٹیو بھی بہرحال محمد بن قاسم کو اس بات سے بری کر دیتا ہے کہ وہ تبع تابعین اہل بیتؓ یعنی غازی صاحبان کا قاتل تھا کیونکہ ابن قاسم 715ء میں اور غازی صاحبؒ ایک گواہی کے مطابق 730ء اور دوسری گواہی کے مطابق 769ء میں شہید ہوئے تھے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اقبال اور معروف مغالطے سیریز 1 : اقبال اور حکمائے مغرب —- احمد الیاس

نمبر۔4
اب صحافی کہتا ہے کہ:
کعبے پر حملہ کرنے والے حجاج بن یوسف نے ان گھرانوں کی سرکوبی کے لئے محمد بن قاسم کو بھیجا۔

روایات کے مطابق عبداللہ شاہ غازی نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر محمد بن قاسم کے خلاف جہاد کیا
سکھر میں سات سہیلیوں کا مزار ہے، روایات کے مطابق یہ وہی عرب خواتین ہیں، جنہوں نے سندھ میں پناہ لی۔

دوستو گزارش ہے کہ:
خانہ ساز “روایات کے مطابق” یہ دو بزرگوں اور سات سہیلیوں کے بجائے اگر سات سو گھرانوں کا معاملہ بھی ہوتا تو بھی ان کے پیچھے چھ ہزار سپاہیوں کا لشکر، بتیس ہزار درہم کا خرچہ، چھوٹی منجنیقوں کے علاوہ عروس نامی سب سے بڑی منجنیق سے حملہ آور ہونا کسی کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔

اصل قصہ یوں ہے کہ:
سندھ میں اکبر بادشاہ کا گورنر ابوالقاسم نمکین عرف خانِ زمانہ شاعر اور فطرت پسند آدمی تھا، اس نے سیر کے دوران دریائے سندھ کے اندر ایک خوبصورت جزیرہ دریافت کیا جہاں سات قبریں موجود تھیں۔
خانِ زمانہ نے اس جگہ کو صفحۂ صفا کا نام دیا اور وہاں چند چبوترے اور مینار تعمیر کرائے، اس کے بعد وہ چاندنی راتوں میں وہاں محفل مشاعرہ کیا کرتے تھے، ان کی وصیت کے مطابق وہ خود بھی وہیں مدفون ہیں اور سو کے قریب ان کے اہل خانہ و عزیزو اقارب بھی وہیں دفن ہیں۔
اس جگہ کو قاسم خانی اور ستین جو آستان بھی کہتے ہیں، ان سات قبروں کے حوالے سے خیرپور یونیورسٹی، شعبہ آرکیالوجی کے ڈاکٹر قاصد ملاح صاحب کہتے ہیں کہ غزنوی دور میں یہاں ازبک، افغان، ایران اور سندھ کے سات بزرگوں نے چلہ کاٹا تھا، ان میں شیخ عبدالحمید سہروردیؒ، شیخ عبداﷲ ہراریؒ، حمزہ بن رافعؒ، یوسف بن بکھریؒ، سیف الدین شیرازیؒ، عبدالحسن خیر خوانیؒ اور علی ڈنو احمد بصریؒ شامل ہیں، ان میں علی ڈنو بصریؒ مقامی درویش اور ان سب کے میزبان دکھائی دیتے ہیں۔
بحوالہ: آرکیالوجسٹ ڈاکٹر قاصد ملاح، ایکسپریس فیچر، 29 ستمبر، 2013

ریاست خیرپور کے ہسٹورین حکیم امیر علی شاہ فتحپوری نے لکھا ہے کہ غزنوی دور میں جب روہڑی پر حملہ ہوا تو یہاں سات بزرگ رہتے تھے جو بعد میں یہاں سے چلے گئے، ان کی یاد میں لوگوں نے اس جگہ کا نام ستین جو آستان رکھ دیا ہے یعنی سات لوگوں کے رہنے کی جگہ۔

محقق پیر حسام الدین راشدی صاحب اپنی کتاب “نہ کمرہ امیر خانی” میں کہتے ہیں کہ اس جگہ کو سات خدا رسیدہ سہیلیوں کا مسکن ہونے کی وجہ سے بہت متبرک سمجھا جاتا ہے۔

مولوی محمد شفیع اپنی کتاب ضادید سندھ میں لکھتے ہیں کہ ان قبروں پر لگے کتبے سن 1884 کے ہیں اور نفیس نستعلیق خط میں لکھے گئے ہیں۔
بحوالہ: ستین جو آستان، تحریر غلام مصطفیٰ سولنگی
ماہنامہ ساتھی کراچی، شمارہ اپریل 2016

علاوہ ازیں سینہ گزٹ یعنی کہی سنی بات جو مشہور ہے وہ یہ ہے کہ راجہ داہر کے عہد میں یہاں سات عبادت گزار سہیلیاں رہتی تھیں، ایک بار کچھ اوباش لڑکے وہاں آ دھمکے جن سے بچنے کیلئے انہوں نے دعا کی تو قبل اس کے کہ وہ لڑکے ٹیکری تک پہنچتے، وہ پہاڑی کھل گئی اور یہ سب اس میں سما گئیں، اب ان کی یاد میں وہاں سات قبریں ہیں جہاں خواتین اولاد کیلئے مَنتیں مانگنے جاتی ہیں۔
بحوالہ: ایکسپریس فیچر، 29 ستمبر، 2013

یہ ہیں وہ اصل کہانیاں جنہیں مس۔پریزنٹ کرکے یہ مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، وہ بھی خانہ ساز “روایات” کے مطابق۔

جا بھیا:
اپنی گیند ڈھونڈ لے، پویلین کے باہر پڑی ہے۔

نمبر۔5
صحافی صاحب مزید فرماتے ہیں:
محمد بن قاسم نے راجہ داہر کی بیٹیوں کو غلام بنالیا، قدرت نے محمد بن قاسم کو بد ترین انجام سے دوچار کیا۔

چلیں ابن قاسمؒ کا بدترین انجام بھی دیکھ لیتے ہیں:

ملتان کی فتح کے بعد ابن قاسم ہندوستان فتح کرنے کی تیاریوں میں تھے کہ حجاج کا انتقال ہوگیا، اس کے آٹھ ماہ بعد خلیفہ ولید بھی وفات پاگئے اور سلمان تخت نشین ہوگیا، اس نے بغاوتوں کے خوف سے ولید کے تمام معتمد گورنروں، جرنیلوں اور افسروں کو معزول کیا یا سیدھا تہہ تیغ کر دیا، فاتح اندلس موسیٰؒ بن نُصَیر، فاتح ترکستان قتیبہؒ بن مسلم اور فاتح سندھ محمد بن قاسمؒ کو واپس بلوا کر واسط کے زندان میں قید کر دیا تھا۔

خلیفہ سلیمان نے جب پہلی بار راجہ داہر کی بڑی بیٹی کو شبستان میں طلب کیا تو سورج دیوی نے کہا میں آپ کے لائق نہیں کیونکہ ابن قاسم ہم دونوں بہنوں سے تین تین بار شب بسری کر چکا ہے۔

آپ کی بیان کی گئی “روایات” آپ کی بتائی ہوئی کسی ایک کتاب میں بھی نہیں ملیں گی بلکہ قیامت تک نہیں ملیں گی چاہیں جتنی بار مرضی پڑھ لیں اور لازمی پڑھیں کیونکہ آئینہ اصلاح کیلئے اچھا ہوتا ہے لیکن اصلاح کیلئے اتنی اسلامی غیرت کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے جتنی ابن قاسم کو رونے والے سندھیوں میں تھی۔

اس پر طیش میں آکے سلیمان نے خیانت کے جرم میں ابن قاسم کے قتل کا حکم نامہ جاری کر دیا، ابن قاسم کی شہادت کے بعد دونوں بہنوں نے قہقہے لگائے اور سلیمان کو بتایا کہ ہم نے جھوٹ بول کر اپنے باپ کا بدلہ لے لیا ہے، اب جو کرنا ہے کرلو، اس پر طیش میں آکے سلیمان نے ان دونوں کو دیوار میں چنوا دیا، ایک کتاب میں ہے کہ ہاتھی تلے روندوا ڈالا۔
بعد ازاں اپنے اس جذباتی فیصلے پر سلطان سلیمان اپنے ہاتھ دانتوں سے کاٹتا رہا اور ہمیشہ کفِ افسوس ملتا رہا کہ یہ میں نے کیا ظلم کر دیا۔
چچنامہ، صفحہ 335

سندھیوں نے محمد بن قاسمؒ کی وفات کی خبر سن کر بڑا ماتم کیا، اور ان کے اخلاق و اوصاف کو یاد کر کے روتے رہے، پھر شہر کیرا، یا، کیرج میں انہوں نے محمد بن قاسم کا ایک اسٹیچو بنا کر نصب کردیا۔
تاریخ سندھ، صفحہ 224، 225   مصنف اعجازالحق قدوسی صاحبؒ

محمد بن قاسمؒ کے حالات پر اہل ہند نے بہت آہ و زاری کی کیونکہ اس کی شجاعت اور اخلاق کی بدولت عام لوگوں کو اس کیساتھ بہت محبت ہو گئی تھی۔
تاریخ سندھ، صفحہ 274   محمد عبدالحلیم شرر

محمد بن قاسم کی موت پر اہل ہند و اہل عرب خون کے آنسو روئے۔
تاریخ سندھ، صفحہ 123    سید سلیمان ندوی

آخری شاٹ مارنے سے پہلے ابن قاسم کے دامن سے ایک اور داغ بھی دھوتے چلیں، محمد بن قاسم نے نہ تو راجہ داہر کی بیوی رانی لاڈلی سے شادی رچائی تھی نہ ہی اس کی بیٹیوں پریمل و سورج دیوی کیساتھ شب بسری کی اور نہ ہی انہیں خلیفہ سلیمان کیلئے بطور لونڈیاں بھیجا تھا، نہ سورج دیوی کے جھوٹ سے ابن قاسم شہید ہوئے اور نہ ہی ان دونوں بہنوں کو سلیمان نے بدلے میں قتل کیا تھا، یہ سب فیک سٹوریز ہیں اور کوئی بھی مستند حوالہ نہیں رکھتیں۔

Landmarks-Of-Arore.jpg

چچ نامہ، صفحہ 335
فٹ نوٹ بائی ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، محقق سندھ یونیورسٹی، ممبر سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

محمد بن قاسم کو خلیفہ سلیمان کے حکم سے کچے چمڑے یا صندوق میں بند کر کے لے جایا جانا بھی من گھڑت قصہ ہے، عرب مورخین نے ایسا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔
چچ نامہ، صفحہ 335   تاریخ سندھ، اعجاز الحق قدوسیؒ، صفحہ 228، 229

نمبر۔6
صحافی صاحب کہتے ہیں:
اعجازالحق قدوسی کی کتاب تاریخ سندھ اور چھج نامہ و دیگر کتب میں یہ تزکرے موجود ہیں۔

اب اس صورت حال میں بطور مسلمان کوئی کیسے محمد بن قاسم کو ہیرو یا نجات دہندہ کہہ سکتا ہے؟
میں پھر بھی کہنے کو تیار ہوں مگر کوئی معتبر حوالہ تو ہو، اور یہ کیسے ممکن ہے کہ تاریخ کے ایک کردار محمد بن قاسم کو ہیرو نہ ماننے سے کسی کا اسلام مشتبہ ہوجائے گا؟

ارادہ تھا یہاں بھی کوئی شاٹ ماریں گے مگر اب موڈ بدل لیا ہے، اب ایک سویپ ہی کافی ہے۔

بھیا گزارش ہے کہ:
محمد بن قاسمؒ کو ہیرو نہ ماننے سے تو کسی کا اسلام مشتبہ نہیں ہوتا لیکن اگر عوام کو جذباتی اور گمراہ کرنے کیلئے اہل بیت اطہارؓ اور تبع تابعین کا نام استعمال کرنا اور کسی بے گناہ پر بے بنیاد کیچڑ اچھالنا بھی اسلام کو مشتبہ نہیں کرتا تو پھر بے حیا باش ہرچہ خواہی کن۔

اور ہاں:
آپ کی بیان کی گئی “روایات” آپ کی بتائی ہوئی کسی ایک کتاب میں بھی نہیں ملیں گی بلکہ قیامت تک نہیں ملیں گی چاہیں جتنی بار مرضی پڑھ لیں اور لازمی پڑھیں کیونکہ آئینہ اصلاح کیلئے اچھا ہوتا ہے لیکن اصلاح کیلئے اتنی اسلامی غیرت کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے جتنی ابن قاسم کو رونے والے سندھیوں میں تھی۔
۔۔۔

دوستو…!
مجھے امید ہے کہ اب کوئی شیزوفیرنک آواز نہیں آئے گی، پھر بھی کوئی محمد بن قاسمؒ کا گریبان پکڑنے کی کوشش کرے تو پلیز وہاں یہ اسٹوری چپکا دیا کریں۔

ناؤ‌‌۔سِٹ۔بَیک۔اینڈ۔اینجوائیز

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: