تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
فکنگ بِچ —– افسانہ
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

جادو اشتہارات کا: محمد عثمان جامعی

by دانش ڈیسک 23/09/2017
written by دانش ڈیسک 23/09/2017
139

آپ کے گھر میں بیوی بھی ہے اور ٹی وی بھی تو آپ ڈرامے دیکھنے پر مجبور ہیں، واضح رہے کہ فی الحال ہم ٹی وی ڈراموں کی بات کر رہے ہیں بی وی ڈراموں کی نہیں۔ ایسی ہی جبر کی ساعتوں اور صبر کی حالتوں میں ایک ڈراما جھیلتے ہوئے ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا کہ کردار اچانک ایک موبائل فون کی خصوصیات بیان کرنے اور اس کے قصیدے پڑھنے لگے۔ حیرت دور ہوئی تو اندازہ ہوا کہ اشتہارات اب وقفوں سے گزر کر ڈراموں میں دَر آئے اور کہانی اور مکالموں میں گھسیڑ دیے گئے ہیں۔

یعنی اب اشتہارات کے اثرات مزید گہرے ہوجائیں گے۔ ویسے اب بھی اشتہارات کچھ کم پُراثر نہیں اور تو اور ہم خود ان کے اس قدر زیراثر رہے ہیں کہ ایک زمانے میں ہمیں ”اشتہاری“ کہا جانے لگا تھا۔ ہم ایک مُدت تک اپنے والدین سے اس بات پر روٹھے رہے کہ انھوں نے ہمیں نونہال گرائپ واٹر کیوں نہ پلایا، ورنہ ہم وہ پوت ہوتے جس کی صحت اور ذہانت کے کمالات پالنے ہی میں نظر آجاتے، اور ہماری اماں جھوم جھوم کے پورے یقین کے ساتھ کہہ اٹھتیں،”ہوگا دنیا میں تو بے مثال، میرے بچے مرے نونہال۔“ بل کہ پالنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ہم یہ مشروب پی کر خود ہی پلتے چلے جاتے۔ اب ہم جب بھی خود کو نڈھال پاتے ہیں تو بہت تلملاتے ہیں کہ ہمیں نونہال گرائپ واٹر سے کیوں محروم رکھا گیا۔

ڈالڈا کا اشتہار دیکھتے ہی ہم نے والدہ سے پوچھا کہ ہم کس گھی کے پروردہ ہیں؟ دوسرے برانڈ کا نام سُنتے ہی والدہ کی مامتا سے ہمارا ایمان اُٹھ گیا۔ ہم نے سوچا اُن کی ساری محبت، چاہت اور نازبرداری اپنی جگہ، مگر مامتا تو ڈالڈا سے مشروط ہے کہ جہاں مامتا وہاں ڈالڈا۔ آخر جب گھر میں ڈالڈا آیا تو ہمیں قرار آیا کہ چلو دیر ہی سے سہی ہماری والدہ کی مامتا تو جاگی، مگر جب ڈالڈا کے درجنوں ڈبے ختم ہونے پر بھی ہماری صحت اور انگریزی کم زور رہیں تو اندازہ ہوا کہ تن درستی اور ذہانت سے ڈالڈا کا کوئی تعلق نہیں، یہ تو بس مامتا کا اظہار ہے۔ چناں چہ پھر ہم ناچ ناچ کر فرمائش کرنے لگے،”اماں تَلو میں پکاو¿، ہمیں صحت مند بناو¿۔“

شادی کے بعد ہم بڑی اُمید سے ”کسان“ لے کر گھر آئے، کیوں کہ ”کسان میں پکایا، پیار سے کھلایا“ کا سلوگن بتاتا ہے جو کسان میں پکاتی ہیں وہ پیار سے کھلاتی ہیں، لیکن وہاں تو معاملہ ہی اور تھا، کھانا لگا تو بیگم نے ترازو لے کر ہمارے دفتر سے گھر تک پہنچنے کا دورانیہ اور سچ جھوٹ تولنا شروع کردیا۔ اس سارے استفسار میں پیار ندارد تھا۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ”بیگم! کھانا کسان میں پکا ہے ناں“، جواب ملا ”نہیں، میزان میں۔“

اس معاملے میں ہمارے ایک دوست کے ساتھ تو بہت بُری ہوئی۔ موصوف حبیب کوکنگ آئل لے کر گھر پہنچے اور بیگم سے بڑے پیار سے بولے،”حبیب لایا ہوں، کیوں کہ یہ دل کا معاملہ ہے۔“ پہلے بیگم نے انھیں حیرت سے دیکھا، پھر گھبرائیں، پھر شرمائیں، لجائیں، اٹھلائیں اور بولیں،”اﷲ آپ کتنے اچھے ہیں، کتنے عظیم انسان ہیں، آپ کو کیسے پتا چلا؟ کہاں ملے وہ آپ کو؟“ ان دوست کو دل کا پہلا دورہ اسی موقع پر پڑا تھا۔

ہمارے ایک اور دوست سپریم چائے کا اشتہار دیکھ کر سمجھے کہ یہ چائے پی کر ان کے ساس بہو، نند بھاوج اور دیورانی جٹھانی کی توتکار سے گونجتے گھر میں اپنا پن آجائے گا، مگر چائے پیتے ہی ذائقے اور شکر کم ہونے پر شروع ہونے والا جھگڑا جب ہاتھا پائی تک جا پہنچا تو انھیں محض اس اشتہار کی عزت رکھنے کے لیے کہنا پڑا دراصل یہی تو ہے وہ اپناپن۔

اشتہاری اثرات نے یہ غضب ڈھایا کہ ہماری پاکستانیت بھی خطرے میں پڑگئی، ایک زمانے میں ہمیں یقین تھا کہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہےیہ تو ”کے ٹو“ کا پاکستان ہے۔ ایک عرصے تک ہم اسی غم میں کے ٹو پی کر دکھ کو دھواں بناتے رہے۔

اسی طرح زیرتعمیر پروجیکٹس کے اشتہار دیکھ کر ہم نے یقین کرلیا کہ زمین پر جنت اُتر آئی ہے۔ اس جنتی اشتہار میں باریک آواز والی ”حور“ اور بھاری آواز والے ”فرشتے“ نے جب یہ بتایا کہ یہ بہشت بہت سستی ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے دوڑتے بھاگتے چلے آئیے اور فوری بکنگ کرائیے، تو ہم بھاگے بھاگے گئے اور بُکنگ کرالی۔ برسوں قسطیں بھرنے کے بعد پتا چلا کہ جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی۔

اور بھیا ”داغ تو اچھے ہوتے ہیں“ کے پیغام نے ہمارا خانہ خراب کردیا۔ ہوا یوں کہ ہم اس اشتہار کا کچھ زیادہ ہی اثر لے بیٹھے جس میں ایک بچہ بڑی بی کے گرجانے والے آم اٹھاتا اور اپنی قمیص کو تھیلا بنا کر اس میں بھر لیتا ہے۔ یہ اشتہار دیکھ کر ہمارے اندر مدت کی سوئی ہوئی نیکی جاگ اُٹھی۔ اب ہم جیسے بھولے بھالے کو کیا پتا تھا کہ عمر کا فرق ثواب کی غرض سے کی گئی اس نیکی کو گناہ بنا دے گا۔ ہوا یوں کہ ہم بیگم کے ساتھ جارہے تھے۔ اچانک دیکھا کہ ایک نوجوان خاتون پریشان کھڑی ہیں، اُن کے ہاتھوں میں پھٹی ہوئی تھیلی ہے، جس میں سے گرنے والے آم عامل بابا کے جادو کے زیراثر موم ہوجانے والے سنگ دل محبوب کی طرح محترمہ کے قدموں میں لوٹ رہے ہیں۔ ہم آموں کی طرف لپکے، اور جھٹ اپنی قمیص اتار کر تھیلا بنانے ہی والے تھے کہ خاتون نے بے شرم کا فتویٰ جاری کیا اور ہمیں کھڑی کھڑی کھری کھری سنانے لگیں۔ وہ رُکیں تو بیگم شروع ہوگئیں، جو پھر ختم نہ ہوئیں۔ یوں ہم ان خاتون اور بیگم کی نظروں میں گرے ہوئے آموں سے کہیں زیادہ گر گئے۔ اس دن ہماری بے داغ جوانی پر وہ داغ لگا جسے سرف ایکسل کی پوری فیکٹری بھی نہیں دھو سکتی۔

داغوں کی اچھائی کے اسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ہم نے رمضان میں ایک بزرگ دریافت کیے، جو اکیلے رہتے تھے، اور سحری کے وقت بھاگم بھاگ ان کے گھر جا پہنچے۔ راستے میں کپڑوں پر داغ لگانے کے لیے کئی بار زمین پر لوٹ بھی لگائی۔ مگر ہوا کیا، انھوں نے جاگتے ہی ہمیں ہر معروف گالی دی، کچھ تو ہمارے لیے نئی بھی تھیں۔ منہہ لٹکا کر گھر آگئے۔ بعد میں محلے داروں سے ان بزرگ کے کوائف معلوم کیے تو پتا چلا کہ ان کا نام ”جوزف مسیح“ ہے۔

ہماری تو چھوڑیے، المیہ تو ہمارے ایک عزیز کی کہانی ہے۔ وہ اتنے معصوم ہیں کہ ”میرا فیصلہ ساتھی، میرے خاندان کی خوش حالی“ کا سلوگن سرچڑھ کر بولا تو ایک پیکٹ لے آئے، جسے ڈوری سے باندھ کر گلے میں ڈالے رہتے ہیں اور منتظر ہیں کہ ”ساتھی بابا“ کا یہ تعویز ان کے سات بچوں والے گھرانے کے لیے کب خوش حالی لائے گا؟

Facebook Comments Box
اشتہاراتطنز و مزاحمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کبھی تسلیم ِجاں ہے زندگی : لبابہ نجمی
next post
غیر قانونی صورتحال کا آئینی حل — نعمان علی خان

Related Posts

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.