میرٹ کا مغالطہ: عاطف حسین

0
  • 67
    Shares

مختلف معاملات میں میرٹ کی پامالی کے نوحوں کے ساتھ میرٹ کی بالادستی کے وعدے اور مطالبے بھی اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ میرٹ کی پامالی کو ہماری زبوں حالی کے اسباب میں سے ایک بڑے سبب کے طور پیش کرنے والے عموماً اسی سانس میں میرٹ کی بالادستی کے فضائل بھی گنواتے ہیں اور اسے ایک بہتر معاشرے کے قیام کی طرف ایک ضروری قدم قرار دیتے ہیں۔

عام طور پر میرٹ کی بالادستی کو عملی اور اخلاقی ہر دو لحاظ سے مطلوب سمجھا جاتا ہے۔ اس پر بظاہر اتفاق پایا جاتا ہے کہ قابلیت کی بنیاد پر عہدے دینے سے جہاں سے مفید عملی نتائج پیدا ہوتے وہیں حقدار کو اس کا حق ملنا قرین انصاف اور اخلاقی لحاظ سے مستحسن  بھی ہے۔ دراصل، اکثر اوقات میرٹ اور انصاف ہم معنی ہی سمجھے جاتے ہیں۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

اگرچہ میرٹ ایک مبہم تصور ہے جس کے کئی معنی ہوسکتے یا سمجھے جاسکتے ہیں تاہم وہ عام مفہوم جو عموما لوگوں کے ذہن میں ہوتا ہے اس مفہوم کے لحاظ سے اسے قرینِ انصاف قرار دینا خاصا مشکل ہے۔

اسے ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ہرسال ہزاروں طلبہ میڈیکل کالج میں داخلے کا ٹیسٹ دیتے ہیں جن میں سے چند سو ” میرٹ پر” منتخب کیے جاتے ہیں یعنی وہ جن کے انٹرمیڈیٹ اور انٹری ٹیسٹ کے نمبر ملا کر دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ “میرٹ پر” داخلے کے اس طریق کار کو ایک منصفانہ طریق کار سمجھا جاتا ہے اور راقم کی نظر سے اس طریق کار کے حوالے سے انٹری ٹیسٹ لیے جانے یا نہ لیے جانے کے علاوہ کوئی بحث کبھی نہیں گزری۔

تاہم ایک بڑے تناظر میں اسے صرف اسی وقت منصفانہ قراردیا جاسکتا ہے جب ہم انصاف کی تعریف “خوش قسمتی کو انعام دینا اور بدقسمتی کو سزا دینا” کریں۔
اگر ہم اتفاق سے چند سوالات کے جوابات ٹھیک یا غلط ہونے کو جو بعض اوقات فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے نظر انداز بھی کردیں تو یہ طریق کار طلبہ کو اصل میں انکی خوش قسمتی یا بدقسمتی کی بنیاد پر منتخب کرتا ہے نہ کے محنت کے فرق کی بنیاد پر۔

زیادہ نمبر یا تو وہ طلبہ لیں گے جو پیدائشی طور پر ذہین ہیں یا وہ جنہیں تیاری کے لیے بہتر وسائل اور ماحول دستیاب تھا۔ ہر دو صورتوں میں انتخاب خوش قسمتی کی بنیاد پر ہورہا ہے۔ ایک شخص کو ذہانت کی بنیاد پر (جس میں اس کا کوئی کمال نہیں)  نوازنے اور ایک دوسرے شخص کو قدرتی ذہانت میں کمی کی بنیاد پر پیچھے دھکیلنے اور پھر اسے انصاف قرار دینے کو حیران کن ہی کہا جاسکتا ہے۔

یہ جھگڑا تو پرانا ہے کہ ذہانت پر جنیاتی عوامل زیادہ اثر انداز ہوتے یا ماحولیاتی مگر یہ طے ہے کہ دونوں اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچپن میں بچے کو ملنے والی غذا اور ماحول بھی بچے کی ذہنی نشونما پر اثرانداز ہوتا ہے۔ بچہ کہاں پیدا ہوا، اس کے والدین اسے کیسی اور کتنی غذا دینا افورڈ کرسکتے تھے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما کا کتنا سامان مہیا کرسکتے تھے یہ سب ظاہر ہے بچے کے اپنے اختیار سے باہر تھا۔ اپنے اختیار سے باہر عوامل کی وجہ سے زیادہ یا کم ذہین ہونے کی وجہ کسی کو منتخب یاد مسترد کیے جانے کو انصاف تو بہرحال نہیں کہا جاسکتا۔

پھر بات محض بچے کی ذہانت تک محدود نہیں ہے۔ بچے کے والدین اسے اسکول بھیج سکتے تھے یا نہیں، بھیجنے کے قائل بھی تھے یا نہیں، اچھا اسکول یا کالج افورڈ کرسکتے تھے یا نہیں، بچے کو درست رہنمائی کرنے والا کوئی میسر آیا یا نہیں، اسے پڑھائی کو دینے کیلئے وقت میسر تھا یا نہیں  یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کاانحصار اس کے والدین کی آمدن اور سماجی رتبے پر ہے اور ان میں سے ہر ایک شے  بچے  کی “میرٹ  پر” داخلے کیلئے منتخب ہونے  کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر لاکھوں بچے آغاز ہی سے  “میرٹ پر ” منتخب ہونے کی دوڑ سے باہر رہتے ہیں اور ہزاروں اپنے والدین کی نسبت زیادہ خوشحال والدین کے بچوں کے مقابل ایک مستقل خسارے کے مقام پر رہتے ہیں۔

ایک  ایسی دوڑ  جس میں شامل ہونے سے لے کر جیتنے تک ہر چیز کا  فیصلہ کن انحصار ان عوامل پر ہے جو کھلاڑیوں کے بس سے باہر ہیں اس کو منصفانہ سمجھنا    اور ایسی دوڑوں کے انعقاد سے  عوام کی خوشحالی کی توقع رکھنا خود فریبی ہی کہلاسکتا ہے۔یہ محض ناہمواری کو دوام دینے کا ہی ایک طریقہ ہے  کیونکہ اس دوڑ میں جیتنا انہوں نے ہی ہے جو پہلے ہی آگے کھڑے ہیں۔

ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشی ، تعلیمی  اور مواقع کی  نا ہمواری کو کم سے کم کیے بغیر محض  میرٹ کی ایسی” بالادستی” سے    انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ ہمارے  پالیسی سازوں کو “میرٹ کی بالادستی” کا راگ الاپنے کی بجائے   معاشی، تعلیمی اور مواقع کی ناہمواریاں دور کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔

اسی طرح  افراد کی سطح پر اپنی کامیابیوں میں حالات کا کردار کا تسلیم کرکے  اس حوالے سے عجز کا احساس پیدا کرنے   کی ضرورت ہے جس سے  پسے ہوئے طبقات کیلئے ہمدردی اور  معاشرے کی طرف اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہوسکے۔ شاید انفرادی سطح پر یہ احساس زیادہ اہم ہے کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جس میں تعلیمی ، معاشی اور مواقع کی ناہمواری معجزانہ طور پر ختم کردی جائے وہاں بھی پیدائشی صلاحیت اور رینڈم اثرات کے تحت کامیابیوں کا تفاوت ختم نہیں ہوسکے گا۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: