تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس احمد

وہ دانشور جس نے اسلام کو دشمن تسلیم کرنے سے انکار کردیا

by دانش ڈیسک 17/07/2026
written by دانش ڈیسک 17/07/2026
118

کچھ اسکالرز ایسے ہوتے ہیں جو حالات و واقعات کی تشریح کرتے ہیں، کچھ وہ ہوتے ہیں جو دنیا کی خوشنودی چاہتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے اس دنیا کی تلخی کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جان ایل ایسپوزیٹو کا تعلق بلاشبہ تیسرے گروہ سے تھا۔ ان کی وفات سے ہم نہ صرف ایک ممتاز اسکالر بلکہ ایک ایسے حقیقی عوامی دانشور سے بھی محروم ہو چکے ہیں جن کی مثال اب بہت نایاب ہے۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جو سمجھتے تھے کہ علم و تحقیق کوئی نمائشی پیشہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔

ایسپوزیٹو شاید اس شعبے کے آخری عظیم عوامی دانشور تھے جسے آج "اسلامو فوبیا اسٹڈیز” کہا جاتا ہے، اگرچہ وہ خود اس اصطلاح کا استعمال ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم کرتے تھے جنہوں نے بعد میں اسے باقاعدہ ایک صنعت بنادیا۔ اس سے بہت پہلے کہ اسلامو فوبیا کانفرنسوں کا موضوع بنتا، یا اس کے لیے مخصوص اصطلاحات اور تعلیمی شعبے وجود میں آتے، ایسپوزیٹو اس کے سب سے خطرناک اثرات کا مقابلہ کر رہے تھے: یعنی وہ فکری اور ذہنی خاکے جنہوں نے صحافت، سفارت کاری، عوامی رائے عامہ اور امریکی خارجہ پالیسی کو مسموم کر رکھا تھا۔ انہوں نے صرف مسلمانوں کے خلاف تعصب کا نقشہ ہی نہیں کھینچا، بلکہ اس تعصب کو پیدا کرنے والی مشینری کے پرزے بھی اکھاڑ پھینکے۔

ان کا طریقہ کار حیرت انگیز حد تک بنیادی اور انقلابی تھا: انہوں نے مسلمانوں کو سمجھنے کے لیے خود مسلمانوں کا مطالعہ کیا۔

یہ بات بظاہر بہت سادہ اور معمولی لگتی ہے، لیکن ایسپوزیٹو نے ایک ایسے دور میں اس میدان میں قدم رکھا تھا جب مغرب کے بااثر اسکالرز عام طور پر اسلامی تحریکوں کو ایک ایسی بیماری کے طور پر دیکھتے تھے جس کی تشخیص کی ضرورت ہو، یا انہیں ایک ایسا سیکیورٹی خطرہ سمجھتے تھے جسے کم کرنا ضروری ہو، یا پھر ایسی تہذیبی رکاوٹیں جن کی توجیہ پیش کرنا لازمی ہو۔ انہوں نے اس فکری لاپروائی کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے اسلامی بیداری کو ناسمجھ معاشروں پر طاری ہونے والے عارضی بخار کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے نوآبادیات، آمریت، سیکولرائزیشن، سماجی انتشار اور اخلاقی بقا کے ایک پیچیدہ ردِعمل کے طور پر دیکھا۔

انہوں نے حسن ترابی، راشد الغنوشی، حسن حنفی اور خورشید احمد جیسی شخصیات کے ساتھ اس وقت مکالمہ کیا جب مغرب کا بڑا حصہ انہیں بدنام کر کے پیش کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔ انہوں نے ان کے تمام عقائد سے غیر تنقیدی انداز میں اتفاق نہیں کیا؛ کیونکہ سنجیدہ محققین تفہیم کو تائید کے ساتھ خلط ملط نہیں کرتے۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ ان دانشور رہنماؤں اور کارکنوں کو انٹیلی جنس رپورٹس، معاندانہ اخباری کالموں یا مستشرقین کے روایتی طریقوں سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان کے افکار کو پڑھنا تھا، ان سے سوالات کرنے تھے، انہیں چیلنج کرنا تھا اور انہیں سوچنے سمجھنے والے انسانوں کے طور پر قبول کرنا تھا۔

"Voices of Resurgent Islam” (ابھرتے ہوئے اسلام کی آوازیں) اور "Makers of Contemporary Islam” (عصری اسلام کے معمار) جیسی کتب کے ذریعے ایسپوزیٹو نے مغربی قارئین کو ایک ایسی وسیع فکری دنیا سے متعارف کرایا جس کے وجود کے بارے میں انہیں کبھی بتایا ہی نہیں گیا تھا۔ انہوں نے مسلم دنیا میں گہرے دوستانہ مراسم استوار کیے کیونکہ وہ وہاں کسی ایسے ماہرِ بشریات کی طرح نہیں گئے تھے جو کسی عجیب و غریب مخلوق کا معائنہ کرنے نکلتا ہے، بلکہ وہ ایک ہم سخن بن کر گئے۔ ایک ایسے خطے میں، جہاں لوگ مغربی ماہرین کو پہلے سے طے شدہ نتائج کے ساتھ دیکھنے کے عادی تھے، وہاں ان کی یہ سنجیدگی کسی انقلاب سے کم نہیں تھی۔

اگرچہ ان کے مربی اور استاد اسماعیل الفاروقی نے ان کے اس مزاج کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن ایسپوزیٹو نے اسے منفرد انداز میں اپنا رنگ دیا۔ وہ شاید دورِ حاضر کے اسلام کے پہلے مغربی اسکالر بن گئے جن کا مسلم معاشروں میں والہانہ محبت کے ساتھ خیر مقدم کیا گیا۔ وہ صرف قابلِ احترام ہی نہیں تھے، بلکہ پاکستان، ملائیشیا، ترکی اور دیگر ممالک میں انہیں بڑی اپنائیت اور پذیرائی ملی۔

جب انہوں نے 2017 میں میرے والد ڈاکٹر ممتاز احمد کی یاد میں افتتاحی خطبات دینے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا، تو ان کا استقبال غیر معمولی تھا۔ "یو ایس-پاکستان انٹرکلچرل کولیشن” کے تعاون سے منعقدہ ان خطبات کے سلسلے میں وہ لمز (LUMS)، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) گئے۔ ہال کھچاکھچ بھرے ہوئے تھے اور لوگوں کو جہاں جگہ ملی، وہیں کھڑے ہو گئے۔ بروک لین سے تعلق رکھنے والے ایک اطالوی-امریکی کیتھولک اسکالر، جان ایسپوزیٹو، پاکستان پہنچے تو ان کا استقبال کسی راک اسٹار کی طرح کیا گیا۔

لیکن یہ جوش و خروش کوئی شخصیت پرستی نہ تھی۔ پاکستانی جانتے تھے کہ اس شخص نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہاں ایک ایسا مغربی عالم موجود تھا جس نے دہائیوں تک اسلام کی تعریف و توضیح کسی احساسِ برتری کے بغیر، اسلامی سیاست کی تشریح کسی ہیجان خیزی کے بغیر، اور مسلمانوں کو مجرم سمجھے بغیر اُن کے تحفظات اور دکھوں کی ترجمانی کی تھی۔ وہ لوگ انہیں، سادہ لفظوں میں، اسلام کے سب سے بڑے زندہ مغربی اسکالر کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

ہمارے گھرانے کے لیے تو وہ "انکل جان” تھے، ایک ایسی شخصیت جو ہمارے دلوں کے بہت قریب تھی۔

2016 میں، اپنے والد ڈاکٹر ممتاز احمد کے انتقال سے پہلے، میں پروفیسر ایسپوزیٹو کو بنیادی طور پر فون کالز کے ذریعے ہی جانتا تھا۔ وہ حد درجہ خوش مزاج اور ظریف انسان تھے۔ وہ ڈرامائی انداز میں مصنوعی جھنجھلاہٹ کے ساتھ اعلان کرتے کہ وہ میرے والد کے اس مضمون کے منتظر ہیں جو ایک اور ترمیم شدہ کتاب (edited volume) کے لیے بری طرح تاخیر کا شکار ہے۔ یہ سلسلہ برسوں تک بار بار چلتا رہا۔ میرے والد کے لیے ڈیڈ لائنز ہمیشہ لچکدار رہیں، اور جان کا غصہ ہمیشہ پیار بھرا رہا؛ دونوں اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ روایتی کھیل ہمیشہ یوں ہی چلتا رہے گا۔

یہاں تک کہ بعض اوقات اُن کا اپنا کرئیر تک ان کی حسِ مزاح کی زد پر آ جاتا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے کہتے کہ 1979 سے پہلے ان کا کوئی خاص کیریئر ہی نہیں تھا اور وہ کتاب لکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ پھر آیت اللہ خمینی اور ایرانی انقلاب کا دور آیا، جسے جان مذاق میں اپنی پہلی ‘لیکسس’ (Lexus) گاڑی کہتے تھے۔ وہ مزید کہتے تھے کہ اسامہ بن لادن اور 11 ستمبر کے واقعات ان کی ‘مرسڈیز’ (Mercedes) کا وسیلہ بن گئے تھے۔ اس لطیفے کے پیچھے ایک تلخ سچائی چھپی تھی: یعنی مغرب کی اسلام میں دلچسپی اسی وقت بڑھی جب مسلمانوں کو ایک بحران کے طور پر پیش کیا جاسکتا تھا۔

ایسپوزیٹو اس خطرے کو کسی بھی دوسرے شخص سے پہلے بھانپ چکے تھے۔ اپنی کتاب "The Islamic Threat: Myth or Reality?” (اسلامی خطرہ: وہم یا حقیقت؟) میں انہوں نے اس جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) جال کی نشاندہی کر دی تھی جو کمیونزم کے خاتمے کے بعد بننے والا تھا۔ بڑی طاقتور ریاستیں، اپنے کسی بڑے دشمن کے بغیر، امن کی حالت کو آسانی سے برداشت نہیں کر پاتیں؛ چنانچہ جلد ہی اسلام کو اس خالی جگہ پر فٹ کر دیا گیا۔ ستمبر 11 کے بعد، ان کی کتاب "Unholy War: Terror in the Name of Islam” نے دہشت گردوں کی طرف سے مذہب کے غلط استعمال اور دہشت گردی کا بہانہ بنا کر پوری تہذیب کو نشانہ بنانے والوں، دونوں کو یکساں چیلنج کیا۔

ان کی علمی کاوشیں اس لیے بھی غیر معمولی تھیں کہ وہ ایسے دور میں منظرِ عام پر آئیں جب مسلمانوں کو سمجھنے کے بجائے ان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانا پیشہ ورانہ اعتبار سے زیادہ آسان اور محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ امریکی ذرائع ابلاغ اکثر ایسے ماہرین کو ترجیح دیتے تھے جن کی مقبولیت مسلمانوں سے اُن کی بڑھی ہوئی دشمنی پر مبنی تھی۔ مغرب میں اسلام کے ممتاز ترین ماہر ہونے کے باوجود جان ایسپوزیٹو کو امریکی مین اسٹریم میڈیا میں اکثر ان نظریاتی شخصیات سے کم جگہ ملتی تھی جن کے پاس نہ ان جیسا تحقیقی تجربہ تھا اور نہ علمی وسعت۔ گویا ٹیلی ویژن پر مسلمانوں کے بارے میں رائے دینے کی بنیادی شرط ہی یہ تھی کہ مسلمانوں کے بارے میں زیادہ آگاہی نہ ہو!

بین الاقوامی سطح پر صورتحال مختلف تھی۔ ایسپوزیٹو حکومتوں کے مشیر بنے، جامعات سے خطاب کیا، پالیسی سازوں کی رہنمائی کی، انسائیکلوپیڈیاز مرتب کیے اور پچاس سے زائد کتب لکھیں جن کا درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ لیکن ان کے کام کی یہ فہرست ان کے اصل کارنامے کی اہمیت پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ انہوں نے ایک ایسا فکری سانچا تیار کیا جس کے ذریعے مسلمانوں کو "مشتبہ افراد” کے بجائے تاریخ کے متحرک کرداروں کے طور پر دیکھا اور سمجھا جائے۔

میرے والد کی وفات کے بعد پروفیسر ایسپوزیٹو کے ساتھ میرا رشتہ مزید گہرا ہو گیا۔ ان کی ای میلز علم و دانش، غصے، گپ شپ، گرمجوشی اور مزاح کا ایک انوکھا امتزاج ہوتی تھیں۔ وہ اپنے وقت کے معاملے میں حد درجہ سخی اور دوستی نبھانے میں بے مثال تھے۔ پروفیسر تمارا سون (Tamara Sonn) اور امام عبدالملک مجاہد کے ساتھ مل کر، وہ ان فکری رہنماؤں کے اس قریبی دائرے کا حصہ تھے جن کے بارے میں میں بچپن سے سنتا آ رہا تھا؛ یہ سب میرے والد کے رازدار، نقاد، ہم کار اور پیارے ہم سخن تھے۔

چنانچہ یہ بالکل موزوں تھا کہ ڈاکٹر ممتاز احمد میموریل کے پہلے خطابات پروفیسر ایسپوزیٹو نے دیے، اور اگلے سال یہ ذمہ داری تمارا سون نے نبھائی۔ یہ کوئی رسمی انتخاب نہیں تھا، وہ ہمارے خاندان کا حصہ تھے۔

پروفیسر ایسپوزیٹو کے ساتھ میرا ایک آخری اور انتہائی یادگار رابطہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے طبی شفافیت اور انسانی سلوک کے مطالبے پر مبنی ایک بین الاقوامی اپیل کے سلسلے میں تھا۔ وہ اس صورتحال پر سخت پریشان تھے۔ اس کے باوجود، میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ اس پر دستخط نہ کرنا چاہیں تو میں بالکل برا نہیں مانوں گا۔ پاکستان نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا تھا اور وہ یہاں ہمیشہ ایک سرکاری مہمان کی طرح آتے تھے۔ عوامی سطح پر اس طرح کا اختلاف ان تعلقات کو متاثر کر سکتا تھا جنہیں انہوں نے دہائیوں کی محنت سے بنایا تھا۔

انہوں نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں سوچا۔ انہوں نے کہا، "میرا نام بھی شامل کرو۔”

اس کے کچھ ہی دیر بعد، پاکستانی سفارت خانے سے وابستہ نمائندوں نے انتہائی شائستگی سے ان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ان کی تعریف کی، انہیں عزت دی، اور پھر نرمی سے اشارہ دیا کہ شاید وہ پاکستان کے حالات کو صحیح طرح نہیں سمجھ پائے اور انہیں گمراہ کیا گیا ہے۔ ایسپوزیٹو نے جواب دیا کہ وہ صورتحال کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جب انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا، تو ہم دونوں بہت ہنسے۔

تمارا سون نے بھی اس اپیل پر دستخط کیے۔ دونوں جانتے تھے کہ پاکستان کی مقتدرہ کے ساتھ ان کے تعلقات اب شاید پہلے جیسے نہ رہ سکیں گے۔ انہوں نے مصلحت اور وقار پر اصول کو ترجیح دی، ایک ایسا بنیادی اخلاقی فیصلہ جو آج کے دور کے بہت کم دانشور، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اس وقت کر پاتے ہیں جب اعزازات، سرکاری رسائی اور ذاتی آسائشیں داؤ پر لگی ہوں۔

یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر سامی العریان کا ان کی نظر بندی اور مشکلات کے سالوں میں کھل کر ساتھ دیا، اور اس وقت ان سے ملنے گئے جب بہت سے معزز لوگوں نے دوری اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ انہوں نے اس وقت ان کی وکالت کی جب یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے سنگین نتائج ہو سکتے تھے۔ ایسپوزیٹو کا "پل بنانے” کا کام ہوٹلوں کی پرسکون کانفرنسوں اور خوشنما بیانات تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ ان لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے تھے جنہیں طاقت کے ایوانوں نے تنہا کر دیا تھا۔

اعزازات اچھے لگتے ہیں، رسائی مفید ہوتی ہے اور وقار سے راستے کھلتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی بھی چیز کے لیے، خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔ جب رواداری کا چرچا فیشن بن جائے تو ہر کوئی اس کی تعریف کرتا ہے۔ لیکن ایسپوزیٹو نے اس وقت انسانی وقار کا دفاع کیا جب ایسا کرنا مشکل اور نقصان دہ تھا۔

انہوں نے "اسلام اور مغرب” کے درمیان مکالمے کی بات اس وقت کی تھی جب یہ جملہ ابھی تعلیمی اداروں کی زینت نہیں بنا تھا۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ تہذیبیں آپس میں گفتگو نہیں کرتیں، بلکہ انسان کرتے ہیں۔ ان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے ان جگہوں پر انسانی رشتے قائم کیے جہاں نظریاتی تجرید نے دشمنیاں پیدا کر دی تھیں۔ جارج ٹاؤن میں "سینٹر فار مسلم-کرسچن انڈرسٹینڈنگ” کا قیام محض ایک تعلیمی کامیابی نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے اس بنیادی یقین کا مظہر تھی کہ علم کو باہمی رابطے میں بدلنا چاہیے، اور اس رابطے کو اخلاقی ذمہ داری بننا چاہیے۔

جان ایسپوزیٹو نے اسلامو فوبیا کے خلاف موجودہ دور کی پوری انڈسٹری سے کہیں زیادہ کام کیا، کیونکہ وہ اس برائی کی جڑوں پر وار کرتے تھے۔ انہوں نے ان مفروضوں، نظریات اور خارجہ پالیسیوں کو چیلنج کیا جہاں سے اسلام دشمنی کو قوت ملتی تھی۔ انہوں نے صرف آگ کی مذمت نہیں کی بلکہ اس فکری نظام کا بھی جائزہ لیا جو عمارت میں بار بار آگ بھڑکانے کا سبب بنتا تھا۔

ان کے ناقدین اکثر ان پر الزام لگاتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے لیے حد سے زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ یہ الزام خود ان کے ناقدین کی ذہنیت کو بے نقاب کرتا تھا۔ ان کی لغت میں ہمدردی کا مطلب یہ تھا کہ آپ بحث کا آغاز مسلمانوں کو حقیر سمجھنے سے نہ کریں۔

ایسپوزیٹو نے اپنے سفر کا آغاز تجسس سے کیا۔ وہ تحقیق کی گہرائی میں گئے اور بالآخر دوستی کی منزل پر پہنچے۔

یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا ان کی وفات پر اس لیے رنجیدہ نہیں کہ وہ کوئی غیر ملکی ماہر تھے جنہوں نے اسلام پر لکھا، بلکہ انہیں ایک ایسے مخلص دوست کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے جو مسلمانوں کو فرشتہ صفت قرار دیے بغیر ان کے ساتھ کھڑا رہا، جس نے داد و تحسین کی تمنا کیے بغیر انصاف کی بات کی، اور ان سرحدوں کو عبور کیا جنہیں کمزور ذہنوں نے دیواریں بنا رکھا تھا۔

میرے والد خوش قسمت تھے کہ وہ انہیں اپنا بہترین دوست کہتے تھے، اور میں خوش قسمت ہوں کہ میرے والد کی وفات کے بعد مجھے خود اس دوستی سے فیض اٹھانے کا موقع ملا۔ ان کا مجھے آخری سبق وہی تھا جو ان کی پوری زندگی کا حاصل تھا: اعزازات اچھے لگتے ہیں، رسائی مفید ہوتی ہے اور وقار سے راستے کھلتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی بھی چیز کے لیے، خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔

جان ایسپوزیٹو نے ایک ایسے دور میں پل تعمیر کیے جو دیواریں اٹھانے پر انعامات بانٹتا تھا۔ ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت یہ نہیں کہ ہم صرف ان پلوں کی تعریف کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم میں ان پلوں پر سے گزرنے کا حوصلہ اور جرات ہو۔

جان ایل ایسپوزیٹو کی علمی خدمات، اسلام اور مغرب کے تعلقات کے بارے میں ان کی فکر، اور مسلم دنیا کے فکری مباحث کو مزید سمجھنے کے لیے Emel Publications کی اسلامی فکر، تہذیب، تاریخ اور معاصر مسلم مسائل سے متعلق کتب کا مطالعہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ان موضوعات پر منتخب کتب Emel Publications سے دستیاب ہیں۔

Facebook Comments Box
John EspositoJunaid S Ahmad
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ — شہزاد حنیف سجاول
next post
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و تحقیقی مضامین کا وقیع مجموعہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.