مرزا عبدالقادر بیدل کے بارے میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ سبکِ ہندی کے ایک عظیم المرتبت شاعر تھے جن کے شعری شعور کے ظہور میں سترہویں صدی کے ہندوستان کی علمی اور ادبی فضا نے نمایاں کردار کیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی دہرانے کی ضرورت نہیں کہ غالب اُن کی شاعری کے بڑے شیفتہ و فریفتہ تھے۔ غالب کی اسی شیفتگی اور فریفتگی کو ہماری اردو تنقید نے جھٹ پٹ “اثر” کا نام دے کر ایک ایسی بحث کی ابتدا کردی تھی جس کی انتہا غالب تنقید میں درجن بھر مضامین، ایک آدھ کتاب اور کچھ مکتوبی تبویب کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اب یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اُن مضامین، کتابوں اور کتابی تبویب سے غالب کی بیدل پرستی ثابت ہوتی ہے کہ نہیں لیکن اتنی سی بات ضرور عرض کی جاسکتی ہے کہ یہاں الفاظ کے استعمال کی یکسانیت اور ترجموں کے تعامل کو “اثر” کا نام دے کر ہم جیسے کم فہم قاری کو گمراہ ضرور کیا گیا ہے۔ اس گمراہی کو فروغ دینے میں اردو تنقید نے غالب کے اُن شعروں کو بنیادی حوالے کے طور پر استعمال کیا جن میں بیدل کا مذکورِ محض نمایاں ہے۔ اس گمراہی کو پھیلانے سے قبل حامیانِ اثر کو یہ دو باتیں ضرور معلوم ہونی چاہئیے تھیں۔ اول یہ کہ کسی شاعر کا اپنے پیش رو یا معاصر شاعر کا شعر میں ذکر کرنا فارسی اور اردو کی شعری تہذیب میں ایک تعظیمی رویے کے طور پر روزِ اول سے شامل رہا ہے۔ میر نے بھی ولی دکنی کا شعری اعتراف کیا ہے:
خوگر نہیں ہم یوں ہی کچھ ریختہ گوئی کے
معشوق تھا جو اپنا باشندہ دکن کا تھا
لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میر کی شاعری ولی سے متاثر ہے۔ یہی بات غالب پر بھی صادق آتی ہے۔ اُنھوں نے صرف بیدل ہی نہیں بلکہ انوری، ظہوری، میر، ناسخ، تجمل حسین خاں، نواب مصطفٰی خاں شیفتہ، ولیم فریزر، اور فضلِ حق خیر آبادی کے والدِ ماجد فضلِ امام خیر آبادی وغیرہ کا اپنے فارسی اور اردو کلام میں ذکر کیا ہے۔ ان اذکار سے غالب کی شاعری پر یہ حکم لگایا ہی نہیں جاسکتا کہ وہ مذکورہ اشخاص کے کلام و افکار سے متاثر تھے۔ نواب مصطفٰی خاں شیفتہ کی علمیت اور غالب سے اُن کے مراسم کی نوعیت سب جانتے ہیں۔ نواب صاحب نے “گلشنِ بے خار” میں غالب کے بارے میں سب سے مناسب رائے دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“بتقاضائے طبع دشوار پسند بطرزِ مرزا عبدالقادر بیدل سخن می گفت و وقت آفرین ہا می کرد آخرالامر ازاں طریقئہ اعراض کردہ اندازے مگر مطبوع ابدا نمودہ دیوانش” (ص۔ 139)
شیفتہ کے مطابق غالب، ابتدائی زمانے میں اپنی دشوار پسند طبیعت کی بنا پر مرزا عبدالقادر بیدل کے طرز میں سخن گوئی کی اور خوب کی لیکن بعد میں اس طرز سے گریز کیا۔ ممکن ہے کہ غالب طرزِ بیدل سے متاثر رہے ہوں لیکن نواب صاحب نے اس ضمن میں کسی نوع کے شعری شواہد بہم نہیں پہنچائے ہیں۔ پھر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر غالب کے لیے طرزِ بیدل اتنا پر کشش تھا تو وہ فوراََ اس اسلوب سے تایب کیوں ہوگئے؟ ہم جانتے ہیں کہ غالب کو اپنے ابتدائی زمانے میں اپنی ناقدری کا شدید احساس تھا جس کا ایک مضبوط سرا اُن کی مشکل پسند طبیعت سے مربوط تھا۔ اب آپ اسے تعلقِ بیدل کا منفی پہلو سمجھیں یا پھر غالب کا شعری اجتہاد۔ دوم یہ کہ غالب اپنی نثری تصنیف “پنج آہنگ” (1849) جو کہ فارسی نثر کے پانچ آہنگوں پر مشتمل ہے، کے کسی آہنگ میں بھی بیدل کی شاعری پراُن کی کوئی تقریظ یا مقدمہ موجود نہیں۔ جب کہ حافظ، ناسخ اور شیفتہ کی شاعری پر لکھی گئی غالب کی تقریظیں اس کتاب کا بیش بہا حصہ ہیں۔ تاہم کہا جاسکتا ہے کہ غالب طرزِ بیدل سے متاثر نہیں تھے اور اگر تھے بھی تواُس کا ثبوت ہنوز معرضِ التوا میں معلوم ہوتا ہے۔ در اصل یہ ساری گمراہی اردو تنقید کی تن آسانی سے پیدا ہوئی تھی جس نے شعر کے لفظی ترجمے کو اثر سمجھ لیا تھا۔ جب کہ اثر اور ترجمے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ آئیے پہلے اس مسئلے کو اس جملے سے حل کرتے ہیں “مرزا عبدالقادر القادر بیدل وہ عظیم شاعر ہے کہ غالب اور اقبال دونوں اس کے طلسم میں گرفتار رہے ہیں” یہاں ترجمے اور اثر کے فرق کو سمجھے بغیر مصنف نے دونوں شاعروں کو بیدل کا اسیر بنا دیا۔ اب میں آپ کو اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہوں:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
اقبال کے شعر کے بعد اب بیدل کا شعر دیکھئیے:
چہ لازم با خرد ہم خانہ بودن
دو روزے میں تواں دیوانہ بودن
بیدل کے پس منظر میں یہ بات کوئی موٹی عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اقبال نے بیدل کے شعر کا ایک ہلکی سی تحریف کے ساتھ ترجمہ کر دیا ہے۔ اس ترجمے کو کسی صورت اثر کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ غالب کے فارسی اور اردو دیوان میں ایسے اشعار ضرور موجود ہیں جو بیدل کے شعروں کے ترجمے ہیں۔ اور جن سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ اُن کی شاعری بیدل سے متاثر تھی۔ غالب اور اقبال بڑے شاعر ہیں تو اس لیے نہیں کہ اُنھوں نے بیدل کے کچھ شعروں کے ترجمے کر دیے تھے بلکہ آج دونوں شعرا کی شعری عظمتیں اُن کے فکری اجتہاد اور انفرادی اسالیب کے سبب قائم و دائم ہیں۔ جس طرح نظیر اکبر آبادی اپنے شعری اسلوب کے موجد اور خاتم دونوں تھے ٹھیک اسی طرح اقبال اپنے شعری افکار اور فنی اظہار کے اعتبار سے ایک شعری روایت کے خود ہی مبتدی اور خود ہی منتہی دونوں ہیں۔ لیکن جب یہ بات کہی جاتی ہے تو اس سے یہ مراد ہرگز نہیں لی جاسکتی کہ غالب فارسی کے کسی بھی شاعر سے متاثر نہیں تھے۔ غالب کے فارسی اور اردو کلام کے غائر مطالعے سے یہ بات نمایاں ہوجاتی ہے کہ غالب فارسی کے متعدد شعرا سے متاثر تھے۔ اس نکتے کو مثال کے حوالے سے سمجھنے سے قبل یہاں پہلے اثر پذیری کے عمل کو سمجھنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ہیرالڈ بلوم نے اپنی کتاب “اینگزایٹی آف انفلیونس” میں “کلینمین” کی اصطلاح استعمال کی ہے جس کی رو سے بلوم یہ وضاحت کرتا ہے کہ ایک شاعر اپنے پیش رو شاعر کے کلام سے انحراف یا بھٹکاو کا راستہ اختیار کرتا ہے جس سے ایک نیا اور انفرادی شعری اسلوب معرضِ ظہور میں آتا ہے۔ بلوم کے اس نظریے کو ہم اس طرح بھی سمجھ سکتے کہ جب کوئی شاعر اپنے کسی پیش رو شاعر کے کلام سے متاثر ہوتا ہے تو وہ اُس کے کلام یا شعری متن میں کچھ حیرت انگیز تبدیلیاں کرتا ہے، اور اس فنی مہارت سے کرتا ہے کہ سابقہ کلام کے برعکس کلامِ موجودہ میں ایک یا کئی نئے اور حیرت انگیز معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس تناظر میں حافظ اور غالب کے شعر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں:
ما در پیالہ رخِ یار دیدہ ایم
ای بے خبر ز لذتِ شربِ مدام ما
(حافظ)
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
(غالب)
حافظ کے مذکوہ شعر میں شاعر کے جام بہ کف ہونے کا متواتر عمل یعنی لذتِ شراب سے مسلسل محظوظ ہونے کی توجیہ نہ تو جامِ جمشید کی تلمیح سے برآمد ہوتی ہے اور نہ ہی کششِ بادہ سے بلکہ شاعر کے ساغر بہ کف ہونے کی اصل وجہ اُس میں “رخِ محبوب” کی عکس نمائی ہے۔ یعنی یی کہ شاعر ہر وقت اس لیے اپنے ہاتھوں میں جامِ شراب لیے رہتا کہ اُس میں محبوب کا چہرہ نظر آتا ہے۔ شعر کی متعدد قرات سے بھی یہ کہیں ثابت یا ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ شراب پی رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کیفیت (ٓجلوۂ معشوق) شاعر کو مطلوب تھی وہ شراب پیے بغیر ہی اُس کے حواس پر طاری ہو رہی ہے۔ تاہم یہاں شراب کا استعارہ محبوبِ فانی اور معشوقِ روحانی دونوں ہی معنی کو ایک ساتھ خلق کرتا ہے۔ جب کہ غالب کے شعر میں ساغر و مینا عشقِ راسخ کا استعارہ ہے۔ یہ عشقِ راسخ شراب سے بھی منسلک ہوسکتا ہے اور محبوب سے بھی۔ کیوں کہ محبوب اور شراب میں نشے کی صفت مشترک ہوتی ہے۔ یہاں آنکھ سے شراب پینا محض شاعر کے ہاتھ کی ناتوانی بیان نہیں کرتا بلکہ آنکھ اور نشے کے ربط سے ایک نئے پیکر کو خلق کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ غالب کے شعر میں ہاتھ، شراب اور آنکھ کے مشترکہ ارتباط سے متعدد پیکر خلق ہوتے ہیں۔ لہذا کہا جاسکتا سکتا ہے کہ حافظ کے شعر میں جو معدوم کیفیت (عکسِ رخِ یار) موجود کی صفت سے ہم آہنگ ہے وہ کیفیتِ موجود (مینا) غالب کے شعر میں صفتِ معدوم سے ہمکنار ہوتی نظر آتی ہے جس وہ پیکر معرضِ ظہور میں آتا ہے جو حافظ کے شعر میں موجود نہیں۔
