راقم کا ایک مدت سے (غلط یا صحیح) خیال ہے تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والی اردو تنقید کے نظری ماحث اور ہندوستان میں پیدا ہونے والی اردو تنقید کے عملی سروکاروں میں باریک مگر بتدریج گہرا امتیاز پیدا ہوتا چلا گیا ہے:
1 پاکستانی اردو تنقید میں کسی فن پارے کے جمالیاتی پہلو کے ساتھ ساتھ اس کے ثقافتی تہذیبی اور سماجی پہلو پر تاکید و توجہ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے برعکس ہندوستان میں لکھی جانے والی اردو تنقید میں ادب کے تہذیبی و ثقافتی بتدرج عناصر دبتے گئے ہیں۔ اور خاص طور پر اس کے پس منظر مین کارفرما مسلم شعور و طرز احساس کی طرف سے پہلے ایک خاموش سناٹا پیدا ہوا پھر کچھ آوازدار لاتعلقی اور غیرجانبداری پیدا ہوئی اور پھر زبان و ادب کی لبرل سیکولر نہاد پر زور دیے جانے نے کے رجحانات نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔
2 اگلے مرحلے پر یہ حادثہ ہوا کہ پاکستانی اردو تنقید میں کسی فن پارے کے جمالیاتی پہلو اور اس کی تکنیک و اسلوبیات پر گفتگو ایک غالب رجحان کے طور پر گُم ہوتی محسوس ہوتی ہے اور اسکے برعکس ہندوستان کے اردو تنقیدی مسائل میں سماجیاتِ تہذیب اور خاص طور پر اردو ادب کی مسلم تہذیبی شناخت پر کلام جوں جوں کم ہوتا گیا توں توں پہلے ادب کی فنی جمالیات اور پھر تھیورائی مسائل پر گفتگو اردو تنقید کے مرکزے کی حیثیت اختیار کرتی گئے ہے۔
یاد رہے یہ میں غالب رجحان کی بات کر رہا ہوں۔ اس میں ڈھکا چھپا استثناء اور کلیہ توڑتی اکا دکا آوازیں بہرحال دونوں طرف موجود ہیں۔ تقسیم ہند کے ابتدائی دس بیس سال کے دوران جبتک ترقی پسند تصورِ ادب تنقید کا غلغلہ دونوں طرف موجود رہا یہ خلیج زیادہ واضح نہ تھی مگر جب پھر ایک خاص قسم کی “جدیدیت”، جسے اردو تنقید کی تاریخوں میں سن ساٹھ کی جدیدیت کہا جاتا ہے، کا شور ہوا تو اس کے اثرات دونوں طرف ہوئے۔ مگر پاکستان میں ایک طرف ترقی پسند تصورات والوں کی پیدا کردہ رونق کی وجہ سے اور دوسری طرف محمد حسن عسکری اور ان کی ہم نوائی میں پاکستانی شعور، ادب، کلچر، تہذیب، اردو ادب کے مسلم طرزاحساس والے نقادوں کی ہاؤ ہو کی وجہ سے ادب کے سماجی سروکار، بحثوں کی حد تک ہی سہی، پھر بھی کسی نہ کسی حد تک ملحوظ رہے مگر ہندوستانی اردو تنقید اور مسلمان نقادوں نے ادب کے تہذیبی، مابعدالطبیعیاتی اور خاص طور پر ادب کے مسلم طرز احساس والے پہلو سے نہ صرف دامن بچانا شروع کردیا بلکہ اپنے سماج کی حاکم اور غالب آوازوں کے “لاشعوری احساس” کی وجہ سے اپنے سر پر سکولر شناخت کی نہرو ٹوپی سجانا شروع کردی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میری غیر معمولی، اور غیر ضروری بھی، حساسیت کا شاخسانہ ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے اہم اردوں نقادوں کی تنقیدی کاوشوں کے علاوہ مجھے ہندوستان و پاکستان میں لکھی جانے والی “اردو زبان و ادب کی تاریخوں” تک اور خاص طور پر اقبال پر لکھی جانے والی کتابوں میں اس طرز احساس کے باد نمائی کے اثرات نظر آتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں تک لکھ چکا تو یکایک خیال آیا کہ یہ تحریر میں نے ہندوستان کے معروف ادیب اور نقاد جناب شمیم حنفی کی یاد اور اور انکے تذکارِ محبت کیلیے شروع کی تھی مگر شاید ان کی کسی تحریر کی بازگشت نے میرے ذہن میں ہندوستان و پاکستان کی اردو تنقید کے اس امتیازی عنصر کے احساس کو اتنا نمایاں کر دیا ہے کہ ایک طولانی تمہید ان کے تذکرے کے آڑے آ گئی ہے۔ ۔ ۔ اس کے بعد اس تحریر کا بنیادی نقطہ حنفی صاحب کی محبت اور بزرگانہ شفقت کا قصہ رہے گا اور کہیں آگے جاکر کر یہ تمہید اگر پھر سے حنفی صاحب کے ادبی سروکاروں کے ساتھ جڑ گئی تو کوئی حرج بھی نہ سمجھیئے گا۔☺️
شمیم حنفی کی فوری یاد تو پچھلے ہفتے (اکتوبر میں) ان کی فون کال کی وجہ سے آئی۔ بھلا ہو فیس بک میسنجر اور واٹس ایپ کا اس کی وجہ سے اب اندرون بیرون ملک ان لوگوں سے بات چیت کا سلسلہ بھی بہت سہل ہو گیا ہے۔ جن سے رابطے اور آواز سننے کا کوئی تصور بھی نہیں تھا اب ہم ان سے بھی ابھی ملاقات سے آگے کا کام کرلیتے ہیں۔ حنفی صاحب خود فیس بک استعمال نہیں کرتے اور سوشل میڈیا سے بھی بالعموم دور ہی رہتے ہیں۔ کہتے ہیں مجھے اس نئی ٹیکنالوجی سے مناسبت نہیں۔ فیس بک پر ان کی بیگم کا اکاونٹ صبا شمیم کے نام سے ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں کی بات ہے کہ اسی واسطے سے میں نے اس سے پوچھا کے اگر حنفی صاحب کا بھی کوئی کوئی اکاؤنٹ ہو تو مطلع کیجئے۔ اگلے ہی دن خوشی کی انتہا نہ رہی جب ہماری زبان کی صاحب اسلوب نقاد کا پیغام ملا۔ حنفی صاحب نے بتایا کہ ان کا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے اس لئے اسی اکاؤنٹ یا واٹس ایپ نمبر پر ہم آپسی رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ اور پھر مزید شفقت کرتے ہوئے انہوں نے ایک لمبی فون کال کی۔ اس کے بعد سے فون پر بات چیت کا سلسلہ کسی نہ کسی طرح نہ اب بھی جاری ہے۔ اپنے سے بڑی عمر کے تکلف والوں اور بزرگوں کی زحمت کے خیال سے چونکہ مجھے خود کال کرنے میں جھجھک ھوتی ھے، اسلیے کوئ ضرورت ہو تو میں انہیں ایک چھوٹا سا میسج لکھ بھیجتا ہوں، میسج کا جواب بھی دیتے ہیں لیکن اکثر خود کال کر کے عزت افزائی کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ان کی ایک لمبی کال آئی اور بہت سے معاملات پر باتیں ہوئیں جو میں آگے چل کے لکھوں گا۔ حنفی صاحب سے رابطے اور بات چیت کا یہ سلسلہ اچانک بلا کسی رسمی وجہ کے شروع نہیں ہوا بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے۔
اب چونکہ یہ بات کوئ دس بارہ برس پرانی ہو چکی ہے لہذا اس “راز” کا افشا کر دینا خلافِ مصلحت بھی نہ ہوگا۔ اپنے زمانے کے اس بہت بڑے ادیب اور نقاد سے تعارف کا واقعہ چونکہ میرے لیے ایک لذیذ تر حکایت کی طرح ہے اس لیے اس کا بیان بھی اگر درازتر ہوجائے تو ‘وصف العیش نصف العیش’ کے مصداق آدھے طرب و نشاط کا باعث ضرور بنے گا۔
سن 2007 کی گرمیوں کی بات ہے کہ میرے پی ایچ ڈی کے زبانی امتحان کے ممتحن ڈاکٹر وحید قریشی نے مجھے میرے مقالے کے بیرونی ممتحنین کی رپورٹ دکھائی تو ان میں سے ایک رائے کو پڑھ کے اپنے مقالے کی سندی حیثیت میری نظر میں زیادہ معتبر ہوگئی۔ یہ رائے جناب شمیم حنفی کی تھی جو انہوں نے دہلی سے بھیجی تھی۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہاں یہ ذکر کردوں کہ محمد حسن عسکری پر پی ایچ ڈی کا یہ مقالہ لکھنا میرے لیے محض پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کا معاملہ کبھی نہیں رہا۔ آج جب کہ پی ایچ ڈی، اردو، میں داخلے کے امیدواروں کا اردو زبان و ادب کا ابتدائی ضروری مطالعہ پستی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے لہٰذا انہیں مقالہ لکھنے سے کہیں زیادہ مشکل اپنے مقالے کا موضوع متعین کرنے میں پیش آتی ہے، میں نے اپنے پی ایچ ڈی کے موضوع کو، بغیر کسی ڈگری کے حصول کا خیال باندھے، محض اپنے شوق سے، کامل بیس برس تک پڑھا تھا۔ جب کہ اب حالات یہ ہیں کہ طلباء یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پہلے ہمارے پی ایچ ڈی کا موضوع منظور کروائیے تب ہم پڑھنا شروع کریں گے۔
خیر، اپنے مقالے پر حنفی صاحب کی اس رائے کو میں بعد میں کبھی درج کرون گا لیکن پہلے یہ ذکر کرنا بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ سن 2009 میں لاہور سے میرے محبت کرنے والے دوست ڈاکٹر ضیاالحسن نے مجھے فون پر کہا کہ تم اپنا اب تک اپنا مقالہ کہاں چُھپائے بیٹھے ہو جبکہ لاہور کے کئی ناشر اسے شائع کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وجہ اس کی انہوں نے یہ بتائی کہ پچھلے دنوں یہاں ہندوستان سے شمیم حنفی صاحب آئے ہوئے تھے انہوں نے تقریباً ہر مجلس اور تقریب میں تمہارے مقالے کی بے حد تعریف کی ہے۔ یہ سن کر بندے کو خوشی تو بہت ہوئی لیکن میں مقالہ اسی طرح پھر دبائے بیٹھا رہا اور سال بھر گزر گیا تا آنکہ 2010 میں مجھے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں تدریس کا موقع ملا۔ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر تحسین فراقی نے اردو کے منفرد انشاءپرداز محمد حسین آزاد کی صدسالہ برسی پر ایک تین روزہ سمینار کا انعقاد کیا جس میں ہندوستان کے بہت سے نقادوں اور ادیبوں کے علاوہ شمیم حنفی صاحب بھی تشریف لا رہے تھے۔
وہ جنوری کی کہرے میں لپٹی ہوئی رات تھی اور میری ذمے ہندوستان سے آنے والے ادیبوں کو لاہور ایئرپورٹ سے لے کر کر ایگزیکٹیو گیسٹ ہاؤس، پنجاب یونیورسٹی، نیو کمپس میں پہنچانا قرار پایا۔ دس گیارہ بجے کا سماں، رات اندھیری، آسمان پر دھند کی چادر تنی ہوئی، ہر طرف کہرا چھایا ہوا، پوستینی چوغے چڑھائے، یخ ہواؤں سے چہرے اور ناک کو پالے بچانے کے لیے ڈاٹھے باندھے میں اور ایک اور ساتھی شمیم حنفی اور چند ایک اور ہندوستانی مہمانوں کے استقبال کے لئے لاھور ایئرپورٹ میں موجود تھے۔ میں حنفی صاحب کے علاوہ کسی کو نہیں پہچانتا تھا کہ انہیں تصویروں میں دیکھ رکھا تھا۔ طیارہ اترا مہمان باہر آئے۔ حنفی صاحب پر نظر پڑی۔ ان کے ساتھ ایک صاحب اور بھی تھے۔ میں لپک کر ان کی طرف بڑھا اور تعارف کروایا: “عزیز ابن الحسن”!
وہ اس اپنائیت سے ملے کہ جیسے مدتوں سے واقف ہوں۔ ساتھ والے صاحب سے کہنے لگے
“یہ ہیں عزیزابن الحسن، عسکری پر جنکا تھیسیز میں نے آپ کو بھی دکھایا تھا”
پتا چلا وہ علیگڑھ والے قاضی افضال حسین ہیں۔
حنفی صاحب اور قاضی افضال صاحب کا قیام پنجاب یونیورسٹی کے مہمان خانے میں ایک ہی کمرے میں تھا۔ ان تین چار دنوں کے دوران حنفی صاحب اور قاضی صاحب سے بہت بہت تفصیلی ملاقاتوں کا موقع ملا تھا۔ مختلف موضوعات پر ان سے خوب باتیں ہوئیں۔ ان کے اور قاضی افضال حسین کے کچھ فوٹو بھی بنائے جو میرے کمپیوٹر ذخیرے میں کہیں محفوظ ہوں گے۔
محمد حسین آزاد سمینار میں حنفی صاحب نے اپنا خصوصی مقالہ پڑھا۔ انہی نشستوں میں سے شمیم حنفی کی صدارت میں ہونے والی کسی نشست میں مجھے بھی “حالی اور شبلی کی آزاد سے اثر پذیری” کے عنوان سے ایک ٹوٹا پھوٹا مقالہ، مقالہ کیا، مقالہ کی تلخیص کی تلخیص کہیے، پڑھنے کا موقع ملا جو ایسے موقعوں پر اکثر ہونے والی “وقت کی قلت” کا شکار ہو کر کچھ ایسا بےربط ہوا کہ نشست کے آخر میں اپنے صدارتی کلمات میں حنفی صاحب نے بطور خاص اس طرف اشارہ کیا تھا۔
اس سے پہلے یا اسی دن کی کسی نشست کے شروع میں معروف نعت خواں حنا نصراللہ نے، جو ان دنوں اورینٹل کالج کے شعبہ اردو ہی کی ایک ہونہار طالبہ تھیں، اقبال کی خوبصورت نظم
“یہ گنبدِ صحرائی یہ عالم تہنائی”
کچھ اس طرح ڈوب کر پڑھی کہ سارا ہال وجد میں آ گیا اور سامعین کی اگلی نشستوں پر تشریف فرما حنفی صاحب جھوم جھوم اٹھے اور نظم ختم ہونے پر حنا نصراللہ کو غالبا 500 روپے انعام دیا تھا!
انہی دنوں لاہور میں ادیبوں دانشوروں شاعروں کے ایک بڑے قدردان، گلزار پر ایک نفیس کتاب کے پیشکار اور “سرسید اور حالی کا نظریہ فطرت” جیسی تاحال یکتا کتاب کے مصنف اور معروف صنعت کار ظفر حسن صاحب نے انڈیا سے آنے والے ان مہان مہمان ادیبوں کے اعزاز میں لاہور کے بڑے ہوٹل آواری میں ایک ظہرانہ کا اہتمام کیا تھا جس میں دیگر مہمانوں کے علاوہ شمیم حنفی نے بھی جانا تھا۔ سمینار انتظامیہ کے رکن کے طور ان حضرات کی مہمانداری کی خدمت چونکہ میرے سپرد تھی اس لئے مجھے بھی اس ظہرانے میں جانا پڑا۔ وہیں ظفر حسن صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تھی جو اس محفل کی میزبان تھے مگر منکسرالمزاج ایسے کہ از اول تا آخر ایک طرف ہو کر یوں چپ چاپ بیٹھے رہے تھے گویا اتفاق سے اتنے بڑے ہوٹل میں آ گئے ہوں! ظفر حسن کا نام تو بہت پہلے سے پڑھ سن رکھا تھا مگر اس روز اچانک ہی مجھے معلوم پڑا تھا کہ شرمائے لجائے سے یوں ایک طرف کو بیٹھے یہ صاحب معروف بلند پایہ محققانہ کتاب “سرسید اور حالی کا نظریہ فطرت” والے ظفر حسن ہیں جن سے ملنے کی آرزو گزشتہ پچیس تیس برس سے میرے دل میں تھی۔ ظفر حسن صاحب کے ساتھ باتوں میں یوں محو ہوا کہ پتہ ہی نہ چلا کہ کھانے کے بعد آہستہ آہستہ برخواست ہوتی محفل سے حنفی صاحب اچانک کب اور کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ ادھر ادھر دوستوں سے پوچھا مگر کسی کو بھی خبر نہ تھی۔ وہ تو بعد میں شام کو یا دوسرے دن جا کر کہیں پتہ چلا کہ حنفی صاحب اور قاضی افضال حسین موقع پا کر چپکے سے داتا دربار ہو آئے ہیں۔ جب ان سے کہا کہ آپ کا اگر یہ پروگرام تھا تو آپ بتا دیتے تاکہ اس کا کوئی اہتمام کیا جاتا کہنے لگے
“نہیں، اگر اس کے لیے باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تو ہجوم ہو جاتا اور داتا صاحب کے ہاں حاضری کیلئے جس تنہائی و سکون کی ضرورت تھی وہ نہ ہو پاتا!
حنفی صاحب اس کے بعد بھی متعدد بار پاکستان تشریف لاتے رہے مگر میں چونکہ اسی زمانے میں لاہور چھوڑ میں اسلام آباد آ گیا تھا اس لیے ان سے ملاقات کا موقع پھر کبھی نہ ملا۔ سن 13- 2012 کی بات ہے کہ محمد حسن عسکری کے چھوٹے بھائی محمد حسن مثنیٰ صاحب ایک دفعہ جدہ گئے تھے۔ واپس لوٹے تو میں ان سے ملاقات کے لیے گیا۔ مثنیٰ صاحب نے بتایا کہ وہاں ان کی ملاقات شمیم حنفی سے ہوئی تھی وہ آپ کو بہت محبت سے زیاد کرتے رہے ہیں اور سلام بھی بھیجا ہے۔ اب آپ ھی بتائیے کہ کہاں ادب کا ایک بے وقعت طالب علم اور کہاں ہندوستان – پاکستان گیر شہرت کا حامل ایک ادیب شہیر، اگر اس محبت سے اس ناچیز کو یاد رکھے تو یہ ‘نصف العیش’ زندگی کی بڑی شادمانیوں میں سے ہے یا نہیں!
بات ہو رہی تھی حنفی صاحب کی فون کال۔ کہنے لگے کہ عسکری کی صد سالہ یوم پیدائش کے موقعے پر یہاں کچھ انجمن ترقی اردو ہند کے جریدے “اردو ادب” کا عسکری نمبر شائع کرنا چاہ رہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ پرچے کے لیے کوئی مضمون بھیجیں۔ میں نے ہامی بھر لی اور سرورالہدیٰ کو ایک برا بھلا مضمون بھیج دیا۔ (*)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حنفی صاحب نے اپنی تعلیمی زندگی کا بڑا حصہ الہ آباد یونیورسٹی میں گزارا۔ اس دور کو وہ اپنی زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو کے تین بڑے نقاد محمد حسن عسکری، شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی تینوں نہ صرف الہ آباد یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے ہیں بلکہ یہ تینوں ایک ہی طرح کے بڑے استادوں کے فیض یافتہ بھی ہیں: ستیش چندر دیب اور فراق گورکھپوری۔
اردو دنیا فراق گورکھپوری سے تو خوب آگاہ ہے مگر ستیش چندردیب، افسوس ہے کہ، وہ ہماری اردو ادبی تیذیب و تاریخ میں تو کیا، شاید ادھر ہندوستان کی ادبی تاریخ میں بھی کہیں جگہ نہ پا سکے۔ اپنے زمانے میں انگریزی زبان و ادب مشرقی تہذیب و ثقافت اور فارسی شعر و ادب کو گھلا ملا میخانے کے میخانے پی جانے والا انگریزی زبان کا یہ فنا فی الادب ہندو استاد جس رتبے اور مقام کا حامل تھا اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہ ہو پاتا اگر ایک مسلمان اردو زبان کا ادیب محمد حسن عسکری اپنی ابتدائی تحریروں میں گاہے ماہے اور اور آخر میں ان کا اکثر ذکر نہ کر کے انہیں ریکارڈ پر نہ لے آتا! اپنے استادوں میں عسکری صاحب اگر کسی کی عظمت کے قائل تھے تو اتفاق ہے کہ ان میں سے دو تین بڑے نام جو انہوں نے لئے وہ ہندو اساتذہ کے ہیں۔ فراق گورکھپوری کا تذکرہ اپنی تحریروں میں عسکری نے اتنا کیا ہے ہمارے بعض لوگ تو اس سے چڑنے ہی لگ گئے تھے۔ فراق کا اتنا احترام اور ذکر کرنے کے باوجود عسکری کے دل میں اپنے اس ہندو استاد کیلئے اتنی عقیدت تھی کہ انہوں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے “جزیرے” کا انتساب انہی پروفیسر ستیش چندر دیب کے نام کیا تھا۔
اب تو یہ بات تقریباً یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ دیب صاحب کا اتنا ذکر اگر عسکری صاحب نہ کر گئے ہوتے تو اردو کی عام ادبی دنیا اس نام سے شاید واقف ہی نہ ہوتی۔ عسکری صاحب ہی کے حوالے سے ان کا کچھ تھوڑا سا ذکر شمس الرحمن فاروقی کی تحریروں میں بھی آتا ہے لیکن الہ آباد شہر، الہ آباد یونیورسٹی کے علمی ماحول اور اس میں پروفیسر ستیش چندر دیب کا نسبتاً ایک تفصیلی تذکرہ گزشتہ دنوں حنفی صاحب نے عسکری کے صد سالہ جنم دن کے موقع پر چھپنے والے دو عسکری نمبر جرائد [ “استعارہ”، لاہور اور “اردو ادب”، دہلی ] کے لیے لکھے جانے والے اپنے مضمون “عسکری صاحب اور الہ آباد” کےلئے لکھا ہے جس کی ایک پی ڈی ایف کاپی انہوں نے مجھے بھی ارسال کی تھی جس کے مشمولات کبھی الگ سے پیش کروں گا۔
زندگی اور مسائل کو سمجھنے کے لیے حنفی صاحب نے صرف کتاب اور ادب پر انحصار نہیں کیا تھا بلکہ براہ راست زندگی کے تجربے سے اسے جانا تھا۔ انہوں نے جہاں کہیں اپنی زندگی کے ابتدائی خدوخال، ابتدائی عمر کے تجربات اور الہ آباد یونیورسٹی اور شہر میں اپنی تعلیمی زندگی کی یاداشتیں لکھی یا بیان کی ہیں ان میں ایک ایسا وارداتی رنگ در آیا ہے جس کی آگے کتابی معلومات پھیکی اور بے رنگ معلوم ہوتی ہیں۔ اگرچہ وہ خود کو جدیدیت کی رو سے وابستہ نقاد کہتے رہے ہیں مگر سن ساٹھ والی جدیدیت کے دور میں، اور پھر اردو میں مابعد جدیدیت کی ادب اور زندگی سے دوری کو دیکھ کر کڑھنے کے زمانے میں بھی، وہ زندگی کی اخلاقی معنویت کے اور بھی زیادہ قائل ہوتے گئے اور اس کے مقابلے میں نظریہ بازی والی سرگرمیوں سے وہ نہ صرف یہ کہ خوش نہیں تھے بلکہ گاہے گا ہے ان کوتاہیوں پر نقد و نظر بھی کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ وہ اردو ادب اور تنقید کے آدمی تھے اور یونیورسٹی تعلیم کے دوران ان کے رسمی موضوعات اردو زبان و ادب اور تاریخ رہے مگر اپنی ابتدائی گھریلو تربیت کے دوران ہی وہ اپنے والد کے زیر اثر انگریزی ادب سے متعارف ہوگیے تھے اور دوسرے الہ آباد یونیورسٹی میں اور یونیورسٹی کے باہر فراق گورکھپوری سے خصوصی تعلق کی وجہ سے انہیں ادب کو کتابوں سے باہر نکل کر سمجھنے اور دیکھنے کا وافر موقع ملا تھا۔ فراق کے بارے میں انہوں نے یہ بات اکثر کہی اور لکھی ہے کہ فراق کی شخصیت کا اصل اظہار اس کی تحریروں میں نہیں بلکہ ان کی مجلسی گفتگوؤں میں ہوتا تھا۔ (محمد حسن عسکری، شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی تینوں کا تعلق کسی نہ کسی انداز سے فراق گورکھپوری سے رہا ہے مگر عسکری اور حنفی کے برعکس فاروقی کی فراق شناسی گونا گوں پیچیدگیوں کی حامل ہے جس پر، بتوفیق الھی، کبھی الگ سے لکھنے کا ارادہ ہے ) علاوہ ازیں وہ پروفیسر ستیش چندر دیب کی شخصیت اور ان کے علمی رسوخ و تقافتی تبحر سے بھی بہت متاثر تھے۔ ایسے ہی ماحول کے زیر اثر عسکری اور شمس الرحمن فاروقی کی طرح حنفی صاحب بھی اردو اور انگریزی میں یکساں رواں تھے۔ فنی اظہار کی دیگر اصناف میں انھیں موسیقی اور مصوری سے بھی بہت دلچسپی رہی ہے۔ مصوری کو بھی انہوں نے کتابوں سے زیادہ ہندوستان کے بڑے مصوروں سے میل جول سے سمجھا تھا۔
فاروقی کے برعکس، اور قدرے عسکری صاحب کی طرح، حنفی صاحب کو ہندوستان میں گردوپیش کی سماجی زندگی اور تہذیبی سروکاروں سے اردو ادیبوں کے کٹے ہونے کا شدید احساس رہا ہے۔ گوپی چند نارنگ کی طرح اگرچہ وہ اچانک اچھل کر کبھی مابعد جدیدیت کی گاڑی میں سوار نہیں ہوئے، لیکن اردو جدیدیت کے خود ساختہ ماحول اور مزاج کی تگنایوں کا انہیں مکلمل ادراک رہا ہے۔ ہندوستان پاکستان کی جمالیاتی جدیدیت نے ادبیت اور فنی اقدار کی خود مختاری کے نام پر اپنے گرد ایک خود ساختہ حصار قائم کر کے زندگی اور سماج سے انقطاع کی جو انوکھی روش اپنائی تھی حنفی صاحب کے ہاں کہیں دبے لفظوں میں اور کبھی واضح طور پر اس کا اظہار بھی ملتا ہے (جو جدیدیت سے انکی قدرے بے اطمینانی کا مظہر ہے) اور ترقی پسندوں کی طرح، مگر ان سے کچھ مختلف انداز میں، مابعد جدیدیوں نے تخلیقی ادب کی جمالیات کو پرے دھکیل کر خالی خولی نظریہ بازیوں کی جو حاکمیت قائم کی حنفی صاحب کے ہاں اس پر بھی احتجاج ملتا ہے:
”فکری اور اخلاقی لحاظ سے یہ دور زوال کا ہے اور زیادہ تر لکھنے والے بہ حیثیت ادیب اپنی ذمے داری اور منصب کے احسا س سے محروم ہیں اور معاشرے میں اس محرومی کے اظہار کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اس عہد کی اخلاقی جدوجہد سے زیادہ تر لکھنے والے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتے اردو کے جورسائل ان دنوں نکل رہے ہیں ان میں سے دو ایک کو چھوڑ کر شاید ہی کسی کو یہ توفیق ہوئی ہو کہ ادب کے فکری، تہذیبی اور اخلاقی رول پر دھیان دیں۔ حیر ت بلکہ عبرت کا مقام ہے کہ موجودہ انسانی صورت حال اور اس کو درپیش مسائل کی سنگینی کے باوجود ہمارے ادیبوں کا ایک حلقہ ادب کے سماجی رول اور معنویت سے منسلک باتوں کو غیر ضروری سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو ان سے لاتعلق قرار دیتا ہے …ہمارے موجودہ ادبی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ممتاز اور معروف ادیبوں، خاص کر ادب اور ادبی تجربوں کی وضاحت کا بوجھ اٹھانے والے دانش وروں اور نقادوں کی اکثریت ادب اور زندگی کی حقیقت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنے کی عادی ہے اور جن ادیبوں کے یہاں انسانی سروکار کچھ نمایاں ہیں ان میں سے بیشتر ادب کے مطالبات اور تخلیقی اظہار کی ذمے داریاں سنبھالنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اردو کی ادبی تاریخ کے کسی دور میں تخلیقی ادب پر تنقیدی تصورات اور اصول (Theories) کی برتری کا ایسا تماشا کبھی نہیں دیکھا گیا۔”
حنفی صاحب کی ادبی حسیًت کی یہی وہ رو ہے جو ان کی جدیدیت کو شمس الرحمن فاروقی کی جدیدیت سے قدرے الگ کر کے کچھ عسکری کے قریب کرتی ہے۔ جن لوگوں نے قیام پاکستان کے بعد عسکری کی تحریروں کو تاریخی تدریج سے پڑھا ہو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوگی کہ شمیم حنفی کے درج بالا اقتباس کی نہ صرف روح، بلکہ بعض اوقات لفظیات تک میں عسکری بول رہے ہیں۔ ہندوستان کے اردو ادیبوں میں شمیم حنفی کا یہی وہ امتیاز ہے جو انہیں ہندوستان میں خصوصاً، اور عمومی طور پر پاکستانی معاصر نقادوں اور ادیبوں سے بھی، جدا کرتا ہے۔ اور اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے جو ہمارے پاکستانی نقادوں اور ادیبوں کو، ان کے خود ساختہ لیبرل مائنڈ سیٹ کی بنا پر اپنی قومی امنگوں، زبان ثقافت اور ادب کے تہذیبی سرچشموں کے پس منظر سے کٹ جانے کی وجہ کم ہی سمجھ آتی ہے۔ زیادہ کھول کے اگر کہوں تو وہ سبب بھی شمیم حنفی سے سن لیجئے:
”محمدحسن عسکری اور سلیم احمد کے لئے مسلم خلقیے اور ہماری ادبی روایت پر ہند اسلامی ثقافت کے اثرات کا مسئلہ کسی بیرونی حوالے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ ان کےلئے یہ مسئلہ ادب اور زندگی کی روایات کے تعین میں تجزیے کے عمل کا ایک فطری حصہ تھا۔ شاید مختلف النوع نفسیاتی، جذباتی اور سماجی مجبوریوں کے احساس نے اس تجزیے کی ضرورت سے ہمیں بے نیاز کردیا”ہے۔
ہندوستان کے اردو ادیب “مختلف و نفسیاتی و جذباتی اور سماجی مجبوری” کا اگر بہانہ کریں تو ان کی بات تو سمجھ میں آتی بھی ہے مگر اب المیہ یہاں تک گہرا ہو چکا ہے کہ ہمارے اپنے پاکستانی ادیب اور دانشور بھی ایک خود ساختہ “معروضیت”، “غیرجانبداری” اور “لبرلزم” اور ادب کے سیکولر معیاروں کے چکر میں پھنس کر اپنے وطن میں بھی اس “مسلم خلقیے” سے اتنے ہی بیگانے ہو گئے ہیں جیسے ہندوتا کے سماجی دباؤ کے آگے پچھلے دنوں انتقال فرما جانے والے مولانا وحید الدین خاں!
دعا ہے اللہ تعالی مولانا وحیدالدین خان اور شمیم حنفی سمیت تمام زندہ مگر مرحوم شعور والے دانشوروں پر رحم و کرم فرمائے!
پس نوشت:
(*) اس تحریر کا یہاں تک کا حصہ اکتوبر 2019 کا لکھا ہوا ہے جو ادھورا ہونے کے سبب سال ڈیڑھ سال تک یوں ہی کچھ دیگر نا مکمل نوشتوں میں یوں ہی پڑا رہ گیا تھا۔ اس کے بعد کی سطور حنفی صاحب کے انتقال کے بعد لکھی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیمنزم کا جنسی انقلاب : بچائو کی تدابیر---- شائستگی اور پاکیزگی
