تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

اقبال کی شاعری میں توحید و یقین کی اہمیت —- شہباز بیابانی

by دانش ڈیسک 04/02/2021
written by دانش ڈیسک 04/02/2021
240

اقبال توحید کو ایک زندہ قوت سمجھتے ہیں اگر توحید کی بدولت کردار میں تبدیلی نہ آئے تو یہ پھر توحید نہیں بلکہ محض علمِ کلام کا مسئلہ ہے:

زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ علم کلام
روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

وہ توحید اور اللہ کی ذات پر یقین کرنے کو تمام کامیابیوں کی جڑ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جہاں لا الہ اللہ کے نور سے روشن ہے لیکن اس نور کو محسوس کرنے کے لیے عقل کو چاہئے کہ وہ دل کی نگاہ کو کام میں لائے۔ اگر خودی تلوار ہے تو لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ اس کو تیز کرنے کا پتھر اور اس کا سرِّ نِہاں ہے۔ لا الہ الا اللہ مؤمن کی زرہ اور پناہ گاہ ہے۔ اس میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ یہ جہاں صنم کدہ ہے اور اس کے بتوں کو توڑنے والا مرد حق خلیل اللہ علیہ السلام ہے۔ جب لا الہ الااللہ کا اقرار کیا اور اس پر یقین رکھا تو اب سلاطین اور باطل ادیان کے خلاف بغاوت کرنا فرض ہوجاتا ہے:

کرده ام اندر مقاماتش نگه
لا سلاطین، لا کلیسا، لا اله

لا الہ الااللہ کی قوت سے اللہ کے غیر کو ملیامیٹ کردیا جاسکتا ہے لیکن اگر لا الہ الااللہ کا رمز ہاتھ نہ آیا تو پھر غیر اللہ کے قید و بند کو نہیں توڑا جا سکتا:

تا نه رمز لااله آید بدست
بند غیر الله را نتوان شکست

اقبال کہتے ہیں کہ اگر لا الہ الااللہ کی لاٹھی ہاتھ آگئی تو پھر خوف و ہراس کے ہر طلسم کو شکست دی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا:

تا عصائے لا اله داری بدست
هر طلسمِ خوف را خواهی شکست

سوز و سرور کی لذت لا الہ الا اللہ کی یقین سے آتی ہے جبکہ خوفناک رات کی تاریکی میں ایمان و ایقان کی نور بھی لا الہ الا اللہ سے ملتا ہے۔ جس نور سے تمام تاریکیاں کافور ہوجاتی ہیں:

لذتِ سوز و سرور از لا اله
در شبِ اندیشه نور از لا اله

اقبال کہتے ہیں کہ جب تیرا دل لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ کی گواہی نہ دے تو تیرا زبان سے کلمہ پڑھنے کا کوئی اعتبار نہیں وہ بس ایک غریب لغت ہی ہے۔ اسی طرح اگر خِرَد کلمہ طیبہ کہہ بھی دے لیکن دل و نگاہ مسلمان نہ بنے تو کچھ بھی نہیں۔ کیونکہ ایمان کی جگہ دل ہے، نہ کہ عقل و خرد۔

خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

اقبال غرور اور گھمنڈ کو توحید کے منافی سمجھتے ہیں۔ ایسے بہت سے بڑے بڑے لوگ ہیں جو تکبر میں مست ہوکر دوسرے انسانوں کو ہیچ سمجھتے ہیں، خود کو مسلمان کہتے ہیں اور بت پندار کی پرستش کرتے ہیں۔

زباں سے گر کِیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل!
بنایا ہے بُتِ پندار کو اپنا خدا تو نے

وہ مسلمانوں کو فہمائش کرتے ہیں کہ تمھارا توحید میں گرم جوشی بے کار ہے کیونکہ توحید کا تعلق دل سے ہے اور تمھارے دل غیر کی محبت سے لبریز ہیں۔ وہ مُوَحِّد کے لیے گفتار دلبرانہ اور کردار قاہرانہ دونوں کو ضروری خیال کرتے ہیں صرف میٹھی میٹھی باتیں کرنے سے لا الہ الا اللہ کا حق ادا نہیں ہوتا کیونکہ اگر کردار قاہرانہ نہ ہو تو پھر اس کلمے کا استخفاف ہوگا۔

اے لَا اِلٰہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں
گُفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ

قتال اور جنگ کرنے سے پہلے توحید میں کامل ہونا از حد ضروری ہے چنانچہ اقبال کمانڈر ان چیف کے نیام میں قل ھواللہ کی شمشیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس قلندر کی تعریف کرتے ہیں جس کے دل میں لا الہ الا اللہ ہو جبکہ اس فقیہ کی مذمت کرتے ہیں جو عربی زبان کا ماہر تو ہو لیکن اس کا دل توحید سے خالی ہو۔

قلندر جُز دو حرفِ لااِلہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہِ شہر قاروں ہے لُغَت ہائے حجازی کا

اگر دل میں لا الہ الا اللہ مردہ و افسردہ ہو تو اس بے نور سینہ کا کیا فائدہ۔ ان کے خیال میں اسرارِ ’لا اِلہ‘ کے لیے نِگاہ چاہیے۔
اقبال کے مطابق مغربی تعلیم حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں لیکن اگر طالب علم کے بدن میں سوز لا الہ الااللہ نہ ہو تو اسی تعلیم میں اس کی موت بھی پوشیدہ ہے اور وہ موت روح کی موت یعنی الحاد و زندقہ ہے۔

کھُلے ہیں سب کے لیے غَربیوں کے میخانے
عُلومِ تازہ کی سرمستیاں گُناہ نہیں
اسی سُرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری
ترے بدن میں اگر سوزِ ’لا الٰہ‘ نہیں

جب تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے معلمین خود ملحد اور خدا بے زار ہوں تو متعلمین(طلباء وطالبات) کیسے مُوّحِّد و مؤمن بنیں گے۔

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا ’لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ‘

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج تعلیمی اداروں میں ایسے افراد بھی بن رہے ہیں جو خدا بیزار بلکہ خدا کے منکر اور اسلام سے متنفر ہوتے ہیں۔ اقبال فرنگیانہ تعلیم کو ایک شرط پر جائز قرار دیتے ہیں اور وہ یہ کہ طالب علم پہلے کلمہ طیبہ کو دل میں اتار دے اور کامل ایمان کو اپنائے تاکہ اس کا عقیدہ مضبوط ہو اور وہ کسی گمراہ کن عقیدہ سے مسحور نہ ہو:

جوہر میں ہو ’لااِلہ‘ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ

اقبال دنیا میں توحید کو بے حجاب کرنے کو دین محکم اور فتح باب تصور کرتے ہیں۔ وہ مصطفوی (مسلمان) کے بازو کو توحید کی قوت سے قوی کرنا چاہتے ہیں۔
توحید صرف اللہ کو ایک ماننے کا نام نہیں بلکہ مُوَحِّد کے لیےاللہ کی ذات و صفات پر یقین رکھنا بھی ضروری ہے۔ ابراھیم علیہ السلام تو مضبوط یقین اور اللہ کے عشق میں مست ہونے کی بدولت آتش نشین ہوئے۔ آج مسلمان تہذیب حاضر کی غلامی کے ساتھ ساتھ بے یقینی میں بھی مبتلا ہوئے ہیں لیکن اقبال کے مطابق بے یقینی یعنی غیر اللہ کا یقین غلامی سے بھی بتر ہے:

یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی
یقیں، اللہ مستی، خود گُزینی
سُن، اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بَتر ہے بے یقینی

اقبال کے بقول ذوقِ یقین سے غلامی کی زنجیریں کٹ جاتی ہیں اور محکم یقین کے ساتھ ساتھ مسلسل عمل اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم مؤمن کی شمشیریں ہیں۔ اس دنیا کے گمانوں سے بھرے بیابان میں مسلمان کا یقین اس کے لیے بطور ایک زبردست رہبانی قندیل کے ہے۔ سوزِ یقین ہی کی بدولت غلاموں کا لہو غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے گرم کیا جاسکتا ہے۔
اس دنیا میں ایمان والے آفتاب کی مانند زندگی گزارتے ہیں چنانچہ وہ مسلسل جدوجہد کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اگر چہ کہیں ناکام بھی ہوجاتے ہیں لیکن اکثر کامیابی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اگر معاشرے کے ہر فرد کا یقین اللہ کی ذات و صفات پر آجائے تو پوری ملت کے لیے یقین کا سرمایہ ایسی قوت بن جائے گا اور یہ قوت اس ملت کی تقدیر بن جائے گی:

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے
یہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیر مِلّت ہے

اقبال کہتے ہیں کہ اگر اس خاکی انسان میں یقین پیدا ہوجائے تو یہ رُوح الامیں جیسے بال و پر پیدا کرسکتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ آج مسلمان رہروِ فرزانہ تو ہے لیکن اس کی بے جذب مسلمانی کی وجہ سے نہ تو اس کا یقین مضبوط ہے اور نہ یہ عمل کرسکتا ہے۔ کیونکہ عمل ایمان کی طاقت سے کیا جا سکتا ہے۔ آج مسلمان خود محرومِ یقین ہے چنانچہ آج کمزور ایمان و ایقان کی وجہ سے ساری دنیا میں 90 فیصد مسلمان نماز نہیں پڑھتے حالانکہ اللہ کی مدد صبر اورنماز کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ قرآن میں ارشاد ربّانی ہے کہ:
صبر اور نماز کے ذریعے میری مدد حاصل کرو۔ (سورۃ بقرہ 45)
یہ مسلمان اگر چہ امام رازی اور دیگر فلسفیوں کو پڑھتا ہے لیکن اس سے ضعفِ یقین کا علاج نہیں ہوسکتا۔ کمزور ایمان کا علاج عشق سے ہوسکتا ہے کیونکہ عشق سراپا یقین ہے اور یقین سے کامیابی مل جاتی ہے:

عشق کے ہیں معجزات سلطنت و فقر و دِیں
عشق کے ادنیٰ غلام صاحبِ تاج و نگیں
عشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیں
عشق سراپا یقیں، اور یقیں فتحِ باب!

اقبال کو صاحب صدق و یقین شہسواروں کی جستجو رہتی تھی۔ ایسے مردانِ حق جو حاملِ خلق عظیم بھی ہوں۔ ان کے نزدیک ثباتِ زندگی ایمانِ مُحکم سے ہی ہے۔ وہ ایمانِ خلیل علیہ السلام کو سب کچھ سمجھتے ہیں اگر ایمانِ خلیل ع نہیں تو انسان کی زندگی کا پیرہن خاکستر ہی ہوگا۔ ایمان کے لیے کوئی زمانہ مخصوص نہیں اگر آج بھی حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایمان ہو تو موجودہ نمرودوں کی آگ بھی ٹھنڈی ہوسکتی ہے۔

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

اقبال کے مطابق ولایت، پادشاہی، علمِ اشیا کی جہاں‌گیری سب نکتۂ ایماں کی تفسیریں ہیں۔ یقین کی شراب کی بدولت زندگی کا ضمیر پرسوز ہے لیکن افسوس کہ آج ہمارے تعلیمی اداروں میں مئے یقین موجود نہیں ہے۔ اقبال تعلیمی اداروں میں سوز یقین پیدا کرنے کے لیے دعا گو ہیں:

مئے یقیں سے ضمیر حیات ہے پرسوز
نصیبِ مدرسہ یا رب یہ آب آتش ناک

اقبال کے نزدیک بندۂ مؤمن کا زوال مال و دولت اور ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایمان و ایقان کی کمزوری کی وجہ سے ہے(واضح رہے کہ اقبال سائنس و ٹیکنالوجی کو بہت اہمیت دیتے ہیں، وہ ان کی مخالفت نہیں کرتے). سات براعظموں کو بھی ایمان کی قوت سے بے تیغ و تفنگ فتح کیا جاسکتا ہے لیکن مسلمان سمجھتا نہیں۔

ہفت کِشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
تُو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے۔

خلاصہ یہ کہ اقبال کے مطابق توحید صرف زبانی جمع خرچ کا نام نہیں بلکہ لا الہ الا اللہ کے اقرار کرنے کے بعد کسی بھی طاقت سے ڈرنا، اس کی غلامی اختیار کرنا اور عملی زندگی میں تبدیلی نہ لانا وغیرہ توحید کے منافی ہے۔ اسی طرح بندۂ مؤمن کے پاس ایمان و ایقان سب سے بڑی طاقت ہے جس سے وہ صاحب ہنگامہ بن کر خاشاک غیراللہ کو پھونک سکتا ہے:

شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غیر اللہ کو
خوف باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو۔

 

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خالد: فکر فراہی و سلسلہ اصلاحی کا پیام بر — ذاتی زندگی کے روزن سے —– تیمیہ صبیحہ
next post
جموں کشمیر کی نوے سالہ (1931-2021) جدوجہد آزادی۔ ۔ ۔ وحید مراد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.