تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

مختصر لباس: لبرل یا ترقی پسند ہونے کی نشانی ہے؟ — احمد الیاس

by دانش ڈیسک 02/11/2020
written by دانش ڈیسک 02/11/2020
130

اکثر آپ نے سوشل میڈیا پر پاکستان، ایران، افغانستان یا دیگر مسلم ممالک کی پرانی تصویریں دیکھی ہوں گی جن میں یا تو لوگ پارٹی اور رقص کررہے ہیں یا خواتین اسکرٹ یا مختصر لباس میں نظر آتی ہیں۔ ایسی تصاویر پہ  کمینٹس میں ایسے تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ دیکھئیے، ساٹھ ستر کی دہائی میں یہ ملک کس قدر “ترقی پسند” اور “روشن خیال” ہوتے تھے۔

PAKISTAN, 1960, old Karachi, girls enjoying Clifton beach, Karachi, Sindh, Pakistan in 2020 | Clifton beach, Karachi beach, Karachiساٹھ ستر کی دہائی میں لوگ روشن خیال اور ترقی پسند تھے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔ میں اس بات کی تردید کروں گا نہ توثیق کیونکہ ابھی یہ زیر بحث نہیں۔ لیکن ایک چیز جو مجھے ہمیشہ سے بہت پروبلمیٹک لگتی ہے وہ ہے ترقی پسندی اور روشن خیال کا عورتوں کے لباس یا شراب پینے یا نہ پینے یا رقص کرنے یا نہ کرنے سے جوڑا جانا۔ یہاں میں اس بحث میں بھی نہیں جاؤں گا کہ عورتوں کو کیسا لباس پہننا چاہیے یا شراب پینی چاہیے یا نہیں یا رقص کرنا چاہیے یا نہیں۔ میرے نزدیک یہ سب انسان کے انفرادی اور نجی فیصلے ہیں۔ عورت برقع پہننا چاہتی ہے یا سکرٹ، کوئی اپنی پرائیوٹ سپیس میں شراب پینا چاہتا ہے یا زم زم یا پھر کوئی رقص کرتا ہے یا نفل پڑھتا ہے ۔۔۔ یہ اس کی مرضی ہے۔ ریاست اور معاشرے کو ان معاملات میں ایک حد سے آگے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ عورتوں کا سکرٹ پہننا ترقی پسندی کی علامت ہے تو یہ سوچ ویسی ہی عجیب اور خرافات ہے جیسی یہ ذہنیت کہ برقع پوشوں کا معاشرہ زیادہ دین دار اور خدا خوفی رکھنے والا ہوتا ہے۔ سکرٹ پہننے سے عورت کے آزاد ہونے والی کہانی، برقع پہننے سے عورت کے محفوظ ہوجانے والی کہانی ہی کی طرح بے ہودہ ہے۔ اسی طرح شراب اور روشن خیالی یا رقص اور ترقی کا تعلق بھی کسی قسم کی عقلی اور منطقی بنیاد کے بغیر کھڑا ہے۔

سکرٹ پہننے سے عورت کے آزاد ہونے والی کہانی، برقع پہننے سے عورت کے محفوظ ہوجانے والی کہانی ہی کی طرح بے ہودہ ہے۔

ساٹھ اور ستر کی تک تیسری دنیا کے ملکوں کو آزاد ہوئے بہت کم عرصہ گزرا تھا۔ انسان کی فطرت ہے کہ انسان اپنے سلاطین کے دین یعنی اپنے حکمرانوں کے طریقے پر چلتا ہے اور اسے برتر مانتا ہے۔ مغربی اقوام کی صدیوں پر محیط حکومت سے ہمارے لوگ یقیناً ہر اس چیز کو اچھا ماننے لگے تھے اور آج تک مانتے ہیں جس مغربی اقوام سے زیادہ مشابہ ہو، بھلے وہ مغربی اقوام کی قوت ہو یا کمزوری یا ایک عام عادت۔ تاہم مسلم دنیا سمیت اکثر مشرقی اقوام کے عام عوام نے نوآبادیاتی دور میں بھی مغربی طرز زندگی اختیار نہیں کیا تھا۔ ہاں مگر لاہور، کراچی، کابل، تہران کی ایک اپر کلاس اور اپر مڈل کلاس ضرور پوری طرح اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔

اکثر ایسی تصاویر اسی کلاس کے لوگوں اور خواتین کی ہوتی ہیں جنہیں اس وقت کے پورے معاشرے کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اسی دور کی ایسی تصاویر دیکھی جائیں جو لوئر کلاس یا لوئر مڈل کلاس کی ہیں، تو ان میں ہمیں برقع پوش عورتوں اور باریش مردوں کی تعداد آج سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔ اس دور میں معاشرہ زیادہ واضح تو پر کلاسز میں تقسیم تھا۔ حاکم اور محکوم کی لکیر گہری تھی۔ پھر آہستہ آہستہ مڈل کلاس ابھرنا شروع ہوئی، مغربی اقوام کی براہ راست حکومت قصہ پارینہ ہونے سے مقامی لوگوں میں اعتماد آنا شروع ہوا، مغرب زدہ حکومتوں کی ناکامیوں اور جبر سے بھی ردعمل پیدا ہوا اور مسلم دنیا سمیت پوری تیسری دنیا میں اپنی پرانی شناخت اور قدروں کی طرف لوٹنے کا رویہ پیدا ہوا۔ یہ سب فطری تھا۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یونیورسٹی جانے والی لڑکیاں صرف ایک مخصوص پوش اور لبرل طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ لہٰذا جامعات میں سر یا چہرہ ڈھانپنے والی لڑکیاں بہت کم نظر آتی تھیں۔ پھر جامعات کی تعداد بھی بڑھنے لگی، نئی مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس میں بھی بچیوں کو پڑھانے کی خواہش اور استطاعت پیدا ہوئی اور یوں حجاب یا نقاب پوش لڑکیاں جامعات میں عام ہوئیں۔ ایسی بچیوں کا گھر سے نکلنا، یونیورسٹی میں پہنچنا، نوکری کرنا اور پبلک سپیس میں نظر آنا تو معاشرے کے ترقی کرنے اور روشن خیال ہونے کی علامت ہے، نہ کہ تنگ نظر ہوجانے کی۔

“یادِ ماضی کی ہتھیار کاری”کی اس تکنیک میں ماضی کو گلیمرائز کرکے معاشرے کو کسی خاص طرف لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے (سوشل ری انجئینرنگ) یا کسی سیاسی قوت کو جواز بخشا جاتا ہے۔

آج اکثر یونیورسٹیوں کے کئی شعبوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے بڑھ کر ہے۔ کئی علاقوں میں لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان لڑکوں سے زیادہ ہے۔ لڑکیوں کی شرح خواندگی بھی بہت بڑھ چکی ہے۔ لڑکیوں کا کام کرنا ایک عام بات بن چکا ہے۔ ایران اور پاکستان اور مصر جیسے ملکوں میں یہ صورتحال بہت واضح ہے۔ ساٹھ ستر کی دہائی میں یہ سب نہیں تھا۔ لیکن روشن خیال یا ترقی پسندی کو ماپتے ہوئے یہ سب نہیں، بلکہ صرف عورتوں کی برہنگی کو پیمانہ جاتا ہے۔

مجموعی طور پر آج پردہ نہ کرنے والی یونیورسٹی کی لڑکیوں کی تعداد بھی ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یونیورسٹیوں کا اور عمومی طور پر معاشرے کا ماحول بھی آج زیادہ آزاد ہے (روشن خیالی اور ترقی پسندی کی بحث الگ ہے کیونکہ ان کا صرف ظاہری طور پر آزاد ہونے سے تعلق نہیں)۔ لیکن ساٹھ ستر کی مغرب زدہ ایلیٹ کی تصویروں اور لائف سٹائل کو گلیمرائز کرنے کے پیچھے سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔

اسے “یادِ ماضی کی ہتھیار کاری” کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں ماضی کو گلیمرائز کرکے معاشرے کو کسی خاص طرف لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے (سوشل ری انجئینرنگ) یا کسی سیاسی قوت کو جواز بخشا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کی حکومتیں اس “روشن خیالی” کی یادوں کو اپنی حکومتوں کے لیے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں (یہ الگ بات ہے کہ اسلامائزیشن پروگرام پہلے بھٹو اور پھر فوج کا اپنا تھا)۔ افغانستان کے کیس میں ایسی تصاویر کو امریکی جنگ کا جواز فراہم کرنے، ایران کے کیس میں ایران پر ظالمانہ پابندیاں عائد کرنے کا جواز پیدا کرنے اور عالم عرب کے کیس میں اخوان المسلمون جیسی اسلامی اور جمہوری قوتوں کو دبانے کے لیے “یادِ ماضی کی ہتھیار کاری” کی جاتی ہے۔ یادِ ماضی کی ہتھیار کاری میں یہ بھی ہرگز ضروری نہیں کہ ماضی کی جو تصویر پیش کی جارہی ہے، وہ درست ہو۔ ایک خیالی یا سیلیکٹو تصویر بھی پیش کی جاسکتی ہے اور کام کرسکتی ہے۔

Facebook Comments Box
featuredLiberalismNudityProgressiveپاکستانی لبرلزترقی پسنددیسی لبرلروشن خیال فحاشیفحاشیکم لباسیلبرل ازملبرلزمختصر لباس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جموں و کشمیر میں نیا سیاسی محاذ, پیپلز الائنس: درد کا درماں یا فریب کا ساماں؟ — غازی سہیل خان
next post
انگارے، سنچری نمبر۔ ترقی پسندادب کے ترجمان ادبی جریدے کا یادگار شمارہ — نعیم الرحمٰن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.