تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرعلمیکالم

میرا جسم اور جسم کی مرضی : ایک مکالمہ —— صابر علی

by دانش ڈیسک 18/03/2020
written by دانش ڈیسک 18/03/2020
101

آج میری اپنے بدن سے خوب لڑائی ہوئی۔ بات اتنی سی تھی کہ میں آنگن میں کھڑی اپنی مرضی سے فون سُن رہی تھی کہ ایک کوے نے میری مرضی کے خلاف اپنی مرضی سے میرے بالوں پر پچکاری مار دی۔ میری مرضی کے خلاف کچھ ہو اور میں انتقام نہ لوں! میں نے اپنے بدن کو حکم دیا کہ میرا پنڈ چھوڑو، تمہاری وجہ سے میں کششِ ثقل میں جکڑی ہوئی ہوں۔ ذرا دیر کے لیے مجھ سے الگ ہو جاؤ تاکہ میں ہواؤں میں اڑ کر اس کوے کو دوسروں کی مرضی کا احترام کرنا سکھا سکوں۔ لیکن یہ بدن ایسا بے شرم، بے غیرت اور بدتہذیب ثابت ہوا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مجھے آزاد نہیں کیا۔

میں نے اسے بتایا کہ اے میرے بدن تو میری ملکیت ہے، جیسے میں چاہوں گی تجھے ویسا ہی کرنا پڑے گا۔ بس میرا یہ کہنا تھا کہ بدنی اعضا میرے تو پیچھے پڑ گئے۔ تیری یہ مجال، تو ہوتی کون ہے اپنی مرضی سے ہمیں استعمال کرنے والی، ٹھہر تیری تو۔ میرے سر نے پیچھے مڑنے سے انکار کر دیا۔ آنکھوں نے طعنہ دیا کہ اندھی کہیں کی ہمارے بغیر تُو دیکھ تیرے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ کانوں نے کہا ہم نہ سنیں گی تیری زبان درازیاں۔ زباں نے کہا بی بی جی میری زبان نہ کھلواؤ کہیں کی نہ رہو گی۔ ہاتھوں نے کہا پکڑ کے دکھا ہمیں۔ ٹانگوں نے کہا جا تو سہی کہاں جاتی ہے۔ اصل حملہ تو دماغ نے کیا۔ بولا، تم ذرا اپنے بدن کو ڈیفائن تو کرو۔ تم کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتی ہو اور تمہارے بدن کی باؤنڈری کہاں کہاں تک ہے؟ تم اپنے بدن پر ملکیت کا دعویٰ کرتی ہو تو مالک اور مملوک یعنی اَونر اور پراپرٹی کو الگ الگ کر کے دکھاؤ پہلے۔ پھر یہ بتاؤ کہ یہ ملکیت تمہیں کیسے ملی اور کس نے دی؟ کوئی معاہدہ؟ دستخط؟ انگوٹھا؟ نوٹری تصدیق؟ گواہیاں؟ اور یہ ملکیت کتنی مدت کے لیے ہے؟ اچھا تم ”مرضی“ کو کیسے ڈیفائن کرتی ہو؟ یہ مرضی تمہارے بدن سے جدا تمہارے اندر کہاں پیدا ہوتی ہے؟ جیسا کہ تم نے کہا ”تمہارے بدن“ پر ”تمہاری مرضی“ چلے گی، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تم بدن اور مرضی دونوں پر ملکیت کا دعویٰ کر رہی ہو لیکن کیا کوئی ایسا معاہدہ ہوا ہے تمہارے بدن اور تمہارے درمیان؟ کیا یہ معاہدہ باہمی رضامندی سے ہوا تھا کہ تمہارا بدن تمہاری مرضی کے مطابق چلے گا اور تم اسے اپنی مرضی سے استعمال کرنے کی مجاز ہو گی؟

تم بدن سے آزاد ہونا چاہتی ہو یا بدن کو آزاد کرنا چاہتی ہو؟

دماغ ٹھہرا منطقی، مجھے تو یہ سوالات سن کر چکر آنے لگے۔ میرا دل کیا کہ دماغ ٹھکانے لگاؤں اس کا لیکن دل بھی کہاں قابو میں تھا، اس نے بھی نہ سنی۔ دماغ نے میری پچھلی باتیں نوٹ کر رکھی تھیں اس لیے مجھے مجالِ انکار نہ تھی۔ دماغ نے پھر سے سوالوں کی بوچھاڑ کی۔ اچھا تو تم نے کہا تمہارا جسم شرم، غیرت اور تہذیب کی زنجیروں میں قید ہے، ٹھیک سے بتاؤ تم قید ہو یا تمہارا جسم؟ جب تم نے جسم پر اپنا حقِ ملکیت ثابت ہی نہیں کیا تو تمہیں کس نے ٹھیکہ دیا کہ بدن کو آزاد کرنے کا مطالبہ کرو؟ تم بدن سے آزاد ہونا چاہتی ہو یا بدن کو آزاد کرنا چاہتی ہو؟ شرم، غیرت اور تہذیب جسم کے لیے زہر یا منفی اثر رکھتے ہیں تو پھر یہ کندن بدن اتنا پھیل پھول کیسے گیا؟ کیا بدن سے تم نے کوئی ڈائیلاگ کیا جس سے یہ ثابت ہوا ہو کہ یہ چیزیں واقعی جسم کے لیے نقصان دہ ہیں؟ خیر، جسم کو ان بیڑیوں سے آزاد کرانے کی تمہارے پاس کیا حکمت عملی ہے؟ بے شرمی، بے غیرتی اور بدتہذیبی؟ لیکن تمہارے پاس کیا گارنٹی ہے کہ بے شرمی، بے غیرتی اور بدتہذیبی بدن کی زنجیریں نہیں بن سکتیں؟ اس سے بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ شرم و غیرت کا بدن سے کیا رشتہ ہے؟ کیا شرم و غیرت کا اطلاق و نفاذ صرف بدن پر ہوتا ہے یا اس میں غیربدنی عناصر بھی شامل ہوتے ہیں؟

دوسری بات تم نے کہی کہ تمہارا ”وجود“ تمہاری مرضی کے مطابق چلے گا۔ مجھے عقلی طور پر مطمئن کرو کہ وجود، بدن اور جسم ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔ کیا وجود بس ٹھوس بدن ہی کا نام ہے یا کچھ اور بھی ہے؟ اور کیا وجود پر مرضی چل سکتی ہے؟ میرا تو خیال ہے کہ وجود پر میری یعنی ذہن کی مرضی بھی نہیں چلتی تو تیری کہاں سے چلے گی؟

دماغ نے میرے ہوش ٹھکانے لگا دیے۔ ذرا رک کر پھر بولا۔ یہ جو تم نے انتہائی مبہم لفظ پدرسری نظام بولا ہے کیا تم اس کی وضاحت کرو گی؟ یہ مرد کون مخلوق ہے؟ تیرا اس سے کیا رشتہ ہے؟ کیا وہ بھی اپنے بدن پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے؟ اور یہ سماج کس بلا کا نام ہے؟ کیا اس مرد نے اکیلے ہی سماج تخلیق کر لیا کہ تم اس کی مالک نہ بن سکیں؟ کیا سماج کی تخلیق میں تمہارا کوئی حصہ نہیں جب کہ تم مرد سے زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کی مالک ہو بلکہ مرد کو بھی تم ہی جنم دیتی ہو؟ پھر کیا وجہ ہے کہ مرد تم سے زورآور اور برتر رہتا ہے؟ اور یہ زبان یعنی بولی جسے تم بے دھیانی میں اپنی سمجھ رہی ہو کیا اس کی تشکیل میں بھی مرد اکیلا ہی بازی لے گیا؟

جب تم اس سراب کا شکار ہو گی کہ یہ بدن تمہارا ہے تو پھر تم اس کا کثرت سے استعمال کرو گی۔ اصل میں تم آزادی کے بہکاوے میں بدن کو میدانِ جنگ بنا دو گی۔ دو مرضیوں کے تصادم میں نقصان تمہارے بدن ہی کا ہو گا۔

میں نے کہا کہ مرد میرا بدن استعمال کرتے ہیں۔ اسے اپنی مرضی سے جیسے ان کا دل چاہے دل خوش کرتے ہیں۔ ان کی مرضی میرے بدن پر کیوں چلے؟ دماغ بڑا ذہین اور شاطر ہے۔ فوراً بولا، بات تو ایک ہی ہے جو تمہاری کھوپڑی میں نہیں گھستی۔ تمہارا دل جب، جیسے اور جہاں چاہے گا تم بدن ہی کو پیش کرنا چاہتی ہونا؟ سوال یہ ہے تمہارا دل کیسے چاہتا ہے اور تمہاری مرضی کیسے بنتی ہے؟ یہ بدن جس پر تم حق ملکیت جماتی ہو، اسے اپنا کہتی ہو، اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتی ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسے اتنا بناتی سنوارتی بھی ہو، وہ کس کے لیے؟ آخر کوئی مقصد تو ہوتا ہے۔ تمہیں اپنے بدن کی زیبائش اور نمائش کی اتنی فکر کیوں رہتی ہے؟ یہ بدن تم اپنی مرضی سے کیسے استعمال کرو گی؟ تم یہی کہنا چاہتی ہو کہ تم اسے اپنی مرضی سے استعمال کرواؤ گی۔ تو دشمنِ جاں کی ضرورت تو تمہیں رہے گی۔ تمہاری ہاں یا ناں سننے والا کون ہے بھلا؟ اور لاجیکلی جب تم اس سراب کا شکار ہو گی کہ یہ بدن تمہارا ہے تو پھر تم اس کا کثرت سے استعمال کرو گی۔ اصل میں تم آزادی کے بہکاوے میں بدن کو میدانِ جنگ بنا دو گی۔ دو مرضیوں کے تصادم میں نقصان تمہارے بدن ہی کا ہو گا۔

تم اپنے بدن سے غیرت کو نکالو گی تو اسے غیریت یعنی otherness عطا کرو گی۔

اور یہ بھی تم نے خوب کہی کہ تم عورت بھی ہو! کیا تم عورت ہی ہو؟ میں نے تو آج تک کوئی عورت نہیں دیکھی۔ عورت کس نے دیکھی ہے؟ جب بھی کسی نے دیکھا کسی خاص عورت ہی کو دیکھا، محض عورت تو کہیں نہیں۔ اس دنیا کی تین کھرب ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بیویوں میں سے کون ہے جو کہے کہ میں ان چاروں میں سے کچھ نہیں بلکہ محض عورت ہوں؟ بیک وقت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہونا تو ممکن ہے لیکن بیک وقت کچھ بھی نہ ہونا محال ہے۔ اور اگلی دریافت بھی کیا خوب ہے۔ تم نے کہا تم عاشق بھی ہو سکتی ہو؟ یہ تمہاری اپنے بارے میں انتہائی جہالت کا ثبوت ہے۔ عاشق ہوتی ہی عورت ذات ہے، مرد ہمیشہ معشوق ہوتا ہے۔ تمہیں بدن کے جھنجٹ سے فرصت ملتی تو عاشقی کا فلسفہ جانتیں!

تم اپنی مرضی کا لمس مانگتی ہو۔ تم اپنے بدن سے غیرت کو نکالو گی تو اسے غیریت یعنی otherness عطا کرو گی۔ تم اپنے بدن کو اپنی ذات سے جدا تصور کرو گی۔ اسے غیر تصور کرتے ہوئے اسے مینیج اور ایڈمنسٹر کرنے کا سوچو گی اور اس پر سامراجیت مسلط کرو گی۔ یہ سب تم خود ہی کرو گی۔ تم بدن کی آزادی اور اٹانومی مانگتی ہو تو لیکن جب یہ ملیں گی تو پھر تمہارا ہر عضو اٹانومس ہو گا، انگ انگ اجنبی ہو گا۔ کیا کہا تجھے تقدیس نہیں چاہیے؟ تقدس بوجھ ہے؟ تیری یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ تجھے اپنے بدن سے نفرت ہے۔ اپنے جسم کی تقدیس کا اعتراف ثابت کرتا ہے کہ استحصال کا واویلا جھوٹ ہے۔ مقدس کا احترام ہوتا ہے استحصال نہیں۔ تو اسے غیرمقدس بنانےکا مطالبہ کر رہی ہے کیا تو نے اپنے بدن سے اس کی رضامندی لی ہے؟ تقدیس ہٹانے کا مطالبہ صرف اسی لیے ہے کہ اسے کمرشل کر دیا جائے کیوں کہ جب تک چیز مقدس رہتی ہے اس کی خرید و فروخت میں جھجھک رہتی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تو مغربی فیمی نسٹوں کی طرح کہے گی کہ ”اوہ سوری، میری شرارتی چھاتیاں پھر باہر نکل گئی ہیں“۔ تب تجھے احساس ہو گا کہ مرضی تیری نہیں، مرضی بدن کی ہے۔ اب تو چاہے تو بدن کو طلاق دے یا اس سے خلع کا دعویٰ دائر کر دے۔

یہ بھی پڑھیں: آخر فیمنزم کا قصہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممتاز رفیق
Facebook Comments Box
featuredFeminismMera Jisamwomen rightsآزادی نسواںبدن کی آزادیپدرسری نظامعورت کا بدنعورت کا جسمعورت کا جسم اور دماغفیمینزممیرا جسم میری مرضینسوانیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا —- فرحان کامرانی
next post
منفرد لہجے اور اپنی نوعیت کا اکلوتا ادیب ——– احسن رومیز

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.