تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

 اقبال کے ایک شعر پر شمس الرحمن فاروقی کا اعتراض اور ڈاکٹر اسلم انصاری کا جواب — اعجازالحق اعجاز

by دانش ڈیسک 12/12/2019
written by دانش ڈیسک 12/12/2019
89

شمس الرحمن فاروقی صاحب بلا شبہ دورِ حاضر کے ایک بڑے نقاد، محقق، شاعر، افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ان کی ایک حیثیت اقبال شناس کی بھی ہے۔ اقبال پر ان کی دو کتب شائع ہوچکی ہیں۔ ’خورشید کا سامانِ سفر‘ جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے اور How to Read Iqbal جو اقبال اکادمی پاکستان نے شائع کی ہے۔ زیر ِ نظر مضمون میں ہم فاروقی صاحب کی طرف سے اقبال کے ایک شعر پر وارد کیے گئے ایک اعتراض اور معروف اقبال شناس، شاعر، محقق اور نقاد جناب ڈاکٹر اسلم انصاری کے جواب کا جائزہ لیں گے۔ یہ اعتراض فاروقی صاحب کی مشہور تصنیف ’شعرِ شور انگیز‘ کے باب چہارم بعنوان ”میر کی زبان، روزمرہ یا استعارہ“ میں میر کے اس شعر کی وضاحت میں سامنے آیا تھا اور اس کا جواب کچھ عرصہ قبل مجلہ پیلوں میں شائع ہونے والے اسلم انصاری صاحب کے مضمون ”شعر شور انگیز: چند استدراکات“ میں پیش کیا گیا۔

شمس الرحمن فاروقی میر تقی میر کے اس شعر:

منھ پر اس کی تیغ ستم کے سیدھا جانا ٹھہرا ہے
جینا پھر کج دار و مریز اس طور میں ہو ٹک یا مت ہو

کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

”کج دار ومریز بمعنی ٹال مٹول، بہانہ، کسی کام کو اس طرح ٹالے رہنا کہ جان مشکل میں پڑ جائے (کج دار: ٹیڑھا رکھ، مریز: مت گرا)

یہ فقرہ اتنا غریب ہے کہ میں نے اسے صرف اقبال کے یہاں دیکھا ہے۔ لیکن اقبال نے بھی اسے غلط استعمال کیا ہے۔

تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر
مریز و کج دار کی نمائش، حروف خم دار کی نمائش

یوسف سلیم چشتی مرحوم اقبال کی اس غلطی پر اس قدر گھبرائے کہ انھوں نے اس فقرے کے معنی ہی نہیں لکھے، لفظ بہ لفظ مصرع کی نثر کردی۔ “

سب سے پہلی بات یہ کہ اس اقتباس میں فاروقی صاحب کو اقبال کے اس شعر کو نقل کرتے ہوئے غلطی ہوئی ہے۔ اقبال کا شعر اپنی اصل صورت میں کچھ یوں ہے:

تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر
خطوط خمدار کی نمائش، مریز و کج دار کی نمائش

یہ شعر اقبال کی ایک نظم ’کارل مارکس کی آواز‘ سے لیا گیا ہے۔ نظم کچھ یوں ہے:

یہ علم و حکمت کی مہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائش
نہیں ہے د نیا کو اب گوارا پرانے افکار کی نمائش

تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے
خطوط ِخمدار کی نمائش ، مریز و کج دار کی نمائش

جہان مغرب کے بتکدوں میں کلیساؤں میں مدرسوں میں
ہوس کی خونریزیاں چھپاتی ہے عقل عیار کی نمائش

ایک تو فاروقی صاحب کو یہ تسامح ہوا ہے کہ انھوں نے حروف خمدار لکھ دیا ہے جب کہ اصل میں یہ ’خطوط خمدار‘ ہے نیز یہ شعر کے دوسرے مصرعے کے شروع میں واقع ہے جب کہ فاروقی صاحب نے اسے بعد میں لکھا ہے۔ یعنی’خطوط خمدار‘ اور مریز و کج دار‘ کی ترتیب بدل دی ہے۔

اب آتے ہیں فاروقی صاحب کے اعتراض اور انصاری صاحب کے جواب کی طرف۔ انصاری صاحب کے نزدیک فاروقی صاحب کا اقبال پر یہ اعتراض کہ انھیں فارسی ترکیب ’کج دار و مریز‘ جسے اقبال نے شعری تقاضے کے تحت ’مریز و کج دار‘ لکھا ہے کو سمجھنے میں مغالطہ ہوا ہے ایک غلط اعتراض ہے اور اقبال کو اس ترکیب کو سمجھنے میں کوئی مغالطہ نہیں ہوا اور انھوں نے اس ترکیب کا استعمال درست کیا ہے۔ انصاری صاحب لکھتے ہیں:

”اوپر کی ساری عبارت پڑھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی، کیا وہ واقعی نہیں جان سکے کہ ’کج دار و مریز‘ کے کیا معنی ہیں؟ انھوں نے اس کے معنی ”ٹال مٹول“، ”بہانہ“، ”کسی کام کو اس طرح ٹالے رہنا کہ جان مشکل میں پڑ جائے“ بتائے ہیں۔۔۔ آپ اکثر اشعار کی تشریح کی طرف مائل رہتے ہیں لیکن یہ شعر بدرجہ غایت تشریح طلب تھا لیکن اس کی تشریح کو آپ ٹال گئے۔ بلکہ اقبال پر بھی نافہمی کا الزام رکھا۔ گزارش یہ ہے کہ فارسی کی اس ضرب المثل کے وہ معنی ہیں ہی نہیں جو آپ نے بتائے (ٹال مٹول، بہانہ وغیرہ) معلوم نہیں آپ نے کس لغت سے استفادہ کیا، یا اپنے ہی قیاس پر بھروسا کیا۔ ہر چند آپ نے دونوں الفاظ کے معنی لکھ دیے ہیں لیکن اس کا مطلب آپ کی فہم سے دور ہی رہا۔ آپ نے یہ کہا ہے کہ یہ فقرہ اتنا غریب ہے کہ آپ نے اس کو صرف اقبال ہی کے ہاں دیکھا۔ اور وہ بھی بقول آپ کے غلط استعمال کی صورت میں۔ میرے خیال میں بات جب اقبال کی ہو تو کسی قدر تامل سے کام لینا چاہیے۔ اقبال جو فارسی زبان و ادب کے اتنے بڑے مزاج دان تھے کہ خود فارسی شاعری کا ایک دبستان کہلائے، ان کے بارے میں یہ کہنا کہ انھوں نے فارسی کی ایک ضرب المثل کے معنی غغلط سمجھے، بذاتِ خود غلط فہمی کی دلیل ہے“

اسلم انصاری صاحب نے اپنے موقف کی تائید میں نوراللغات کا حوالہ پیش کیا ہے جس کی جلد چہارم میں اس ضرب المثل کی وضاحت میں لکھا ہے:

”کج دار و مریز۔ ف۔ ایک پیالے میں لبالب پانی بھر کر کہا جائے کہ اس کو ٹیڑھا کرو مگر پانی گرنے نہ پائے۔ مثل۔ ان احکام کی نسبت بولتے ہیں جن کا بجا لانا دشوار ہو۔ “

اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے ’لغات کشوری‘ کا حوالہ بھی پیش کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے:

”کجدار و مریز۔ ف۔ وہ حکم جس کا بجا لانا نہایت مشکل ہو، بلکہ نہ ہو سکے۔“

اسلم انصاری صاحب کے بقول ہوسکتا ہے کہ فاروقی صاحب نے اس ترکیب کے معنی پیلٹس (Platts) سے لیے ہوں کیوں کہ یہ پلیٹس کا کرشمہ ہے کہ اس نے اس مثل کے معانی میں ایک معنی ٹال مٹول بھی لکھ دیے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

”عرض یہ ہے کہ یہ Platts تو ہرگز کوئی آسمانی مخلوق نہ تھے وہ اس مثل کے معنی کے قریب پہنچ کر بھی دور چلے گئے ہیں۔ وہ صرف commanding and counter commanding کی حد تک تو کچھ ٹھیک ہیں، اس کے علاوہ انھوں نے جو لکھا ہے وہ ان کی قیاس آرائی ہے۔ اس مثل کے معنوں میں subterfuge کو بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ خیال رہے کہ پلیٹس کے تسامحات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے معترضین بھی ان کا احاطہ نہیں کر سکے۔“

انصاری صاحب نے کلیات میر مرتبہ عبدالباری آسی کی فرہنگ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں اس کے معنی ’ناممکن کام‘ ہی لکھے ہیں۔

اقبال کی مذکورہ نظم میں وہ دراصل کارل مارکس کی زبانی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کارل مارکس کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردارماہرین ِمعاشیات کی کتابوں میں سوائے اعداد و شمار، اشکال، اور گرافوں (خطوط خمدار) کے علاوہ اور کچھ نہیں یعنی ان کے پاس غریب کے دکھوں کا مداوا نہیں اور ان کے نظریات یہ رستہ سجھاتے ہیں کہ ارتکاز دولت کو کیسے زیادہ سے زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ علامہ اقبال کے کہنے کا مطلب ہے کہ یہ ماہرین معاشیات جو نظریات پیش کرتے ہیں ان کو عملی صورت دینا ناممکن حد تک مشکل ہوتا ہے۔

 جناب شمس الرحمن فاروقی صاحب سے گزارش ہے کہ براہ مہربانی وہ اپنی کتاب شعرشور انگیز کی نئی اشاعت سے اقبال پر وراد کیے گئے اس اعتراض کو نکال دیں۔
Facebook Comments Box
اقبالاقبالیاتعلامہ اقبال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عمران خان کا طوطی بولتا ہے ابھی —– سعدیہ کیانی
next post
جان کی امان پاؤں تو۔۔۔۔۔۔۔۔ رقیہ اکبر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.