تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلم و ادب

رونا —— داؤد احمد کا انشائیہ

by دانش ڈیسک 06/09/2019
written by دانش ڈیسک 06/09/2019
70

میری ظاہری شکل ایک ہی ہے لیکن میرے وجُود کے باطنی اسباب قطعی مختلف اور کثیر تعداد میں ہوتے ہیں۔ یہ باطنی اسباب کبھی کبھی ایک دُوسرے سے قطعی متصادم بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر ایک جیسے بھی ہوتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں میرے اثرات بھی جُدا جُدا ہوتے ہیں۔ میرے وُجود کی اہمیت غالباً میرے اثرات سے لگائی جاتی ہے۔ میرا اور ذی رُوح کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مُجھے زندگی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اور زندگی کے خاتمے کا نشان بھی۔ میں کسی ذی رُوح کے اندر مستقلاً موجُود نہیں ہوتا ہوں لیکن اس کے باوجود میرے بغیر کسی ذی رُوح کی بنیاد اور اس کی زندگی کے تسلسل کا قائم رہنا محال ہے۔ میں ذی ارواح کے باہر بھی نہیں ہوتا ہوں۔ میں ان کے باہر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں سب سے زیادہ انسانوں میں مقبول ہوں۔ میں ان کی مختلف اچھی یا بُری کیفیات کا مظہر ہوں۔

میں بات کر رہا تھا اپنی ظاہری شکل کی۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ کیفیات اچھی ہوں یا بُری اُن کی شِدّت سے مَیں وُجود میں آتا ہوں اور دونوں صورتوں میں میری ظاہری شکل ایک ہی ہوتی ہے۔ جب میں باہر آ جاؤں تو صاف پہچان لیا جاتا ہوں اور جس شخص کے اندر سے برآمد ہوتا ہوں وہ اور اُس شخص کے آس پاس والے میری آمد کو سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی میں باہر نہیں آتا اور اچھی یا بُری کیفیات کے نتیجے میں مَیں وجود کا لبادہ اوڑھ چُکا ہوتا ہوں۔ اس صورت میں مُجھے صرف وہی شخص جانتا ہے جس کے اندر میں موجود ہوتا ہوں، اس کے علاوہ کوئی مجھے نہیں جان سکتا۔ تاہم کچھ تیز نظر لوگ میرے اس شخص پر اپنے اثرات کی وجہ سے کچھ کچھ پہچاننا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر میں لوگوں کے اندر موجود رہوں اور باہر نہ آ سکوں تو میری وجہ سے ان کے دل بوجھل ہو جاتے ہیں، ان کی شخصیت ٹُوٹ پُھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ لیکن باہر آکر عارضی طور پر اُن کے لئے قدرے سکُون کا باعث بھی بنتا ہوں۔

کبھی کبھی میں نہ باہر آتا ہوں اور نہ اندر ٹھہرے رہنے پر قادر رہتا ہوں۔ یہ بڑی تکلیف دہ حالت ہوتی ہے۔ میرے لئے نہیں بلکہ اس شخص کے لئے جس پر یہ سب بیت رہی ہوتی ہے۔ میں جُدائی اور وصال کے وقت بھی ظاہر ہوتا ہوں۔ میں جسمانی اذیت کے نتیجے میں بھی معرض وجود میں آجاتا ہوں۔ میں ارادوں کے ٹُوٹنے اور خواہشوں کے ملیا میٹ ہونے پر بھی نمودار ہوجاتا ہوں۔ میں بے بسی کی حالت اور بے چارگی کے احساس کے نتیجے میں بھی ظاہر ہو جاتا ہوں۔ میں گزرے وقتوں کی یاد کی مجسم حالت میں بھی ہوتا ہوں اور آنے والے وقت کے خوف کا مظہر بھی ہوتا ہوں۔ میں مایوسی کی اُبلتی شکل بھی ہوتا ہوں۔ ناکامی کی ٹوٹتی لڑیاں بھی ہوتا ہوں۔ احتساب اور پُرسشِ احوال کا سُلگتا دریا بھی ہوتا ہوں۔ مغفرت کے لئے کی گئی التجاؤں کی بارش بھی ہوتا ہوں۔ میں گھبراہٹ کا آئینہ بھی ہوتا ہوتا ہوں۔ ان سب باتوں کے باوجود میں مسرتوں کی شہنائی بھی ہوتا ہوں۔ ملاپ اور وصال کے لمحے کا ٹھہراؤ بھی ہوتا ہوں۔ کامیابی کی ہنسی بھی ہوتا ہوں۔ فتح کا تبسم بھی ہوتا ہوں۔ میری ظاہری صورت ایک ہی ہے لیکن میرے وجود کے باطنی اسباب بہت سے اور مختلف وقتوں میں ایک دوسرے سےمختلف ہوتے ہیں۔ میری اہمیت کا اندازہ میرے اثرات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

میں آنکھوں کے راستے سے آتا ہوں، آنسُو بن کر چہروں پر ٹپکتا ہوں۔ باہر نہ آ سکوں تو دل میں گرتا ہوں۔ ہر دو صورتوں میں میرے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ مُجھ سے خائف رہنے والے بہت سے ہیں لیکن مُجھ سے محبت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

عمومی طور پر لوگ مجھ سے خائف رہتے ہیں، لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو مُجھے قُربتِ الٰہی کا باعث سمجھتے ہیں۔ اگر میں دورانِ نماز ظاہر ہو جاؤں تو نمازی کی نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہونے کے قوی امکانات ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ مُجھے یاد کرتے ہیں۔ مُجھ سے محبت کرتے ہیں اور دن رات مجھے اپنے پاس محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ رسول ص کی یاد اپنے سینے میں دبائے رہتے ہیں اور میری آمد سے اُن کے چہرے اس یاد سے منور ہو جاتے ہیں۔ وہ مجھے اس مقدس یاد سے ملنے والی روشنی کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ میں ان کے جسم کی سنسنی کو مہمیز کرتا ہوں، اُن کی دعاؤں کے لفظوں کو معانی پہنانے میں مدد کرتا ہوں۔ اُن کے کپکپاتے ہاتھوں کو قوت دیتا ہوں۔ اُن کے لرزتے ہونٹوں کو طاقت بخشتا ہوں۔ میں اُن کی زبان کی لڑکھڑا ہٹ کو سنبھالا دیتا ہوں۔ اُن کی آہ و فغاں کو سہارا دیتا ہوں۔ اُن کی عاجزی میں استقلال پیدا کرتا ہوں۔ اُن کے قلب کی دھڑکن کو اعتدال عطا کرتا ہوں۔ اُن کی سانس کے زیرو بم کو بحال رکھتا ہوں۔ اُن کی گردشِ خون کو متوازن رکھتا ہوں۔ اُن کی سماعتوں کو غیر ضروری آوازوں سے پاک رکھتا ہوں۔ اُن کی توجہ کو رسول ص کی یاد کی طرف بڑھاتا ہوں۔ اُن کی روح کی سرشاری کی آبیاری کرتا ہوں۔

میں آنکھوں کے راستے سے آتا ہوں، آنسُو بن کر چہروں پر ٹپکتا ہوں۔ باہر نہ آ سکوں تو دل میں گرتا ہوں۔ ہر دو صورتوں میں میرے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ مُجھ سے خائف رہنے والے بہت سے ہیں لیکن مُجھ سے محبت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ میرا کوئی مُستقل وُجود نہیں اور میں کسی بھی وقت پیدا ہو سکتا ہوں۔ اپنے دیکھنے والوں کو رُلا بھی سکتا ہوں اور اُنہیں دائمی سکون سے ہمکنار بھی کر سکتا ہوں۔ میں کئی مرتبہ پیدا ہوتا ہوں اور ہر مرتبہ لوگوں پر مختلف اثرات چھوڑتا ہوں۔ آؤ! مُجھے پا لو۔ جو مُجھے شوق سے حاصل کرے اس کی نجات کا باعث ہوں۔ جو مُجھے ترک کرے اور مُجھ سے دُور بھاگے اس کے لئے مزید دُکھ لاتا ہوں۔ کوئی مُجھے ڈھونڈ نہیں سکتا۔ میں لوگوں کی مختلف کیفیات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہوں۔ میں دھوکا نہیں ہوں، میں فریب نہیں ہوں۔ میں آنے والے کے ساتھ آکر آنے والے کو رُلاتا ہوں اور جانے والے کی جُدائی میں دوسروں کی آنکھ نم کرتا ہوں۔ میں موت بھی ہوں اور زندگی بھی ہوں۔ میرا تعلق تمام زمانوں سے ہے۔

Facebook Comments Box
آنسوانشائیہروناغمگریہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تصورِ محبت کی ردِ تشکیلیت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد الیاس بابر
next post
اسلامی جمہوریہ اور ہندوتوا —— سجاد میر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.