تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتنقیدعلم و ادب

خورشید رضوی کا رنگِ سخن —- فتح محمد ملک

by دانش ڈیسک 12/09/2019
written by دانش ڈیسک 12/09/2019
104

تنقید کے ساتھ ساتھ تخلیق کے جہاں میں بھی خورشید رضوی کا قلم آغازِ کار ہی سے رواں دواں ہے۔ اُن کا تازہ ترین مجموعۂ کلام ’’شناخت‘‘ قومی و ملّی نظموں پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعۂ کلام اُن کے شاعرانہ اعجاز کا ثبوت بھی ہے اور روحانی ثروتمندی کا بھی۔ حمد، نعت، سلام، منقبت اُن کے ہاں مشاعروں کی رسمی شاعری نہیں، اپنے اندر کے جہاں کی سیاحت کا ثمر ہے۔ حمدیہ نظم ’سرگوشی‘ اور نعتیہ نظم ’مدینہ میں‘ اُن کی روحانی سرگزشت کے جلی عنوان بھی ہیں اور حمدیہ اور نعتیہ شاعری کے نئے آفاق بھی۔ ان ہی آفاق کی سیر کرتے کرتے ہم اُن کی قومی شاعری کے اُفق تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

سن پینسٹھ کے معرکۂ ستمبر نے ہماری قومی و ملی زندگی کی اسلامی شناخت کو جس انداز سے سنوارا اور نکھارا ہے وہ ان یادگار نظموں کا صورت گر ہے۔ بانیانِ پاکستان خصوصا ً علامہ اقبال کی مدح میں لکھی گئی منفرد نظمیں ہمارے قومی ادب کا آفاقی انسانی تناظر پیش کرتی ہیں۔ جب میں ان نظموں کو پڑھتا ہوں تو مجھے حمد، نعت اور منقبت کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی ایک مقدس روحانی موضوع نظر آتا ہے۔ جناب مسعود مفتی نے کیا خوب کہا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت:

’’صبح کے ستارے کی مانند بہت روشن اور نمایاں نظر آرہی ہے۔ پاکستانی ادب کے آسمان پر بلاشبہ قومی ادب کے بہت سے ستارے چمک رہے ہیں لیکن وہ زیادہ تر اِکا دُکا ادب پاروں کی بکھری بکھری چمک دیتے ہیں۔ زیرِنظر مجموعہ اس وجہ سے روشن تر ہے کہ اس کے سارے مندرجات ڈاکٹر خورشید رضوی جیسے صاحبِ نظر کی مربوط سوچ سے ابھرے ہیں اور ایک مجموعی اکائی کی شکل میں پوری قومی زندگی کے قابل ِ ذکر نشیب و فراز کو موضوع بناتے ہیں جن میں مجروح وطن کا احساسِ زیاں کبھی تو ’’معصوم سنہرا گیت‘‘ بن جاتا ہے اور کبھی ’’آؤ محسوس کریں‘‘ جیسی دل گداز اور فکر انگیز نظم بن جاتا ہے۔ ‘‘۱

جس زمانے میں خورشید رضوی اُردو شاعری کے اُفق پر طلوع ہوئے تھے وہ زمانہ ہمارے ہاں فقط حاضر و موجود کی پرستش کا زمانہ تھا۔ اقبال کے خلاف ردعمل کی تنقید اور شاعری سکہ ٔ رائج الوقت تھی۔ اُس زمانے میں ہمارے ہاں فرائیڈ اور یونگ کی تقلید میں جدیدیت اور مارکس اورلینن کے نام پر اشتراکیت کا ڈنکہ بج رہا تھا۔ ہماری اپنی قومی و آفاقی ادبی روایت کی نفی ترقی پسندی اور جدیدیت کا ثبوت بن کر رہ گئی تھی۔ خورشید رضوی نے پیرویٔ مغرب کے اس نئے چلن کو اپنانے کی بجائے اقبال کے اثبات کی ٹھانی۔ اقبال نے جس طرح مسلمانوں کی ادبی روایت کی انقلابی تفہیم و تعبیر سے پورے مشرق کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑا کر تجدید و تعمیر حیات کا کارنامہ سرانجام دیا تھا، خورشید رضوی نے اُس کی نفی کی بجائے اُس کے اثبات اور استحکام کا راستہ اپنایا۔ اپنے ایک خطبہ صدار ت کے آخر میں وہ بجا طور پر ہماری ادبی دنیا کو خبردار کرتے ہیں کہ:

’’ہمیں اس بات کا جلد از جلد احساس کرنا چاہیے کہ مشرقی روایت کے سوتے اگر اسی طرح گرد و غبار سے اٹتے رہے تو ہمارا اصل سرچشمہ اندھا ہو جائے گا۔ ہمیں مغربی دریچے بند کیے بغیر مشرق کی طرف کے پرانے جھروکے بھی پھر سے کھولنے چاہییں، اس سے پہلے کہ وہ لاتعلقی کے زنگ سے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔ ہمیں اس جانب سے آنے والی ہوا کی ضرورت ہے اور دھوپ تو آتی ہی ادھر سے ہے۔ ‘‘۲

ایسے میں خورشید رضوی اس زہر کا تریاق تلاش کرنے میں مصروف ہو گئے۔ یہاں مجھے اُن کی نظم ـ’’تریاق‘‘ یاد آئی ہے:

گاؤں کے اجڑے ہوئے مدفن میں پونم کا طلسم
آج کی تہذیب کے ہر زہر کا تریاق ہے

شہر والوں کے تبسم کی ریاکاری سے دور
محفلوں کی کھوکھلی سنجیدہ گفتاری سے دور
الجھے الجھے سے دلائل کی گرانباری سے دور

محفلیں لوحِ تکلف کی وہی پٹتی لکیر
اپنی اپنی چار دیواری کے زنداں میں اسیر
کیا کرے وہ جس کے دل میں وسعتِ آفاق ہے

آسحر تک اس دبستانِ حقیقت میں پڑھیں
موت کے بوڑھے معلّم سے کتابِ زندگی

خورشید رضوی اس زہر کا تریاق مسلمانوں کے تصورِ کائنات کی بازیافت میں دیکھتے ہیں اوریوںآغازِ سخن سے لے کر آج تک اسی دبستانِ حقیقت سے وابستہ رہ کرہمارے شعر و ادب کوثروتمند بنانے میں منہمک ہیں۔ چنانچہ خورشید رضوی ہر زمانے کو اپنا زمانہ سمجھتے ہیں:

آج بھی بزم میں ہیں رفتہ و آیندہ کے لوگ
ہر زمانے میں ہیں موجود زمانے سارے
٭
جن لوگوں میں رہتا ہوں، میں اُن میں سے نہیں ہوں
ہوں کون مجھے اپنا زمانہ نہیں ملتا
٭
جانے کس دن ہاتھ سے رکھ دوں گا دنیا کی زمام
جانے کس دن ترکِ دنیا کا خیال آ جائے گا

رواں وقت سے جاوداں وقت تک اور جاوداں وقت سے رواں وقت تک خورشید رضوی کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ اس آمد و رفت کی شاہراہ اُن کادل ہے۔ امجد طفیل نے خورشید رضوی کی شاعری کی تفہیم و تحسین کے موضوع پر اپنے مقالے میں اس حقیقت کی جانب ہماری توجہ مبذول کرائی ہے کہ:

’’خورشید رضوی کے ہاں ہمیں ’’دل‘‘ بنیادی استعارے کے طور پر ملتا ہے انھوں نے کلاسیکی غزل کے اس استعارے کو بڑے وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے۔ جو شاعر بھی اپنی شعری روایت کا گہرا مطالعہ کرے گا وہ دل اور اس کے متعلقات سے پہلو بچا کر نہیںگزر سکتا۔ مگر خورشید رضوی کے ہاں دل کا استعارہ بار بار ہمارے سامنے آتا ہے اور انسانی وجود کے مختلف پہلوؤں کی سمت اشارہ کرتا ہے……. بیسویں صدی کی مخصوص فضا نے جدید انسان کو دوسرے انسانوں ہی سے نہیں خود اپنے آپ سے بھی بیگانہ کر دیا ہے۔ یہ صورت حال اب بھی موجود ہے۔ ایسے میں انسان اپنے اندر جھانک کر خود سے مکالمہ کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ خورشید رضوی اپنے باطنی وجود کو دل کے استعارے میں بیان کرتے ہیں اور یہ بجا طور پر صوفیا کی تعلیمات کا فیضان ہے۔ خورشید رضوی کی صرف غزلوں ہی میں نہیں بلکہ ان کی نظموں میں بھی ’’دل‘‘ ایک طاقتور استعارے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ۳‘‘

بے شک مغربی دنیا میں یہ طرزِ فکر و احساس بیسویں صدی میں نمایاں ہوا مگر ہمارے ہاں حکمتِ قرآن اور اُس سے پھوٹنے والی صوفیانہ شاعری کی بدولت صدیوں سے فروغ پذیر چلا آرہا تھا۔ قرآنِ حکیم میں دماغ کی بجائے دل کو فکر و نظر کاسرچشمہ قرار دیا گیاہے۔ افسوس کہ اندھادھند پیرویٔ مغربی کے باعث ہم اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ خورشید رضوی نے اقبال تک پہنچتی ہوئی اور اقبال کے جدید تر رنگِ سخن میں جذب ہونے والی اس روایت کو ازسرِنو فراموشی کی دُھند سے روشنی میں لانے کا اہتمام کیا ہے۔ چنانچہ آج ہم فکرِ اقبال سے انحراف اور انکار کی بجائے اثبات کی فضا میں سانس لینے لگے ہیں۔ یہ خوشگوار فضا ڈاکٹر خورشید رضوی کے شعر و سخن کا فیضان ہے:

کھو گئی دُور کہیں بانگِ درا، ڈھونڈھ کے لائیں
دشتِ ماضی میں چلیں اپنا پتا ڈھونڈھ کے لائیں
٭
تپشِ دہر میں سایہ نہیں ملتا کوئی
پھر وہی دوشِ محمدؐ کی رِدا ڈھونڈھ کے لائیں
٭
جدھر جاؤں فضاؤں میں غبارِ سیم و زر ہے
میرا دم گُھٹ رہا ہے سانس روکے چل رہا ہوں

اس غبارِ سیم و زرسے نجات کی خاطر وہ اپنے دل کے ہمراہ پردۂ افلاک کوچیرتے ہوئے اوپر ہی اوپر پرواز کرنے لگتے ہیں مگر اس بلند پروازی کے دوران بھی زمین پر اپنے گرد و پیش کی دنیا کو فراموش نہیں کرتے۔ دل سے ہمکلام رہتے ہیں مگر دُنیا کو نہیں بھولتے:

ٍٍ
چل ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍاے دل آسماں پر چل:
چل اے دل آسماں پر چل
وہاں سے چل کے اس پُرشور بزمِ ہست کو دیکھیں
بلند و پست کو دیکھیں
زمیں کی سرنگونی آسماں سے کیسی لگتی ہے
پہاڑوں کی سرافرازی وہاں سے کیسی لگتی ہے
کفِ دست جہاں کی پیچ و خم ریکھائیں کیسی ہیں
جو تیری راہ کا پتھر ہیں وہ کٹھنائیں کیسی ہیں
چل اے دل آسماں پر چل!

ڈاکٹر خورشید رضوی کے ہاں ماورا کے جہاں کی سیر و سیاحت کے دوران اپنے خطۂ زمین پر حاضر وموجود کو درپیش مصائب و مشکلات کو پیشِ نظر رکھنا مادی تگ و دوسے کہیں بلند و برترروحانی واردات ہے۔ اس واردات کے احوال و مقامات اُن کی کلیات ’’یکجا‘‘کے اوراق پر عکس ریز ہیں!
٭٭٭
حواشی
۱۔ ستارۂ صبح، دیباچہ، شناخت، انٹرنیشنل نعت مرکز، لاہور، ۲۰۱۹ء، ص۱۲۔
۲۔ خطبۂ صدارت حلقۂ اربابِ ذوق، ۱۱ مئی ۲۰۰۳ء، ارمغانِ خورشید، مرتبہ ڈاکٹر زا ہد منیر عامر، ص۲۹۵۔
۳۔ ارمغانِ خورشید، صفحات ۱۸۲۔ ۱۸۳

Facebook Comments Box
اردو شاعریآؤ محسوس کریںخورشید رضویشاعریفتح محمد ملکمعصوم سنہرا گیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا ——– عطا محمد تبسم
next post
معماری نجاری سے فیس بک نَثاّری تک — عزیز ابن الحسن

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.