تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدسیاسیعلم و ادبعلمیکالم

جلیل عالی کے مضمون ’ہماری قومی تہذیبی شناخت اور عالمی استعماری فکریات‘ کے ضمن میں۔۔۔۔ علی عمر عمیر‎

by دانش ڈیسک 03/08/2019
written by دانش ڈیسک 03/08/2019
130

اس ہفتہ حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کا اجلاس اپنے موضوع کے اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل تھا۔

پروفیسر جلیل عالی صاحب نے مضمون (عالی صاحب کی پوری گفتگو کا لنک اس تحریر کے آخر میں دیا گیا ہے) کے بینر تلے ایک حساس موضوع پر گفتگو کا آغاز کیا۔ موضوع تھا، “ہماری قومی تہذیبی شناخت اور عالمی استعماراتی فکریات”۔ میں نے ہمیشہ عالی صاحب کو عالمی اور اسلامی دنیا کے ایک دوسرے پر اثرات جیسے وسیع موضوع کے بارے میں بات چیت کرتے سنا ہے۔ اس میدان میں عالی صاحب کا مطالعہ اور مشاہدہ بھی خوب ہے اور مطالعہ و مشاہدہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے نظریات میں بھی عالی صاحب بالکل واضح اور معتدل ہیں۔

اجلاس کے شرکاء کے نام گنوانے کی بجائے میں کوشش کرتا ہوں کہ عالی صاحب اور باقی شرکاء کی گفتگو میں سے اہم نکات اور اپنا نکتہ نظر پیش کرتا ہوں۔ واضح رہے کہ میں اجلاس کی کارروائی بالکل نہیں لکھ رہا۔ میرے لیے اہم صرف یہ موضوع اور اس کی جزئیات ہیں۔
جلیل عالی صاحب نے مضمون کی ابتدا میں ہی شرط رکھی تھی کہ بحث کا دائرہ موضوع تک ہی محدود رکھا جائے۔ لیکن ایسا ممکن نہیں تھا کیوں کہ یہ موضوع بے حد وسیع ہے۔

موضوع کی مناسبت سے عالی صاحب نے چند بیرونی(عالمی استعماراتی) فکری تحریکوں کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بیرونی استعمار ہماری (پاکستانی قومی اسلامی) شناخت کی تشکیل پر ان تحریکوں کے ذریعے سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

ان بیرونی فکری وارداتوں میں ایک یہ کہ مسلم قوم کی وحدت کو علاقائی اور ملکی حدود کی نذر کر دیا گیا۔ یعنی ترکی کا مسلمان انڈیا اور پاکستان کے مسلمان سے مختلف مسلمان ہے۔ حتی کہ اس وقت انڈیا اور پاکستان کا مسلمان بھی ایک دوسرے سے مختلف تہذیبی تشخص کا حامل ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے جدیدیت، تانیثیت، نو آبادیات سمیت کچھ مزید اثرات کا ذکر کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے مضمون کو آگے بڑھایا جاتا، شناخت اور اس پر بیرونی فکری اثرات کے ضمن میں تجزیاتی اور تنقیدی بحث کی جاتی اور ہماری قومی تہذیبی شناخت کی اصل کو واضح کیا جاتا۔ مگر مجھے یہ محسوس ہوا کہ شرکاء عالی صاحب کی گفتگو کی جزئیات پہ غور کرتے گئے اور انہی کو گفتگو کا حصہ بناتے گئے۔ کسی دوست کو جدیدیت کی عالی صاحب کی تفہیم پر اعتراض تھا تو کسی نے تانیثیت کی ڈیفینیشن سمجھانی شروع کر دی، کسی کو تہذیب کا دائرہ کار طے کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور کسی کو مذہب اور معاشرہ یاد آ گیا۔

اس تمام گفتگو سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ ہم لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر بڑے مسائل سے کیسے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عالی صاحب نے اپنے مضمون میں ہی احباب کی اس دانستہ یا نادانستہ غیر سنجیدہ روش کی طرف اشارہ نائنٹیز کے زمانے کی مثالوں سے کر دیا تھا۔

عالی صاحب نے مضمون میں کم از کم اتنا تو ہوتا کہ ہماری قومی تہذیبی شناخت کا دائرہ کار ہی طے ہو جاتا۔ اور میرے خیال میں عالی صاحب بذاتِ خود اپنے مضمون میں قومی تہذیبی شناخت کا دائرہ کار طے کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ حاضرین نے ان سے وضاحت بھی چاہی اور وہ وضاحت دینے کے باوجود بھی یہ دائرہ مکمل آشکار نہیں کر سکے۔

شناخت کے حوالے سے فرخ ندیم صاحب نے ایک بات کہی کہ شناخت کے نقصانات بھی بہت ہیں۔ مثلاً ہمیں ہماری شناخت کی بنا پر امریکا یا انہی جیسے یورپین ممالک میں تذلیل آمیز رویے سے نوازا جاتا ہے۔ مثلاً شناخت کی بنیاد پر افغانستان، عراق، برما میں صرف مسلمانوں پر ہی مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وغیرہ۔۔ اول تو فرخ صاحب نے وہ لفظ شناخت استعمال کیا، جس کا سیاق و سباق بے حد مختلف ہے۔ عالی صاحب کے مضمون میں استعمال کیے گئے لفظ شناخت کا مطلب شناخت نہیں، بلکہ اچھی شناخت ہے۔ اور اچھی شناخت کا مطلب اچھا امیج، اچھا تعارف، اچھی شہرت ہے۔ اگر اس سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو فرخ ندیم صاحب کی بات زیادہ متاثر کن نہیں لگتی۔ کیوں کہ مضمون میں اس شناخت کی بات کی گئی ہے جو ہماری اچھی شناخت ہے اور جس پر استعماراتی فکریات اثر انداز ہو کر اسے ہماری بری شناخت بنا چکی ہیں (جس کی بنا پر ہمیں پوائنٹ کر کے تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے)۔

دلچسپ بات اس مضمون کے حوالے سے یہ ہے کہ اس میں عالی صاحب نے چیدہ چیدہ حوالوں کے ساتھ یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ جدت پسندی، مارکسزم، تانیثت، فیمینزم اور گلوبلائزیشن جیسی فکری تحریکوں کا پاکستانی، اسلامی، قومی شناخت پر اچھا اثر نہیں پڑا۔ انہی فکریات نے ہی قوم کے تصور کو اتنا الجھا دیا کہ اب ہر ایک کے نزدیک قوم کا الگ ہی تصور ہے۔

عالی صاحب کے مضمون میں جو احساس نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ سب کچھ امپورٹ کر لیا جائے لیکن فکر امپورٹ نہ کی جائے ورنہ آپ کی شناخت یا تو ختم ہو جائے گی یا پھر اچھی سے بری کی طرف منتقل ہو جائے گی اور ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ مختلف فکروں نے قومی شناخت کے معاملے کو الجھا کر ملی، قومی، ملکی یا نظریاتی وحدت کا کوئی خالص تصور باقی نہیں رہنے دیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے ایک ہی مذہب کے لوگ اپنے آپ کو ایک قوم کہنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

نوٹ: عالی صاحب کی مکمل گفتگو اس لنک پہ سنی جاسکتی ہے

Facebook Comments Box
استعماراستعماریاستعماری فکرتہذیبی شناختجلیل عالیعالمی استعمارقومی شناختمزاحمتمزاحمتی ادب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بارشیں، ہلاکتیں اور بجلی کا نظام —- احمد علی کیف
next post
ضمیر کی فتح ——- اے خالق سرگانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.