تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبعلمیکالملسانیات

مثالی اردو نصاب کی بنیادیں —— نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 16/05/2019
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 16/05/2019
441

یہ ایک انتہائی اہم اور پھیلا ہوا موضوع ہے جس کی کئی جہتیں اور پہلو ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں خود کو اس موضوع پر کوئی مستند رائے دینے کی اہل نہیں سمجھتی کیوں کہ جدید علمی دنیامیں یہ ایک باقاعدہ علم ہےجس میں نفسیات، سماجیات اور دیگر علوم کی مدد سے نصاب سازی کے اصول مرتب کیے جاتے ہیں۔ البتہ اپنے تیس سالہ تدریسی تجربے کی بنا پر، جس میں ہر سطح کی تدریس شامل ہے،میں اپنے چند مشاہدات اور ان سے حاصل ہونے والئے نتائج آپ کے سامنے پیش کر سکتی ہوں۔

یہ تو تمام اصحاب علم کو معلوم ہے کہ نصاب، درسی کتاب کو نہیں کہتے۔ نصاب دراصل وہ مجموعی خاکہ ہے جس میں کسی خاص مضمون کی تدریس کے مقاصد، عمومی موضوعات اور اس کی سطح کی حد بندی کی جاتی ہے۔ مثالی اردو نصاب کے بارے میں گفتگو سے پہلے چند بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔

مثلا ً یہ کہ نصاب سے کس درجے کا نصاب مراد ہے؟ پرائمری سے لے کر جامعات تک ہر درجے کے نصاب کے تقاضے الگ ہیں اور ان کے لیے سفارشات بھی مختلف نوعیت کی ہونی چاہییں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اردو سے مراد اردو زبان ہے یا ادب؟ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے تو اسی تخصیص کی ضرورت ہے کہ جب ہم تدریس ِاردو کہیں تو اس سے مراد ہو اردو زبان۔ ادب کو زبان کی تدریس کے لیے ضرور استعمال کیا جائے مگر اس کے علاوہ بھی اردو کی تدریس کے مراحل پر توجہ دی جائے۔ کم از کم پہلے بارہ سال کی تعلیمی زندگی میں اردو زبان کے تدریس کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ اس کے لیے ادبی مواد کی مدد لی جا سکتی ہے مگر صرف ادب کی تدریس پیش نظر نہ رہے بلکہ معروضی نثر لکھنا، سائنسی اور تکنیکی مضامین کے پیرایۂ بیان کی تربیت دینا اور روزمرہ بات چین اور بول چال کے مختلف اسلوب سکھانا اردو کی تدریس کے لازمی اجزا سمجھے جانے چاہییں۔ ادب کی تدریس ثانوی اور اعلیٰ ثانوی جماعتوں میں بطور اختیاری مضمون کی جا سکتی ہے۔

زبان کی تدریس کی چار بنیادی مہارتیں ہیں۔ جو بتدریج سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں۔ یعنی سب سے پہلے سننا، پھر بولنا، پھر پڑھنا اور پھر لکھنا۔ ان میں سے دو مہارتیں ان پٹ کی حیثیت رکھتی ہیں اور دو آؤٹ پٹ کی۔ سننا اور پڑھنا ان پٹ ہیں اور بولنا اور لکھنا آؤٹ پٹ۔ اب ان میں سے پہلی مہارت یعنی سننے کے عمل کا آغاز فطری طور پر ماں کے پیٹ سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور بولنا بھی بچہ سماجی زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں سیکھ لیتا ہے لیکن یہ سننا اور بولنا دونوں اس کی مادری زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو کا معاملہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی مادری زبان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی کی دوسری زبان یعنی سیکنڈری لینگویج ضرور ہے۔ اگر کسی ماحول میں اردو بولنے والا کوئی ایک فرد بھی موجود نہ ہو، تب بھی ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی وژن، گانوں، گیتوں اور قوالیوں کے ذریعے اردو کے الفاظ اور لب و لہجے سے واقفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

اسکول میں رسمی تعلیم کے ذریعے اس ابتدائی واقفیت کی پرورش و نمو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نصاب میں ان دونوں بنیادی مہارتوں یعنی سننے اور بولنے کی تربیت کا مناسب یا ضروری اہتمام نہیں ملتا۔ ہم ابتدائی جماعتوں سے دیکھتے ہیں کہ سارا زور پڑھنے اور لکھنے پردیا جاتا ہے۔ سننے اور سن کر درست معنی اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی مشق اگر ہو بھی تو اتنی معمولی ہوتی ہے کہ خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ یونی ورسٹیوں میں بھی طلبہ کی ؛لیکچرسن کر سمجھنے اور اسے یادداشت میں محفوظ کر لینے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز بار بار بدل جاتا ہے اور وہ اگلے جملوں کو پچھلے جملوں سے مربوط کر کے کلام کے مجموعی معانی سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

ابتدائی جماعتوں میں بلند خوانی اور مکالمے کی تربیت کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائےاور اس کی جانچ کے لیے اردو کے زبانی امتحان کا اہتمام کیا جائے جسے پڑھانے والے استاد کے بجائے کوئی دوسرا استاد لے۔

اب سے چالیس پچاس برس پہلے یہ صورت حال نہیں تھی اور ابتدائی جماعتوں میں ان دونوں مہارتوں کی تربیت کے لیے انتہائی سادہ اور نتیجہ خیز مشقیں عام تھیں۔ مثلا ًہر نیا سبق استاد پہلے خود اور بعد میں مانیٹر کے ذریعے بچوں سے بار بار بآواز بلند کہلواتا تھا۔ استاد ایک سطر پڑھتا تھا، بچے اس کے بعد مل کر باجماعت اس سطر کو دہراتے تھے اور یوں نہ صرف استاد کی، بلکہ خود اپنی بھی،آوازسن کر تلفظ، لب و لہجہ اور ادائیگی کی مشق کر لیتے تھے۔ اب اس مشق کو فرسودہ طریقہ سمجھ کر ترک کر دیا گیا ہے۔ استاد بمشکل ایک بار بچوں کے سامنے سبق کی قرات کرتا ہے اور چند بچوں سے منتخب اقتباسات کی قرات کرواتا ہے۔ اس سے ایک تو سب بچوں کو قرات کا موقع نہیں ملتا جس سے ان کی آموزش نہیں ہوتی اور دوسرے ان کی دلچسپی بھی سبق میں نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمبی گفتگو سن کر اس سے معانی اخذ کرنا اور انھیں دوبارہ بیان کرنے کے قابل ہونا اب جامعات کے طلبہ کے لیے بھی آسان نہیں رہا۔اسی طرح مارننگ اسمبلی کے نام سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمی میں بچے مل کر کوئی دعا، نغمہ یا ترانہ پڑھتے تھے اور اس سے بھی ان کے اعضاے نطق کی مناسب ورزش ہو جاتی تھی۔ اب کہیں دہشت گردی کے ڈر اور کہیں عمارتوں کی تنگی کے باعث یہ رسم بھی متروک ہوتی جارہی ہے اور صبح صبح ایک گیت گا کر بچوں کے ذہن میں جو تازگی پیدا ہوتی تھی وہ مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

لہذا میرے نزدیک بنیادی جماعتوں کے اردو نصاب کی پہلی شرط تو یہ ہونی چاہیے کہ پڑھنے اور لکھنے سے پہلے سننے اور بولنے کی مشق کروائی جائے اور یہ مشق صرف استاد کی صوابدید پر نہ چھوڑی جائے بلکہ اسے باقاعدہ امتحانی سرگرمی کا حصہ بنایا جائے کیوں کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر سطح کے اساتذہ کی اکثریت اپنے منصب کے تقاضوں اور ان کی اہمیت سے بے خبر ہے اور اس وقت تک، کسی کام پر آمادہ نہیں ہوتی جب تک اسے سزا یا جزا کے کسی سلسلے سے مربوط نہ کیا جائے۔ محض ایمان داری اور اخلاقی تقاضے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طور پر نبھانا اب قصہ ٔپارینہ بن چکا ہے اور جو استاد اب بھی اس جرات رندانہ کے مرتکب ہوتے ہیں انھیں اپنی برادری میں کوئی خاص محبت یا عزت کے قابل نہیں سمجھا جاتا بلکہ دیگر ہم کار اکثر ان سے نالاں نظر آتے ہیں اور کسی نہ کسی سازش کے ذریعے انھیں منظر عام سے ہٹانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

خیر یہ ایک الگ موضوع ہے اور فی الحال زیر بحث نہیں ہے حالانکہ نظام تعلیم کا اہم ترین ستون اساتذہ ہی ہوتے ہیں۔ موجودہ صورت حال اور اساتذہ کی اس کیفیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نصاب میں کچھ ایسی تبدیلیاں کر سکتے ہیں جو اساتذہ کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔لیکن یہ نصابی تبدیلیاں صرف اس صورت میں مؤثر ثابت ہوں گی جب انھیں امتحان کے عمل سے گزارنا لازمی قرار دیا جائے۔ نصاب اور امتحانی نظام یعنی ایویلیوایشن سسٹم لازم و ملزوم ہیں۔

لہذا پہلی بات تو یہ ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں بلند خوانی اور مکالمے کی تربیت کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائےاور اس کی جانچ کے لیے اردو کے زبانی امتحان کا اہتمام کیا جائے جسے پڑھانے والے استاد کے بجائے کوئی دوسرا استاد لے۔ اس طرح بچے تلفظ، ادائیگی اور گفتگو کے آداب سیکھ سکیں گے اور بتدریج بڑی جماعتوں میں جاتے جاتے مدلل گفتگو کرنے اور اپنے خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

دوسری تجویز یہ ہے کہ بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں مرحلہ وار اضافہ کرنے کا ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ مرتب کیا جائے۔ محض یہ فرض کر لینا کافی نہیں ہوگا کہ نصابی کتب کے اسباق پڑھنے سے بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں خود بخود اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس مقصد کے لیے علیحدہ کتابچے مرتب کیے جائیں جن میں الفاظ، ان کے معانی اور ان کے استعمال کو واضح کیا جائے۔ ان الفاظ کی تعداد کیا ہونی چاہیے یا انھیں کس ترتیب سے سکھایا جائے، اس بارے میں پیشہ ور ماہرین نصاب بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کئی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً آسان سے مشکل کی جانب۔ روزمرہ استعمال کے الفاظ سے لے کر بتدریج بڑھتی ہوئی سماجی، علمی اور فکری ضروریات پر مبنی الفاظ کی جانب۔ مفرد سے مرکب کی جانب۔ یا اسی نوع کی کوئی ترجیحی صورت یا ان تمام صورتوں کو پیش نظر رکھ کر ذخیرہ الفاظ مرتب کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ترکیب سازی، نئےنئے الفاظ بنانے اور انھیں استعمال کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔

ذخیرۂ الفاظ کے سلسلے میں بچوں کو ابتدائی جماعتوں ہی سے لغت کے استعمال کی عادت ڈالنے کے لیے اس اہم سرگرمی کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بچوں کے مجوزہ ذخیرہ ٔ الفاظ پر مشتمل بولنے والی لغات یا ٹاکنگ ڈکشنریز خصوصی طور پر تیار کی جا سکتی ہیں۔ اب تو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انتہائی کم لاگت میں ایسی لغات تیار کر کے بلا قیمت بچوں اور ان کے اساتذہ تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔

پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں کی تربیت کے لیے نصاب کو اس طور پر تشکیل دیا جائے کہ اخلاقی، دینی اور تہذیبی مقاصد بھی بے شک پیش نظر رہیں لیکن ان کی نوعیت ضمنی رہے۔

پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں کی تربیت کے لیے نصاب کو اس طور پر تشکیل دیا جائے کہ اخلاقی، دینی اور تہذیبی مقاصد بھی بے شک پیش نظر رہیں لیکن ان کی نوعیت ضمنی رہے۔ اردو کا نصاب مرتب کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل مقصد زبان کی تدریس ہے۔ اس مقصد کے لیے نصاب کو نہایت ذہانت اور فن کارانہ حس تناسب کے استعمال سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ نصاب اس طرح وضع کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں ترتیب دی جانے والی نصابی کتب مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کی پابند ہو جائیں یعنی اس میں مقاصد اور طریق کار کے متعلق واضح ہدایات درج ہوں۔ مثلاً یہ کہ پڑھ کر عبارت کی درست تفہیم کے لیے جو تحریری ٹکڑے منتخب کیے جاتے ہیں ان میں بچوں کی عمر، ذوق، استعداد اور دلچسپی کو تو مد نظر رکھا ہی جاتا ہے لیکن زبان کی چاشنی اور اثر انگیزی کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے اور تفہیم کے ساتھ ساتھ تحسین کے عمل کو جزو ِ نصاب بنایا جائے۔غیر ضروری طوالت اور پھسپھسی، بے جان عبارتوں سے گریز کر کے، اردو کے نئے پرانے عظیم اور معتبر انشا پردازوں کی تحریروں کے ٹکڑے پیش کیے جائیں جن کے معنوی اور فنی پہلوؤں کی تفہیم و تحسین اساتذہ کے ذریعے کروائی جائے اور اس مقصد کے لیے خود اساتذہ کو بھی نہایت واضح ہدایات دی جائیں۔ نیز اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ بچے عبارت کو پڑھ کر اس کے مرکزی نکتے یا نکات کو سمجھ لیں اور پھر اسے اپنے الفاظ میں بیان بھی کر سکیں۔ ابتدا میں طویل عبارتوں کے بجائے مختصر اقتباسات کے ذریعے مشق کروانا اہم ہوتا ہے جس میں بیک وقت بہت سی باتوں کے بجائے ایک ہی مرکزی خیال تک پہنچناکافی ہو۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے مشق کا آغاز خوش خطی اور پھر املا سے ہونا چاہیے۔ پہلے حروف کی درست نشست اور ان کے جوڑ واضح کرنا ضروری ہیں۔ اس مشق کے لیے خاطر خواہ وقت مخصوص کرنا ضروری ہے۔ بار بار کی جانے والی مشق سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے زمانے میں تختیوں اور قلم دوات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ تختیاں بار بار دھو کر استعمال کی جا سکتی تھیں، ماں باپ پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑتا تھا اور بچے تختی دھونے اور سکھانے کے عمل کے دوران نہ صرف ایک جسمانی ورزش کر لیتے تھے بلکہ چھوٹے موٹے گیت گا کر کھیل اور تفریح کا ذریعہ بھی حاصل کر سکتے تھے۔

نصاب، کتاب اور استاد سب کے ہوتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے اگر امتحانی نظام ان مقاصد سےہم آہنگ نہ ہو جن کے لیے نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے جدید تدریسی مہارتوں کو پیش نظر رکھ کر نصاب سازی کی جائے تو زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر قسم کی تحریر کی مشق کروائی جائے یعنی تصویر کو دیکھ کر عنوان لکھنا، تصویری کہانیاں لکھنا، نامکمل جملوں کو مکمل کرنا اور پھر بتدریج خاکے کی مدد سے کہانی یا مضمون لکھنا وغیرہ۔ یہ تو محض چند اشارے ہیں۔ اس نوع کی درجنوں سرگرمیاں ہیں جو تخیل کو مہمیز کر سکتی ہیں اور افکار و خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کی تربیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے لیے وقت اور توجہ صرف کی جائے۔

ان چاروں مہارتوں کی تربیت کے علاوہ زبان کے قواعدی نکات سے آشنائی پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے رائج استخراجی طریقے کے بجائے استقرائی طریقے پر عمل مفید رہتا ہے۔ اگرچہ نصابات میں استقرائی طریقہ استعمال کرنے کی سفارش تو کی جاتی ہے مگر عملی طور پر وہی پرانا طریقہ رائج ہے جس کے تحت پہلے تعریفیں یاد کروا دی جاتی ہیں اور پھر ان کی مثالیں بتائی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ تدریسی اسباق میں سے مختلف قواعدی نکات کی شناخت کروانے کے بعد ان کے قواعدی نام یا تعریف سے آگاہ کیا جائے۔ اس طریقے کی مدد سے بچوں میں تجسس اور دلچسپی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ تعریفیں رٹنے کے عمل سے اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔

مختصر یہ ہے کہ زبان کی تدریس کے عمل کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنانا ضروری ہے۔ دلچسپی صرف لطیفوں یا مزاحیہ باتوں سے نہیں پیدا ہوتی۔ دلچسپی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچہ اپنے درس میں خود پوری طرح شریک ہوتا ہے اور چھوٹی چھوٹی مشکلات کو حل کر کے، سوالات کے جواب تلاش کر کے اور کسی نئے نکتے کی دریافت کر کے مسرت بھری کامیابی کو محسوس کرتا ہے۔اس منزل تک پہنچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تدریس کا عمل دو طرفہ اور عملی نوعیت کا ہو۔ یہ استاد سے بچوں کی طرف معلومات کے یک طرفہ بہاؤ کا نام نہ بن جائے، جیسا کہ عملی طور پر ہمارے ہاں رائج ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ نصاب کیسا ہی عمدہ کیوں نہ ہو، اگر درسی کتاب نصاب کے مقاصد پورے نہ کرتی ہو تو نصاب بے کار ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف درسی کتاب کیسی ہی دلچسپ اور کارگر کیوں نہ ہو، اگر استاد میں ذہانت، تدریسی عمل سے دلچسپی اور تخلیقی صلاحیت نہ ہو تو کتاب اپنے مقاصد پورے نہیں کرتی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نصاب، کتاب اور استاد سب کے ہوتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے اگر امتحانی نظام ان مقاصد سے ہم آہنگ نہ ہو جن کے لیے نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ جدید دنیا میں امتحان لینے کے خاصے غیر رسمی طریقے رائج ہیں جن میں سے بعض تو دیکھنے میں قطعی امتحان معلوم نہیں ہوتے لیکن وہ عملی طور پر بچوں کی کارکردگی کی آزمائش کرتے ہیں اور تعلیم کو عملی زندگی سے ہم آہنگ کرنےکی ضمانت دیتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نصاب ہو، یا امتحان، اساتذہ ہوں یا طلبہ، جب تک حسن نیت اور خلوص کار شامل ہو، سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredاردواردو آموزشاردو پڑھنااردو تدریساردو زباناردو سیکھنااردو نصاببلند خوانیزباندانیلسانیاتنجیبہ عارف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
گفتار کے غازی اور بے حال مزدور —– خرم شہزاد
next post
اگر عمران خان ناکام ہوا تو کیا ہوگا؟‎ —– محمود شفیع بھٹی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.