تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکالممذہبی

کفر یا بے خبری؟ — تہامی بشر علوی

by دانش ڈیسک 17/09/2018
written by دانش ڈیسک 17/09/2018
153

میں یہاں ایک قادیانی کا وہ خط نقل کیے دیتا ہوں،جو اس نے مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کو لکھا تھا:

“مکرم جناب مولانا صاحب! میں خدا کے فضل سے احمدی ہوں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ کہتا ہوں کہ میں جب کلمہ شریف میں محمد رسول اللہ پڑھتا ہوں تو اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوتے ہیں۔ “مرزا غلام احمد قادیانی” نہیں ہوتے۔ اگر میں اس معاملہ میں جھوٹ بولتا ہوں تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام مخلوق کی طرف سے مجھ پر ہزار بار لعنت ہو اور اسی یقین کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی احمدی کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے مراد بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے “مرزا غلام احمد قادیانی” نہیں لیتا، اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اسی طرح حلفیہ بیان اخبار جنگ میں شائع کروائیں کہ درحقیقت احمدی لوگ (یا آپ کے قول کے مطابق قادیانی) کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا حلف شائع کروادیا تو سمجھا جائے گا کہ آپ اپنے بیان میں مخلص ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے گا کہ کون اپنے دعوے یا بیان میں سچا اور کون جھوٹا ہے؟ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ظاہر ہوجائے گا کہ آپ کے بیان کی بنیاد، خلوص، دیانت اور تقویٰ پر نہیں بلکہ یہ محض ایک کلمہ گو جماعت پر افتراء اور اتہام ہوگا جو ایک عالم کو زیب نہیں دیتا۔

نوٹ:…اگر آپ اپنا حلف شائع نہ کرسکیں تو میرا یہ خط شائع کردیں تاکہ قارئین کو حقیقت معلوم ہوسکے”۔ آپ کے مسائل اور ان کا حل، 197/1

ہمارے علم میں ہے کہ مسلمانوں میں اسلام کی ایک سے زیادہ تشریحات موجود ہیں۔ ان میں سے کسی بھی تشریح کو ماننے والا، ٹھیک اسی قادیانی کی طرح، خود کو اصل اسلام پر کاربند اور باقی تشریحات والوں کو گمراہ یقین کرتا ہے۔ہر گروہ کے پاس بڑے بڑے علماء ہیں جو اپنی اپنی تشریحات کو عین اسلام ثابت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جن سے عوام بآسانی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان بڑوں میں سے جس نے بھی دین کو جان بوجھ کر بگاڑا خدا کا سخت عذاب اس کا منتظر ہے،مگر اس نظریے کو عین اسلام اور صرف حق جان کر قبول کرنے والی اکثریت کا معاملہ قابلِ توجہ ہے۔ ان کے بارے میں یہ نہیں فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کوئی اور چیز ہے اور ہم جس تشریح کو مانے ہوئے ہیں وہ اسلام کے خلاف ہے۔

میرے اب تک کے ذاتی تجربات میں یہی آیا ہے کہ کوئی فرد یا گروہ ہرگز خود کو باطل نظریات کا حامل نہیں سمجھتا۔ سب کا خیال بلکہ یقین ہے کہ وہی اصل دین پر ہیں۔وہ بہت سچے جذبے کے ساتھ اپنے نظریات کو حقیقی دین سمجھے ہوتے ہیں۔

میں نے یہاں جو خط نقل کیا اس سے بھی بہ خوبی یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس احمدی کو اس بات کس شدت سے یقین ہے کہ وہی حق پر ہے۔

میں یہاں ایک اور واقعہ نکل کروں گا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک سابقہ قادیانی سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا، آپ نے قادیانیت کیوں چھوڑی؟ اس نے بتایا کہ جب مجھ پر یہ واضح ہوا کہ مسیح موعود سے مراد مرزا قادیانی نہیں ہیں تو قادیانیت چھوڑ دی۔ میں نے پوچھا جب آپ قادیانی تھے تب آپ کا کیا خیال ہوتا تھا کہ آپ باطل پر ہیں؟ اس کا جواب تھا نہیں تب تو باقی قادیانیوں کی طرح میرا خیال بھی یہی تھا کہ بس ہم ہی حق پر ہیں۔اس کی عمر غالباً 40 سال یا کچھ کم زیادہ ہوئی ہو گی۔ اسے قادیانیت چھوڑے ہوئے چند سال ہوئے تھے۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ تھی کہ جتنا عرصہ وہ قادیانی رہا، اس سارے عرصہ میں کوئی ایک بندہ بھی اس کے پاس سچائی کا پیغام لے کر نہیں گیا۔ اس نے بتایا کہ اس وقت مجھے سخت ناگوار گزرتا تھا، جب لوگ مجھے قادیانی سمجھ کرمجھ سے نفرت کا رویہ رکھتے تھے۔ میرے پوچھنے پر اس نے یہ بھی بتایا کہ قادیانیوں سے نفرت کے بجائے یہ علماء اگر محبت سے انھیں سمجھائیں تو کئی لوگ سچائی جان سکتے ہیں۔ اس کے الفاظ تھے کہ بدقسمتی سے ہمارے علماء اپنی تقاریر میں مرزا کو گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں، جس سے وہ لوگ متنفر ہی ہو جاتے ہیں۔

آغاز میں نکل کیے گئے اس خط کاجواب بھی مولانا کی طرف سے آیا۔مولاناؒ کے جواب کا ابتدائی حصہ ہم سب کی توجہ چاہتا ہے،آپ ؒ لکھتے ہیں :

” نامہ کرم موصول ہو کر موجب سرفرازی ہوا۔ جناب نے جو کچھ لکھا میری توقع کے عین مطابق لکھا ہے۔ مجھے یہی توقع تھی کہ آپ کی جماعت کی نئی نسل جناب مرزا صاحب کے اصل عقائد سے بے خبر ہے اور جس طرح عیسائی تین ایک، ایک تین کا مطلب سمجھے بغیر اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی توحید کا بھی بڑے زور شور سے اعلان کرتے ہیں۔ کچھ یہی حال آپ کی جماعت کے افراد کا بھی ہے”۔ ص 197

میرا خیال ہے مولانا نے نئی نسل کی اصل پوزیشن کو بالکل درست سمجھا ہے۔ اس کی اصل پوزیشن انکار کی نہیں بلکہ بے خبری کی ہی ہے، جس کی نشاندہی مولانا محترم ؒ نے کی۔ مولاناؒ نے بجا فرمایا کہ یہ محض ایک فرد کا کیس نہیں بلکہ پوری نئی نسل کی صورتِ حال ہے۔اس نسل کا کیس حق کے انکار کا کیس ہرگز نہیں کہ ہم انھیں کافر قرار دینے کی جلدی کریں۔ان کا کیس محض بے خبری کا کیس ہے، جس کا حل نفرت اور کفر کے فتووں کے بجائے، محبت اور  دعوت ہی ہے۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہمارے علماء اس بے خبری کے کیس کو فوراً کفر کا کیس بنا کر ایک نفرت انگیز مہم پر کمر کس لیتے ہیں۔ کفر کا کیس بنا نے کے بعد وہ ان کا قلع قمع کرنے کو بے تاب ہوجاتے۔اگر بے خبری کا کیس سمجھ کر وہ خدا کے بندوں کی بھلائی چاہیں، تو ان کے دل انسانوں کی محبت سے لبریز ہو جائیں۔ وہ اسی محبت کی بنیاد پر لوگوں سے ملیں اور ان تک بھلائی کا پیغام پہنچاتے چلے جائیں۔اس محبت کےنتیجے میں لوگوں کے دل بھی ان کی محبت سے بھر آئیں۔ان کی بات لوگوں کے دلوں پر یوں اثر کرے جیسے کسی ہمدرد خیرخواہ کی بات کیا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے علماء کے مزاج میں شعلہ نوائی زیادہ ہی غالب آچکی ہے۔ وہ جملوں سے کاٹنا اور الفاظ سے چیر دینا چاہتے ہیں۔وہ اپنے سوا ہر کسی کا وجود مٹا دینے کے درپے ہیں۔ یہ صورتِ حال خودان کی اپنی نسلوں کو بھی دین بیزار کرتی جا رہی ہے۔ نئی نسل میں دین سے جو وحشت بڑھتی جا رہی ہے، اس کا سب سے بڑا سبب اہلِ مذہب کے تعصبات بھرے رویے ہیں۔دین کے نام پر جتنی نفرتیں ان سے پھیلیں اس کے تصور سے بھی انسانیت شرما جاتی ہے۔

ہمارے علما کا زور اس پر ہے کہ لوگ فلاں غلط نظریہ چھوڑ دیں۔ بھئی، کسی غلط نظریے کو چھوڑدینا تو ایک طرف رہا،وہ بے چارے تو یہ بھی نہیں جان پائے کہ وہ کسی غلط نظریے کے قائل ہیں بھی یا نہیں؟ اگر خدا نے آپ کو حق کا شعور بخشا ہے تو آپ غلط فہمیوں میں مبتلا لوگوں کی مدد کی جیے تاکہ وہ بھی سچائی جان سکیں۔ حال یہ ہے کہ جس چیز کو لوگ غلط فہمی کی وجہ سے عین دین سمجھے ہوئے ہیں، ہمیں یہ فکر تو ہرگز نہیں کہ کس طرح انھیں اس غلط فہمی سے نکال کر اصل اسلام سے جوڑا جائے، مگر ہم ضرور بہ ضد ہوئے بیٹھے ہیں کہ لو ہم نے تو تمھیں کافر قرار دے دیا ہے، اب تم سے بھی منوا کر رہیں گے  کہ تم کافر ہو۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔گویا کل ان سے یہ تو نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے میرے بے خبر بندوں تک سچائی پہنچائی تھی یا نہیں؟مگر یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ آپ نے انھیں کافر قرار دے کر ان سے بھی منوالیا تھا یا نہیں؟ نفرت اور جوش میں اندھے کر دیے گئے لوگ اب کیا جانیں کہ وہ انسانیت میں گھلنے والا پیغمبرانہ سوز و گداز کیا ہوتا ہے؟

خیر، مولانا کے جواب کا وہ حصہ بھی یہاں نقل کرنا اہم رہے گا جس میں وہ اس  قادیانی کو بھائی کہہ کر اپنائیت سے نوازتے ہیں:

“میرے بھائی! بحث قسموں کی نہیں، عقیدے کی ہے!۔۔۔۔۔الخ” ص 197

افسوس کہ انسانوں کو اب “میرے بھائی ” کہہ کر اپنائیت کے احساس سے پکار سکنے والے علماء بھی ناپید ہوچکے ہیں۔ اگر ہم خدائی مشن میں سچے ہیں تو ہمیں خدا کے بندوں کی بھلائی چاہتے ہوئے، محبت کی زبان میں انھیں مخاطب کرنا ہو گا۔ ورنہ اہلِ مذہب کے غیرانسانی برتاؤ سے تنگ کر آکر سچائی سے دور ہونے والوں کا وبال کل انھی اہلِ مذہب پر ہو گا۔

Facebook Comments Box
احمدیختم نبوتقادیانیمسیح موعودمولانا محمد یوسف لدھیانوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سوشل میڈیا بھی بڑی فٹ جگہ ہے — سحرش عثمان
next post
بلا عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔ سحرش

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.