تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

جماعت اسلامی والوں کے بیٹے : ڈاکٹر عزیزہ انجم

by دانش ڈیسک 12/06/2018
written by دانش ڈیسک 12/06/2018
90

دانش پہ شائع ہونے والی محترمہ نبیلہ کامرانی کی تحریر جماعتِ اسلامی کے بچے پی ٹی آئی کے ووٹر کیوں؟ کے جواب میں ڈاکٹر عزیزہ کی پرلطف تحریر پیش خدمت ہے۔


بیٹے کیسے نٹ کھٹ ہوتے ہیں۔ اکڑے اکڑے اکھڑے اکھڑے۔ جوان ہوجائیں کندھوں سے اونچے ہو جائیں پھر تو بادشاہی آجاتی ہے مزاج میں باپ کی نہیں سنتے ماں بیچاری کی کیا سنیں گے۔ کبھی کبھی تو مائیں جوان گھبرو جوان بیٹوں کے آگے بہن لگنے لگتی ہیں۔ میرا نواسا بارہ تیرہ سال کا قد کیا نکال لیا آگے چلتے ہیں ہر بات میں، کہتے ہیں تو کیا ہوا۔ لفٹ میں میری گھبراہٹ سے محضوظ ہوتے ہیں جان بوجھ کر لفٹ پوری رکے بغیر باہر نکلتے ہیں اور میری پریشانی پر مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں لفٹ گرے گی تو کیا ہوگا کچھ نہیں۔

اسپتال میں اکثر خواتین کم عمر بیٹوں کے ساتھ آتی ہیں اور وہ محترم آگے یوں چلتے ہیں گویا بہت بڑے اور ذمہ دار ہوں۔
ایک پندرہ سالہ خفا خفا بیٹے کو ماں لیکر آئیں۔ پرانی مریضہ تھیں اعتماد کا تعلق تھا اصرار تھا کہ بیٹے کو میں ہی دیکھوں بیٹا تیز بخار میں مبتلا گردن ٹیڑھی کئے بیٹھا تھا۔ دوا لینے کے ساتھ انکی شکایتیں جاری تھیں سنتا نہیں ہے اپنی کرتا ہے۔ بات آگے بڑھی تو کہنے لگیں روزے پورے رکھ رہا ہے نمازیں جماعت سے پڑھ رہا ہے بس رات بھر کرکٹ کھیلتا ہے میں نے کہا چھوڑیں کھیلنے دیں کرکٹ۔ کرکٹ نہیں کھیلے گا تو کیا کرے گا۔

بیٹے ہوں یا بیٹیاں سب دیکھتے ہیں ماں کیا کر رہی ہے، باپ کی کیا مصروفیت ہے اور وہ ماں باپ جو اللہ کے دین کی دعوت گھر گھر گلیوں گلیوں پہنچاتے ہیں دروازے کھٹکھٹائے ہیں بیٹے وہ بھی دیکھتے ہیں۔ بعض اوقات ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ قبول نہیں کرتے مزاجا ہلا گلا پسند کرتے ہیں اور دیکھنے والے جلدی میں غلط تاثر لیتے ہیں اور اس تاثر کو حتمی رائے بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا کہ دعوت دین دینے والوں کو گھر میں ناکامی ہوئی ہے۔

بس بات یہ ہے کہ بیٹے نخرے زیادہ دکھاتے ہیں اور کبھی کبھی بظاہر آپکے مخالف چلنے میں اپنے أپ کو ہیرو سمجھتے ہیں۔

قاری صاحب کی پوری فیملی کلینک آتی تھی۔ ماشااللّہ کثیر ا لعیا ل ہیں گورنمنٹ جاب ہے، مدرسہ چلاتے ہیں، جماعت کے کارکن بھی ہیں بیوی عام ذہنی سطح کی گھریلو خاتون۔ قاضی صاحب کے زمانے میں جب ملین مارچ ہوا کرتے تھے سب بچے خوش خوش ملین مارچ میں جاتے اور اپنی خوشی کا فخر یہ اظہار بھی کرتے ہم تو اب کے ساتھ ملین مارچ میں جا رہے ہیں۔

میڈیکل کالج میں بدر بہت عزیز دوست تھی اب بھی ہے ابا انتہائی قابل، پی ایچ ڈی، کتابوں کے مصنف پر جوش جماعتی۔ اس کا چہیتا بھائی مسعود انٹر کا طالب علم، این ایس ایف کا لیڈر تھا۔ اکثر پریشانی کا اظہار کرتی۔ مہران یونیورسٹی نوابشاہ میں داخلہ ہوا جماعت کے مصاحب علی ندوی کی صحبت ملی۔ انکی درویشی ایسی بھائی کہ ابا کی جماعت کے اسیر ہوگئے۔ الحمدللّٰہ اب بھی ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: خامہ فرسائیاں — شادی، بیوہ اور رنڈوے : سحرش عثمان

 

ان دنوں فیس بک پر جس جوان خوش خصال کا چرچا ہے، جسکی جراتوں کی کہانیا ں ہیں، جسکی پیشانی پر پاکستان کی خوش قسمتی کی لکیر نظر آرہی ہے، بڑی حیرت سے میں نے دیکھا یہ کون ہے، معلوم ہوا سلمان بٹ کا بیٹا ہے، وہی پریم والے سلمان بٹ۔

سراج الحق کا جواں سال بیٹا ابا کی جماعت میں کارکن کی حیثیت سے کا م کرتا زمانے بھر کو دکھائی دے رہا ہے اور قاضی صاحب کے بیٹے بیٹی کی تو مثال ہی کیا، دلوں کو شاد کر دیتی ہیں انکی سرگرمیاں۔

اور وہ سیاہ برقعوں میں ملبوس چہرے پر نقاب گرائی ہوئی گھر گھر دعوت دیتی عورتیں جنکی چپلیں گھس گئیں برقعے پرانے ہو گئے، قویٰ کمزور ہو گئے مگر حق کا فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں ہوئی، انکے گھروں میں فرشتے پروان نہیں چڑھے انسانوں کے بچے پروان چڑھے۔ اپنے اپنے مزاج اور خو بو کے مالک جو زمانے کے سرد گرم سے متاثر ہوتے ہیں لیکن اماں کا دامن نہیں چھوڑتے۔ بس بات یہ ہے کہ بیٹے نخرے زیادہ دکھاتے ہیں اور کبھی کبھی بظاہر آپکے مخالف چلنے میں اپنے أپ کو ہیرو سمجھتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے بیٹے ہوں یا اس قوم کے سارے بیٹے اللہ انہیں سلامت رکھے یہ کہیں بھی جائیں اس دین اس ملک کی شان بړ‎ھائیں مان بڑھائیں۔
یہ ہمارے بھی ہیں اس ملک کے بھی اس دین کے بھی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سیاسی جماعت اسلامی اور “اصلی” جماعت اسلامی — ضیاء الرحمن فاروق
Facebook Comments Box
جماعت اسلامیجماعت اسلامی حلقہ خواتینلڑکےنوجوان نسل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نواز شریف، چوہدری نثار سے ناراض کیوں؟ وقاص صارم
next post
حقوق نسواں از علامہ اقبالؒ —– تالیف و تلخیص: لالۂ صحرائی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.