تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

کیا قصور کی زینب اور کشمیر کی آصفہ ایک ہی تیر کا شکار ہوئی ہیں : سلمیٰ جیلانی

by دانش ڈیسک 14/04/2018
written by دانش ڈیسک 14/04/2018
103

آصفہ ایک چہچہاتا پرندہ جو جنسی درندوں کی وحشت کا شکار ہو گئی۔ اس کے ساتھ دہرا ستم یہ ہوا کہ بد قسمتی سے وہ کشمیر کی تعصب سے بھری خوں رنگ وادی میں پیدا ہوئی ورنہ کم از کم عزت سے دفنانے کو جگہ تو مل ہی جاتی اور پولیس اس کے خون کے دھبے مٹانے میں خود ایک فریق بن گئی یہی نہیں دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس کا نام تک مٹانے کی ٹھان لی تو بھلا اسے انصاف کیسے ملے گا۔ یہ تو سب ہوئیں اس ظلم کے ڈھائے جانے کے بعد نسلی اور مذہبی تعصب میں مبتلا ٹکڑوں میں بٹے سماج کے رد عمل کی باتیں جو کہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے لیکن اس سے پہلے ذرا نگاہ اس معصوم کے خاندانی پس منظر اور حالات پر بھی ڈال لی جائے۔

کشمیر کی گجر برادری کی سات سال کی ہنستی بولتی گڑیا جیسی بچی آصفہ جسے اس کے باپ نے گود لیا تھا، جب اس کی دو بیٹیاں ایک حادثے میں انتقال کر گئیں تھیں، تو بیوی کی کسی رشتے دار نے آصفہ کو ان کی گود میں ڈال دیا تھا۔ کشمیر کی سرسبز وادیوں میں ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی،اپنے گھر والوں کے ساتھ جانور چرانے جاتی تھی، ایک دم کہیں غائب ہو گئی تھی۔

پانچ دن بعد جھاڑیوں میں اس کی کچلی ہوئی لاش ملی، جس پر بالکل ایسا ہی تشدد کیا گیا تھا جیسا کہ کچھ ماہ پہلے پاکستان میں اسی عمر کی ایک اور بچی زینب پر کیا گیا تھا۔ اس کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھیں، کئی دن تک ریپ کے بعد اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا۔ سینے اور بازوؤں پر نیل کے گہرے نشان تھے یہاں تک کہ ناخن تک کالے ہو گئے تھے۔ اگر غور کیا جائے تو اس کے ساتھ ہونے والے تشدد کی نوعیت بالکل یکساں ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے، مارنے والے ایک ہی قبیلے کے افراد ہیں اور ان کے عزائم بھی یکساں ہیں۔ چاہے ان کے مذھب اور خطے الگ الگ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ آصفہ کو قتل کرنے والے ملزمان کو بچانے کے لئے مظاہرے ہو رہے ہیں اور اس سے ہندو مسلم خلیج بڑھانے کے لئے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام لیا جا رہا ہے۔جبکہ زینب قتل کیس میں دوسرے انداز میں اس جنسی جرائم میں ملوث گروہ کو بچانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ معصوم آصفہ بھی اسی گروہ کے ہتے چڑھ گئی ہے جو چھوٹے بچوں اور بچیوں پر ظلم کر کے مارتے ہیں۔ان کا ریپ کرتے ہیں اور اس کی ویڈیو بنا کر ایسے ریکٹ کے حوالے کر دیتے ہیں جو سادیت پسند پیڈو فائلز کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ یہ کوئی ہندو مسلم تعصب کی کار روائی نہیں ہے اگرچہ آصفہ کو مارنے سے پہلے کسی مندر میں کئی دن تک قید رکھا گیا تھا اور مختلف اخباری حوالوں کے مطابق وہاں رہنے والے اکثر لوگوں کی رائے میں علاقے کی مسلم گجر آبادی کو وہاں سے نکالنے کے لئے جان بوجھ کر ایسا ظلم ڈھا یا گیا۔ لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گی کہ دہلی کی ہائی کورٹ اور کشمیر کے ہندو وکیلوں اور دوسرے کرتا دھرتا اداروں اور لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ قبل اس کے کسی ہندو نام سے پکاری جانے والی کوئی اور ننھی آصفہ اس بیہمانہ سلوک کے نتیجے میں قتل کر دی جائے۔یا ہو سکتا ہے ناجانے کتنی ہی معصوم زینب اور آصفا ئیں ایسی ہی تاریک راہوں میں جنسی جنونیوں کے مظالم کا شکار ہو کر موت کی نیند سلا دی جاتی ہوں جن کی کوئی خبر ہی مہذب دنیا تک نہیں پہنچتی ہو کہ یہ ریکٹ بہت طاقت ور ہے اور اس کے ہاتھ بہت لمبے اور مضبوط۔ لیکن پھر بھی ایک تجویز ہے میرے ذھن میں شائد کہ کچھ بات بن جائے۔

تھائی لینڈ جو جنسی جرائم میں ملوث گروہوں کی آماج گاہ سمجھا جاتا رہا ہے پولیس نے ایسے کئی نیٹ ورک کو ایک خاص حکمت عملی سے توڑا۔ جس میں انہیں پکڑنے کے لئے ایک سویٹی نام کا سوفٹ ویئر پروگرام بنایا گیا تھا جو کہ دس سال کی بچی کی ورچوئل شکل تھی لیکن کسی اصلی بچی کی طرح کام کرتا تھا سویٹی ان جنسی جنونویوں کو پکڑنے میں بہت مدد گار ثابت ہوئی اور مکمل طور پر نہیں تو کافی حد تک ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہوئی تو کیا انڈیا اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کا ایسا کوئی پروگرام ترتیب نہیں دے سکتے کہ بچے سب کے سانجھے ہیں اور انسانیت کے ناتے ان کی حفاظت بلا کسی مذھب اور نسل اور قبیلے کی تخصیص سب یکساں زمہ داری ہے۔

ہو سکتا ہے اپنی گھناؤنی خواہش کی تسکین میں شامل سنجی رام،اس کا بیٹا، بھتیجا اور دوست ہی نہیں اس سے حظ اٹھانے والے بھی جو آن لائن یا پھر ویڈیو کے ذریعے اس ظلم میں برابر کے شریک ہوں، پکڑے جائیں اور کیفر کردار کو پہنچیں۔ اور کسی طرح اس خطے کے معصوم بچے اور بچیاں ایک بار پھر ڈر اور خوف سے آزاد فضاء میں سانس لے سکیں۔


نوٹ:- ادارہ کا مصنفہ کی رائے سے اتفاق ہونا لازم نہیں لیکن اس نکتہ نظر سے شایع کی جا رہی ہے کہ شاید تفشیش کے سلسلے میں معاون ہو سکے۔

Facebook Comments Box
Zainabآصفہ کشمیرآصفہ کیسجنسی جنونیزینب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
معراج النبی شریف: سائنس اور عقیدہ —– لالہ صحرائی
next post
شریک مطالعہ : نعیم الرحمٰن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.